بابائے صحافتِ گجرات : ایس اے منشی


بھارت کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میں اگر سیاست دان نہ ہوتا تو ایک صحافی ہوتا۔ جب وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ جب میں ایک شہر کے ہوائی اڈے سے اڑ کر کسی دوسرے شہر کے ہوائی اڈے پر اترتا ہوں تو وہاں جو صحافی میرے دورے کی کوریج کے لئے آئے ہوتے ہیں وہ مجھ سے ایسے موضوعات اور واقعات کے متعلق سوالات کرتے ہیں جن کے متعلق تازہ ترین صورت حال اور معلومات میرے علم میں بھی نہیں ہوتیں۔ وہ مجھ سے معلومات کے میدان میں ہمیشہ آگے ہوتے ہیں۔ لہٰذا مجھے ان پر رشک آتا ہے۔ بلا شبہ پیشہ ورانہ مہارتوں کے حامل صحافی قدرومنزلت کے جس مقام پر ہوتے ہیں وہ قابل رشک اور لائق تحسین ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک باکردار قلمکار صحافی کو سخنوروں کی بستی ایس اے منشی کے نام سے جانتی اور یاد کرتی ہے۔ وہ گجرات میں صحافت کے بانیوں میں سے تھے اور انگریزی و اردو قومی روزناموں سمیت قومی نیوز ایجنسیوں کی بیک وقت نمائندگی کرتے رہے۔ وہ اخبارات کے سینڈیکیٹ رپورٹر تھے اور مقامی سطح پر رپورٹنگ کے خواہشمندوں کے لیے چلتے پھرتے تربیتی ادارہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ صحافی ہی نہیں بلکہ مقامی صحافیوں کی ایک نسل کے استاد و ترغیب کار کے طور مقام بلند کے حامل تھے۔

اخبارات کے مرکز سے دور مقامات و علاقوں سے رپورٹنگ کا کام نمائندگان / نامہ نگار کرتے ہیں۔ صحافت میں نئی اور تازہ خبریں جمع کرنے کے ذمہ دار یہی نمائندگان ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹر تازہ واقعات کی معروضی رپورٹنگ کر کے مستقبل کی تاریخ کو مرتب کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ نمائندگان ہی حقیقت میں معاشرے کی آنکھ اور کان کہلاتے ہیں۔ ایس اے منشی اسی نامہ نگار طبقے کے نمائندہ صحافی تھے جنہوں نے حالات کے وسیع تر معنوں میں مشاہدے و تجزیے کی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہمیشہ مثبت و معروضی رپورٹنگ کی اور مفاد عامہ کے لیے ان کی قلمی تصویر کھینچ دینے کی مہارت کا لوہا منوایا۔

جلالپور جٹاں کے رہائشی صغیر احمد المعروف ایس اے منشی کا آبائی تعلق گجرات شہر کے محلہ شاہ حسین سے تھا جہاں جندران برادری کا ایک گھرانا تقسیم ہند سے قبل ویٹرنری سائنس میں اعلیٰ تعلیم کی بدولت خاصا نمایاں تھا۔ محلہ شاہ حسین عقب فوارہ چوک گجرات کے ویٹرنری ڈاکٹر فیروز دین کے والد بھی ویٹرنری کے شعبے سے ہی منسلک رہے تھے۔ ڈاکٹر فیروز دین کے تین بیٹے بشیر احمد، رفیق احمد اور صغیر احمد تھے۔ بشیر احمد حکمت میں دلچسپی لیتے تھے اور حکیم تھے جبکہ رفیق احمد بھی خاندانی پیشے سے وابستہ ہوئے اور ویٹرنری ڈاکٹر بنے۔

صغیر احمد 5 نومبر 1944 ء کو گجرات ہی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سرکاری ملازم تھے اس لیے جہاں ان کی تقرری ہوتی وہاں انہی کے ساتھ ساتھ رہے۔ ایام طفولیت موضع ککرالی میں گزارے اور پرائمری تک وہیں کے سرکاری سکول میں پڑھتے رہے پھر والد کا تبادلہ پھالیہ ہو گیا تو وہاں چلے گئے، مڈل اور میٹرک پھالیہ گورنمنٹ ہائی سکول سے پاس کیا اور پھر انٹر میڈیٹ کا امتحان بھی وہیں سے پاس کیا۔ وہاں مزید تعلیم کی سہولت نہ ہونے پر گجرات آ گئے۔

