موپاساں کا افسانہ: نابینا
آسمان کی نیلاہٹ، سبزے کی ہریالی ہمیں خوش و خرم کر دیتی ہیں۔ دھوپ میں چمکتی منڈیریں اور گرم چھتیں ہماری آنکھوں کو کس قدر طراوت اور تازگی بخشتی ہیں۔ فطرت کی یہ رعنائیاں اور دنیا کی یہ خوبصورتی دیکھ کر ہمارا دل فرط جذبات سے امڈنے، ناچنے، گانے اور مسکرانے کو چاہتا ہے۔ ہم زندگی کو اپنی بانہوں میں لپیٹ کر اسے پیار کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اپنے گھر کی دہلیز کے باہر بیٹھا نابینا آدمی اندھی آنکھیں کھولے اپنی تاریک دنیا میں گم سم ان تمام نظاروں کے حسن سے بے خبر خاموش بیٹھا رہتا ہے۔ وقتاً فوقتاً اپنے وفادار کتے کے بدن کو شفقت سے چھو کر تسلی کر لیتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر نہیں چلا گیا۔
شام پڑنے پر اس کا کوئی چھوٹا بھائی یا بہن اسے سہارا دے کر گھر لے جاتا ہے جو اگر راستے میں ایسے ہی ذکر کرے کہ آج کا دن بہت خوبصورت تھا تو وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں میرا بھی یہی خیال ہے۔ مجھے بھی اپنے کتے کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ بھی دھوپ میں کھیلنا چاہتا تھا۔
میں بھی ایک اسے ہی نابینا شخص کو جانتا تھا جس پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ جس نے ناقابل بیان دکھ سہے اور ایسی ایسی زیادتیوں کو برداشت کیا جن کا تصور بھی نا ممکن ہے۔
جب تک اس کے ماں باپ زندہ تھے کسی حد تک اس کا خیال رکھتے۔ لیکن جیسے ہی وہ خدا کو پیارے ہوئے اس کے لئے ظلمتوں اور مصیبتوں کا ایک ایسا باب کھل گیا جس سے نجات ممکن نہیں تھی۔
وہ اپنی بہن کے ساتھ رہنے لگا تھا جس کے گھر والے اسے ایک بوجھ سمجھتے اور یہ کہہ کر جتانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے کہ وہ ان کے ٹکڑوں پر پل رہا تھا۔
کھانے کی میز پر ہمیشہ اس سے حقارت آمیز سلوک ہوتا۔ اس کے بہنوئی نے اس کی وراثت پر تو کب کا ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔ اب اسے کھانا صرف اس لئے دیا جاتا کہ کہیں وہ فاقے سے مر گیا تو خاندان کا نام بدنام نہ ہو جائے۔
اس کا چہرہ کمزوری سے پیلا پڑ گیا تھا۔ بڑی بڑی کھلی اندھی آنکھوں کے ساتھ وہ ایسے بیٹھا رہتا جیسے اسے کچھ محسوس نہیں ہو رہا ہے۔
وہ ہر قسم کے پیار محبت اور لگاؤ سے نا آشنا تھا۔ اپنی زندگی میں خود اس کی ماں تک اس سے سخت گیری سے پیش آتی۔ ان دیہاتیوں کی سوچ کے مطابق اولاد اگر کماؤ پوت نہ ہو اور کوئی کام نہ کر سکتی ہو تو اس کا وجود بیکار ہے۔ اس سے تو وہ مر ہی جائے تو اچھا۔ کم از کم فضول میں روٹی تو ضائع نہیں جائے گی۔
اپنی بہن کے گھر وہ دوپہر کا کھانا سب کے ساتھ بیٹھ کر کھاتا۔ پتلے سے سوپ پر مشتمل کھانا ختم کر کے وہ باہر دہلیز پر جا کر بیٹھ جاتا۔ سارا دن وہاں سے نہ ہلتا۔ کوئی حرکت نہ کرتا۔ صرف کبھی کبھی اپنے پلکیں بے نو ر آنکھوں پر جھپکتا۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ اپنی صورت حال سے کس حد تک آگاہ ہے؟ کیا سوچتا رہتا ہے؟ اس کے پاس سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں؟ کسی نے کبھی پوچھنے کی تکلیف نہیں کی۔ کسی کو بھی اس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ہر ایک نے اسے نظر انداز کر دیا تھا۔ جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو۔
کئی سال تک معاملات اسی طرح چلتے رہے۔ لیکن پھر اس کے رشتے دار اس سے تنگ آ گئے۔ اب وہ اسے باقاعدہ ستانے لگے تھے۔ سب اس کو چھیڑتے، اس کا مذاق اڑاتے، گالیاں دیتے۔ اس سے وحشیانہ سلوک کرتے۔ کسی کو یہ احساس نہ ہوتا کہ یہ نابینا بھی ان ہی کی طرح ایک انسان ہے۔
ان قریبی رشتہ داروں نے، اس کی بہن اور بہنوئی اور ان کے بچوں نے، کھانے کا وقت اس سے تفریح لینے کے لئے وقف کر دیا تھا۔ انہوں نے ہمسایوں کو بھی اس تماشے میں شریک ہونے کے لئے مدعو کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کا باورچی خانہ تماشائیوں سے بھرا رہتا۔ اب دوپہر کا یہ کھانا سہ پہر تک طول کھینچتا۔ سب اسے ذلیل کرتے، اس کی کھنچائی کرتے۔ اس کو جتنا آزار پہنچا سکتے تھے پہنچاتے۔
ان کے یہ مذاق حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ وہ بعض مرتبہ اس کے سوپ کے پیالے کے پاس کسی بلی یا کتے کو بٹھا دیتے جو لپڑ لپڑ سوپ پینے لگتے اور جیسے ہی اندھا آدمی ان کی آواز سن کر سوپ کے چمچ سے انہیں ہٹانے کو کوشش کرتا وہ میز سے چھلانگ مار کر اتر جاتے اور سارا باورچی خانہ قہقہوں کی آواز سے گونجنے لگتا۔
لیکن نابینا شخص خاموشی سے دائیں ہاتھ سے سوپ پیتا رہتا اور بائیں سے اپنی پلیٹ کی حفاظت کرتا کہ کہیں اور کوئی جانور اس کا سوپ نہ پینے لگے۔
کبھی کبھی وہ اس کے سوپ میں شراب کی بوتلوں کے کارک توڑ کر ڈال دیتے۔ کبھی لکڑی کے ٹکڑے اور کئی مرتبہ تو جانوروں کی گندگی تک۔ لیکن اسے کچھ اندازہ نہ ہوتا کہ وہ کس قدر گھناؤنی حرکتیں کر رہے ہیں۔
بہنوئی کو غصہ تھا کہ وہ اس کے گھرانے پر بوجھ کیوں ہے۔ اب اس کے روئے میں شدت آ گئی تھی اور اس نے باقاعدہ اپنے اس قریبی عزیز کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ وہ آتے جاتے اسے تھپڑ لگا دیتا۔ کبھی اس کے سر پر مکہ مارتا۔ کبھی اس کی کمر پر ٹھوکر۔ اور جب نا بینا اپنی حفاظت میں اپنے ہاتھ سے چہرے کو چھپاتا تو قہقہہ لگا کر کہیں اور، گردن پر یا کندھوں پر، اس کو تھپڑ لگاتا۔
اب ہر کسی کو ایک نیا کھیل مل گیا تھا۔ ہمسایوں نے بھی اب یہی وتیرہ اختیار کر لیا تھا۔ حالانکہ وہ تو اس کو کھانا بھی نہیں دیتے تھے۔ نہ ہی وہ ان پر کوئی بوجھ تھا۔ اور تو اور، نوکرانی، خاکروب، حتی کہ گلی سے گزرتے ہوئے بیکار لوگ، سب آتے جاتے اسے ایک ہاتھ دھر دیتے تھے۔
بہنوئی نے اس سے نجات حاصل کرنے کا ایک طریقہ سوچا اور اسے بھیک مانگنے پر لگا دیا۔
وہ روز اسے مارکیٹ والے میدان میں چھوڑ آتا جہاں وہ اپنی الٹی ٹوپی ہاتھ میں لئے ہکلاتے ہوئے آوازیں لگاتا،
”خدا کے نام پر۔ اندھے کی مدد کرو۔ خدا کے واسطے۔ کچھ خیرات دیتے جاؤ۔“
لیکن اس گاؤں کے لوگوں میں سخاوت یا رحمدلی کا نام بھی نہیں تھا۔ کئی ہفتے تک اسے ایک پیسے کی بھیک بھی نہیں ملی۔
اب وہ رشتے داروں کی ہی نہیں پورے گاؤں کی غضبناک برہمی اور نفرت کا ہدف بن گیا تھا۔
