ادبی مباحث کی کمی کے باعث ہمارے یہاں نیم حکیم ادبی نقاد بن بیٹھے : رحمان عباس
سرخیاں
اردو فکشن نگاروں کے لیے عالمی ادب کا اسٹیج سجنے کو ہے
تنازعات ادبی مباحث کا حصہ ہیں، تشکیک کا شکار ہوں، خود کو دریافت کرنے میں ناکام رہا
معروف فکشن نگار، رحمان عباس سے ایک دل چسپ مکالمہ
انٹرویو: اقبال خورشید
یہ ایک ایسی کہانی ہے، جس کے پلاٹ میں تنازعات کا تسلسل ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار ایک ادیب ہے، ایک متنازع ادیب، جس نے فحش نگاری کے الزامات سہے، مقدمات کا سامنا کیا، اور اپنوں سے دور ہوا، مگر لکھتا رہا۔ مسلسل، ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری کتاب۔
کبھی اس نے ”خدا کے سائے میں آنکھ مچولی“ کھیلی، کبھی روح اور حزن کو یک جا کر ”روحزن“ کی شکل دی، اور پھر ”زندیق“ ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ کہانی ہے اردو کے معروف ہندوستانی ادیب، رحمان عباس کی۔ ایک ایسا فکشن نگار، جس نے قارئین کے لیے فقط ادب تخلیق نہیں کیا۔ فقط ان شہروں کی کہانیاں نہیں سنائیں، جہاں چل پھر کر وہ جوان ہوا، بلکہ ان کہانیوں کی ترسیل و ترویج میں سوشل میڈیا کے استعمال کی طرح بھی ڈالی۔ اس عمل نے جہاں رحمان عباس کے کام کو رسائی عطا کی، وہیں اختلافات اور تنازعات کو بھی جنم دیا۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ ان کا کام قارئین تک پہنچتا رہا، دیگر زبانوں میں ڈھلتا رہا، اور ادبی حلقوں میں زیر بحث آیا۔ ناول ”روحزن“ کا ہندی، انگریزی اور جرمن ترجمہ شایع ہو چکا ہے، زندیق بھی جرمن زبان کے قالب میں ڈھل رہا ہے۔
گزشتہ دنوں رحمان عباس سے ایک دل چسپ مکالمہ ہوا، جو احباب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اقبال: کئی کتابیں آپ نے لکھیں، آخر وہ کون سی کتاب تھی، جو خود کو دریافت کرنے کا وسیلہ بنی؟
رحمان: فی الحال تو خود کو دریافت کرنے کی کوشش میں ناکام رہا ہوں۔ میرا ذہن تشکیک کا شکار ہے۔ مجھے نہ آدمی کی ماہیئت سمجھ میں آتی ہے اور نہ اس کائنات میں آدمی کی موجودی کا کوئی سبب۔ مذہبی اور علمی تعبیریں درد کا مداوا نہیں بن سکتیں۔
اقبال: دل چسپ۔ اچھا، لکھاری کے لیے قاری ہونا شرط، آپ کے پسندیدہ فکشن نگار کون ہیں؟ کون سا شاعر اچھا لگا؟
رحمان: میں قاری ہی ہوں۔ لکھتا بہت کم ہوں۔ پچیس سال میں پانچ ناول لکھے ہیں۔ پڑھنا میری ضرورت ہے۔ میری زندگی کی سب سے اہم سرگرمی اچھا ادب پڑھنا ہے۔ مجھے بہت سارے ادیب، شاعر اور مفکر پسند ہیں۔ مثلاً نطشے، کر کے گارڈ، سارتر، البرٹ کامیو، مارٹن ہیڈگر، سیمون دی بواں، فلابیئر، کافکا، گارسیا مارکیز، بین واکری، کنڈیرا، امیتابھ گھوش، بیدی، منٹو، عصمت، نیر مسعود وغیرہ۔ بعض نام اور بھی ہیں۔ پچھلی صدی کے شعرا میں میراجی، شکیب جلالی، ناصر کاظمی اور منچندرا بانی زیادہ پسند ہیں۔
اقبال: پانچ کتابیں کم کہاں صاحب، اچھا، یہ بتائیں، آج کل کس کتاب پر کام کر رہے ہیں؟ اور لکھنے کا ڈھب کیا ہے، دن میں لکھتے ہیں، یا رات میں، کاغذ اور قلم برتتے ہیں، یا ٹائپ کرتے ہیں؟
رحمان: آج کل ایک ناول شروع کیا ہے۔ اپنے دو ناولوں ”خدا کے سائے میں آنکھ مچولی“ اور ”ایک ممنوعہ محبت کی کہانی“ کو ری رائٹ کر رہا ہوں۔ یہ ناول میں نے کچھ پندرہ سال پہلے لکھے تھے۔ اب ایسا لگتا ہے بیانیہ کو مزید بہتر بنایا جائے۔ سو محنت کر رہا ہوں۔ اکثر شام میں براہ راست ان پیج پر ٹائپ کرتا ہوں۔
اقبال: بے شک آپ کی مقبولیت آپ کی تخلیقیت کی دین ہے، مگر کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ تنازعات بھی رہے، کیا یہ درست ہے؟
رحمان: ممکن ہے، لیکن تنازعات بھی ادبی مباحث کا حصہ ہیں۔ دوسری طرف ہر شخص ایک رائے رکھتا ہے اور یہ رائے اس شخص کے ظرف کا اظہار ہوتی ہے۔ پھر ادیب کی زندگی پبلک ڈومین میں ہوتی ہے ہر شخص اس کے بارے میں ایک رائے قائم کرنے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔ ہم کسی سے متعلق جو رائے قائم کرتے ہیں، اس کے پس پردہ ہمیشہ کچھ عوامل ہوتے ہیں۔ دنیا میں کچھ بھی نیا نہیں، یہی اس دنیا کا حسن ہے۔ البتہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی شاعری، تنقید، یا کسی دوسری تحریر کو آپ نے کبھی قابل تحسین نہیں سمجھا اور اس پر ان کی توقع کے مطابق رائے نہیں دی، وہ انتقاماً اگر آپ کے خلاف محاذ آرائی کریں، تو چھوٹا پن اور کمینگی ہے۔ میں نے ایسے بھی کئی دیکھے ہیں۔
اقبال: روحزن یا زندیق، کوئی ایک کتاب اگر چننی ہو، تو کون سی چنیں گے؟
رحمان: زندیق۔
اقبال: کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے کئی ادیب ضائع ہو گئے، ان کی تخلیقی صلاحیتیں فیس بک نے نگل لیں، کیا اس خیال سے متفق ہیں؟
رحمان: بالکل نہیں۔ اچھا ادیب اچھا ادیب ہوتا ہے۔ سوشل میڈیائی ادب اور ادیب ایک الگ ”چیز“ ہے۔ ہمیں ان کی آزادی کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ ان کے صفحے پر ان کا حق ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہیں اس کا استعمال کریں۔ ہم کو اگر کوفت ہو، تو ہم انھیں بلاک کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا آزادی کا نام ہے۔ ہر آزادی دوسری آزادی کا پاس رکھتی ہے۔ میں سوشل میڈیا کی پیداوار تخلیقات کو نہیں پڑھتا۔ چند جملوں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ فلاں لکھنے والے کا ادب کا مطالعہ کتنا ہے اور ادب اس کا عشق نہیں ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا ایک بہت بڑا میٹرنٹی روم ہے، اس کمرے میں کئی بچے پیدا ہوتے ہیں، کل بھی ہوں گے، ممکن ہے ان میں کوئی صاحب نظر بھی ہو، لیکن اگر وہ اسی میٹرنٹی روم کو کل جہاں ادب تصور کرتا رہا، اسی کا اسیر رہا اور فوت ہو گیا تو یہ اس کی قسمت ہے۔
