عقل کا تالہ
پاکستان میں آپ کو ہر تھوڑے دنوں بعد کوئی نہ کوئی فساد ملے گا کہ ہم اتنے ویلے ہیں کہ کسی بھی مسلے کے حل تک جانے کی بجائے ایسی فضول چیز پر فساد شروع کرتے ہیں کہ اصل اور گمبھیر مسئلہ گم ہو جاتا ہے اور جو ثانوی باتیں ہوتی ہیں وہ اصل مسئلے پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ پچھلے دو تین دن سے یہ مسئلہ گرم ہے کہ لکھاری نے خود سے کہانی بنا کر ویجائنا کو تالہ لگایا ہے یا یہ حقیقت ہے اس کے ان جملوں پر بحث کی جا رہی ہے جو ثانوی حیثیت رکھتے ہیں قبائلی کیوں لکھا، ہم تو عورتوں کو گولی مار دیتے ہیں اس طرح کی کوئی حرکت کر کے تو دیکھیں، شہرت اور پیسہ کمانے کے لیے یہ کالم لکھا گیا اور اصل مسئلہ گم ہے، مسئلہ عورتوں پر ظلم و ستم کی شب کا تاریک ہوتے جانا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی کسی مسئلے کے اوپر لکھا گیا پڑھنے والوں نے یا تو یہ سمجھا کہ پورا پاکستان لاہور اسلام آباد کراچی پر مشتمل ہے یا یہ کہ یہ تو باہر کے ملکوں میں بھی ہوتا ہے تو اس مسئلے کو اتنا ہائی لائٹ کر کے آپ پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اس مضمون پر کھڑا ہونے والا طوفان جہاں ہماری جہالت کی نشاندہی کرتا ہے وہاں ان سب لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو اپنے حصے کی عقل اور شعور کی شمع روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ترقی معکوس کا سفر اتنی تیزی سے طے کر رہے ہیں کہ باوجود اس کے آج کے دور کو سوشل میڈیا کا دور کہا جاتا ہے خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں ہم ان سب خبروں سے انجان کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر آنکھیں بند رکھیں گے تو شاید بلی خود بخود غائب ہو جائے۔
آئے دن سوشل میڈیا پر ہم چھوٹی چھوٹی ہندو بچیوں کو جو سندھ کے مختلف گوٹھوں سے تعلق رکھتی ہیں روتے چیختے چلاتے دیکھتے ہیں کہ ان کو زبردستی اغوا کر کے مسلمان کیا جاتا ہے اور پھر اپنے سے تین گنا بڑے مرد کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے اور چاہے لاکھ ماں باپ پیٹیں کہ ان کی بیٹیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ان بچیوں کو انتہائی پرتشدد ماحول سے عدالت لایا جاتا ہے اور اسی دباؤ میں ان سے بیان لیا جاتا ہے ذرا تصور کریں کہ آپ کے تیرہ سال کے بچے کو کوئی اس طرح اغوا کر لے، اپنے پاس رکھے، اور کیا وہ بچہ اس پرتشدد ماحول میں اس کے علاوہ کہ اپنے اغوا کار کی ہر بات مانے کچھ اور ہمت کرے گا لیکن ہم اس بات پر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اس بچی نے اپنی مرضی سے سب کیا ہے کا بیان دیا ہے یہ وہ بچی ہے جسے اغوا کیا گیا اس کو زبردستی مسلمان کیا پھر اتنی بڑی عمر کے مرد سے شادی کی گئی اور جب تک وہ عدالت پہنچتی ہے تو وہ جنسی عمل سے بھی گزر چکی ہوتی ہے وہ کیا بیان دے گی اور یہ وہ کیس ہیں جو کسی طرح پولیس، عدالت اور سوشل میڈیا تک پہنچتے ہیں۔
وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک ہزار اقلیت سے تعلق رکھنے والی بچیوں کو اغوا کر کے زبردستی مذہب تبدیل کیا جاتا ہے اور پھر ان کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے یہ سب شادیاں نہ صرف کم عمری کی وجہ سے قبل مذمت ہیں بلکہ جس طریقے سے وہ بچیاں اور خاندان خوف اور ہراسانی کی زندگی گزارتے ہیں انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔
پاکستان میں مختلف رسومات میں خواتین کے حوالے سے قبیح روایات رکھی جاتی ہیں جن میں ونی اور کاری شامل ہیں، مرد کے کیے گئے جرم کی سزا اس کی بیٹی یا بہن بھگتی ہے۔ آنر کلنگ جس پر اتنا فخر کیا جا رہا ہے اس کی نشانہ بننے اولی عموماً خواتین نے تو محبت یا پسند کی شادی کا گناہ بھی سر انجام نہیں دیا ہوتا بلکہ عموماً ان کو جائیداد میں حصہ نہ دینا پڑے کی ہوس کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ وہ بچے اور بچیاں جو اپنے خاندان کے مردوں کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں ان کی انتہائی قلیل تعداد اس ظلم کو بیان کر پاتی ہے۔
