عظیم ماں محترمہ فاطمہ جناح کی یاد میں


 تاریخ کے اوراق میں کچھ خواتین و حضرات کو ایسا مرتبہ ملتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے قوموں کے ہیروز بن جاتے ہیں وہ خود اس دنیا سے تو چلے جاتے ہیں لیکن دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور قومیں بغیر کسی وعظ و نصیحت کے خود ہی اُن کو لقب دیتی ہیں اور خود ہی اُن کو اپنا رہبر و رہ نما، لیڈر یا ماں کہتی ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح اُن ہی میں سے  ایک ہیں۔
ماں کا لفظ تو ویسے بھی جب بھی زبان میں آتا ہے تو انسان کے احساس، جذبات بقیہ رشتوں سے بالکل الگ ہو جاتے ہیں اور انسان انتہائی محبت و عقیدت کے ساتھ با ادب ہو جاتا ہے۔
محترمہ فاطمہ جناح 31 جولائی 1893ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کی ولادت کے دنوں میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ لنکن ان لندن میں قانون کی اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے ہوئے تھے واپسی پر انہوں نے چھوٹی بہن فاطمہ کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے؛ کیوں کہ فاطمہ جناح بھی اپنے عظیم بھائی کی ہوبہو تصویر تھیں، آپ جب دوسال کی عمر کو پہنچیں تو ماں کی شفقت ومحبت سے محروم ہو گئیں بڑی بہن نے ان کی پرورش کی ذمے داری اٹھائی، جب ہوش سنبھالا تو انگلستان میں زیرتعلیم بھائی کا ذکر سن کر ان سے ملنے کی خواہش بڑھتی گئی۔ محمد علی جناح جب واپس آئے تو فاطمہ جناح چار سال کی تھیں وہ قائداعظم سے سترہ سال چھوٹی تھیں۔
قائد اعظم محمد علی چھوٹی بہن فاطمہ کی معصوم باتوں کو سن کر بہت محظوظ ہوتے تھے اس دوران جب والد کے کاروبار کو شدید نقصان کا سامنا تھا محمد علی جناح نے بمبئی جاکر وکالت کا کام شروع کیا اور کچھ دن بعد انھوں نے پورے خاندان کو بمبئی بلا لیا جب پورا خاندان بمبئی شفٹ ہو گیا تو بھائی نے آٹھ سالہ فاطمہ کی تعلیم کا بندوبست بھی گھر پر کر دیا بہن بھائی کی محبت مثالی تھی۔ فاطمہ کو بچپن سے گڑیو ں کے بجائے مطالعے کا شوق بھائی سے ہی ملا۔ پھر قائد اعظم نے آپ کا داخلہ کانونٹ سکول میں کروا دیا۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے بمبئی یونیورسٹی سے 1910ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1913ء میں سینئر کیمرج کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ 1922ء میں انہوں نے دندان سازی (ڈینٹسٹری) میں ڈپلومہ حاصل کیا اور اپنا کلینک شروع کرکے دانتوں کے مریضوں کا علاج شروع کیا۔ 1929ء میں قائداعظمؒ کی اہلیہ مریم جناح کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو قائد اعظمؒ کو تسّلیّ دینے اور اُن کے کاموں میں معاونت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر لیا اور قائداعظمؒ کی آخری سانس اور ان کو لحد میں اتارنے تک ان کے ساتھ رہیں۔
