مشتاق احمد یوسفی کا لندن


آغا حسن عابدی ایک ذہین اور دور اندیش بینکر تھے۔ 1972 ء میں انہوں نے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل یعنی بی سی سی آئی کی بنیاد رکھی۔ اس بینک کی رجسٹریشن لگسمبرک میں ہوئی اور اس کا ہیڈ آفس برطانوی دارالحکومت لندن کے علاوہ کراچی میں بھی قائم کیا گیا۔ اپنے قیام کے دس برس میں ہی بی سی سی آئی نے دنیا کے 78 ممالک میں اپنی برانچز بنا لیں اور اس کے اثاثے 20 بلین ڈالرز سے تجاوز کر گئے اور یہ دنیا کا ساتواں بڑا پرائیویٹ بینک بن گیا۔

بی سی سی آئی میں 25 فیصد حصہ بینک آف امریکہ اور 75 فیصد حصص یونائیٹڈ عرب امارات کے امیر شیخ زین بن سلطان النہیان کے تھے۔ اس بینک کی مقبولیت اور تیز رفتار ترقی نے عالمی اقتصادی حلقوں اور دیگر مالیاتی اداروں میں ہلچل کی لہر دوڑا دی اور پھر بی سی سی آئی کئی طرح کی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی زد میں آ کر 1991ء میں بند ہو گیا۔ اس بینک کے عروج و زوال کی ایک الگ داستان ہے۔ میرے لئے یہ بینک اس لئے قابل ذکر ہے کہ اس کے لندن آفس میں اردو کے بے مثال ادیب مشتاق احمد یوسفی نے ایک طویل مدت (تقریباً گیارہ برس) تک ملازمت کی۔

لندن میں ماربل آرچ کے قریب قیام کے دوران یوسفی صاحب ہر ویک اینڈ پر ہائیڈ پارک میں چہل قدمی کیا کرتے تھے اور پھر وہاں کے ایک ریستوران میں کافی سے لطف اندوز ہوتے۔ آکسفورڈ سٹریٹ کی بک شاپ میں بھی وہ کافی وقت گزارتے تھے۔ اپنی بیگم کے ساتھ تھیٹر دیکھنا اور سینما جانا بھی انہیں اچھا لگتا تھا۔ اردو مرکز کی وجہ سے ان کے گھر میں ادبی محفلیں بھی منعقد ہوتی تھیں جن میں فیض صاحب کے علاوہ اور بہت سی نامور شخصیات شرکت کرتی تھیں۔

انگلینڈ کے موسم کے بارے میں یوسفی صاحب کا کہنا تھا کہ یہاں برف باری اور بارش کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے شائستگی اور خوش اخلاقی فروغ پاتی ہے۔ مطلب یہ کہ جو گالیاں انگریز بصورت دیگر ایک دوسرے کو دیتے وہ اب موسم کو دیتے ہیں۔ یوسفی صاحب نے برٹش پاکستانیوں اور ایشیائیوں کے بارے میں بھی اپنے مشاہدات کو قلم بند کیا ہے۔ ان کے خیال میں ایک سو برطانوی ایشیائیوں میں سے ننانوے ان خوبصورت درختوں کے نام نہیں بتا سکتے جو ان کے مکانوں کے سامنے نہ جانے کب سے کھڑے ہیں۔ (رہا سواں آدمی تو اس نے ان درختوں کا کبھی نوٹس ہی نہیں لیا) نہ ان رنگ برنگے پرندوں کے نام جو منہ اندھیرے اور شام ڈھلے ان درختوں پر چہچہاتے ہیں اور نہ اس گرل فرینڈ کے بالوں کا شیڈ بتا سکتے ہیں جس کے ساتھ رات بھر بڑی روانی سے غلط انگریزی بولی۔ غیر ملک کی زندگی اور معاشرے کا مشاہدہ اور اس کے مسائل کی تفہیم اور گرفت اتنی سرسری اور سطحی ہوتی ہے کہ کبھی میوزیم، آرٹ گیلری، تھیٹر، نائٹ کلب، سوہو کی شب تاب گلیوں کے طواف، ایسٹ اینڈ میں ذلت آمیز مگنگ یا چیئرنگ کراس پر گاہک کی منتظر شب زادیوں کی عنایات عاجلہ سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔

بہت تیر مارا تو برطانوی شہریت حاصل کر کے وہ رہی سہی عزت بھی گنوا دی جو ٹورسٹ یا مہمان مزدور کی حیثیت سے حاصل تھی یا بیک وقت برٹش پاسپورٹ اور ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام لینے کی غرض سے کسی انگریز عورت سے شادی کر لی اور اپنے حسابوں سارے انگلستان کی ازار بندی رشتے سے مشکیں کس دیں۔ نک سک اور نسلی اعتبار سے انگریزوں کا اسٹاک بہت اچھا ہے، قد کاٹھ، رنگ روپ اور تیکھے ترشے نقوش کے لحاظ سے ان کا شمار خوبصورتوں میں ہوتا ہے۔

