ثقافتی تاریخ میں لوک داستان کا کردار

لوک داستان ماضی کی حقیقت جاننے کا سب سے موثر ذریعہ ہے کیونکہ ان کا مکمل انحصار زبانی تاریخ پر ہوتا ہے جو ہمیں اس دور کی وہ حقیقت بتاتی ہیں جو ثانوی اور اعلی ثانوی ذرائع کے ذریعے سے یا مؤرخ کی غفلت یا ذاتی اناء کی بنیاد پر منظر عام سے دور ہو جاتی ہیں اس طرح لوک داستانیں ہر دور کی تلخ حقیقت کو ایک تخیلاتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح کی کئی مثالیں ہمیں اپنے ماضی میں نظر آتی ہیں، یہ ہی لوک داستانیں ہمیں دارا سکندر کی کشمکش 1 کے بارے میں بتاتی ہیں اور یہ حاتم طائی کی سخاوت 2 کا اندازہ بھی انہی سے ہو جاتا ہے۔
اور یہ ہی ہمیں ہر قوم کے سالاروں کی بہادری کو رزمیہ ادب 3 کے ذریعے ہم سے روشناس کرواتی ہیں۔ الغرض تاریخ کے تمام پہلو اگرچہ وہ کسی بھی خطہ سے ہوں ان کی اصل حقیقت لوک داستان ہی احسن طریقے سے بیان کر سکتی ہیں۔ یہاں پر اک اور بات قابل غور ہے کہ لوک داستانیں زمان و مکان کی رو سے ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں 3۔ یورپ کی داستانوں رومانوی اثر قدر زیادہ ہوتا ہے 4 اس کے برعکس افریقہ کی لوک داستانیں غلامی اور طبقاتی تقسیم کو ظاہر کرتی ہیں 5 اسی طرح اگر ہندوستان کی لوک داستانوں کا ذکر کیا جائے تو مذہبی اور لسانی اختلافات ہونے کے باوجود ان میں محبت، جنگ اور تاریخی واقعات کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہیں 6۔
البتہ ہر دور میں لوک داستانیں سچائی، بہادری، جرت اور معاشرے میں طبقاتی تقسیم کی ناچاقیوں کو واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے، لوک حکمت 7 کو بھی ظاہر ہوتی ہے۔ قصہ خواں یادوں کو ایک ایسے مخصوص اور جامع انداز میں بیان کرتے ہیں کہ سننے والے حقیقت کو پہچان جائیں۔ مختصر یہ حقیقت کو کہ بغیر بیان کیے ہی بیان کر دیتی ہیں مارگریٹ ریڈمیکڈولڈ 8 کے نزدیک لوک داستان کچھ یوں ہے۔
”A Folktale is a story which passed from person to person“
ترجمہ
”لوک داستان ایسی کہانی ہوتی ہے جو نسل در منتقل ہوتی رہتی ہے“
لوک کہانیاں عام طور پ روہ کہانیاں ہوتی ہیں جو ثقافت کی بنیادی اقدار یا کردار کی خصوصیات کو پروان چڑھانے میں منفرد کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں مشترکہ تاریخ اور ثقافتی روایات کو بھی تقویت دیتی ہیں۔ ان کی بہت سی انواع ہیں جو دنیا کی لازوال زبانی روایات کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔ ان فصیح داستانوں میں کہانیوں کی ایک وسیع سلسلہ شامل ہے جیسے کہ، افسانے 9، مہاکاوی کہانیاں، 10 لمبی کہانیاں، پریوں کی کہانیاں، اور بعض صورتوں میں خوفناک کہانیاں بھی ہیں، چونکہ لوک کہانیاں زبانی روایت سے گزری ہیں، اور اصل میں لکھی نہیں گئی تھیں، اس لیے انہیں سننے کے لیے اعزاز بخشا گیا۔ نتیجتاً لوک کہانیوں کا یہ خاصہ رہا ہے کہ ہمیشہ سادہ اور عام فہم ہوتیں ہیں۔