اقبال: سوشل میڈیا کے ذریعے جن کتب نے پوری اردو دنیا کو متوجہ کیا، ان میں آپ کی کتب نمایاں، سوشل میڈیا کے موثر استعمال کیا فروغ کتب میں کردار ادا کر سکتا ہے؟
رحمان: سوشل میڈیا کے ذریعے ہم کتاب کی اشاعت کی خبروں اور اس پر قارئین کی آرا سے اوروں کو آگاہ کر سکتے ہیں، انھیں مطلع کر سکتے ہیں۔ میں اس کے حق میں ہوں۔ اور اب تو سب ہی سوشل میڈیا اس کارخیر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ بھی جنھیں کبھی یہ لگتا تھا کہ یہ محض شہرت پسندی ہے۔ اردو دنیا میں فکشن پڑھنے والے دو تین ہزار افراد بہ مشکل ہوں گے، ان تک رسائی کی کوشش یا انھیں کتاب کی اشاعت اور متن کی بابت تھوڑی سی معلومات پہنچانا اگر کسی کو شہرت پسندی لگتا ہے، تو ایسا شخص شدید ڈپریشن کا شکار ہو گا، یا پھر نئی دنیا سے کٹا ہوا ہو گا۔
شعرا تو روزانہ اپنا کلام چاشت یا مغرب کی نماز کے بعد ہی سوشل میڈیا پر سجائے رہتے ہیں۔ دوسری طرف ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ قاری بے وقوف نہیں ہوتا ہے۔ قاری کے اندر یہ تمیز ہوتی ہے کہ ادیب کون ہے اور سوشل میڈیا کی پیداوار کون ہے۔ کون سنجیدہ ذہن ہے اور کون خود پسندی اور نخوت میں مبتلا ہے۔ چناں چہ سوشل میڈیا کا تعمیری استعمال کتاب کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے اور تخریبی استعمال کتاب اور مصنف دونوں کی رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔
اقبال: فلمز میں دل چسپی ہے۔
رحمان: فلمیں کم ہی دیکھتا ہوں۔
اقبال: آپ نے کہا کہ آپ قاری ہیں، تو اس قاری کو اردو ادب کا مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے، مستقبل کا منظر نامہ کیا ہے؟
رحمان: اردو ادب کے مستقبل کا منظر نامہ ویسا ہی ہو گا، جیسا یہ ماضی قریب میں رہا ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اب ادیب کے لیے سرحدیں مٹ گئی ہیں اور لکھنے پڑھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ ایک دوسرے سے پہلے کی نسبت قریب آیا ہے۔ اس کا یقیناً مثبت اثر ہو گا۔ اردو فکشن اور عمدہ شاعری کو بھارت کی مختلف زبانوں میں جہاں ترجمہ کیا جانا چاہیے، وہیں ہمیں دنیا کی دیگر زبانوں تک رسائی کے امکانات بھی تلاش کرنا چاہیے۔ اس سے ہمارے لکھنے والوں کو جہاں فائدہ ہو گا، وہیں اردو ادب اور زبان کے لیے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
اقبال: شموئیل احمد، ذوقی، خالد جاوید؛ اپنے ہم عصروں پر ایک چند جملے۔
رحما: شموئیل احمد سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد صوفی بن کر جیتے رہے، بعض عمدہ افسانے لکھے ہیں۔ ذوقی دل دار شخصیت کا مالک تھا اور نئے لکھنے والوں کی راہ نمائی کرنے میں اسے خدا جانے کیسی مسرت ملتی تھی۔ جہاں تک خالد جاوید کا تعلق ہے، مجھے ان کے ناولوں سے زیادہ ان کی بعض کہانیاں پسند ہیں۔
