پی ٹی آئی کے ساتھ پنجابی محاورے والا "ہتھ”
انتخابی حرکیات کا دیرینہ اور سنجیدہ طالب علم ہوتے ہوئے میں کئی ہفتوں سے عاشقانِ عمران خان کو خبردار کئے چلے جارہا تھا کہ ”کھمبے کو بھی کھڑا کردیں گے تو …“والے مغالطے میں نہ رہیں۔ یہ بات سو فیصد درست کہ عمران حکومت کو اپریل 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں جو حکومت قائم ہوئی اس نے پاکستان کو دیوالیہ سے بچانے کے نام پر ہمارے عوام کی اکثریت کو مہنگائی کے سیلاب کے سپرد کردیا تھا۔ دریں اثنا قمر جاوید باجوہ کی ہوسِ توسیعِ میعاد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان غضب ناک ہوئے ”سائفر کہانی“ کو اچھالتے روزانہ کی بنیاد پر ہمارے تقریباََ ہر شہر میں جاکر لوگوں سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے ان کے دل گرمانا شروع ہوگئے۔ کئی مہینوں تک انہوں نے گرم جوش رابطہ عوام مہم اور سوشل میڈیا کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے ”رجیم چینج“ کی اصطلاح کو زبان زدِ عام کردیا۔ ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا سوال اٹھاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی کثیر تعداد ”حقیقی آزادی“ کی جدوجہد میں مصروف ہو گئی۔
عمران خان نے عوامی رابطے کی بدولت جذبات کو جو آگ بھڑکائی اس کا اصل ہدف مگر شہباز حکومت کو نئے انتخاب کے انعقاد کو مجبور کرنا تھا۔ اس ہدف کے حصول میں ناکامی ہوئی تو آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب میں تحریک انصاف نے اپنی حکومت قربان کرتے ہوئے نئی صوبائی اسمبلی کے انتخاب کی گیم لگادی۔ ساتھ ہی خیبرپختونخوا کے لئے بھی ایسی ہی چال چلی۔ مذکورہ چالیں چلتے ہوئے آئین کی فقط اس شق کو ذہن میں رکھا گیا جو ”نوے روز کے اندر“ تحلیل ہوئی اسمبلیوں کے لئے نئے انتخاب کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمارے تحریری آئین کی دیگر کئی شقوں کوذہن میں نہیں رکھا گیا جو حکمران اشرافیہ کو مذکورہ شق سے گریز کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ بالآخر پنجاب اور خیبرپختونخواہ اسمبلیوں کے انتخاب یقینی نظر نہ آئے تو تحریک انصاف نے 9 مئی کا ہنگامہ کھڑا کردیا۔
9 مئی کے واقعات کو ریاست کے طاقت ور ترین ادارے نے اسی انداز میں لیا جیسے 1980 کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند مرتضیٰ بھٹو سے منسوب” الذولفقار“ نامی تنظیم کو لیا گیا تھا۔ ”مقتدر“ادارے نے بہت سنجیدگی سے یہ طے کرلیا کہ اس کے ”کمانڈ اینڈ کنٹرول“ پر مبنی نظام کو ”سازشی اذہان“نے ”ادارے کے اندر سے“ بدگمانیاں پھیلاتے ہوئے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔”کمانڈ اینڈ کنٹرول“ہی پر مبنی ڈھانچے سے چھیڑچھاڑ کی جسارت کرنے والوں کو وطن دشمن شمار کیا جاتا ہے۔ایسا واقعہ وطن عزیز کے قیام کے چند ہی برس بعد بھی ہوا تھا جب 1950 کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی نام نہاد ”پنڈی سازش کیس“ نمودار ہوا۔ ہمارے ایک نامور شاعر فیض احمد فیض بھی اس میں ملوث قرار د یے گئے تھے۔ اس کی وجہ سے ان پر جو بیتی اسے وہ ”زنداں نامہ“ میں نثر نہیں شاعری کی صورت ہی بیان کر پائے۔
قارئین کو تاریخ میں الجھاکر حال سے فرار اختیار کرنا نہیں چاہ رہا۔ مختصراََ فقط یہ عرض کرنا ہے کہ 9 مئی 2023 کے روز جو واقعات ہوئے ان کے مضمرات کو میری دانست میں عمران خان نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی اس گماں میں مبتلا رہی کہ ان کی جماعت کی ”عوامی مقبولیت“ سے گھبراکر طاقت ور ادارے کے مختارحکام“ کمانڈ اینڈ کنٹرول“ کے ڈھانچے سے چھیڑچھاڑ کو فراموش کر دیں گے۔
