یادیں پیچھا نہیں چھوڑتیں
یادیں انسان کی ملکیت ہوتی ہیں جنہیں نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ ہی خود سے جدا کیا جا سکتا ہے خواہ وہ حسین ہوں یا تکلیف دہ۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ بچپن کی یادیں خوبصورت ہوتی ہیں کیونکہ غم سے ابھی تعارف نہیں ہوا ہوتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ دنیا میں میرے دوست پومی جیسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کو اتنے پسند آ جاتے ہیں کہ بار بار آزمائے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی اپنی مخلوق سے محبت ہے جب وہ کسی کو اس دنیا میں ہی بخشنے کا انتظام کردے۔ یاد رہے، ہر حال میں شکر گزاری میں کبھی کمی نہیں ہونی چاہیے، اللہ جب غم دے کر آزماتا ہے تو بے شمار خوشیاں بھی عطا کرتا ہے۔
بچپن میں ماں کی جدائی، اٹھارہ سال کی عمر میں بے حد محبت کرنے والے دادا کا بچھڑنا اور پھر آج سے تقریباً دو سال پہلے اس ہستی کا جدا ہونا جو رشتے میں تو پومی کی پھپھو تھیں لیکن اسکول سے واپسی ہو، کالج سے گھر آنا، یا پھر دفتر سے گھر پہنچنا، کبھی گھنٹی بجا کر یا آواز کے ذریعے اسے اپنی آمد کا بتانا نہیں پڑتا تھا، یہ دل سے دل کا ایسا تعلق تھا کہ گرمیوں میں دروازے سے داخل ہوتے ہی شربت کا گلاس ہاتھ میں نظر آتا تھا۔ اسی مامتا کے بچھڑنے کی ہیٹرک کا میں نے پچھلے ایک مضمون میں بھی ذکر کیا تھا جو باہمت پومی کی زندگی کی المناک حقیقت ہے۔
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
چند مہینے پہلے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں مسجد حرام میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک منظر نے سب کے دلوں کو مسحور کر دیا جب ایک شخص اپنی ماں کو کندھوں پر اٹھا کر طواف کرا رہا تھا۔ پومی نے چونکہ بچپن میں اپنی ماں کو کھو دیا تھا اس لئے ہمیشہ اسے حسرت رہی کہ ایسا کوئی موقع اس کو بھی ملتا اور وہ ماں کی خدمت میں حدوں سے آگے جاتا۔ آج میں پومی سے ملنے گیا تو میرا دوست یہ ویڈیو دیکھ کر گم سم سا بیٹھا تھا، مجھے دیکھتے ہی ایک شعر سنانے لگا۔
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
خیر تو ہے، میں نے پوچھا۔ کہنے لگا یار جانتے تو ہو، کھوئے ہوئے رشتوں کی یادیں پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں۔ پومی کے اندر کا فلاسفر پھر سے جاگ چکا تھا، بولا، جب کسی گھر میں ماں نہ رہے تو گھر کے افراد جذباتی طور پر بکھر جاتے ہیں۔
پومی کا کہنا ہے کہ شاعری اور نثر، جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں، اگر کسی میں صلاحیت ہے تو خود بھی لکھے ورنہ مرضی کا پڑھے، بہت سکون ملتا ہے۔
ماں جب چلی جائے تو کسی گھر میں جدائیاں نظر آتی ہیں اور کہیں اختلافات یا پھر خاندانی سیاستیں جنم لے لیتی ہیں۔ گھروں میں بے شمار مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کچھ مرد دوسری شادی کر کے خود کو تو سمیٹ لیتے ہیں لیکن بچے مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ باپ کی غیر موجودگی میں سوتیلی ماں کا سوتیلا سلوک ہو تو بھی باپ کو سچ کا یقین دلانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ماں کے مرنے کے بعد اگر باپ خود گھریلو معاملات میں فیصلے نہ کرے اور قریبی رشتے داروں کی طرف سے ملنے والے مشوروں پر بغیر سوچے عمل کرنے لگ جائے تو گھر کی باگ ڈور دوسرے سنبھال لیتے ہیں، پھر خاندانی سیاست بھی خوب ہوتی ہے اور غیر ضروری مداخلت بھی۔