یہاں گریجویشن میں داخلہ کے لیے تیاری کر رہے تھے کہ گھر والوں نے کراچی بھیج دیا۔ ان کے بڑے بھائی بشیر احمد اور رفیق احمد کراچی میں ہی ہوتے تھے ان کے پاس پہنچ کر صغیر احمد نے ایک کالج میں داخلہ لے لیا اور بی اے پاس کیا۔ وہ کراچی کے رنگ میں رنگے گئے اور پان خوری ان کی فطرت ثانیہ بن گئی۔ اس دوران ان کے والد کی پوسٹنگ جلالپور جٹاں میں ہو گئی اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ جلالپور جٹاں ہی کے ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے محلہ خضر خاں ولی میں مستقل سکونت اختیار کی اور پھر صغیر احمد کے والد ڈاکٹر فیروز دین 9 نومبر 1961 ء کو وفات پا گئے اور جلالپور جٹاں میں ہی دفن ہوئے۔

کراچی جیسے میٹروپولیٹن سٹی میں تعلیم سے زیادہ شعور کو جلا ملتی ہے۔ بی اے پاس صغیر احمد کو احساس ہوا کہ روزگار کے لیے ڈگری سے بڑھکر اسکلز ضروری ہیں چنانچہ انہوں نے سکل ڈویلپمنٹ سنٹر سے لائن انسپیکشن کا کورس کیا اور فوری ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہو گئے۔ دوران ملازمت کمپنی نے انہیں سعودی عرب، سوڈان اور افریقہ وغیرہ میں تعینات رکھا اس طرح انہیں عالمی رابطے کی زبان انگریزی میں اضافی مہارت کا موقع ملا، عالمی میل جول نے انہیں فہم زندگی اور آداب معاشرت سے آگاہی فراہم کی جس سے انہوں نے اطوار حیات کشید کیے۔

شخصی نفاست، شعور مدنیت اور ابلاغ و اظہار کی توانائی ان کی ذات کا جزو لا ینفک بنے رہے۔ وہ کئی سال بعد 1972 ء میں وطن واپس آئے۔ جلالپور جٹاں آئے تو گھر والوں نے سہرہ سجانے کی ٹھان لی اس طرح 1972 ء میں ہی نواحی گاؤں بھاگوال خورد کے ایک مذہبی گھرانے میں ان کی شادی کر دی گئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی دوبارہ بسلسلہ روز گار کراچی چلے گئے اور وہاں کلفٹن کی ایک شپنگ مینٹیننس کمپنی سے منسلک ہو گئے انہوں نے انہیں سعودی عرب بھیج دیا، مگر اس بار وہ دل جلالپور جٹاں ہی چھوڑ گئے تھے اس لیے بہت جلد اکتا گئے اور واپس کراچی آ گئے لیکن قرار نہ ملا تو کراچی کو خیرباد کہہ کر 1973 ء میں مستقل جلالپور جٹاں آ گئے۔ قدرت نے انہیں تین بیٹے جاوید صغیر، ناصر صغیر اور آفتاب صغیر عطا کیے۔

گجرات آ کر ایک اخبار کے مقامی آفس سے وابستہ ہوئے اور دفتری کام سرانجام دینے لگے۔ انہیں اردو و انگریزی لکھنے میں مہارت حاصل تھی اس لیے خبرنویسی ان کے بائیں ہاتھ کا کام ثابت ہوئی۔ جلد ہی قومی اخبار بلکہ اخبارات کی نمائندگی مل بھی گئی۔ نامہ نگاری ایک مشکل فن ہے یہ کتابوں اور کلاس روم سے بھی سیکھی جا سکتی ہے لیکن اس کا اصل مدرسہ عملی میدان ہے۔ نامہ نگار کو خبریں لکھنے سے پہلے سونگھنا، دیکھنا، چھونا اور چکھنا پڑتا ہے۔

صغیر احمد طبیعتاً اور تربیتاً ان امور کے ماہر تھے، سونے پر سہاگہ کہ وہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں نہ صرف لکھ لیتے بلکہ اپنے زمانے کے خبروں کی ترسیل کے محدود ذرائع سے اور انہیں بروقت استعمال کرنے کے بھی ماہر تھے۔ خبر نویسی ان کا نمایاں وصف تھا اسی وجہ سے تمام اخبارات کے نمائندگان انہی سے خبریں لکھوانے لگے، سب کے لیے خبریں لکھنے کی شہرت کے باعث وہ صحافیوں کے منشی کہلانے لگے۔ امریکہ میں مقیم گجرات کے صحافی طاہر چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ چونکہ ہر وقت انور شیخ کے اخبار کے سٹال پر بیٹھے رہتے اور وہیں لکھتے اس لیے دوست انہیں ”منشی“ کہنے لگے۔