قائد اعظمؒ بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے وہ بہن کے مشوروں پر عمل بھی کرتے ان کی تائید اور حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ 1934ء میں جب قائد اعظمؒ لندن میں تھے تو فاطمہ جناح بھی ان کے ہمراہ تھیں وہ کئی سال وہاں قیام پذیر رہیں لیکن وہ ایسی مظبوط نظریاتی خاتون تھیں کہ وہاں کی رنگین فضائیں انھیں متاثر نہ کر سکیں۔ جب 1947ء میں پاکستان دنیا کے نقشے میں ایک آزاد ملک کی حیثیت سے معرض وجود میں آگیا تو مسائل کا ایک انبار بھی ساتھ تھا۔ خاص طور پر مہاجرین کی آمد اور ان کی بحالی کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیارکیے ہوئے تھا۔ لوگوں نے جھوٹے کلیم داخل کر کے حقداروں سے ان کا حق غضب کرنے کی روایت روز اول سے شروع کر دی تھی۔ مادر ملت دن رات ان مسائل کو دور کرنے کے لیے ہمہ تن مشغول رہیں اس دوران بھائی کی صحت خراب ہونے پر انھوں نے بھائی کی تیمارداری پر خصوصی توجہ دینی شروع کردی۔
لیکن اللّٰہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا قوم کا عظیم لیڈر اس دار فانی سے سراپا محبت بہن کی جھولی میں سر رکھ کر سفرِ آخرت پہ روانہ ہو گیا اتنی محبت کرنے والی بہن نے یہ غم کے زخم کیسے جھیلے ہوں گے یا جو اُن پہ گذری ہو گی وہ یہاں الفاظ میں تو بیان نہیں کی جا سکتی ۔
لیکن اپنے بھائی کے انتقال کے بعد بھائی کے سکھائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے آپ نے عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ مادر ملت جو خود جمہوریت کی قائل تھیں اور جن کی تربیت قائداعظم نے کی تھی وہ بھلا کیسے گورا کر لیتیں کہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد انگریز نواز نوکر شاہی اقتدار پر قبضہ کر کے جمہوریت کے خلاف سازش کرے۔ یہ عظیم خاتون ڈکٹیٹر جنرل ایوب کی فوجی آمریت کے خلاف میدان میں نکل آئیں۔ جہاں جاتیں لاکھوں لوگ استقبال کرتے لیکن جمہوریت دشمن طاقتوں کو فاطمہ جناح کے یہ اقدامات نا گوار گذرتے انہوں نے طرح طرح کی سازشیں اور الزام تراشی، دھونس دھاندلی سے فاطمہ جناح کو الیکشن میں جیتنے کا موقع نہ دیا۔ اگر اُس دور میں اقتدار کی شفاف منتقلی کے ساتھ محترمہ فاطمہ جناح کو موقع دیا جاتا تو تاریخ کے اوراق کو پلٹتے ہوئے ہم بڑے وثوق سے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں ۔ کہ پھر آنے والے وقت میں وطن عزیز جو دو لخت ہوا کبھی نہ ہوتا ۔ لیکن اس دھونس دھاندلی سے عوام الناس خصوصاً مشرقی پاکستان کے عوام سخت غم وغصے سے دوچار اور مایوس ہوئے۔ مادر ملت کی صورت میں انھیں ایک نجات دہندہ ملا تھا لیکن اُس وقت کی بیورو کریسی نے دھونس دھاندلی سے وہ بھی چھین لیا۔
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح زندگی کے اس آخری دور میں اپنوں کے لگائے گئے جھوٹ وفریب، الزامات اور مکاری کے زخم کبھی نہ بھول سکیں۔ زندگی کے آخری ایام میں آخری وقت سیاست سے خود کو دور رکھا لیکن بناء کسی ذاتی غرض کے عوام الناس کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ قوم کی اس ماں نے 9 جولائی 1967ء کے دن داعی اجل کو لبیک کہا۔ مادر ملت کی قومی خدمات کے صلے میں پاکستانی عوام اپنی اس ماں کو بطورمحسن وملت ہمیشہ یاد رکھے گی۔ مادرملت فاطمہ جناح  آج بھی پاکستان کی انتہائی مقبول شخصیت ہیں اور انہیں پاکستان کی سب سے بڑی خواتین شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ مادرملت کو ان کی وفات کے بعد معاشرے سے زبردست اعزازات ملے۔ حکومت پاکستان نے ان کے اعزاز اور یاد میں ایک مقبرہ بھی تعمیر کیا۔ اس کے علاوہ فاطمہ جناح ڈینٹل کالج، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی اور جامعہ فاطمہ جناح برائے طالبات کا قیام مادر ملت کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
Facebook Comments HS