”کمانڈ اینڈ کنٹرول“ کے محافظ اس ڈھانچے سے ”پنگا“ لینے والوں کو لیکن ”دشمنوں“ میں شمار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ برتاﺅ بھی اسی تناظر میں ہوتا ہے۔بہتر یہی تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت مذکورہ حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کرتی۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔تندوتیز ہوا چلی تو تحریک انصاف کے بے تحاشہ سرکردہ رہ نما اور کارکن گرفتاریوں سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئے۔ روپوشی سے ناکام ہوئے رہ نماﺅں کی اکثریت چند روز کے لئے گرفتار ہوئی تو طویل صعوبتوں کو رضا مند ہونے کے بجائے ٹی وی پر دئے ”اعترافی انٹرویو“ یا ”پریس کانفرنسوں“ کے ذریعے 9 مئی واقعات کی مذمت کرتے ہوئے تحریک انصاف سے لاتعلقی کے اعلانات کرنا شروع کر دئیے۔
تحریک انصاف کی قیادت میں پھیلے شکست خوردہ رویے کی وجہ سے ابھرے انتشار کے باوجود عاشقان عمران خان کی اکثریت اس گماں میں مبتلا رہی کہ ”…فریاد کے دن تھوڑے ہیں“۔ جیسے ہی نئے انتخاب کے انعقاد کا عمل شروع ہوگا ریاستی گرفت کمزور پڑنا شروع ہوجائے گی۔ اس کے روپوش ہوئے کارکن اور سرکردہ رہ نما سیلاب کی صورت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت کا انتخاب لڑنے کاغذات نامزدگی حاصل کریں گے۔فرض کیا ایک حلقے سے 30 سے 40 کے قریب افراد یہ کاغذات لے کر انہیں کامیابی سے ”ناقابل اعتراض“ قرار دلوانے میں کامیاب ہوگئے تو 13 جنوری 2024ء کے دن ان میں سے پہلے سے چنے اشخاص کو اچانک ”اپنا“ ٹھہراتے ہوئے ”بلے“ کا نشان دلوادیا جائے گا اور ”بلا“ جس کو بھی مل گیا اسے گھر یا جیل بیٹھے ہی عوام کا ہجوم خودبخود پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ کر ووٹ ڈالتے ہوئے تاریخی کامیابی سے ہم کنار کر دے گا۔
انتخابی حرکیات کا طالب علم ہوتے ہوئے میں اس کالم میں مستقل فریاد کرتا رہا ہوں کہ ہمارے ہاں ”صدارتی“ نہیں بلکہ ”پارلیمانی“ نظام کار فرما ہے۔ کسی بھی شخص کو وزیر اعظم منتخب کروانے سے قبل لازمی ہے کہ اس کے حامیوں کی بھاری بھر کم تعداد پاکستان بھر میں پھیلے قومی اسمبلی کے حلقوں کے انتخاب میں پہلے حصہ لینے کے ”اہل“ قرار پائے اور بعدازاں قومی اسمبلی پہنچ کر اپنے رہ نما کو (جو خود بھی قومی اسمبلی پہنچ جائے) وزیر اعظم منتخب کرلیں۔ دسمبر 21 کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ بدھ کے دن رات گئے تک ملک بھر میں بے تحاشا لوگوں سے ٹیلی فون پر رابطہ رکھا۔ان سب سے گفتگو کے بعد میں ایسے لوگوں کے نام اور تعداد کے حصول میں قطعاً ناکام رہا ہوں جو کاغذات نامزدگی حاصل کرلینے کے بعد انہیں جمع کروانے اور بعدازاں انہیں ”ناقابل اعتراض“ٹھہرانے میں کامیاب بھی ہوگئے تو اتنی تعداد میں قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے میں کامیاب ہوجائیں گے جو تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدوار برائے وزارت عظمیٰ کو بھی کامیاب کروانے کی امید دلائیں۔ مذکورہ تناظر میں ”کھمبوں“ کے نام اور ان کی حتمی تعداد کا تعین بھی میں تمام تر کاوشوں کے باوجود نہیں کر پایا ہوں۔ عاشقا ن عمران خان سے میری دست بستہ درخواست ہے کہ خود کو تسلی دیتے خیالات سے آزاد ہوکر انتخابی عمل کی بنیادی حرکیات پر کڑی نگاہ رکھیں اور یہ دریافت کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں کہ ان کے ساتھ کہیں پنجابی محاورے والا ”ہتھ“ تو نہیں ہوگیا۔
(بشکریہ نوائے وقت)


