ہم تو روز ڈنکی مارتے ہیں!


یونان کے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں کشتی الٹ جانے سے تقریباً 300 معصوم پاکستانی ڈوب گئے۔ ظاہر ہے اس کا تمام تر ذمہ ریاست کے سر ہے۔ ایک تو چالیس دہائیوں سے لوگ غیر قانونی طریقے سے یونہی ڈنکی مار کے یورپ جا رہے ہیں۔ بلکہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی بہت سے نوجوان کشتی حادثے کا شکار ہوئے تھے۔ اب دوبارہ وہی درد ناک واقعہ ہوا۔ اس دفعہ مرنے والے سینکڑوں میں تھے۔ حکومت پاکستان نے صرف ایک دن کا سوگ منایا۔ اپنا جھنڈا سر نگوں کیا۔

ایک روایت پوری کر دی۔ االلہ! االلہ! خیر صلا! ویسے دیکھا جائے تو اس وقت پورے کے پورے 24 کروڑ عوام بھی اسی ڈنکی مارنے والی کشتی میں سوار ہیں۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ کس طرح؟ آئیے دیکھتے ہیں۔ سورج نے اپنی کرنیں ہر جگہ پھیلا دیں۔ روبینہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ جلدی جلدی ناشتہ بنانے لگی۔ اسے سب گھر والوں کو کھلا پلا کر خود بھی کام پر جانا ہے۔ وہ ایک کوٹھی میں صفائی کا کام کرتی ہے۔ اس کے دن کا ایک بڑا حصہ وہیں پر گزر جاتا ہے۔

جب وہ گھر آتی ہے تو اس کا سال بھر کا بچہ جسے اس کی گیارہ برس کی لڑکی سنبھالتی ہے۔ وہ بیزار سی فوراً ماں کو کہتی ہے ”لو سنبھالو اسے اب میں تھک گئی ہوں۔“ وہ بچے کو گود میں لے کر پیار کرتی ہے تو اس کی تھکن اتر جاتی ہے۔ اتنے میں اس کا بیٹا سکول سے واپس آتا ہے۔ وہ اسے روٹی بنا کر دیتی ہے۔ اس کھانا کھلا کر گھر میں پھیلے کپڑے وغیرہ سمیٹتی ہے۔ اتنے میں بند دروازے سے ہی رینگتی ہوئی ملگجی سی شام گھر کے اندر آ جاتی ہے۔

لوگ اپنے کاموں سے گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ کچھ مرد واپسی پر سبزی اور پھلوں کے ٹھیلوں پر رک کر سبزیاں اور پھل خریدتے ہیں۔ اس وقت تھوڑی بسی ہوئی چیزیں ملتی ہیں۔ مگر دام کم ہونے سے غریب آدمی کو یہی بھلی لگتی ہیں۔ پرندوں کی بھی ڈاروں کی ڈاریں اپنے گھروں کو واپس جا رہی ہیں۔ مرد سوچتا ہے کہ ہم سے پرندے اچھے ہیں۔ نہ کھانے کا غم نہ پٹرول کی لیوی بڑھنے کا دکھ۔ انسان ہی افراتفری کا شکار ہوتے ہیں۔ چلتے چلتے اس کے رستے میں بہت سے ریستوران آئے جہاں وہ لوگوں کو مخصوص میزوں کے گرد بیٹھے ہوئے دیکھ کر دل میں جلنے لگتا ہے۔

اس کو خیال آتا ہے کتنے دنوں سے اس کے بچے برگر کھانے کو مانگ رہے تھے مگر وہ پیسے جوڑ ہی نہیں پا رہا تھا۔ اتنے میں نئے ماڈل کی کالے رنگ کی چمچماتی ہوئی کار میں ایک ٹین ایجر لڑکا اس کی بریکوں کی چیخیں نکالتا ہے۔ وہ اسے حسرت سے دیکھتے ہوئے اپنی پرانی موٹر سائیکل پر سبزی رکھے گھر کی راہ لیتا ہے۔ گلی کے نکڑ پر ایک مفلوک الحال میاں بیوی آپس میں پیسوں کی وجہ سے بھڑتے ہوئے دیکھتا ہے۔

