ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ: عزم و استقلال کی قابل فخر داستان


خواہش جب جستجو بن جائے اور جستجو جنون کی شکل اختیار کر جائے تو پھر زندگی میں ناممکنات اور مشکلات کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔ زندگی میں عزم اور بلند حوصلہ رویہ اور مستقل مزاجی مزاج بن جائے تو کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔ اور انسان مسائل پر نہیں وسائل پر نظر رکھتا ہے۔ مجھے ایسے ہی لوگوں کی کہانیوں کی تلاش رہتی ہے جو حقیقی زندگی میں کامیابی کی مثال ہوتے ہیں۔ جنہوں نے ناکامیوں کے منہ موڑ کر کامیابی میں بدلا ہوتا ہے۔ جو حالات اور مشکلات سے گھبراتے نہیں ہیں بلکہ اپنے بڑے خوابوں اور جواں ہمت جذبوں کی بدولت قابل فخر داستان بن جاتے ہیں۔

آج بھی آپ کے ساتھ ایک عزم و استقلال اور محنت و کامیابی کی قابل فخر کہانی اور شخصیت کی داستان شیئر کروں گا۔ ڈاکٹر پیٹر جے ڈیوڈ کی شخصیت اور زندگی بلکہ خدمات بہت دلچسپ اور شاندار ہیں۔ میں ڈاکٹر جیمز شیرا کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے مجھے ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ سے متعارف کروایا۔ میں نے ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ کا اپنے یو ٹیوب چینل کے لئے آن لائن انٹرویو بھی کیا جو انٹرنیٹ کی وجہ سے اتنا اچھا نہ ہو سکا۔ اس لئے ان کی کہانی کو تحریری شکل میں آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ 5 اکتوبر 1941 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد متحرم پی ایل ڈیوڈ گونیش مل کی لیبارٹری میں کام کرتے تھے جبکہ ان کی والدہ محترمہ گریس ڈیوڈ ایک پرائمری سکول ٹیچر تھیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میونسپل سکول سے حاصل کی اور وہیں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب 1956 میں ان کے خاندان نے فیصل آباد، جھنگ بازار میں گھر خریدا تھا، وہ گھر آج بھی کسی بھی مسیحی خاندان کا سب سے قدیم گھر ہے جس گھر میں ایک ہی خاندان قیام پذیر رہا ہو۔ ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ بتاتے ہیں کہ چونکہ پاکستان معاشرے میں اس وقت کیرئیر کے متعلق فیصلے والدین کرتے تھے۔ میری خواہش تھی کہ میں فورمین کرسچن کالج، لاہور میں داخلہ لوں لیکن میرے پاس فیس ادا کرنے کے لئے مطلوبہ رقم نہیں تھی۔ پھر میں نے گورڈن کالج، راولپنڈی میں داخلہ لیا۔ جہاں میری ملاقات ایک مشنری جان کری سے ہوئی جنہوں نے میری گورڈن کالج کی فیس ادا کی اور میں نے 1957 میں گورڈن کالج میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔

میرے والدین کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور میں نے اپنے والدین کی سو فیصد تابعداری کی ہے۔ 1959 میں نشتر کالج ملتان میں داخلہ لیا۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ان کا تعلیمی کیرئیر اتنا شاندار نہیں رہا لیکن وہ دیگر سرگرمیوں میں ہمیشہ متحرک اور فعال رہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے سارے امتحان وقت پر پاس کر لئے تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے کرسچن ہسپتال ٹیکسلا میں کام کیا اور اس کے بعد 5 سال مختلف مشنری ہسپتالوں میں کام کرتے رہے۔

1965 کی جنگ کے وقت وہ یوسی ایچ لاہور میں بطور انٹرن کام کر رہے تھے کہ وہاں کارڈیو سرجن ڈاکٹر بوائے نے انہیں کہا کہ وہ ساہیوال ہسپتال میں بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ دایاں سنبھالیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے امریکی ڈاکٹروں کو واپس جانا پڑا رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ اس وقت ان کی عمر صرف 22 سال کے قریب تھی۔ انہوں نے 3 سال ساہیوال اور 2 سال سیالکوٹ ہسپتال میں کام کیا۔

1968 میں ان کی شادی مسز شمیم ڈیوڈ سے ہو گئی جب وہ میموریل ہسپتال میں کام کیا کرتے تھے۔ 1969 میں وہ ورک پرامیننٹ پر برطانیہ چلے گئے۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ میں نے کبھی وقت ضائع نہیں کیا اور نہ ہی میرے پاس اتنا وقت تھا کہ میں پریشان اور مایوس ہوتا۔ میں نے برطانیہ میں آنے کے 6 دن بعد ایک قریبی ہسپتال میں چلا گیا اور ان سے کہا کہ اگر آپ کے پاس میرے لئے کوئی نوکری نہیں ہے تو آپ مجھے بطور رضاکار کام دے دیں تاکہ میں فارغ نہ رہوں بلکہ کچھ کام کر سکوں۔ میں ہر وقت کام کرنے والا انسان ہوں۔

