ناول انکشاف قسط 6


عبدالشکور دن بھر کا تھکا ہارا محنت مزدوری کر کے، جب شام کو واپس گھر لوٹا تو شہاب اور آمنہ اس سے لپٹ گئے اور پھر اس کے ہاتھوں سے وہ شاپنگ بیگ چھین لیا، جس میں وہ بچوں کے لئے چیزیں بازار سے خرید کر لایا تھا۔

”ابا! میری مہندی کہاں ہے؟“ ۔ آمنہ شاپنگ بیگ کو مہندی کے چکر میں پاگلوں کی طرح تیزی سے خالی کرتی جا رہی تھی۔ ”ارے! وہ تو میں بھول گیا“ ۔ عبدالشکور نے ماتھے پر جونہی ہاتھ مار کر افسوس کیا، تو آمنہ نے غصے سے شاپنگ بیگ اٹھا کر صحن میں اس زور سے پھینکا کہ وہ پھٹ گیا۔ ”آپ ہیں ہی گندے۔ جائیں میں آپ سے بات نہیں کرتی۔ بھائی کے لئے ہر چیز یاد رہتی ہے، مگر میری چیزیں بھول جاتی ہیں۔“ آمنہ روتے بسورتے، آنسو بہاتے یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ عبدالشکور اسے بہتیرا پکارتا رہا، مگر وہ پلٹ کر پیچھے نہ آئی۔

”ابا! میری چیجی لائے ہو؟“ ۔ اب شہاب کی باری تھی، جو ابھی تک انگوٹھا چوستا تھا۔ ”ارے تمہاری چیجی نہیں لاؤں گا تو کس کی لاؤں گا یار۔ یہ لو“ جونہی عبدالشکور نے پاپڑوں کا پیکٹ شہاب کے سامنے کیا، تو شہاب نے انگوٹھا چوسنا چھوڑ کر ، دونوں ہاتھوں سے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ”آہا! میرے پاپڑ۔ میرے پاپڑ“ وہ تالیاں بجاتے اچھل کود کر کے گھر میں شور کر رہا تھا اور عبدالشکور اس کو یوں دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا۔

عبدالشکور کی بیوی آنسہ جو پڑوس میں گئی ہوئی تھی، وہ جب واپس آئی تو صحن میں بکھری چیزوں کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ”یہ کس نے کیا ہے؟ مجھے تو اس شہاب کا ہی کیا دھرا لگتا ہے“ ۔ وہ چیزوں کو سمیٹتے ہوئے کہے جا رہی تھی۔ جبکہ عبدالشکور بیٹے کو گود میں اٹھائے پیار کر رہا تھا۔ ”ارے نہیں آمنہ کی ماں! یہ تمہاری لاڈلی آمنہ کا کیا دھرا ہے“ ۔ جب عبدالشکور نے آمنہ کا نام لیا، تو اماں لگیں اس کو بے نقط سنانے ”آمنہ تیرا ستیاناس ہو جائے، ساری دال اور چاول کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا۔

یہ دیکھ اب انہیں کون الگ الگ کرے گا؟“ آمنہ کی ماں زور زور سے چلاتے ہوئے، دال اور چاول دونوں کو پرات میں ڈال رہی تھی، جو آپس میں مکس ہوچکے تھے۔ ادھر آمنہ کی ماں غصے سے اسے ڈانٹ رہی تھی، اور ادھر آمنہ قمیص کا کونا منہ میں ڈالے، کھڑکی سے سارے منظر کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ اسے دال اور چاول کے ضائع ہونے سے زیادہ، اپنی مہندی کے نہ آنے کا دکھ تھا، جس کا اظہار اس نے شاپنگ بیگ کو صحن میں پٹخ کر کیا تھا۔

آنسہ چیزیں سنبھال لینے کے بعد باورچی خانے میں گھس گئی اور رات کے کھانے کی تیاری میں جت گئی۔ آنسہ نے دن کو ہی چنے بھگو رکھے تھے، سو اس نے مسالہ تیار کر کے جھٹ پٹ چنے کا سالن بنایا، پھر روٹی لگائی اور سب گھر والوں کو کھانے کے لئے آواز دی۔ کچھ ہی دیر میں عبدالشکور نے صحن میں دستر خوان بچھایا اور پھر سب لوگ کھانے کے لئے اکٹھے ہو گئے۔ عبدالشکور کے گھر کی یہ پرانی ریت چلی آ رہی تھی، جہاں سب لوگ رات کا کھانا ایک ہی وقت میں ایک ہی دستر خوان پہ بیٹھ کر کھاتے تھے۔