قارئین! اب ایک اور منظر دیکھیں : رات کی سیاہی دھیرے دھیرے پھیلنے لگی ہے۔

گلیوں اور سڑکوں پر سٹریٹ لائٹس اور نیون سائن ستاروں کی طرح جھلملا اٹھے ہیں۔ اتوار کا دن ہے شہر میں رونق ہے۔ مال روڈ کی مشہور آئس کریم والے سے لوگ منہ ٹھنڈا اور میٹھا کرنے جا رہے ہیں۔ یہ سب نچلے طبقے کے وہ لوگ ہیں جو مہنگی آئس کریمیں نہیں کھا سکتے۔ دل تو سب کے برابر ہیں اور ذائقے کی حس بھی۔ واپسی پر باقی ماندہ پیسوں سے اتوار بازار سے پرانی میزیں کرسیاں خریدنا چاہتے ہیں مگر وہ بھی پہنچ سے دور ہیں۔ آٹے کا دس کلو کا تھیلا اور ایک کلو ٹوٹا چاول خرید کر اگلے دو روز کی روٹی کی فکر ختم۔

کیا کریں حکمرانوں کو پتہ ہی نہیں کہ جس گھر میں 9 یا 10 لوگ کھانے والے ہیں وہاں 3 کلو آٹا تو صرف ایک دن چلتا ہے اور گھی تو بس سمجھو تڑکا ہی لگایا جاتا ہے۔ صفدر بھی یہی سوچ رہا تھا کہ بجلی اور گیس کا بل، بچوں کے سکول کی فیس، نیا یونیفارم، مکان کا کرایہ، بیوی اور بڑے بیٹے کے موبائل کے ایزی لوڈ اور ٹیوشن کی فیس سب کیسے کر پائے گا۔ ہائے! یہ معاشی بد حالی کہاں لے کر جائے گی ہمیں۔ گھر آ کر ٹی۔ وی کھولا تو اس میں نئی نئی ہاؤسنگ سکیموں کے اشتہار چل رہے تھے۔

یہ لینڈ مافیا اور بھتہ خور بھی اپنے جال ڈال کر دانہ پھینک رہے ہیں۔ عزیر بھی ایک فور سٹار ہوٹل میں شادی ہالز میں بیرے کا کام کرتا ہے۔ شادیوں کی محفلوں میں سجاوٹوں پر اندھا دھند پیسہ خرچ ہوتا دیکھ کر سوچتا ہے کہ وہ اپنی چار بیٹوں کو کیسے بیاہے گا؟ زرق برق لباس اور ٹپ ٹاپ مرد اپنے ہاتھوں میں موبائل فون لیے سیلفیاں اور ویڈیوز بناتے ہیں تووہ سوچتا ہے ایک یہ دنیا ہے اور ایک ہم غریب۔ چند پھرتیلے بیرے تیزی سے بھاگ کر دلہن کی ماں پانی پیش کرتا ہے۔

جواب میں 5 ہزار کا نوٹ اسے بخشش میں ملتا ہے۔ وہ سوچتا ہے آخر کتنے دن چلے گا یہ نوٹ۔ اگلی صبح عرفان اپنے کام پر نکلتا ہے تو شہر کے پوش علاقے میں سجی بنی بیگم بڑی سی کپڑوں کی دکان پر سرکاری پجارو سے اترتی ہے۔ وہ سوچتا ہے یہ پیٹرول تو سرکار کا ہے اور مزے لے رہی ہیں۔ قومی خزانہ کیوں نہ خالی ہو۔ پھر اسے خیال آتا ہے اچھا ہوا جو لوگ ڈنکی مارتے ہوئے ایک ہی دفعہ مر گئے ورنہ ہم تو روز ڈنکی مارتے ہیں روز مرتے ہیں۔

روز جیتے ہیں۔ ظفر سوچ رہا تھا کہ جس فیکٹری میں وہ کام کرتا ہے خسارے میں جانے سے ہماری مقررہ تنخواہیں کم ہو جائیں گی۔ اس کے اندر ایک انقلابی روح تھی۔ وہ شام کو اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کر کے اپنے جائز حقوق کے مطالبے کے لیے اصرار کرتا۔ وہ انہیں بتاتا کہ سالانہ بونس، پراویڈنٹ فنڈ، ایکسیڈنٹ فنڈ تمہارا حق ہے۔ ورکر کہتے اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے مگر موبائل کا پیکج بھی اضافی بوجھ ہے۔ وہ کہتا فکر نہ کرو حق جیتے گا اور اسی سوشل میڈیا سے بس حق و باطل کا فرق جان لو۔ ورکر کہتے کامریڈ! روز ڈنکی مارتے مارتے اب جسم میں طاقت نہیں بچی۔

Facebook Comments HS