تیمور سوری 11 لوک داستان کے بارے میں کہتے ہیں کہ
”لوک داستانیں استعاراتی ہوتی ہیں ہیں جو یہ باتیں بیان کرتی ہیں جو واقعتاً ہوا ہے یا نہیں ہوا مگر وہ اس بارے میں بھی بات کرتی ہیں کہ معاشرے کی اقدار کیا ہونے چاہیے آپ کو زندگی کس طرح گزارنی چاہیے کہ لفظ ثقافت کا مطلب کیا ہے یا ثقافت کس طرح ہونی چاہیے آپ اپنے آنے والی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں“ 12
اس تعریف سے یہ بھی واضح ہے کہ لوک داستان زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے جس میں ثقافتی، معاشرتی، فلسفیانہ، مذہبی اور تعلیمی پہلو شامل ہیں۔ اس مقالے کیے لیے جو داستان منتخب کی گئی ہے وہ ان تمام پہلوؤں کو بڑے جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔
دنیا کے ہر خطے میں لوک داستان کا وجود لازم ہے۔ ، برصغیر کی زمین بھی ان کے لئے کافی زرخیز ثابت ہوئی ہے۔ یہاں بھی سوہنی مہیوال 13، ہیر رانجھا 14 جیسی عشقیہ اور داستان دلا بھٹی 15، نجابت کی وار 16 جیسی رزمیہ اور کئی مذہبی داستانیں ہیں جو اپنے اندر کئی سچ سموئے ہوئے ہیں۔
برصغیر میں اسلام کا سورج تو خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں طلوع ہو چکا تھا، جب چند تاجروں کے قافلے مکران باسی سلسلہ میں رفتہ رفتہ تیزی آئی اور عرب قبائل کے کئی قبائل جو تجارت کے شعبے سے وابستہ تھے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں مقیم ہو گئے 17۔ مگر اسلام کے مکمل اشاعت تو آٹھویں صدی کے اوائل میں ہوئی جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا اور پہلی بار اسلام کی برملا اشاعت شروع ہوئی 18 بعد میں یہ سلسلہ بیرونی حملہ آوروں اور ان کے ساتھ آنے والی علما کے ذریعے سے برصغیر میں اسلام پھیلتا گیا اسی طرح سولہویں صدی عیسوی میں برصغیر کے طول و عرض اسلام سے روشن ہو گیا 19۔
درحقیقت برصغیر میں اسلام کی اشاعت صوفیاء کرام اور بزرگان دین کے توسط سے ہوئی۔ یہاں صوفیاء کرام نے ”علماء انبیاء کے وارث“ 20 والی بات کو حقیقت میں ڈھال کر زمانے کے سامنے پیش کیا انہوں نے اپنی ساری مخلوق خدا کی خدمت میں صرف کر دیا۔ اس امر میں اپنی زندگی وقف کرنے والے بعض علماء کرام تو تاریخ میں اپنا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے مگر وکئین ایسے علماء کرام و صوفیاء کرام ہیں جو بعض مورخین کی غفلت یا ذاتی انا کی وجہ سے منظر عام پر نہ آ سکے۔
اب اگر گمنام ہونے کا قصور وار مورخ کو ٹھہرایا جائے تو درست نہ ہو گا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شہرت عزت کی ان کی نظر میں کوئی وقعت نہ ہو اور اس کے علاوہ ان کے کارناموں کو کسی نے تحریری صورت میں محفوظ نہ کیا ہو۔ ایشیا اور خاص کر برصغیر میں اسلام کی اشاعت صوفیاء کرام کے توسط سے ہوئی ہے۔ ان صوفیاء کرام کی باتوں، حالات زندگی، اسلام کی خاطر قربانیوں اور جدوجہد کا سراغ ہمیں لوک داستان کے ذریعے سے ہی ہوتا ہے۔

