سفر


نورما ایک امریکن نژاد مسلمان لڑکی تھی جس کے ابا و اجداد کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن وہ کبھی پاکستان نہ گئی تھی کیونکہ اس کا خاندان کئی دہائیوں سے امریکہ میں آباد تھا۔ چند سال بیشتر نورما کے والدین پاکستان گئے تھے جو ان کی زندگی کا تلخ ترین تجربہ رہا۔ شدید گرمی، ٹریفک کا بے ہنگم شور اور بہت سے دوسرے عوامل تھے جن کے باعث وہ اپنی مقررہ مدت سے قبل ہی امریکہ واپس لوٹ گئے مگر جانے کیوں نورما کو پاکستان سے والہانہ عقیدت تھی، وہ پاکستانی فلمیں دیکھتی اور خود کو ان مقامات پر تصور کرتی جن کا ذکر وہ پاکستانی لٹریچر میں پڑھتی تھی۔ نورما اپنی زندگی میں ایک بار پاکستان جانا چاہتی تھی وہ پاکستان کی سرزمین کو چھونا چاہتی تھی۔ نورما کے اکثر خواب بھی پاکستان کے متعلق ہوتے، پاکستان کے دریا، گلیشیر، سمندر، ریگستان سب اسے پکارتے ایسے میں نورما کو محسوس ہوتا کوئی غیرمرئی طاقت اسے پاکستان لے جانا چاہتی ہے

___________

نورما کی پڑھائی ختم ہونے میں چند سال باقی تھے جب اس کے والدین نے نورما کے لئے رشتہ کی تلاش شروع کر دی تب نورما نے اپنے والدین کے سامنے ایک عجیب و غریب خواہش کا اظہار کیا ”مجھے پاکستانی لڑکے سے شادی کرنا ہے تاکہ میں پاکستان جا سکوں“
واٹ؟
نورما کی بات سنتے ہی اس کی ماں کو حیرت کا جھٹکا لگا
تم نے پاکستان جا کر کیا کرنا ہے؟
پتہ نہیں
نورما نے لاپرواہی سے کاندھے اچکائے
”بس مجھے ایک بار پاکستان دیکھنا ہے“
”عجیب لڑکی ہو بھلا پاکستان بھی کوئی دیکھنے کی جگہ ہے“

اس کی ماں نے نخوت سے اپنی ناک سکوڑی نورما نے ماں کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا کیونکہ اسے پورا یقین تھا ایک دن وہ پاکستان ضرور جائے گی

_________

نورما کو پاکستانی لڑکا تو کوئی نہ ملا مگر اپنی تعلیم کے آخری سال میں اسے ایک بنگلہ دیشی محمد احمد سے محبت ہو گئی اور دونوں جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئے مگر ابھی تک نورما اپنے دل و دماغ سے پاکستان نہ نکال پائی تھی وہ پاکستانی کھانے شوق سے کھانی، پاکستانی لباس پہنتی اور پاکستانی لوگوں سے مل کر خوش ہوتی۔ شادی کے دو سالوں بعد نورما کی ملاقات ایک پاکستانی نوجوان امیر حمزہ سے ہوئی جو محمد احمد کی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور اس کا پورا خاندان پاکستان میں آباد تھا۔

احمد اور حمزہ کے درمیان اچھی دوستی تھی جس کی وجہ سے نورمہ اکثر ہی امیر حمزہ کو اپنے گھر لنچ یا ڈنر پر بلا لیتی وہ حمزہ سے پوچھ کر پاکستانی ڈشز تیار کرتی اور اس سے پاکستان کی باتیں کیا کرتی جب ان ہی دنوں امیر حمزہ کو اپنی بہن کی شادی کے سلسلہ میں پاکستان جانا پڑا اور اس نے نورمہ کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دے دی۔ یہ دعوت نورما کے لیے خوشی کا سبب تھی امیر حمزہ کے توسط سے اس کی ایک دلی خواہش پوری ہونے والی تھی لہذا محمد احمد سے اجازت ملتے ہی وہ امیر حمزہ کے ہمراہ پاکستان کے لئے روانہ ہو گئی جبکہ اس کی ماں اور چھوٹے بھائی عماد نے نورما کے پاکستان جانے کی بھرپور مخالفت کی اور اسے ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ تنہا ایک اجنبی شخص کے ہمراہ پاکستان نہ جائے مگر نورما کو اپنی ذات پر پورا بھروسا تھا اسے یقین تھا کہ امیر حمزہ اسے کسی بھی قسم کا دھوکا نہیں دے گا