مرزا کہتے ہیں کہ بدصورت عورت نایاب ہے بڑی مشکل سے نظر آتی ہے یعنی ہزار میں سے ایک پاکستانی اور ہندوستانی اسی عورت سے شادی کرتا ہے۔ میں طالب علمی کے زمانے سے ہی مشتاق احمد یوسفی کا مداح ہوں۔ میں ان سے ملنے کا بھی بہت خواہش مند تھا۔ میری یہ حسرت لندن آ کر پوری ہوئی۔ اردو مرکز کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید شیخ کے گھر یوسفی صاحب سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں بلکہ تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ بولتے بہت کم تھے۔ میں نے ان سے انٹرویو کرنے کی استدعا کی تو ٹال گئے۔

آخری بار لندن آئے (مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ ان کا آخری دورۂ برطانیہ ہے) تو ڈاکٹر جاوید شیخ نے مجھے ایک روز پہلے اطلاع کر دی کہ کل یوسفی صاحب میرے گھر آ رہے ہیں۔ اچھا موقع ہے انٹرویو کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ میں جب ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچا تو یوسفی صاحب بہت خوشگوار موڈ میں تھے لیکن سوال و جواب کے لئے راضی نہیں تھے۔ میں ان کے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور باتوں باتوں میں ان سے پوچھنے لگا کہ آپ کو لندن یاد آتا ہے؟

تو مسکرائے اور کہا کہ کس کافر کو یہ شہر بھول سکتا ہے۔ ہم نے تو یہاں بہت اچھا وقت گزارا ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ اردو میں مزاح نگاروں کی تعداد کم کیوں ہے؟ تو کہنے لگے کہ ڈنک مارنے والے جانور کم ہی ہونے چاہئیں۔ ویسے میں نے اپنی تحریروں میں کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا کیونکہ میں جوابی حملے کی تاب نہیں رکھتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ تحریر میں تلخی یا قلم کو طیش آ جائے تو وہ ادب نہیں رہتا۔ میں نے اس روانی میں پوچھ لیا کہ آپ نے مولانا ابو الکلام آزاد کی نثر کو جناتی زبان کیوں قرار دیا تھا کیا یہ حملہ نہیں؟

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے یوسفی صاحب نے وضاحت کی کہ میں نے مولانا کو مذہبی عالم کے طور پر نہیں بلکہ ادیب کے طور پر پرکھتے ہوئے ان کی نثر کو جناتی قرار دیا تھا۔ بابائے اردو مولوی عبد الحق تو انہیں اردو کا سب سے بڑا دشمن کہہ چکے ہیں۔ اس طرح کی نثر اردو کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ میں بھی مولوی عبد الحق کا حامی ہوں۔ میں آج کے دور میں میر امن اور رتن ناتھ سرشار کی زبان لکھنے کے خلاف ہوں۔ یہ تو ایسے ہی ہو گا کہ آج کی دلہن کا سنگھار سو سال پہلے کی دلہن کی طرح کا کیا جائے۔ یعنی اسے آملے کا تیل لگا کر چمکایا جائے۔ کیا ایسی دلہن کو آج کا کوئی دلہا قبول کر لے گا؟ ہمارے لئے نثر کے عمدہ نمونے سرسید احمد خان، مولوی عبد الحق، سعادت حسن منٹو، غلام عباس اور راجندر سنگھ بیدی وغیرہ کی تحریریں ہیں۔ زبان جامد شے نہیں ہوتی اس میں تغیر آتا رہتا ہے۔ یہ کسی بنے بنائے سانچے کی پابند نہیں ہوتی۔ گزشتہ 70 برس کے دوران اردو زبان کو فروغ دینے میں پنجاب کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ پنجاب میں اردو کے بہترین شاعر اور افسانہ نگار پیدا ہوئے۔

اس لئے اب اردو کا محاورہ وہیں بنے گا۔ ممکن ہے یہ محاورے ہمیں نئے لگیں لیکن اردو زبان کو اب یہ محاورے جذب کرنا ہوں گے اور اگر یہ انجذاب فطری ہو گا تو کامیاب ہو گا۔ ماضی میں دلی اور لکھنؤ اردو کے مراکز تھے مگر اب تو وہاں اردو سائن بورڈز بھی مشکل سے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں تک اردو زبان کے لہجے کی بات ہے تو میں نے اس نظریے پر اپنی کتاب آب گم میں ”لوک لہجہ“ کے نام سے ایک پیراگراف لکھا ہے۔ میرے نزدیک اردو کا ہر لہجہ لطف دیتا ہے، دلی یا لکھنؤ کا لہجہ ہر ایک کو اپنانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