پومی یادوں کا سفر طے کر کے اپنے حال سے بچپن میں پہنچ چکا تھا۔ اس نے چند سانسوں میں اتنا کچھ کہہ دیا تھا کہ میں نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔ پومی نے ہمیشہ دانائی کی باتیں کی تھیں، اس کی وجہ ذہانت کے ساتھ ساتھ وہ حالات تھے جن کا سامنا میرا دوست بچپن سے کرتا آیا تھا اور وقت سے پہلے اور عمر سے زیادہ سیکھ چکا تھا۔
ہم چھٹی جماعت میں تھے، ایک دن پومی مجھے کہنے لگا، جانتے ہو دوست میں کبھی کوئی نیکی جنت حاصل کرنے کے لئے نہیں کرتا ہوں۔ کیوں، جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے، کل ہی تو اسلامیات والے سر نے بتایا تھا، میں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔ کہنے لگا، کوئی نیک کام کروں گا تو شاید موت کے بعد اللہ ماں سے ملوا دے، میں نیکی کے بدلے میں ماں سے ملاقات مانگتا ہوں، ماں مل گئی تو جنت خود ہی مل جائے گی۔ اس کی آنکھوں میں نمی نظر آ رہی تھی، میرے لئے بھی ضبط مشکل تھا سو میں کلاس سے باہر چلا گیا۔
پومی کم سنی میں وہ سب سوچتا تھا جو اکثر لوگ جوانی میں بھی نہیں سوچتے ہیں۔ ایک دفعہ ہم دونوں پارک میں گئے تو زمین پر بہت چیونٹیاں نظر آئیں، پومی نے یہ کہہ کر کھیلنے سے انکار کر دیا کہ چلتے یا بھاگتے ہوئے کوئی چیونٹی پاؤں تلے نہ آ جائے کہ ایک اور اولاد پومی بن جائے۔
پومی کی اس قدر بے چینی کی ایک وجہ وہ بے بسی بھی ہے جو اولاد سے جدا ہوتے وقت اس نے اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھی تھی، بچوں کے مستقبل کی فکر، ان کے کٹھن سفر کا خوف اور ایسی ٹھوکریں جہاں ماں کے بغیر سنبھلنا کبھی آسان نہیں ہوتا ہے۔
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
بچپن سے پومی لکھنے کا شوق رکھتا تھا، معروف اخبارات میں بچوں کے لئے کہانیاں لکھتا رہتا تھا، معیار اتنا اعلیٰ ہوتا تھا کہ کبھی بھی اس کی کوئی تحریر ردی کی ٹوکری کی نظر نہیں ہوئی تھی۔ ایک خاص بات جو میں نے پومی کی کہانیوں میں دیکھی تھی وہ یہ کہ زیادہ تر کہانیوں کا اختتام ماں اور بیٹے کی جدائی کی صورت میں ہوتا تھا، کبھی بیٹے کی موت تو کبھی ماں کی موت، اس کی وجہ مجھے معلوم تھی اس لئے کبھی پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔
والدین کے بے شمار حقوق میں سے ایک حق ان کے نام پر صدقہ دینا ہے چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت ہو چکے ہوں۔ صدقہ دینے سے مصیبتیں دور ہوتی ہیں۔ والدین کے حقوق صرف ان کی زندگی میں نہیں ہوتے ہیں، بلکہ موت کے بعد ان کی ضرورتیں مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ مرنے کے بعد انسان کے اپنے اعمال رک جاتے ہیں۔ اس لئے ہر اولاد کے لئے ضروری ہے کہ اگر ماں اور باپ یا ان میں سے کوئی ایک اس دنیا میں نہیں تو بھی ان کے نام پر صدقہ دے، دعا کرے، قرآن پڑھے، دوسروں سے قرآن پڑھوائے اور ان کے نام پر کار خیر انجام دے۔ یقینی طور پر والدین کی ارواح نہ صرف خوش ہوتی ہیں بلکہ اولاد کے لئے دعا بھی کرتی ہیں۔