اس دوران وہ دن بھر کے امور کو بھی زیر بحث لے آتے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ دیگر چیزیں بھی طے ہوجاتی تھیں۔ ”میں آج کھانا کم کھاؤں گا“ ۔ عبدالشکور نے پہلا لقمہ توڑتے ہوئے کہا۔ ”وہ کیوں ابا؟“ ۔ آمنہ نے منہ ہلاتے ہوئے پوچھا۔ ”آج فیکٹری میں محفل نعت تھی اور کھانا کافی دیر سے تقسیم ہوا تھا“ ۔ عبدالشکور نے ایک چھوٹا سا لقمہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے بتایا۔ ”ماشاءاللہ! بہت عمدہ نعت خوان آئے تھے اور لنگر کا انتظام بھی خوب تھا۔

“ آمنہ کی ماں عبدالشکور کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ ”فورمیں بتا رہا تھا کہ کم و بیش ایک لاکھ خرچ ہوا ہے، محفل نعت پر “ ۔ ایک لاکھ کا سن کر آنسہ کا منہ وہیں کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ”ایک لاکھ! اتنی زیادہ رقم اور وہ بھی نعت خوانی پر ؟“ ۔ آنسہ کی بات کا انداز ایسا تھا گویا یہ کوئی اچھی چیز نہیں تھی۔ ”ایک طرف تمہارا مالک کہتا ہے کہ تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ گزارہ کرو۔ اور دوسری طرف محض نعت خوانی پر ایک لاکھ کا خرچ۔

اور وہ بھی صرف ایک دن کے لئے۔ کیا یہ زیادتی نہیں ہے شہاب کے ابا؟“ ۔ وہ عبدالشکور کی طرف استفسار سے دیکھ رہی تھی، جو بددلی سے منہ ہلاتے ہوئے کھانا کھا رہا تھا۔ ”کیا کہوں آمنہ کی ماں۔ ہم اور کر بھی کیا کر سکتے ہیں۔ فورمین کے بقول مالک کی بیوی بیمار تھی تو امام مسجد نے نعت خوانی کا مشورہ دیا تھا کہ اس سے بلائیں دور ہوں گی اور بیمار صحت یاب ہوں گے ۔“ آنسہ کا منہ یہ بات سن کر بگڑ گیا اور اس نے وہیں کھانا چھوڑ دیا۔

”اماں تھوڑا سا سالن اور دے دے“ ۔ آمنہ نے چھوٹی سی پلیٹ سالن کے لئے اماں کی طرف بڑھائی تو اماں نے غصے سے سالن ڈال کر ، پلیٹ آمنہ کے ہاتھ میں پکڑا دی۔ ”لیکن مجھے یہ بتاؤ“ آنسہ نے تیز آواز کے ساتھ سلسلہ کلام شروع کیا ”یہ کون سا اسلام اور کون سی مسلمانیت ہے کہ کام کرنے والے فاقوں مریں، اور نعت خوانیوں پہ تم لوگ ہزاروں لاکھوں اڑا دو ۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ کیا ہم مٹی چاٹتے ہیں؟ کیا ہمارے بچے۔“ وہ اونچی آواز میں غصے سے بھری باتیں کرتی جا رہی تھی، مگر عبدالشکور نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

”اری نیک بخت! نیکی کے کاموں پہ اعتراض نہیں کرتے۔ کیا تمہیں یہ نہیں پتہ کہ نعت خوانی کتنے بڑے ثواب کی چیز ہے۔ اور کتنے گناہ اس سے معاف ہو جاتے ہیں۔ ہمارا مالک کتنا خوش نصیب ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہے۔ ورنہ مجھ جیسے بد نصیب کی یہ اوقات ہی نہیں کہ اپنے گھر دو چار لوگوں کو اکٹھا کر کے، میلاد کی محفل کروا سکوں۔“ ۔ عبدالشکور عقیدت بھرے لہجے میں، پست آواز کے ساتھ بیوی کو سمجھا رہا تھا، جو اسے غصے سے دیکھتے ہوئے زیر لب بڑبڑا رہی تھی۔

کھانے کے بعد وہ کچھ دیر وہیں بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے، کہ ننھا شہاب وہیں امی کی گود میں لیٹا لیٹا سو گیا، جبکہ آمنہ بھی وہیں دری پر اونگھتے اونگھتے ایک دم نیند کی وادی میں چلی گئی۔ عبدالشکور نے آمنہ کو ، جبکہ آنسہ نے شہاب کو اٹھا کر ان کے بستر پر لٹایا اور پھر اپنی اپنی چارپائیوں پہ آ کر لیٹ گئے۔

 

Facebook Comments HS