عضو تناسل کو تالا کون لگائے گا

آ پ کا کسی ایسے شخص کے متعلق کیا خیال ہے جو دن دیہاڑے اپنی نیکر اتار کر ایک برقع پوش خاتون پر لپک پڑے؟ کیا اس قسم کے بندے سے یہ کہہ کر جان چھڑائی جا سکتی ہے کہ ” بندہ ذہنی مریض تھا“
حالانکہ واردات کے دوران وہ ماسک پہنے ہوئے تھا تا کہ کوئی اسے پہچان نہ لے؟
آخر کس وجہ سے وہ اس نہج تک پہنچ گیا کہ کپڑوں سے بے نیاز ہو کر سر راہ ہی وہ ایک لڑکی پر جھپٹ پڑا؟
اس رویے کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟
ٹھرک، ہوس، فرسٹریشن یا جنسی گھٹن؟
یہ کراچی کا واقعہ ہے جو سی سی ٹی وی کیمرے کی انکھ میں بطور فوٹیج ریکارڈ ہو گیا تاکہ سند رہے۔
اور ان لوگوں کا منہ چڑاتا رہے جن کا شروع دن سے ایک ہی موقف ہے کہ ” کھلی ہوئی کینڈی کے گرد ہمیشہ مکھیاں بھنبھناتی ہیں“ ان کی نظر میں خاتون کی حیثیت ایک ”کموڈٹی“ یعنی چیز سے زیادہ نہیں ہوتی۔
مطلب اگر کسی خاتون نے روایتی بندوبست سے انحراف کرتے ہوئے اپنا من پسند لباس پہنا ہوا ہے تو وہ ایک طرح سے دستیاب یا ولنر ایبل ہے، جسے دیکھتے ہی کسی کا بھی عضو تناسل تناؤ میں آ سکتا ہے اور وہ بہک سکتا ہے۔
وائرل ویڈیو میں تو ماجرا ہی کچھ اور ہے، خاتون برقع پوش ہے، بائیک پر ایک لڑکا آتا ہے، اپنی نیکر اتارتا ہے اور برقع پوش خاتون پر جھپٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
مگر خاتون ہمت دکھاتی ہے اور اس کے چنگل سے کسی طرح بھاگ نکلتی ہے اور وہ لڑکا دوبارہ سے نیکر پہنتا ہے اور رفو چکر ہو جاتا ہے۔
اس طرح کا یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے یوٹیوب اس قسم کے انگنت واقعات سے بھرا پڑا ہے اور لا تعداد واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے، والدین بیچارے اپنی عزت بچانے کے چکروں میں معاملے کو ہی رفع دفع کر دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر خاتون برقعے میں بھی محفوظ نہیں ہے تو پھر قصوروار کون ہے؟
تو خواتین کے لیے مزید کیا حکم ہے کیا وہ زرہ بکتر نوعیت کا کوئی بندوبست کریں؟
وحشیوں کے بیچ وہ خود کو کیسے محفوظ بنا سکتی ہیں؟ پاکستان کے ان حاکموں سے پوچھا جانا چاہیے، جنہوں نے بطور وزیراعظم موٹروے پر ہونے والے گینگ ریپ کے ضمن میں مذمت کرنے کی بجائے خاتون کو ہی اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ
” اگر خاتون تنے تنہا صرف اپنے بچوں کے ساتھ رات کے وقت موٹروے پر نکلے گی تو ایسا ہی ہو گا، اس کے علاوہ موصوف نے کہا تھا کہ مرد کو بہکانے میں خواتین کا لباس بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اور مرد کوئی روبوٹ نہیں ہوتا بلکہ ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے“
پوچھنا تو بنتا ہے نا!