________

17 فروری کی دوپہر نورمہ، امیر حمزہ کے ہمراہ کراچی ائرپورٹ پر اتر گئی۔ یہ تصور ہی اس کے لیے خوش کن تھا کہ جس ملک کے خواب وہ بچپن سے دیکھتی آئی ہے آج اس کی سرزمین پر اس نے اپنے قدم رکھ دیے تھے۔ وہ خوشی خوشی ائرپورٹ سے امیر حمزہ کے گھر کے لیے روانہ ہوئی تو اسے راستہ میں لوگوں کا ہجوم، گاڑیوں کا شور اور بے ہنگم ٹریفک بہت عجیب لگا، وہ حیرت سے بولی

”پاکستانی لوگ بہت لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرتے ہیں کیا یہاں ڈرائیونگ کا کوئی اصول نہیں ہے“

حمزہ اس کی کسی بات کا جواب نہ دے پایا لیکن اتنا ضرور تھا نورما کو پاکستان آ کر دلی خوشی حاصل ہوئی جس کا اظہار وہ بار، بار امیر حمزہ کے گھر والوں کے سامنے کرتی رہی چونکہ امیر حمزہ کی بہن کی شادی میں ابھی دس دن باقی تھے لہذا اس نے نورما کو پاکستان کے مختلف شہر دکھانے کا پروگرام بنایا۔ حمزہ اس کی دونوں بہنیں اور نورما گاڑی میں روڈ کے راستے لاہور کے لئے روانہ ہو گئے

______

انہیں لاہور آئے دوسرا دن تھا جہاں کے تاریخی مقامات کی سیر نے نورما کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ تیسرے دن وہ لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے۔ سب کچھ بالکل معمول کے مطابق تھا نورما بہت خوش تھی۔ سفر شروع ہونے سے پہلے اس نے لاہوری ناشتہ کیا پھر امریکہ فون کر کے احمد اور عماد سے لمبی گفتگو کی اس دوران گاڑی موٹروے پر چڑھ چکی تھی نورما کھڑکی کے راستے باہر کے مناظر دیکھ کر خوش ہو رہی تھی جب اچانک ہی پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتار بس نے امیر حمزہ کی گاڑی کو اوور ٹیک کیا جس سے بچنے کی کوشش میں کار لہرائی ہوئی موٹر وے کی دیوار سے جا ٹکرائی اور صرف ایک سیکنڈ لگا نورما گاڑی کی کھڑکی توڑتی باہر سڑک پر جا گری۔

گاڑی ٹکرانے کے بعد رک چکی تھی حیرت کی بات یہ تھی گاڑی میں موجود دیگر تین افراد میں سے کسی کو معمولی سی چوٹ بھی نہ آئی تھی مگر سڑک پر گرتے ہی نورما اپنی جان کی بازی ہار گئی۔ ایمبولینس کے ذریعے اس کی لاش کراچی لائی گئی جہاں وہ چار دن سرد خانہ میں رہی مگر محمد احمد اور عماد کو پاکستان کا ویزا نہ مل سکا جس کے سبب انہوں نے نورما کو پاکستان دفنانے کی اجازت دے دی اور حمزہ نے کراچی ائرپورٹ پر نورما کو دفنا کر خود واپسی کا سفر باندھا۔ نورمہ کا پاکستان انا اور کراچی ائرپورٹ پر دفن ہونا ایک بات واضح کرتا ہے انسان کی موت اور جگہ مقرر ہے جہاں موت کا فرشتہ اسے کہیں سے بھی کھینچ کر لے جاتا ہے نورمہ کی قبر آج بھی کراچی ائر پورٹ پر موجود ہے

Facebook Comments HS