ایک دن بلا کی سردی پڑ رہی تھی۔ گلیوں اور سڑکوں پر برف جم کر شیشے کی مانند چکنی اور پھسلواں ہو گئی تھی۔ اس کے بہنوئی نے اسے گھوڑا گاڑی میں بٹھایا اور گھر سے بہت دور گزرنے والی بڑی سڑک کے کنارے پر بھیک مانگنے کے لئے بٹھا دیا۔
اندھا آدمی سارا دن ٹوپی ہاتھ میں بڑھائے زور زور سے چلاتا رہا،
”خدا کے نام پر۔ اندھے کی مدد کرو۔ خدا کے واسطے اس اندھے فقیر کو کچھ خیرات دیتے جاؤ۔“
جب رات ہو گئی تو بہنوئی نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ نہ جانے وہ اندھا کہاں چلا گیا ہے۔ جہاں میں نے چھوڑا تھا وہاں تو نہیں ہے۔ پھر مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا،
”فکر کی کوئی بات نہیں، اسے کوئی اپنے ساتھ لے گیا ہو گا۔ وہ ایسی آسانی سے مرنے والا نہیں ہے۔ دیکھنا کتنی جلدی واپس آ جائے گا۔ ہمارا کھانا کھانے۔“
لیکن اگلے دن نابینا واپس نہیں لوٹا۔
کئی گھنٹے شاہراہ کے کنارے بیٹھنے کے بعد نابینا آدمی سردی سے جم گیا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ منہ کے آگے لا کر پھونکوں سے انہیں گرم کرنے کو کوشش کرتا رہا لیکن بے تحاشا سردی سے نجات نا ممکن تھی۔ اسے لگ رہا تھا وہ سردی سے جم کر مرنے والا ہے۔ اس نے بغیر جانے ایک سمت چلنا شروع کر دیا۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ سڑک کہاں ہے، راستہ کہاں جاتا ہے۔ کبھی وہ ایک گڑھے میں گرتا۔ پھر اٹھتا، پھر دوسرے گڑھے میں گرتا۔ بغیر آواز نکالے وہ اسی طرح چلتا رہا۔ اس امید میں شاید کہیں کوئی گھر مل جائے جہاں وہ پناہ لے سکے۔
طوفان اور بھی شدید ہو گیا تھا۔ مسلسل برف پڑ رہی تھی۔ ایک قدم بھی اٹھانا مشکل تھا۔ نابینا برف سے ڈھکے میدان میں بیٹھ گیا۔ اور پھر اٹھ نہ سکا۔
سفید برف کے گالے گرتے رہے۔ برف کے اس پہاڑ کے نیچے یہ اندازہ لگانا ناممکن تھا کہ یہاں کیا کچھ پوشیدہ ہے۔
ریا کار رشتے داروں نے ظاہر داری میں تقریباً ہفتہ بھر اسے تلاش کرنے کی کوشش کی۔ کچھ نے تو اوپرے منہ سے رونے کا مظاہرہ بھی کیا۔
اس سال سردی بہت سخت پڑی تھی۔ برف پگھلنے میں معمول سے زیادہ عرصہ لگا۔ ایک اتوار جب گاؤں کے لوگ صاف ستھرے کپڑے پہن کر اپنے چرچ کی سروس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے انہوں نے دیکھا کہ سینکڑوں کؤوں کا ایک بادل کسی کھیت پر منڈلا رہا ہے۔ بہت سے کوے جھپٹ کر ایسے نیچے آ رہے تھے جیسے آسمان سے کالک کی بارش ہو رہی ہو۔
اگلے ہفتے بھی یہی صورت حال جاری رہی۔ لگتا تھا دنیا بھر سے یہ مخلوق اس کھیت کے اوپر جمع ہو گئی ہے۔ وہ کائیں کائیں کرتے ایک خاص مقام پر اترتے اور پھڑپھڑاتے ہوئے کسی چیز پر لپکتے۔
ایک نوجوان کو ہمت ہوئی کہ قریب سے جاکر دیکھے کہ یہ سیاہ جم غفیر کیا کر رہا ہے۔ اس نے دیکھا کہ اپنی لمبی لمبی چونچوں سے کوے نابینا شخص کی لاش نوچ رہے تھے۔
اب جب بھی کسی خوبصورت روز نیلے آسمان پر سورج چمکتا ہے اور ساری دنیا کو خوشی، زندگی اور مسرت کا پیغام دیتا ہے میں اس اندھے فقیر کا نوحہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا جس کی زندگی اس قدر عبرت ناک تھی کہ اس کی ہولناک موت بھی اس کے سب جاننے والوں کے لئے نجات اور تسکین کا باعث بن گئی تھی۔