کہ کیا خواتین روبوٹ ہوتی ہیں؟
خان کا یہ بیان صنفی امتیاز کی واضح مثال ہے بلکہ مردانہ برتری کا عکاس ہے، مرد کا یہی زعم خاتون کو ایک مکمل انسان تسلیم کیے جانے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
جس ملک کا وزیراعظم وکٹم بلیمنگ میں ملوث ہو تو رعایا میں کس قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
اب اگر برقع پوش خواتین بھی اہل ہوس سے محفوظ نہیں تو پھر وہ کون سا لباس پہنیں جس کی بدولت مرد حضرات بہکنے سے محفوظ رہیں؟
کیونکہ یہ ذمہ داری بھی تو انہی کے ناتواں کندھوں پر ہے کہ مرد کی عزت و عصمت کو تحفظ دینے کے لیے وہ جو کر سکتی ہیں کر گزریں اور اپنا معاملہ قادر مطلق کے سپرد کر دیں، وہ تو ویسے بھی نصف انسان ہیں۔
ویسے سوچنے والی بات نہیں کہ ہمارے ہاں روز بروز ٹھرکیوں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟ ظاہر ہے طارق جمیل جیسے مبلغین کی وجہ سے، جو دن رات حور و غلمان کے قصوں سے اہل ایمان کو گرمائے رکھتے ہیں۔ جب آپ حوروں کے قد کاٹھ اور پستانوں کے سائز بھرے مجمع میں سنا کر نوجوانوں کو متحرک کریں گے تو پھر ذہن پر حور ہی سوار ہوگی نا۔
اور سارے اعمال بھی اسی کے گرد طواف کریں گے۔
ہم جیسے گنہگار معاشرے کو ایجوکیٹ کرنے کے لیے جب کبھی سیکس، ماسٹر بیشن یا جنسی رجحانات پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر بے شرم اور بے حیا ڈکلیئر کر دیا جاتا ہے۔
جب یہی باتیں ”مذہبی ٹچ“ کے ساتھ اور جنسی طمانیت و تسکین کے لیے اہل جبہ و دستار مجمع میں فرماتے ہیں تو سب انجوائے کرتے ہیں۔
جب کبھی بھی نیکر اتار کے خاتون پر جھپٹنے والے اس جنسی مریض کی حقیقت کھلے گی اس وقت صرف ایک کام کیجئے گا۔
” اس لڑکے کی فیس بک آئی ڈی یا انسٹا اکاؤنٹ اوپن کر کے دیکھیے گا ساری حقیقت چند سیکنڈ میں عیاں ہو جائے گی، یقین مانیں اس ٹھرکی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ دین کی اچھی اچھی باتوں سے بھرا ہوا ہو گا، احادیث مبارکہ شیئر کر رکھی ہوں گی اور منافقت کا یہ پہلو صرف اسی کے ساتھ منسلک نہیں ہے بلکہ معصوم زینب کو ریپ کر کے مارنے والے کے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی یہی کچھ تھا اور وہ باقاعدہ نعت خوانی بھی کیا کرتا تھا“
جن معاشروں میں ذہنی بیماریوں کا علاج جھاڑ پھونک سے ہوتا ہو اور جنسی تقاضوں کا علاج وظائف سے ہو تو پھر ایسے سماج میں روز بروز ابنارمل، ٹھرکی، ہوس زدہ اور جنسی فرسٹریشن کے مارے افراد کی شرح بڑھنے لگتی ہے۔ ایبنارمل یا ذہنی مریض ”کشش اور ہوس“ کے بیچ فرق کو نہیں سمجھ پاتے۔
ایسے بندے نیکر اتار کر کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے مضمون ”وجائنا کو تالا لگا ہے“ نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔
دراصل ہم سچ سننا ہی نہیں چاہتے، چونکہ سچ تلخ اور چاشنی سے محروم ہوتا ہے۔ جبکہ ہم میٹھے میٹھے جھوٹ ترنم اور لے کے ساتھ سننے کے عادی ہو چکے ہیں، ہمیں سٹریٹ فارورڈ یا آؤٹ رائٹ سچ اچھا نہیں لگتا بلکہ بدنما قسم کے جھوٹ اور بدہیئت قسم کے نامکمل حقائق بہت اچھے لگتے ہیں۔
یہ جملہ سننے میں تو بہت اچھا لگتا ہے کہ
” میاں بیوی گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہوتے ہیں مگر ان پہیوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ یا جبر کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔“
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا قصور بس اتنا سا ہے کہ
” وہ ننگے سچ کو کپڑے نہیں پہناتی اور اگر ننگے سچ سے کوئی برہنہ ہوتا ہے تو اس میں ان کا کیا قصور ہے؟“
نیکر اتارنے والے جنسی مریض کی برہنگی معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو 70 سال گزرنے کے باوجود بھی خواتین کے لیے غیر محفوظ ہے۔ اگر مجموعی ذہنی حالت کا اندازہ لگانا ہو تو اسی وائرل کلپ کے نیچے کمنٹس ملاحظہ فرما لیں فوری پتا چل جائے گا کہ
” خوامخواہ کے جواز گھڑنے اور وکٹم بلیمنگ میں ہمارا آج بھی کوئی ثانی نہیں ہے۔“

