پشتو ادبی کانفرنس۔ تینوں رخ


 

جرگہ پاکستان نہ کوئی ادبی تنظیم ہے نہ روایتی اصطلاحی معنوں میں فلاحی تنظیم۔ یہ بس چند متحرک ساتھیوں کی اکٹھ ہے اور ان کے سرپرستوں کی مہربانی کہ وہ قلیل عرصے میں کئی ایک معنی خیز اور نتیجہ خیز تقریبات منعقد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ عابد آفریدی اور ان کے دوستوں نے انہی سرگرمیوں کی وجہ سے پشاور سمیت نئے ضم شدہ اضلاع میں ایک پہچان بنالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر و ادیب ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کی مدد اور تعاون سے ایک بہت بڑے اور کامیاب تین روزہ ادبی کانفرنس کرانے میں بھی کامیاب رہے۔ تئیس سے پچیس جون تک تقریباً پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں پشاور کے ادبی و ثقافتی مرکز نشتر ہال میں جاری رہنے والے ادبی کانفرنس میں بلا مبالغہ سینکڑوں شاعروں ادیبوں صحافیوں طلباء اور باذوق افراد نے شرکت کی اور طویل عرصے سے محسوس کی جانے والی ادبی پیاس کو بجھاتے ہوئے خوب سیراب ہوئے۔

میں اس کانفرنس کو تین مختلف پہلووں سے جانچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کی کامیابی کا پہلا پہلو تو یہ ہے کہ شدید گرمی کے باوجود صوبہ بھر سے نامی گرامی شعرا، ادباء، محققین اور مصنفین کو تین دن تک ایک چھت تلے جمع کرنا ان کے کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ اس قسم کے قومی کانفرنس کے لئے مہینوں کی تیاری اور لاکھوں کا خرچہ درکار ہوتا ہے۔ مگر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی اور عابد آفریدی نے صرف دو ہفتے کی شبانہ روز محنت سے یہ ممکن کر کے دکھایا۔

جس پر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، عابد آفریدی، ان کی پوری ٹیم اور ان کی ہر قسم کی سرپرستی اور تعاون کرنے والے سب لائق تحسین ہے۔ یہ اقدام بذات خود اتنی بڑی خدمت ہے کہ درجنوں نوجوان شاعروں ادیبوں اور لکھاریوں کو ان عظیم شخصیات کو ایک ساتھ دیکھنے اور ان کی ہیرے جواہرات جیسے قیمتی علمی گفتگو سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ جن سے الگ الگ ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اگرچہ یہ پشتون دانشور، مصنفین اور محققین ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگر میں چند ایک کے نام لینا ضروری سمجھتا ہوں، مثلاً سعد اللہ جان برق، پروفیسر نورالامین یوسفزئی، پروفیسر ڈاکٹر یار محمد مغموم، بخت روان عمر خیل، ڈاکٹر فضل رحیم مروت، لائق زادہ لائق۔

ر شفق، پروفیسر اسیر منگل، پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ جان عابد، ڈاکٹر حنیف خلیل، اقبال حسین افکار، ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زے سمیت درجنوں ایسے نام ہیں جن کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے فیض حاصل کرنا ہم اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ پختونخوا میں گزشتہ پندرہ سال میں اتنی بڑی ادبی اکٹھ نہیں ہوئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کامیاب ادبی کانفرنس پشتو ادب اور ثقافت پر کئی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

اس ادبی کانفرنس کی اصل کامیابی اس کی موضوعات تھیں اگر ایک طرف اس کانفرنس کے مختلف نشستوں میں رحمان بابا، امیر حمزہ خان شینواری، غنی خان بابا اور اجمل خٹک بابا کی شاعری کے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی تو دوسری طرف، قومی ترقی میں مادری زبان کی اہمیت، پشتو افسانوی ادب ایک جائزہ، پشتو شاعری کا موضوعی اور اسلوبی ارتقاء، پشتو ادب میں طنز و مزاح، پشتو لوک ادب جیسے انتہائی دقیق ادبی موضوعات پر ماہرین نے کھل کر اظہار خیال کیا۔

اور حاضرین کو اپنے علم کے نور سے منور کیا۔ اس کے علاوہ حاضرین، معروف ثقافتی ڈانسر نوابزادہ اسفندیار خٹک کے ڈانس، معروف گلو کاروں کی موسیقی اور ہر دلعزیز شاعروں کی شاعری سے بھی محظوظ ہوئے۔ نظم و نسق اور سٹیج سیکرٹری صاحبان کی چستی اور وقت کی پابندی قابل دید تھی۔ کیونکہ صبح نو بجے شروع ہونے ولا کانفرنس رات نو بجے تک جاری رہتا مگر اس میں ہر سیشن کے لئے صرف ایک ایک گھنٹے کا وقت مقرر تھا۔ اور مجال ہے کہ کوئی سیشن دس منٹ سے زیادہ آگے پیچھے ہوا ہو۔ اور کسی بھی تقریب کی کامیابی کا دار و مدار حاضرین کی موجودگی اور توجہ پر ہوتا ہے حیران کن طور پر حاضرین نہ صرف صبح سے شام تک موجود رہتے بلکہ انتہائی انہماک اور توجہ سے ایک ایک لفظ سنتے اور داد دیتے رہے۔ بیس سالہ نوجوانوں سے لے کر اسی سالہ بزرگوں تک کی دلچسپی قابل دید اور لائق تحسین تھی۔

اب آتے ہے اس کے تیسرے پہلوں یا تیسرے دن کی کارروائی کی طرف۔ تقریب کے آخری روز کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات مہمان خصوصی تھے۔ اور انھوں نے پشتو شعر و ادب کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات اور اعلانات بھی کیے ۔ جو خوش آئند اور کانفرنس کی مزید کامیابی کی دلیل بھی ہے مگر ساتھ ہی فوجی مزاج اور طریقہ کار، وی وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے اضافی پروٹوکول نے ادبی کانفرنس کی چاشنی کم کردی۔ اگر ایک طرف دیر سے آنے والے درجنوں شاعر ادیب اور میڈیا کارکنوں کو اندر جانے کی اجازت نہ ملی تو دوسری طرف اندر موجود کئی لوگوں کو آزادانہ طور پر سوال و جواب کا موقع نہیں دیا گیا۔

اگر عسکری قیادت سمجھتی ہے کہ فوج اور عوام کا آپس میں میل ملاپ اور تبادلہ خیال ضروری ہے تو پھر ایسے پروگراموں میں فوجی ضابطہ اخلاق کے مطابق نہیں عوامی مزاج کے مطابق عوام کو بات کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ تاکہ عسکری قیادت زمینی حقائق اور پرائمری انفارمیشن سے براہ راست آگاہ ہو سکے۔ ہمیں امید ہے کہ پشتو ادب پر اس کامیاب ادبی کانفرنس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔

 

Facebook Comments HS