وہ اپنے زندگی بھر کے ساتھی اپنے اکلوتے اثاثے یعنی موٹر سائیکل پر روز صبح جلالپور سے نکلتے، خبروں کے ماخذات سے مستفید ہونے کے لیے سب سے پہلے سکیورٹی برانچ پہنچتے، اور پھر ایس ایس پی آفس، ڈی ایس پی صدر وغیرہ کے دفتر کا چکر لگاتے اور پھر نشاط ہوٹل میں محفل جما لیتے۔ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے جو کمایا وہ ایک راٹھ کی طرح دوستوں پر وار دیا۔ وہ کھلے دل کے انسان تھے پھر جب وہ سفید پوش ہو کر رہ گئے تو جی ٹی ایس چوک میں عرب کیفے پر بیٹھنے لگے جہاں انہیں انور شیخ کی محبت اور سید باقر رضوی کی مستقل رفاقت حاصل رہی۔

ہوٹل کی بالائی منزل پر ان کا کمرہ مخصوص تھا جہاں وہ بوسکی کی قمیض اتار کر لٹکا دیتے اور کاغذ و کاربن پیپر پر سب صحافی دوستوں کے لیے خبریں لکھ کر انہیں تھما دیتے اور ٹیلی گراف آفس جا کر بروقت خبریں ارسال کرتے۔ صحافیوں کی محبت اور منشی گیری میں صغیر احمد ایس اے منشی ہو گئے۔ تمام دوست انہیں بابا جی کہہ کر پکارتے تھے اسی مناسبت سے وہ گجرات میں بابائے صحافت کے لقب سے نوازے گئے۔ وہ اے پی پی، پی پی آئی، این این آئی سمیت قومی نیوز ایجنسیوں کو خبریں بھیجتے۔

نظریاتی طور پر اس عہد کے مقبول سوشلسٹ نظریات کے دلدادہ تھے۔ پیپلز پارٹی سے فکری ہم آہنگی رکھتے تھے اس لیے ’روزنامہ مساوات‘ کے ڈسٹرکٹ رپورٹر بنے اور انگریزی روزنامہ فرنٹیر پوسٹ کی نمائندگی بھی کی۔ خبروں کی بدولت لوگ انہیں تمام قومی اخبارات کا نمائندہ سمجھتے تھے کیونکہ اکثر انہی کی خبر سب اخبارات میں چھپتی تھی۔ وہ کچھ اخبارات کے گجرات شہر سے نمائندہ تھے تو باقی قومی اخبارات مشرق، امروز، پاکستان ٹائمز، دی مسلم، ڈان وغیرہ کو جلالپور جٹاں کی ڈیٹ لائن سے خبریں بھیجتے تھے۔

جلالپور جٹاں کے سینئر صحافی سادہ مزاج شوقین صحافت افتخار چوہدری سے ان کی گہری دوستی رہی، تمام سینئر صحافیوں کے ساتھ ساتھ لیاقت علی شفقت، روزنامہ ڈاک کے چیف ایڈیٹر محمد یونس ساقی، عبدالستار مرزا، محمد ارشد کراچی والے، طاہر چوہدری حال امریکہ سے ان کے مراسم خوشگوار رہے۔ صحافی برادری ان کے پان و چائے کے ذوق سے بخوبی آگاہ تھی اور اپنے کاموں و خبروں کے لیے بابا جی کو پان، سگریٹ و چائے کھلا پلا کر ”بلیک میل“ کرتی تھی۔

اس نے انہیں ”ڈیسک رپورٹر“ بنا رکھا تھا۔ 1992 ء میں مجھے کڑیانوالہ سے جنگ کی نمائندگی ملی تو اس سلسلے میں ان سے ملاقاتیں و راہ و رسم بھی رہی۔ مجھے یاد ہے الیکشن مہم میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو احمد مختار کے جلسے میں گجرات اور نوابزادہ غضنفر گل کے جلسے منعقدہ حاجی والہ آنا تھا۔ ایس اے منشی کوریج کے لیے سٹیج پر میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ کافی دیر ہو گئی بے نظیر کا ہیلی کاپٹر حاجی والہ جلسہ کے اوپر سے ہو کر گزر گیا لیکن لینڈ نہ کیا اور نہ بے نظیر جلسے میں آئیں۔ ہم یہ خبر بھجوانے لگے تو منشی صاحب نے بتایا کہ وہ تو کامیاب جلسے کی خبر اور بے نظیر کا خطاب بھیج آئے ہیں۔ جلد خبر بھیجنے کی روایت میں ان کا تجربہ اکثر فیلڈ کی صحافت سے متضاد رہ جاتا تھا۔ تاہم ڈیسک رپورٹنگ کی روایت بھی ان کی صحافت کا ایک پہلو رہا ہے۔

ایس اے منشی فنی مہارت کے علاوہ ایک ذمہ دار اور باشعور شہری تھے۔ وہ سماج کے نبض شناس تھے واقعات کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے۔ وہ صرف وقائع نگار نہیں تھے بلکہ واقعات پر اپنی رائے بھی رکھتے تھے۔ وہ پوشیدہ نکات کو فوراً بھانپ لیتے اور محرکات کا پتہ چلا لیتے جو عام صحافی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ان کے ادراک کا کمال تھا کہ وہ اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرے میں اخباری نمائندگان کی حدود و قیود سے بھی واقف تھے اور رپورٹنگ میں اس کا خیال بھی رکھتے تھے۔