میں آج بھی 81 سال کی عمر میں 7 دن اپنا کلینک کھولتا ہوں اور گرمیوں میں ویک اینڈ پر اپنے مریضوں کی سہولت کے لئے بغیر معاوضے کے کام کرتا ہوں۔ کام کے حوالے سے میرا ہمیشہ مشنری رویہ رہا ہے۔ اس سارے سفر میں میری اہلیہ کا ساتھ اور تعاون بہت اہم رہا ہے۔ میرے والدین کی دعاؤں کے بغیر میرے لئے کامیابی ممکن نہیں تھی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ نے کہا کہ اگر پاکستانی مسیحی نوجوان معاشرے میں بہتر مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی معاشی اور سماجی حیثیت بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں محنت کے سوا اور کوئی فارمولا اپنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ والدین کی دعاؤں کے بغیر بچوں کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔ میں ہمیشہ اپنے بچوں اور طالب عملوں کو بتاتا ہوں کہ ہمیشہ سچ بولیں۔

ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ پاکستان انٹرنیشنل کرسچن میڈیکل ایسی ایسوسی ایشن کے چیئر ہیں۔ فارمین کرسچن کالج، یونیورسٹی کے لئے 2002 سے اب تک وہ 2 کروڑ روپے کرسچن اسٹوڈنٹس اسکالرشپ فنڈ کے لیے دے چکے ہیں۔ جو ایف کالج کی 150 سالہ تاریخ میں کسی بھی فرد واحد کی جانب سے سب سے زیادہ فنڈ ہے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ دنیا میں واحد پاکستانی ہیں۔ ڈاکٹر پیٹر جے ڈیوڈ پاکستان کے تاریخی مسیحی اداروں کی تزئین و آرائش اور بحالی کے لیے بھی متحرک ہیں۔ وہ یونٹیڈ کرسچن ہسپتال، لاہور کی تزئین و آرائش کے لیے بھی خصوصی تعاون کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر پیٹر جے ڈیوڈ، پاکستانی نژاد برطانوی میڈیکل ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ، معروف سماجی کارکن، مستحق طلباء کے لئے تعلیم کے پروموٹر، سابق چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز فارمین کرسچن کالج اور پاکستان میں سکاٹ لینڈ چرچ کے اٹارنی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی خدمات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ وہ اپنی وسیع پیمانے پر پھیلے کام اور حلقہ احباب کی وجہ سے بھی معروف ہیں۔

ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ کی زندگی پاکستان نوجوانوں کے لئے روشن مثال ہے۔ کہ اگر وہ ہمت اور مستقبل مزاجی سے محنت کرتے رہیں تو وہ کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ قدرت کا کمال کہیں یا ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ کی محنت کا ثمر، جس کالج میں داخلے کے لئے ان کے پاس کے پیسے نہیں تھے آج اس کالج نے مستحق طلبہ کی مالی معاونت پر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کالج میں ایک بلڈنگ کو ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ بلاک کا نام دے دیا ہے۔

میں ایف سی یونیورسٹی میں اپنا سیشن ختم کر کے واپس آ رہا تھا کہ میری نظر ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ بلاک پر پڑی تو دل میں یہ احساس مزید پختہ ہو گیا کہ محنت اتنی کرو کہ پتھر بھی تمہاری کامیابی کی گواہی دیں۔ ان کی فروغ تعلیم اور سماجی خدمات کے اعتراف میں 2016 میں صدر پاکستان اور دو مرتبہ گورنر پنجاب نے ایوارڈ دیے ہیں۔

خدا نے دنیا میں بہت سارے لوگوں کو برکت دی ہوتی ہے لیکن وہ اپنی برکت کو اپنی ذات تک محدود رکھ کر بے برکتے ہی رہتے ہیں جب کچھ لوگ ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ کی طرح اپنی برکتوں کو دوسروں سے بانٹ کر بابرکت اور کثرت کا سبب بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب انسانیت کے لئے درد دل رکھنے والے انسان ہیں جو اپنی کیمونٹی کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ وہ نوجوانوں کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے لئے عملی معاونت کے روح رواں بھی ہیں۔ ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ آپ ہمارے ملک اور کیمونٹی کا فخر اور سرمایہ ہیں۔ ہم آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS