تف ہے ایسی ماں پر!


کون ہو گا جو ماں کی عظمت کا معترف نہ ہو گا۔ اس زمین پر اسے خدا کے نائب کا درجہ دیا گیا۔ جنت کو ماں کے پیروں تلے جگہ دی گئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماؤں نے اولاد کے لیے اپنی محبت اور قربانی سے تاریخ کے انمٹ باب قلم بند کیے ہیں۔ ماں کی محبت کو خالص ترین قرار دیا گیا۔ اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں۔ یقیناً ہم اپنے آس پاس ایسی بے شمار ماؤں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے ان تھک محنت، قربانی، بے لوث محبت اور اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے اپنی اولادوں کو سینچا ہے۔

اولاد کی زندگیوں کو گلزار بنانے کے لیے اپنی زندگیاں خاک میں ملا دی ہیں۔ لیکن ایک کڑوا سچ ایسا بھی ہے کہ یہی ماں جب لاپروائی اور خود غرضی پر اترا آئی تو اس نے اپنی اولاد، خاص طور پر بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا۔ بچوں کو کچھ ہو جائے تو لوگ ماں کے درد کی دہائی دیتے ہیں۔ ہر دوسرا یہی کہتا سنائی دیتا ہے، ہائے ہائے! ماں کی آہوں نے عرش ہلا دیا۔ کوئی یہ پوچھے کہ لوگو جب یہ سانحے ہو رہے تھے تو یہ ماں فرش کے کس کونے میں مدہوش پڑی تھی؟

تف ہے ایسی ماں پر جو اپنی چودہ سالہ بچی کو ایک ہسپتال کی ایمرجنسی میں لائی کیونکہ اس کے پیٹ میں سخت درد تھا لیکن وہاں لانے کے کچھ ہی دیر بعد اس بچی نے پورے نو مہینے کے حمل کے نتیجے میں ایک بچے کو جنم دیا۔ بعد میں ڈی این اے ٹیسٹ نے یہ ثابت کیا کہ پیدا ہونے والے بچے کا باپ اس لڑکی کا سگا بھائی تھا۔ یہ کیسی ماں تھی جسے نو مہینے بلکہ اس سے پہلے سے نہ اس بات کی خبر ہوئی کہ اس کا خاوند یعنی اس کی بیٹی کا سگا باپ اور اس کا بیٹا یعنی اس بچی کا سگا بھائی اپنی ہوس کہاں نکال رہے ہیں، اپنی جسمانی بھوک کہاں مٹا رہے ہیں؟

تف ہے ایسی ماں پر اگر وہ یہ نہ پہچان پائی کہ اس کی بیٹی حمل سے ہے۔ اپنے خاوند اور اپنے بیٹے کی جسمانی بھوک مٹانے کے لیے اس نے اپنی بیٹی کو ان کا چارہ بننا کیسے قبول کیا؟ کیوں قبول کیا؟ اس بچی کا درد محسوس کیجیے جس کا اپنا گھر، جس کے اپنے نگہبان اس کی بربادی کا سامان نکلے۔ اس قصور کی سب سے بڑی سزا اس ماں کو ملنے چاہیے جو ماں کی عظمت کا تاج سر پر سجائے بیٹھی رہی۔

تف ہے آپ پر۔ اگر آپ ماں ہیں اور اپنی دس سالہ بچی کو صبح سات بجے دودھ لینے گھر سے باہر بھیج دیتی ہیں کیونکہ آپ کو چائے پینی ہے۔ بچی غائب ہو گئی تو ماں کی فریاد سے عرش ہل گیا۔ ایسی ماں کو فرش میں زندہ گاڑ دینا چاہیے۔

تف ہے آپ پر۔ اگر آپ ماں ہیں اور اپنے بچے کی شکایت پر دھیان دینے کے بجائے اس کے کان کے نیچے ایک تھپڑ رسید کرتی ہیں کیونکہ وہ شکایت کرتا ہے کہ قرآن پڑھانے والا مولوی اس کے ساتھ نازیبا حرکات کرتا ہے۔

تف ہے آپ پر۔ اگر آپ کے بچے گھر کے نوکر کی شکایت کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا ہے۔ آپ بچے کی بات پر دھیان نہیں دینا چاہتیں کیونکہ اچھا نوکر بڑی مشکل سے ملتا ہے۔

اب اعتراض یہ ہو گا کہ ساری ذمہ داری کیا صرف ماں پر عائد ہوتی ہے؟ اس کا جواب ہے ہاں، جب آپ کو بطور ماں عظمت کے بلند چبوترے پر بٹھایا گیا ہے، جس کا بھرپور لطف بھی اٹھاتی ہیں، تو یہاں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ آپ کے زیر نگرانی پھولوں سے بھی نازک مخلوق ہے جسے بچے کہتے ہیں۔

میں تو بولوں گی۔

Facebook Comments HS