اردو ارتقا پذیر زبان ہے۔ یہ اپنے طریقے خود بنائے گی۔ اس پر تردد کی ضرورت نہیں۔ اب کلاسیکی زبان کے محاورے ختم ہو رہے ہیں۔ میری رائے میں محاورہ بولی جانے والی زبان سے بنتا ہے نہ کہ معدوم زبان سے۔ پاکستان کی موجودہ اردو وہی ہو گی جو بولی اور لکھی جا رہی ہے۔ اردو کی سند اب قلعہ معلٰی سے نہیں لاہور کے قلعے سے لی جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی لفظوں میں اتنی گہری دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟ وہ مسکرائے اور گویا ہوئے۔

مجھے لفظوں کی تلاش اور کھوج میں مزا آتا ہے۔ اس سے کئی اور الفاظ کی گرہیں کھلتی ہیں۔ مثلاً فصلوں کو پرندوں سے بچانے کے لئے کھیت میں صلیب نما ڈھانچے پر جو قمیض ڈال دی جاتی ہے۔ اردو میں اسے الگ الگ نام دیے گئے ہیں۔ پنجاب میں اسے بڈاوا کہتے ہیں۔ اسی طرح میں نے ایک لفظ لکھا ہریال عورت۔ میرے علم کے مطابق یہ پنجابی اصطلاح ہے مگر بہت سے پنجابیوں کو اس کا پتہ نہیں۔ اردو میں اس کا متبادل ”ہراچگ“ ہے۔ زبان کی تحقیق کے معاملے میں مشفق خواجہ اور شان الحق حقی کی سند میرے نزدیک سب سے معتبر ہے۔

لفظوں کی تحقیق میں قاری کو بھی فکر کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ یوسفی صاحب کو اندازہ ہو گیا کہ میں باتوں باتوں میں ان سے انٹرویو کر رہا ہوں جس کے لئے وہ راضی نہیں تھے۔ چنانچہ میں نے بات چیت کو سمیٹتے ہوئے ان سے استفسار کیا کہ آپ جو کچھ لکھتے ہیں کیا اس سے مطمئن ہو کر اشاعت کے لئے بھیجتے ہیں؟ میرا سوال سن کر وہ انتہائی سنجیدگی سے کہنے لگے کہ مجھے اپنے بارے میں کوئی مغالطہ نہیں، مکمل نئی تخلیق کوئی نہیں کرتا، ہر بات پہلے کہی جا چکی ہوتی ہے۔ بس اسی کو ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں لکھ رہا ہے۔ میرا تخلیقی سیکرٹ یہ ہے کہ جب میں کسی موضوع پر لکھتا ہوں تو پہلے یہ دیکھتا ہوں کہ لوگ اس پر کیسے لکھتے رہے ہیں پھر میں ان کے اسالیب کو نظرانداز کر کے اپنی تحریر میں نیا پن لانے کی کوشش کرتا ہوں کبھی میں اس میں کامیاب ہو جاتا ہوں اور کبھی ناکام۔ میں پہلے سامعین کو اپنی تحریریں نہیں سناتا تھا پھر سنانا شروع کر دیں لیکن جب لکھتا ہوں تو قاری اور سامع کی پسند اور رد عمل کی پروا کیے بغیر لکھتا ہوں۔

البتہ کہیں کچھ سنانا ہو تو سامعین کے مطابق اپنی تحریروں کا انتخاب کرتا ہوں۔ ہر شہر اور طبقے کے لوگوں کا مزاج مختلف ہوتا ہے۔ ضروری نہیں میری جو تحریر دوحہ میں پسند کی جائے وہ ساہیوال میں بھی کامیاب رہے۔ بات چیت کے اختتام پر جب میں نے مشتاق احمد یوسفی صاحب سے تصاویر بنوانے کی فرمائش کی تو کہنے لگے میں اپنی تصویر بنوانے سے گریز کرتا ہوں۔ میں نے اپنی آخری تصویر 1976 ء میں ایک فوٹو گرافر سے بنوائی تھی وگرنہ پاسپورٹ کے علاوہ کبھی اپنی تصویر بنوانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اسی لئے میری کسی کتاب پر میری کوئی تصویر شائع نہیں ہوئی کیونکہ تصویروں میں اپنی صورت دیکھ کر خدا کی قدرت پر میرا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments HS