ڈان نیوز کی رپورٹ جس میں فیض آباد اور پیر ودھائی کے اڈوں پہ کام کرنے والے بچوں کے ساتھ جس قسم کی جنسی زیادتی کی جاتی ہے اس کو انٹرنیٹ کے زمانے میں ڈھونڈ لینا زیادہ مشکل نہیں، ان بچوں کو جس کم عمری میں ظالمانہ اور غیر محفوظ سیکس کا سامنا کرنا پڑتا وہ ان کی مدت عمر پچیس سے ستائیس سال تک کر دیتا ہے دوسری ڈان نیوز رپورٹ جو بلوچستان میں کانوں میں کام کرنے والے بچوں کے جنسی استحصآل کے بارے میں شائع ہوئی کے مطابق شاہ رگ کی کانوں میں کام کرنے والا ہر بچہ جنسی استحصال کا نشانہ بنتا ہے کیونکہ زندگی ان کانوں میں سخت اور قانون ندارد ہے۔
ان سارے بچوں اور بچیوں کو جن کو مدرسوں میں جنسی ہراسانی کا سامنا ہے ایک الگ داستان ہے کہ ماں باپ غربت سے تنگ ان کو پڑھانے کے لیے مدرسہ بھیجتے ہیں اور اس کے بعد انصاف کے لیے قانون کی کالی دیوار سے ٹکریں مارتے ہیں پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر سات بچوں کو جنسی تشدد کا سامنا ہے اور اس میں ان بچیوں کی تعداد شامل نہیں جن کو انتہائی کم عمری میں بیاہ دیا جاتا ہے پاکستان ان ممالک میں جہاں کم عمر شادیوں عام ہیں چھٹے نمبر پر آتا ہے یہ کم عمر شادیاں لاتعداد حمل اور بچوں کا سبب بنتی ہیں جس سے ان بچیوں کی صحت خراب ہو جاتی ہے اور کمزور مائیں کمزور لاغر بچے پیدا کرتے کرتے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔
اس کے ساتھ جو سب سے خوفناک عمل ہے وہ ریپ بطور سزا ہے یہ پنچایت کی طرف سے عورتوں پہ ان کے باپ بھائی بیٹے کے گناہ کے کفارہ میں ان عورتوں پر مسلط کیا جاتا ہے۔ مختاراں مائی کا کیس اس کی ایک مثال ہے اتنا ہائی پروفائل کیس ہونے کے باوجود مختاراں مائی انصاف حاصل نہیں کر سکیں بلکہ یہ الزام اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف کی طرف سے لگایا گیا کہ خواتین اپنا ریپ خود کرواتی ہیں تاکہ ان کو مغربی ممالک کے ویزے مل سکیں اسی دور میں ڈاکٹر شازیہ خالد کا ریپ ہوا ملزم تو کیا پکڑے جانے تھے ڈاکٹر شازیہ کو ملک چھوڑنا پڑا۔
بارکھان کے واقعے میں ایک لڑکی کی لاش کنویں سے برآمد ہوتی ہے اس کو بد ترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر ریپ کر کے مار دیا جاتا ہے لاش کنواں میں پھینک کے تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے شور مچایا ساتھ دیا ملزم دندناتے پھر رہے ہیں پاکستان میں قانون امیر کے لیے مہربان اور غریب کے لیے سزا ہے۔ پاکستان میں ریپ کیسز میں سزا 3 فیصد سے بھی کم ہے اور جس قسم کے پریشر کا سامنا ڈاکٹروں کو ان کیسوں کو رپورٹ کرنے میں پڑتا ہے اس کا اندازہ کرنا نا ممکن ہے۔ عموماً ایسے کیسز کو دبا دیا جاتا ہے اور غریب خاندان پیروی نہیں کر پاتے کیونکہ ریپسٹ عموماً طاقتور اور مالدار ہوتے ہیں اس لیے سب اس سے ایک بدنما داغ کی طرح جان چھڑاتے ہیں اور اگر خاتون میڈیکولیگل ڈاکٹر ایسی جسارت کسی جگہ کرے تو جینا محال ہوتا ہے۔ جان سے مار دینے کی دھمکی سے لے کر عزت پامال کرنے اور خاندان کو تباہ کر دینے کی دھمکیوں تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ملک جس میں کراچی جیسے شہر میں پولیس افسر کے بیٹے کو قتل کرنے والا چھٹ گیا وہاں ایک خاتون ڈاکٹر کیا اوقات رکھتی ہے۔
اس لیے عقل کے تالے کھولیں اور ان لوگوں کو جو خواتین کے مسائل اجاگر کرتے ہیں ان کے پیچھے چھریاں نکال کے گھومنے کی بجائے ان لوگوں کی مدد کریں جو بہتری کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان لاہور، اسلام آباد کراچی کوئٹہ اور پشاور کے شہروں مشتمل نہیں یہاں دیہی علاقے بھی ہیں اور پسماندہ علاقے بھی ہیں جہاں صحت، تعلیم اور قانون سب ندارد ہیں۔ پوری دنیا میں پڑھی لکھی نوجوان نسل ایک بار پھر سے انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق اور لیبر یونین موومنٹ کو اپنی حمایت سے تیز کر رہے ہیں ہمارے ہاں پہیہ الٹا چل رہا ہے پاکستانی نوجوانوں نے ترقی کو صرف بنگلوں، گاڑیوں اور برانڈ تک محدود کر لیا ہے جو بات عورتوں کے اقلیتوں کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے ایسا الٹا جواب اور منطق پیش کرتے ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ ایک عدد جھاڑو لے کر عقل کے تالے کھول کر دماغ کے جالے صاف کریں جو رویہ پاکستانی قوم کا اقلیتوں اور بچوں اور خواتین کی طرف ہے لگتا ہے گدھے پر کتابیں لادی ہیں۔ عقل کے تالے کھولیں اور پاکستان کا جغرافیہ، تاریخ اور معاشرتی روایات کو سمجھیں اور کنواں سے باہر نکلیں آپ کے انکار کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔
میں بھی عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں


