پاکستان کا آئین یا دستاویز وقف برائے اشرافیہ


اگر آپ عوام کی خدمت چاہتے ہیں اور آپ کے پاس کوئی ملکیت ہے تو آپ اس ملکیت کو وقف کر سکتے ہیں مقصد صرف انسانیت کی خدمت ہونی چاہیے آپ کی نیت دینا ہو، جو آپ دے رہے ہیں وہ آپ کے ملکیت ہونی چاہیے! ۔ یہ عنوان جب میں اپنوں قانون کے شاگردوں کو پڑھا رہی تھی تب مجھے اپنے سیاستدان بھی ذہن میں آرہے تھے، حالیہ قوانین میں ہونے والی ترامیم بھی ذہن میں آ رہی تھی۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ آئین پاکستان، ہمارے سیاستدانوں کی کوئی سیاسی جاگیر ہے۔

ہمارے سیاستدان اپنے ذاتی مفاد کی خاطر کس طرح ترامیم پر ترامیم کیے جا رہے ہیں، قوانین میں ترامیم کر کے پھر عوام میں کہتے رہتے ہیں کہ ہم عوام کو حقوق دیتے ہیں، جیسا پاکستان پیپلز پارٹی اٹھارہویں ترمیم کے بعد دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے صوبوں کو حقوق دے دیے ہیں، ہم بھی مانتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد کافی حقوق صوبوں کو ملے ہیں، مگر پوری طرح عوام فیضیاب نہیں ہو رہی، سوال یہ کہ پاکستان پیپلز پارٹی آپ لاڑکانہ کے روڈ راستے دیکھیں، جہاں ٹوٹے بکھرے راستے جن کے مرمت کے پیسے تو آپ کی حکومت نے دیے ہونگے لیکن ابھی وہ روڈ بھی نہیں بن پائے، وہ پیسا عوام میں خرچ نہیں ہوا، ۔

آپ کبھی سول ہسپتالوں میں جاکر کر دیکھیں، آپ عوام والا پانی پی کر دیکھیں، آپ کو پتا لگ جائے گا کہ آپ کس طرح عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ ابھی آپ دیکھیں سیلاب و طوفان کا موسم ہے، گزشتہ سال بھی کس طرح بارشوں کی وجہ سے سندھ میں تباہی آئی لیکن لوگ آج بھی غیر محفوظ ہیں۔ جب لوگ دریائے سندھ پر غیر قانونی گھر بنا کر بیٹھیں ہیں تب ایریگیشن ڈپارٹمنٹ نے کوئی اقدام کیے، گزشتہ سال لوگوں کی سیلاب سے ہلاکتیں زیادہ تر اس لیے ہوئی کہ وہاں دریائے سندھ کے کپ پر رہائش پذیر تھے۔ کیا کبھی ایسے قوانین بنائے گئے کہ لوگ اگر متاثر ہوئے تو کس طرح اس حل نکالنا ہے۔ آئین پاکستان میں دس آرٹیکل پبلک پالیسی پر ہیں، لیکن شاید عوام کے لیے صرف انکم سپورٹ پروگرام ہی واحد پالیسی بنائی گئی ہے۔

عوام صرف اس میں خوش ہے کہ اس کو بینظیر کے پیسے مل رہے ہیں۔ جو محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ہے، اس پالیسی کو اگر خواتین کے لیے کاروبار کی راہیں ہموار کی جائیں تو خواتین کافی خود مختیار بن چکی ہوتی۔ دوسری جانب آئی ایم ایف اس پروگرام کے بارے میں کیا کہتا ہے، عوام بالکل نا آشنا ہے۔ اور نہ ہی اس پیسے سے سندھ کی عورت خودمختار بن سکی ہے۔ لیکن کوئی عوامی پالیسی نھیں، حکومت پینشن پر جو پالیسی بنا رہی ہے وہ معاشی قتل ہے عوام کا لیکن حکمرانوں کو تو سپریم کورٹ سے نا اہل شخص کو پارلیمنٹ میں لانے میں دلچسپی ہے۔

اب حکومت نے میاں صاحب کو سیاست میں ان کرنے کے لیے قوانین میں ترمیم کردی ہے، وہی 70 کی دہائی کے لوگ اب وزیراعظم ہونگے۔ ویسے تو سیاست کرنا ہر کسی کا حق لیکن کیا نواز شریف کی جگہ نون لیگ میں کوئی نہیں جو وزیر اعظم ہو، آخر کیوں ایک شخص کے لیے قوانین تبدیل کرنے پڑ رہے ہیں۔

اس حکومت نے پارلیمنٹ میں آتے ہی نیب ترامیم کی، پھر سپریم کورٹ کے پروسیجر پر ترامیم کی اب الیکشن پر ، اس طرح کی ترامیم کرنے کا مثال آپ کو امریکہ جیسے سپر پاور ملک میں بھی نہیں ملتا جہاں 18 صدی میں بنایا گیا بل آف رائٹس اصلی شکل میں موجود ہے۔ اور حیرت کی بات ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ نون لیگ کے قائد کے لیے پاکستان میں آنے کے لیے راستہ بنایا جا رہا مطلب اگر قانونی رکاوٹ ہے تو میاں صاحب سرنڈر بھی نہیں کرنا چاہ رہے۔ لہذا ہمارے سیاستدان خود کو عوام اور قانون کے لیے وقف نہیں کریں گے، ہاں مگر قانون کو خود پر وقف ضرور کر دیں گے کیوں کے شاید پاکستان میں قانون ان کی جاگیر ہے۔

Facebook Comments HS