اقبال: آپ کے فکشن کا دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا۔ یہ تجربہ کیسا رہا، کیا ہم بین الاقوامی ادب تک رسائی پا سکتے ہیں؟
رحمان: کافی خوش گوار تجربہ رہا ہے۔ اس سے آپ کو لکھنے کی تحریک بھی ملتی ہے۔ اردو فکشن نگاروں کے لیے اب عالمی ادب کا اسٹیج سجنے کو ہے۔ بلاشبہ نئے لکھنے والوں کو رسائی ملے گی۔ البتہ ایک پریشانی یہ ہے کہ اردو سے انگریزی میں تراجم کرنے والے کم ہیں۔ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اقبال: انڈیا اور پاکستان، دونوں کے فکشن نگاروں کو پڑھا، کیسے آنکتے ہیں دونوں ممالک لکھے جانے والے فکشن کو؟
رحمان: ایمان داری کی بات ہے کہ بہت اچھا تاثر نہیں ہے۔ ہمارے یہاں جو بڑے شمار ہوتے ہیں، وہ بھی جدت، تخلیقیت، نئے پن، فکر اور ایجاد سے محروم ہیں۔ فکشن کی آواز کو یکتا اور انوکھی صدا کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ ہمارے پیروں میں مذہب، سیاست، مسلک، ملک اور عقائد کی جو بیڑیاں ہیں، جب تک ہم انھیں توڑیں گے، نہیں ناول کی دنیا کی نیرنگی اور حسن سے آشنا نہیں ہوں گے۔ ناول کی حسین دنیا خلق نہیں کر سکیں گے، جس طرح کی دنیا کا سامنا اورحان پاموک اور گارسیا مارکیز کے ناولوں میں ہوتا ہے۔
ناول مذہب، سیاست، سماج، ملک اور عقائد پر تنقید کرتا ہے۔ اپنی اصل میں ناول ان عناصر کی ضد ہے۔ دوسری طرف ہمارے یہاں ناولوں پر مدارس میں ملازمت کرنے والے لوگ جو تنقید لکھتے ہیں وہ انتہائی درجے کی فراڈ ہوتی ہے۔ ان احباب کی جن سے دوستی ہوتی ہے، ان کی کتاب سے یہ معنی کے دفتر تلاش کر لیے ہیں، اور جن سے بغض اور حسد ہو، ان کی کتاب میں اغلاط تلاش کرنا ان کی زندگی کا واحد مقصد بن جاتا ہے۔ اس نحوست کے علاوہ گروہی لن ترانیاں اور نفرتیں ہیں، جن کو سوشل میڈیا کی زینت بنانا بعض لوگوں کی زندگی کا نصب العین بن گیا ہے۔
یہ روگ بھی ادب کی مجموعی فضا کی جمہوری آزادی کے لیے اچھا نہیں ہے۔ نیر مسعود، انتظار حسین اور منشا یاد کی دنیا الگ ہے۔ ان کا الگ ہونا انھیں ایک دوسرے سے کم تر نہیں کرتا۔ فن کاری کا تعلق محض اسلوب اور طرز بیان سے نہیں ہوتا ہے۔ سادہ بیان، حقیقت پسند اسلوب اور علامت تینوں میں اچھی کہانی بھی ممکن ہے اور خراب کہانی بھی، محض علامت یا محض حقیقت پسند بیانیہ سے کہانی اچھی یا بری ہر گز نہیں ہوتی۔
چناں چہ سنجیدہ ادبی مباحث کی کمی کے عہد میں ہمارے یہاں نیم حکیم قسم کے لوگ ادبی نقاد بن کر ٹہلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی فکشن پر آرا محض نمائشی اور دوستی کا قرض اتارنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتی۔ اس منظرنامے کے باوجود میں پرامید ہوں۔ نیا زمانہ ان برائیوں سے پاک ہو گا اور نئے لوگ ہمارے عہد کی کمزوریوں سے سبق سیکھیں گے۔ انھیں دہرائیں گے نہیں۔ وہ اپنی دنیا خلق کریں گے، جس میں ہماری دنیا کی بیماریاں نہیں ہوں گی۔ ہاں یہ ممکن ہے ان کی اپنی بیماریاں ہوں۔




