وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ


(پارٹ اول)

یوم خواتین کے موقع پر دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے جلسے جلوس ہوتے ہیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں مختلف سیمینار اور مباحث کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں کیے جانے والے عورت مارچ کی بھی خوب دھوم مچتی ہے۔ لبرل خواتین مساوات، برابری اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے نعرہ زن نظر آتی ہیں۔ عام طور پر ان خواتین بلکہ تیسری دنیا کی اکثر و بیشتر خواتین کے لیے مغربی معاشرے میں عورت کا طرز زندگی قابل ستائش اور باعث فخر ہے۔

اس کے حصول کو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی معراج گردانتے ہوئے پوری زندگی سرگرداں اور کوشاں رہتی ہیں۔ مردوں کی برابری کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے مساوی حقوق کے حصول کے لیے جابجا مطالبات کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ حقیقت کیا ہے۔ قدرت نے مرد اور عورت کو جسمانی ساخت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف پیدا کیا ہے۔ عورت کو فطری طور پر کمزور اور نرم و نازک پیدا کیا ہے۔ جب کہ مرد کو طاقت ور اور مضبوط۔

جب قدرت نے ہی ان دونوں کو ایک دوسرے کے برابر نہیں بنایا تو ہر دو میں سے کسی ایک کا دوسرے کی برابری کا دعویٰ کرنا فطرت کے قوانین کی نفی کے زمرے میں آئے گا۔ ویسے پوری دنیا نے مردوزن کے اس جسمانی تفاوت کو دل سے تسلیم کیا ہوا ہے۔ گو کہ زبان سے اس کا اظہار عموماً نہیں کیا جاتا۔ کھیلوں کے میدان میں جہاں زیادہ طاقت، قوت اور جسم کی مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں مردوں کی ٹیم میں عورتوں کو اسی لیے شامل نہیں کیا جاتا کہ وہ جسمانی طور پر مردوں سے کمزور ہوتی ہیں۔

اسی لیے مردوں کی ٹیم کا مقابلہ مردوں کی ٹیم سے طاقتوروں کا طاقتوروں کے ساتھ ہی مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور عورتوں کی ٹیم علیحدہ بنائی جاتی ہے۔ اور اس کا مقابلہ عورتوں کی ہی ٹیم سے کروایا جاتا ہے۔ اگر مردوزن کو جسمانی طور پر برابر سمجھا جاتا تو ایک ہی ٹیم میں دونوں کو اکٹھا کر کے کھلایا جاتا۔ دونوں کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں بنانے کی ضرورت ہرگز نہیں پیش نہ آتی۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ ہر انسان دنیا میں ایک مخصوص وقت کے لیے آتا ہے۔

اس کے بعد اس کی موت اور خاتمہ ایک لازمی اور فطری مر ہے۔ ہر چھوٹا بڑا، طاقت ور، کمزور عالم اور جاہل قدرت کے اس مسلمہ اور اٹل قانون کے سامنے بے بس ہے۔ دنیا میں کوئی بھی فرد اپنے علم، عقل، دولت، طاقت اور اختیارات کے زور پر اپنی موت کے عمل کو روک نہیں سکتا۔ جانے والے لوگوں کی اس کمی کو نوزائیدہ اور نومولود بچوں کی پیدائش کے عمل سے فطری طور ہر پورا کیا جاتا ہے۔

پیدائش کے اس فطری فعل یعنی مردوزن کے جنسی ملاپ کے عمل میں فطرت نے ہر دو کا اپنا اپنا اور علیحدہ کردار متعین کیا ہوا ہے۔ جس سے انحراف کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ استثنائی صورت حال ہر جگہ موجود رہتی ہیں۔ مردوزن کے اس باہمی اختلاط کے نتیجے میں عورت کے رحم میں بننے والا نطفہ نئی انسانی جان کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔ نسل انسانی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے اس مقدس فعل میں مرد کا کردار محض اسی جنسی ملاپ تک ہی محدود ہوتا ہے۔

اس کے بعد اس ضمن میں اس کا کوئی کردار باقی نہیں رہتا بلکہ ان تلزز بھرے لمحات میں جسمانی اور شہوانی خواہشات کی تکمیل اسے سکون اور اطمینان بخشی ہے۔ جب کہ عورت اس نطفہ کو مکمل انسانی وجود میں تبدیل ہونے تک نو ماہ کے طویل عرصہ میں بہت مشکل اور دشوار گزار مراحل سے گزرتی ہے۔ چڑ چڑا پن، اکتاہٹ، بے زاری، بے ہضمی، شوگر، بلڈپریشر اور بہت سی دوسری بیماریوں اس دورانیے کا عمومی خاصا ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو اس سے بڑھ کر پیچیدہ اور گنجلک مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

ان سب کو اکیلی عورت اپنی ذات پر برداشت کرتی ہے۔ اس کے بعد اس انسانی وجود کو پیدا کرنے کے مرحلے میں خاتون جس شدید تکلیف اور اذیت سے گزرتی ہے الفاظ میں اسے بیان کرنا ممکن نہیں۔ زندگی اور موت کی اس کشمکش میں وہ اکثر موت کو شکست دے کر اس مقدس فریضے کی ادائیگی سے عہدہ برآ ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات اس خطرناک کھیل میں وہ اپنی جان بھی ہار دیتی ہے۔ رحم میں نطفہ بننے سے لے کر بچے کی پیدائش تک کے تمام تکلیف دہ مراحل میں مرد کا کنٹریبیوشن صفر ہے۔

اس کے بعد اس نو زائیدہ جان کی حفاظت اور پرورش کا مرحلہ در پیش ہوتا ہے۔ انسانی بچہ شاید تمام جانداروں کے بچوں میں سے سب سے زیادہ ڈیپنڈنٹ ہوتا ہے۔ اور اس انحصاریت کا دورانیہ بھی باقی بچوں کی نسبت بہت طویل ہوتا ہے۔ گائے بھینس کے بچے اور دوسرے جانوروں کے بچے اپنی پیدائش کے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ہی دوڑنے بھاگنے لگ جاتے ہیں۔ اور اپنے جملہ امور خود ہی نمٹانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ جبکہ انسانی بچے کو کم از کم دو تین سال تک اپنے جملہ امور نمٹانے کے لیے کسی دوسرے فرد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اور اس کی یہ ضرورت اس کی ماں یعنی کہ ایک عورت ہی ہنسی خوشی پورا کرتی ہے۔ انسانی معاشرے میں ایک عورت کے بقیہ کردار کو چھوڑ دیجیے۔ اسی واحد کردار میں دیکھ لیں کہ اس دنیا میں انسانی زندگی کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے وہ کس طرح اپنی جان پر کھیل کر کم از کم تین چار سال تک مصائب اور تکالیف کے پر خار راستوں پر ننگے پاؤں سفر کرتے ہوئے ایک انسانی وجود کا اضافہ کرتی ہے۔

اگر عورت اپنے اس ایک فعل سے ہی انکاری ہو جائے تو یہ سارا نظام زندگی منہ کے بل آ کر گرے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ اس نظام کو برقرار رکھنے کے لیے عورت کیا قیمت ادا کرتی ہے اور مر د کیا قیمت ادا کرتا ہے۔ اور معاشرے میں ان کے مقام و مرتبہ اور عظمت و تکریم کا تعین بھی اسی نسبت سے کیا جائے گا۔ اب ان خواتین کی کج فہمی اور دلا علمی کا اندازہ لگائیں جو اپنے لیے معاشرے میں مرد کے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔

حقوق کا تعین ہمیشہ فرائض کی ادائیگی سے منسلک ہوتا ہے۔ معاشرے میں جس فرد کے ذمہ لگائے گئے فرائض بھاری اور زیادہ اہمیت کے حامل ہوں گے۔ اسی نسبت سے اس کو حقوق حاصل ہوں گے۔ اس لیے عورت کے حقوق اس مردانہ معاشرے میں مرد سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہونا چاہئیں اور عورت کو مساوی حقوق کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے اضافی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں ایک مغربی معاشرہ میں عورت کے حقوق اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہونے چاہئیں۔ جس قدر حقوق اسے حاصل ہیں۔ بلکہ اپنے مسائل کو لے کر اسے اقوام متحدہ میں اپنا کیس پیش کرنا چاہیے اور بین الاقوامی سطح پر قانونی طور پر ان کے تعین کے لیے کوشش کرنی چاہیے

Facebook Comments HS