وہ جانتے تھے کہ حقائق کے وسیع سمندر سے نمائندگان کو روزانہ چند اہم بوندیں کشید کر کے پیش کرنی ہوتی ہیں اس تناظر میں نامہ نگار کبھی شکار ہوتا تو کبھی شکاری۔ وہ جامد فکر آئیڈلسٹ نہیں تھے اس لیے حالات کے مطابق چھوٹے موٹے سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کر لیتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ صحافی سماج کا نقاد ہوتا ہے لیکن تخریب کار نہیں۔ معاشرے میں یگانگت پیدا کرنا اور امن کو نقصان نہ پہنچانا بھی صحافی کی ہی ذمہ داری ہے۔

امن پسندی ان کی کمزوری نہیں تھی بلکہ اسی کی بدولت وہ نڈر اور بے خوف بھی تھے۔ اپنی خودی کو لنڈے کے بھاؤ فروخت نہیں کرتے تھے۔ سیاسی ڈیروں پر حاضری لگوانا اور منتھلیاں وصول کرنا ان کا شیوہ نہیں رہا۔ اسی لیے ضلعی انتظامیہ اور سیاسی قیادت انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ یاروں کے یار تھے۔ افتخار چوہدری کے مطابق سابق کمشنر مرحوم سعید اقبال واہلہ ان دنوں گجرات میں اے سی تھے، ترش مزاج واہلہ کی صحافیوں سے نہیں بنتی تھی۔ اس کے دور میں پٹواریوں نے ہڑتال کر دی۔ کمشنر کو آنا پڑا اس نے اجتماع میں سعید واہلہ پر سخت برہمی بلکہ کچھ زیادہ کا اظہار کیا واہلہ سمیت سب پریشان اور خاموش ہو گئے کہ اچانک ایس اے منشی نے رواں انگریزی میں شائستکی لیکن سختی کے ساتھ ٹوکا اور انتظامی افسر کی سرعام بے توقیری کو انتظامی ضوابط کے منافی بتایا تو کمشنر صاحب ڈھیلے پڑے اور انداز بیاں بدل کر واہلہ کو تھپکی دی۔ اس پر سعید واہلہ عمر بھر ایس اے منشی کے شکرگزار رہے۔

وہ صحافت میں ہمیشہ مظلوم اور نچلے طبقے کے ترجمان رہے۔ ان کا قلم عام آدمی کی زبان تھا وہ اسے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ عام لوگوں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچاتے تھے۔ اپنے تعلقات سے عام افراد کے کام کروانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے۔ صحافیوں کے بابا جی پان کھا کھا کر اسی کی بھینٹ چڑھے۔ وہ گلے کے سرطان کا شکار ہو گئے اور بالآخر 59 سال کی عمر میں 9 فروری 2003 ء کو اسی مرض کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے اور نندپور قبرستان جلالپور جٹاں میں سپرد خاک ہوئے۔

ایس اے منشی پیشے کے اعتبار سے صحافی لیکن قلبی و باطنی طور پر درویش صفت صوفی مزاج انسان تھے اور اہل بیت سے والہانہ محبت کے ساتھ ساتھ اولیاء سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔ درگاہ بابا شاہ بھولا سے انہیں روحانی رغبت تھی اور موضع معروف کی روحانی شخصیت صوفی سعید کے ساتھ ان کی بڑی بیٹھک رہتی تھی۔ نرم دل، قناعت پسند انسان تھے۔ صحافت جیسے پیشے میں اجلے دامن کے ساتھ چار عشرے بسر کرنا کسی کرامت سے کم نہیں۔ مختصر یہ کہ قلم کا فن دیکھنے میں تو آسان نظر آتا ہے مگر حقیقت میں یہ مشقت اور بھرپور جدوجہد کا غماز ہوتا ہے۔

گجرات کی صحافتی تاریخ گواہ ہے کہ خبر کو تلاش کرنا، خبر کے اندر اترنا، اور پھر اس کو تراش کر لفظوں میں پرونا ایس اے منشی اس کا ڈھنگ خوب جانتے تھے۔ خبر نویسی پر انہیں مکمل دسترس حاصل تھی جس کی وجہ سے انہوں نے خوب نام کمایا۔ عمریں بیت جاتی ہیں، نام یونہی نہیں بن جاتے۔ انتھک محنت، انتھک لگن، لا محدود جذبہ اور فضل ربی ہی کسی خوش نصیب کو صغیر احمد سے ایس اے منشی بنا جاتا ہے۔

 

Facebook Comments HS