تاریخ کے کباڑ خانہ کے تجزیے

یہ سوال پہلے انسان کی پیدائش سے ہی ”حل طلب“ رہا ہے کہ انسانی آزادی کی تفہیم کیا ہونی چاہیے اور ایک انسان اپنی آزادی کے شعور کو کتنا سمجھ کر اسے اپنی آزاد حیثیت کے لئے استعمال کرنے کا مجاز ہے، اسی کے ساتھ اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ زمانے کے ارتقا اور ترقی کے ساتھ ”انسانی آزادی“ کے مفاہیم حالات اور وقت کے تناظر میں تبدیل ہوتے رہے ہیں، آزادی حاصل کرنا جہاں انسان کے بنیادی حقوق کا ضامن قرار دیا گیا ہے وہیں، اس کی آزادی کو دائرے میں لانے کی ”ریاستی دھوکہ دہی“ سے بھی اہل فکر واقف رہے ہیں اور جہاں انسانی آزادی کو ریاست نے کسی بھی بہانے ”چبانے“ کی کوشش کی ہے تو وہیں اہل فکر و نظر نے اجتماعی طور پر سماج کی آزادی کے حق میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، ریاست اور سماج کے درمیان آزادی حاصل کرنے کی یہ کشمکش چلتی آ رہی ہے اور زمانے کے ارتقا کے ساتھ یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک اس کائنات کے آخری انسان کو جینے اور اپنے انسانی حقوق حاصل کرنے کا مکمل اختیار نہیں دیا جاتا، کائنات کے انسانی شعور کی آزادی کے ضمن میں سوشلسٹ خیالات کے فلسفی کارل مارکس کا یہ تاریخی جملہ کمال کا ہے کہ ”دنیا میں کمیونزم کی جدوجہد اس وقت تک جاری و ساری رہے گی، جب تک دنیا کے آخری انسان کو مکمل سوچنے سمجھنے اور اپنی زندگی گزارنے کی آزادی نہیں مل جاتی ’۔
ہمارے ملک کی آزادی اور اس میں بسنے والے عوام پچھتر برس گزرنے کے باوجود ”سیاسی، معاشی اور سماجی آزادی“ کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں اور اشرافیہ کے تراشے ہوئے سیاسی افراد یا رہنماؤں کی ہیروور شپ میں مبتلا ہو کر حقیقی سیاسی جدوجہد کی تاریخ کے کرداروں کو بھولنے کے ساتھ اپنی سیاسی تاریخ سے بھی نا بلد ہوتے جا رہے، جس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ تراشے ہوئے سیاسی رہنما جب جی چاہتے ہیں طاقتور اشرافیہ کے اشاروں یا ان کی خوشنودی کے لئے عوام کو استعمال کر کے انہیں ان کی سیاسی جدوجہد سے دور رکھتے ہیں جبکہ دوسری جانب ہمارے سیاسی اور صحافتی تجزیہ کار بھی ملکی سیاسی جدوجہد اور عوامی حقوق حاصل کرنے کی جنگ میں ”نظریاتی سوشلسٹ اور کمیونسٹوں“ کی وہ لازوال قربانیاں کو پس پشت ڈال کر بادی النظر میں طاقتور اشرافیہ کی مدد کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ حقیقی جمہوری تحریک میں قربانی دینے والے ان نظریاتی سیاسی رہنماؤں کی قربانیاں بار بار یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام اپنے جمہوری حقوق کے لئے سیاسی جدوجہد کر کے اپنی صف بندیاں کریں، یاد رکھا جائے کہ بہادری ٹھوس سیاسی فکر اور سیاسی شعور سے ہی آتی ہے نا کہ جذباتی نعروں یا غلامانہ سوچ سے۔
عوام کے لئے سیاسی جدوجہد کرنے والے یہ سرفروش جبر کی ریاست میں بھی کلمہ حق کہنے سے پیچھے نہ رہے بلکہ یہ سوشلسٹ سیاسی رہنما نا ریاست کے بندی خانوں میں صدائے حق کہنے سے چوکے اور نہ ہی ریاستی تشدد کا خوف ان کے حوصلے پست کر سکا، 80 کی دہائی میں جب آمر سیاسی لوگوں کے ٹھکانوں کو سونگھتا پھر رہا تھا اور ان سیاسی لوگوں کو وطن دشمن اور ریاست دشمن کہہ رہا تھا تو ، کمال وارثی بمقابلہ ریاست کیس اور جام ساقی کیس میں فوجی ٹرائل بھی ان سیاسی رہنماؤں کے حوصلے پست نہ کر سکا، ملٹری کورٹ میں قید کے دوران جام ساقی کا یہ جملہ کہ ”میں اپنے مقدمے کی پیروی خود کروں گا کیونکہ نا آپ جج ہیں اور نا ہی قانون جانتے ہیں، ہم عوام کے سیاسی وکیل بھی ہیں اور ان کے اعتماد کے رکھوالے بھی“ ۔
اسی واسطے تاریخ نے فوجی عدالتوں کے ان سیاسی بہادروں کو ”ضمیر کے قیدی“ کا خطاب دیا اور ان مقدمات کی تمام روداد بھی ”ضمیر کے قیدی“ کے نام سے تاریخ کا حصہ بنائی گئی، یہ وہ نظریاتی سیاسی افراد تھے جو عوام کے حقوق کی جنگ لڑنا جانتے بھی تھے اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے فوجی عدالتوں سے بچنے کی نہ کوئی اپیل کی اور نہ اعلی عدالتوں کی طرف للچائی نظروں سے انصاف کی بھیک مانگی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سیاست کے خار زار میں عوام کا اعتماد ہی جمہوری آزادی دلائے گا اور عوام کی حمایت ہی انہیں طاقتور کرے گی، یہ وہ لوگ تھے جو نعروں اور شخصیات پرستی سے پرے بہادری کے ساتھ فوجی عدالتوں میں سیاسی حقوق کی جنگ لڑے، فوجی عدالت میں قید کامریڈ کمال وارثی کا بیان آج بھی سیاسی تاریخ کا اہم نشان ہیں، کمال وارثی کا فوجی عدالت میں بے خوف و خطر یہ بیان آج کے ان سوشل میڈیائی اور عقیدہ پرست سیاستدانوں اور ان کے ”کلٹ“ میں گرفتار کارکنان اور تجزیہ نگاروں کے لئے سیکھنے کا وہ عمل ہے، جو شاید ان کے لئے کارآمد ہو سکے۔
کمیونسٹ رہنما کامریڈ کمال وارثی نے فوجی عدالت میں بیان دیتے ہوئے اس وقت کہا تھا کہ ”اس ملک کے تمام جمہوریت پسند عناصر موجودہ غاصب فوجی حکومت کو الٹنا چاہتے ہیں اور سارے عوام طبقاتی منافرت ختم کرنا، مختلف فرقوں، مذاہب اور قوموں کے درمیان نفرت کے تمام اسباب کو ختم کرنا اور مسلح افواج کو اپنی غیر پیشہ ورانہ عوام دشمن سرگرمیوں سے آزاد کر کے، انہیں اپنے ہی عوام کے خلاف صف آرائی سے ہٹا کر مزید بدنامی اور رسوائی سے بچانا چاہتے ہیں، اس طرح سے ہمارے خلاف عائد کی گئی فرد جرم محض ہمارے خلاف نہیں بلکہ در حقیقت تمام محب وطن عوام کے خلاف ہے، اس فرد جرم کا فیصلہ آپ کے اس بند کمرے کی مارشل لا کورٹ میں نہیں بلکہ ہماری دھرتی کی شاہراہوں پر ہو گا، آپ کی حکومت کو ہتھیاروں پر یقین ہے، جب کہ ہمیں عوام پر اعتماد ہے، ہم عظیم محب وطن ہیں کیونکہ ہم غریب عوام، مظلوم اور محنت کش عوام کے نمائندے ہیں، ہم تاریخ کے ہر دور میں مزدوروں، کسانوں، طلبا اور صحافیوں کے ساتھ اساتذہ، وکلا، دانشوروں اور خواتین کے حقوق کے لئے لڑتے رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے، سامراجی ایجنٹوں اور ہمارے درمیان عوام کی فتح تک جنگ جاری رہے گی، فتح بالآخر عوام ہی کی ہوگی، جب کہ شکست ان کے غداروں کا مقدر بن چکی ہے، سامراجی ایجنٹوں، عوام کے غداروں، موجودہ حکمرانوں کو آخر کار ایک نا ایک دن تاریخ کے کباڑ خانے میں دفن ہونا ہی پڑے گا“ ۔
تاریخ کے سیاق و سباق کی روشنی میں جب ہم آج کی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ دہائیوں پر مشتمل فوجی اشرافیہ کی خوشنودی اور بے شعور و فرمانبردار سیاست کے ساتھ شخصی عقیدہ پرستی میں لپٹے رہنماؤں کا وہ تسلسل ہے جس کے عشق میں مبتلا ہمارے جید پکارے جانے والے صحافی اور تجزیہ نگار یہ بھول جاتے ہیں کہ جس عمران خان نے بدنام زمانہ ”پیکا“ قانون میں عوامی حقوق پر پابندیاں لگا کر اور طاقتور اشرافیہ کو تحفظ دینے کی کوشش میں 2022 کے اوائل میں اس کا آرڈیننس نافذ کیا، یا عمران حکومت نے پوری کوشش کی کہ صحافت پر پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی PMDAلکا کالا قانون لا کر صحافت کو مکمل پابند سلاسل کیا جائے، جب اس کالے قانون پر ملک بھر کے صحافی وکلا، طلبا، خواتین اور مزدور تنظیمیں جب سراپا احتجاج بن گئے تو مجبوراً عمران خان کو یہ کالا قانون واپس لینا پڑا، جس سے عمران خان کی اظہار رائے پر فاشسٹ سوچ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اور یہی نہیں بلکہ ملٹری کورٹ میں انسانی حقوق کے رہنما ادریس خٹک سمیت 25 افراد کے مقدمات فوجی عدالت میں چلانے اور انہیں سزائیں دلوانے پر بھی عمران حکومت متحرک مگر خاموش رہی رہی اور اعتزاز احسن ایسے قبیل کو انسانی حقوق یاد نہ آئے، اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے سینئر جج سردار طارق کا وکیل لطیف کھوسہ سے یہ مکالمہ تاریخ کا حصہ ہے کہ ”1952 سے قائم ملٹری ایکٹ اور 1973 کے آئین اور انسانی حقوق کو روندنے پر اس سے قبل آپ کی درخواست نہیں آئی، کیا اس سے قبل انسانی حقوق پامال نہیں کیے گئے، کیا سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں نہیں چلے۔ ؟
9مئی 2023 کے افسوسناک واقعے کے بعد عمران خان کی فاشسٹ سیاست سے اختلاف کے باوجود جمہوریت پسند سیاسی کارکن آج بھی کسی طور فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کے حق میں ہر گز نہیں، مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ جب فوجی اشرافیہ کو خوش کرنے کی انسانی حقوق اور جمہوریت دشمن کوششیں ہو رہی تھیں تو ہمارے آج کے عمران خان کے حمایت پسند صحافی تجزیہ کاروں کو انسانی حقوق یاد کیوں نہیں آرہے تھے۔ ؟ تجزیاتی سیاست کے تناظر میں نجانے ایسا کیوں لگتا ہے کہ 9 مئی کا واقعہ عمران خان کی ایک سوچی سمجھی وہ منصوبہ بندی تھی جس کے تحت جمہوری طاقت سے پیچھے ہٹتی ہوئی فوجی اشرافیہ دوبارہ سے پاکستان کے سیاسی نظام میں اپنا کمزور ہوتا ہوا یا کھویا ہوا اثر مضبوط کر سکے، جو کہ اکثر جمہوریت پسندوں کو ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جو تشویشناک بات ہے۔
کیا جنرل ضیا کے دور میں جمہوریت کی لڑائی لڑنے والے کمیونسٹوں پر فوجی عدالت میں مقدمات چلاتے وقت نا اعلی عدلیہ نے نہ ہی نوٹس لیا اور نہ ہی انسانی حقوق کی ہا ہا کار مچانے والے تجزیہ کاروں نے دہائی کی؟ ہم آج بھی عمران خان سمیت کسی بھی سویلین کے مقدمات فوجی عدالت میں چلانے کے ہرگز حق میں نہیں، مگر صحافتی ایمانداری کا تقاضا ہے کہ عمران خان کی فاشسٹ سیاست میں مبتلا تجزیہ نگار سیاسی تاریخ کو گمراہ کن بنانے اور انہیں تاریخ کے کباڑ خانے میں ”بے وقعت“ ہونے سے بچائیں۔

