نفسیات۔ ٹین ایج بچے یا نفسیاتی طوفان؟ قسط[ 2 ]
ٹین ایج کا طوفان کسی بھی شدت کا ہو اس کا آغاز انسانی نشو نما اور ارتقائی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ جس میں آفیشلی 12 سے 19 سال کے عرصے کو ٹین ایج کا عرصہ مانا جاتا ہے جس میں 19 سال کی عمر کو ینگ آڈلٹ ہوڈ کہا جاتا ہے۔
لیکن 10 سال کی عمر سے اس ٹین ایج کے کے آغاز کے اشارے ملنے شروع ہو جاتے ہیں جو کہ نارمل ہیں۔
لیکن والدین! آپ کے بچے میں اگر نو بلوغیت کے آثار اس سے قبل ظاہر ہو رہے ہیں تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہوشیار ہو جائیں آپ کے لئے شدید طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ یہ چھوٹی عمر 6 سے سات سال بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا تذکرہ اگلی قسط میں کرتے ہیں۔
ٹین ایج دراصل نشو نما کا ٹرانزیشنل یعنی عارضی تبدیلی کا زمانہ ہے جس میں چند سال قیام کرنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ جیسے ٹرانزٹ ویزا یا کنیکٹنگ فلائٹ کی وجہ سے افراتفری کا سماں ہوتا ہے ویسی ہی صورتحال کچھ یہاں بھی ہے۔
بلوغت کے ہارمونز کی افزائش میں تیزی اور تبدیلیاں : ٹین ایج کے ٹرانزٹ کی بائیولوجیکل وجہ ہارمونز کے پیدا ہونے کا آغاز ہے جو نہ صرف جسمانی تبدیلیاں لاتے ہیں اور بچے کو بالغ بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ بہت تیزی سے جسمانی نشو نما، بڑھوتری، ساخت اور بظاہر نظر آنے والی تبدیلیاں مثلاً۔ داڑھی مونچھ اور آواز کا بدلنا اور لڑکیوں میں مینسٹریشن، چھاتیوں کا ظاہر ہونا وغیرہ۔
اس کے ساتھ ہی بہ یک وقت ذہنی اور دماغی نشو و نما میں بھی تیزی کی وجہ سے جذباتی، سماجی اور کوگنیٹو یعنی علم حاصل کرنے اور سیکھنے کی صلاحیتوں میں اضافے کی وجہ سے بچہ اب خود دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے، کھوجنے اور تجربات کرنے کی شدید خواہش کے تابع ہونا شروع ہوتا جاتا ہے اور اس کھوج کے لئے وہ مکمل آزادی کا خواہاں بھی ہے۔ بڑا لگنے کی وجہ سے وہ اپنی الگ شناخت بھی رکھنا چاہتا ہے۔ یہ سب واقعات ایک ساتھ اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہوتے ہیں کہ بچہ یعنی نو بلوغ بوکھلا جاتا کیونکہ اسے یہ سب کام کرنے ہیں۔
اور سٹریس، انگزائٹی اور بسا اوقات ڈپریشن کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اس تیز ٹرانزیشن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے مناسب صلاحیتوں کا فقدان اس میں فرسٹریشن اور پھر اگریشن یعنی نامعقول اور نا مناسب طریقے سے جذبات کا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن فکر نہ کریں اگر تمام حالات اور سازگار ماحول دستیاب ہے اور والدین، اساتذہ اور متعلقہ لوگ درست رہنمائی کے لئے موجود ہیں اور حکمت عملی رکھتے ہیں تو یہ تلاطم اپنے وقت پر اتر جائے گا۔
نارمل تلاطم کی علامات روئیے اور نفسیاتی مظاہر کیا ہیں؟
بات بات پر غصہ کرنا
جلدی مشتعل ہو جانا اور اونچی آواز میں بولنا اور چلانا
بحث کرنا
نافرمانی
بد تمیزی
حساسیت
بے جا تنقید
وقت بے وقت سونا اور بہت زیادہ سستی کاہلی اور ورزش نہ کرنا۔
یا بہت جاگنا اور جسمانی استطاعت سے بڑھ کر کام اور غیر صحت مند ورزش
بہت کھانا یا بہت کم کھانا
کھانے کے اوقات کار کی خلاف ورزی
بد سلیقہ پن، پھوہڑ پن اور بے ترتیبی اور گندگی کہ والدین یا دیگر لوگ ناگواری محسوس کریں اس میں ذاتی حفظان صحت کے معاملات بھی شامل ہیں
یا دوسری طرف تکمیلیت پسندی یا صفائی اور سلیقے کا خبط اتنا زیادہ کہ دوسروں کی زندگی جہنم بن جائے
دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش
والدین کے ساتھ باہر جانے میں شرمندگی محسوس کرنا۔
مہنگے اور برانڈڈ کپڑوں کی فرمائش
اپنے والدین کو اولڈ سکول کہہ کر ان کی بات نہ ماننا۔
والدین کو بہتر گھر خریدنے اور بہترین لائف سٹائل اپنانے کے لئے زور دینا
اپنے سے کمتر رشتہ داروں کا مذاق اڑانا
اپنے سے اونچے رشتہ داروں سے حسد کرنا
اپنی شکل صورت اور جسم کے بارے میں سوچنا کہ میں کم خوبصورت ہوں
یا خوبصورت ہونے کی صورت میں گھمنڈی ہونا
ہر وقت سکرین اور سوشل میڈیا پر وقت گزارنا
یا دوسری صورت میں باہر دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دینا
والدین کو اطلاع کیے بغیر دوستوں کے ساتھ دور دراز سیرو تفریح اور ایڈوینچر کے پروگرام بنانا
ان سرگرمیوں کے اخراجات کے لئے والدین سے رقم کا مطالبہ کرنا
کمروں کی بے ترتیبی عدم سلیقہ اسی عمر میں نمایاں ہوتا ہے
اپنی پرائیویسی کا خبط
والدین کے مہمانوں کو برداشت نہ کرنا۔
غیر صحتمند خوراک کھانا
گھر کی بجائے باہر کے کھانوں اور فاسٹ فوڈ کی حد سے بڑھی خواہش جو بعد میں تمام زندگی ساتھ رہتی ہے اور صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہی وہ عمر ہے جب آپ کے بچے آپ کے عقیدے، مذہب، سماجی اقدار اور سیاسی نظریات سے کھل کر بغاوت کا آغاز کرتے ہیں۔ تعلیم میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے اور بچے بار بار اپنے مضامین اور شعبہ تعلیم بدلتے ہیں۔ بہن بھائیوں کی آپس میں نوک جھونک اور تکرار اور دھینگا مشتی تو شاید آپ کے گھر کو میدان جنگ بنا رکھتی ہے۔ کزنز کے ساتھ مسابقت بازی بھی اسی دور میں عروج پر ہوتی ہے۔ گھر کے بزرگوں کے ساتھ بد تمیزی اور غیر ہمدردانہ روئیے بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔
ہو سکتا ہے بچہ ڈاکٹر اور انجینئر بنتے بنتے ہاتھ میں گٹار اٹھائے ہوئے آ رہا ہو اور اس نے اعلان کر دیا ہو کہ وہ موسیقی سیکھ کر اپنا بینڈ بنا رہا ہے
یا لڑکی ڈانس کلاسز لینا چاہ رہی ہے۔
ڈریس کوڈ جو آپ نے ان پر لاگو کیے ہوں ان سے انحراف ہو رہا ہے
لڑکیاں مختصر لباس پہننے کو ترجیح دینے لگ گئی ہیں اور آپ صد مے سے دوچار ہیں۔
یہی دور ہے جب آپ کا ٹین ایج آپ کے سماجی رسم و رواج، سیاسی نظریات اور مذہبی عقائد پر تنقید شروع کرتا ہے اور شاید ان سے بغاوت اور عدم وابستگی کا اعلان کردے۔ اس وقت آپ پیچھے ماضی میں جائیں اور اپنی ٹین ایج پر نظر ڈالیں آپ بھی ایسے ہی تھے۔ اپنے ٹین ایج کو بھی تسلیم کریں۔
آپ اب تنہا محسوس کرتے ہیں اور بچوں کو راہ راست پر لانے کے لئے پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ مسجدوں کا رخ کرنے لگتے ہیں اور شاید دعاؤں اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں کہ مذہب کی برکت آپ کے بچے کے ٹین ایج طوفان کو ختم کرنے کا حتمی علاج ہے۔
اسی دور میں ٹین ایج اینزائٹی، ڈپریشن اور دیگر لا تعداد ذہنی امراض کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔
یہ انزائٹی ڈپریشن اور دوسرے ذہنی مسائل اس لئے ہیں کہ چاروں طرف بہت سی توقعات ہیں۔ تعلیم کے اہداف، والدین کی جذباتی خواہشیں، اقدار اور مذہب کے ٹیبوز، سیکس، عشق و محبت کے فطری تقاضے، سکول کے گریڈز، گھر میں اپنا کمرہ صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داریاں، پئیر گروپ پریشر۔ تبدیل ہوتی جسمانی ساخت۔ ان سب سے آپ کا ٹین ایج اکیلا نمٹ رہا ہے۔
ان حالات کو عام طور پر والدین کی بر وقت حکمت عملی، اور علاج کے ذریعہ نمٹا جا سکتا ہے۔
والدین کے لئے بہترین ٹپ ہے کہ اگر آپ کے بچے کی زندگی کے ابتدائی 5 سال ٹھیک گزرے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ دونوں والدین نے اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی ہے اور آپ ان ابتدائی 5 سے 10 سال یعنی بلوغت سے پہلے بچے کے دوست بن کر رہے ہیں۔ اور بچے کو بھی دکھایا ہے کہ دونوں والدین میرے بہترین دوست ہیں بلکہ آپس میں بھی اچھے دوست ہیں۔ دونوں ہر معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔ والدین ایک دوسرے کو کسی معاملے میں مورد الزام نہیں ٹھہراتے اور گھر میں والدین نے علیحدگی یا طلاق کا سندیسہ نہیں دیا اور گھر ایک امن کی جگہ ہے اور والدین کے کندھے پر سر رکھ کر رویا بھی جا سکتا ہے، اپنی غلطیوں، ناکامیوں اور باہر کی سرگرمیوں کو مزے لے کر بتایا جا سکتا ہے۔ دیر گئے گھر جانے پر بھی دروازہ کھل جائے گا۔ مضامین بدلنے پر والدین رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ گرل فرینڈ کا استقبال والدین بھی خوش دلی سے کریں گے۔ یعنی گھر بچے کے لئے ہر صورت میں واپسی کی جگہ ہے
گھر میں گرینڈ پیرنٹس اگر ہیں اور ان کی عزت، خدمت اور احترام کے عملی نمونے بچے کو نظر آتے ہیں اور وہ بچپن سے ہی دیکھتا آیا ہے۔ ہر ایک کے لئے نفرت کی بجائے محبت کے الفاظ اس کے کانوں میں اذان کی طرح سنانے کا عملی اہتمام ہوا ہے اور یہ پریکٹس جاری ہے۔ تو والدین آپ مطمئن ہو جائیں ہارمونز کا طوفان تھمتے ہی آپ کا بچہ اپنے آپ کو سنبھال لے گا اور شاید وہ آپ کی امیدوں سے بھی اچھا نکلے۔
اس دور کے لئے ایک بڑی پتے کی بات ہے وہ یہ کہ والدین صبر سے کام لیں اور اپنے ٹین ایج کے دوست بنیں اور دونوں والدین بچے کے سامنے ہوں اور جب بچے کو ضرورت ہو وہ انہیں دستیاب پائے۔ بچے کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزاریں اور اس کے تمام فیصلوں کو تسلیم کریں۔ اور گھر سے نکلنے کا حکم نہ دیں۔ بچے کے ساتھ مکالمہ کریں مگر اس کے نظریات اور پسند نا پسند کو چیلنج نہ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ غلطیاں کرے اور نقصان اٹھائے۔ آپ اسے ان غلطیوں پر لعن طعن کی بجائے اسے ان غلطیوں سے سیکھنے دیں۔ مختصراً۔ اس افراتفری کے دور میں اس کے ساتھ حوصلہ دلانے والے مددگار بنے رہیں۔
اگر والدین ہر مرحلے پر مداخلت کی بجائے معاونت کا رویہ اپنائیں تو یہ ٹرانزیشن کا دور بغیر نقصان پہنچائے گزر جائے گا۔
آئندہ قسط میں آپ کو ٹین ایج کے شدید بحرانوں، ان کی وجوہات اور ان کی پہلے سے روک تھام اور علاج کے بارے میں بتائیں گے، جو ایک نہایت توجہ طلب معاملہ ہے۔
قارئین انتظار کریں۔
[جاری]


