خدارا عقل کو تالہ لگائیے


جب آپ کا مقدمہ کوئی اناڑی وکیل لڑے گا تو کیا ہو گا؟
جب بندر نائی بن جائے گا تو تب کیا ہو گا؟

ناک ہی کٹے گی ظاہر ہے یہ بتانے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت تو نہیں ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس عورت جاتی کی ناک مجھے چند دن سے کٹتی محسوس ہوئی ہے۔

اس زمینی گولے پہ تین طرح کے انسان بستے ہیں :مرد، عورت، خواجہ سرا
کیا عورت صرف ویجائنا کا نام ہے؟
کیا مرد صرف کسی مخصوص عضو کا نام ہے؟

اور خواجہ سرا جس میں ان دونوں اعضاء کا معاملہ مشکوک کر دیا گیا ہے اس کا مقدمہ صرف ان اعضاء کی موجودگی و عدم موجودگی کی بناء پہ لڑا جائے گا؟

ان تینوں اجناس کا انسان ہونا ہی کافی ہے انہیں معتبر کرنے کو۔
تو سارا زور خطابت محض ایک عضو پہ ہی کیوں؟
سر تسلیم کہ ابن آدم نے بے تحاشا ظلم توڑے ہیں بنت آدم پہ۔

راقمہ نے پر زور حمایت کی ہمیشہ کہ میرا جسم میری مرضی کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے اور گائنی و سائنسی حوالہ جات سے آج سے کئی برس پیشتر یہ مقدمہ یوم نسواں پہ لڑا۔

اپنے ناول میں زنانہ ختنوں اور پردہ بکارت پہ تفصیلی مدلل بات کی بالکل یہ رسم بد یہ ظلم عورت پہ ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے مگر یہ بہرحال قبائل کی مروجہ رسم نہیں ہے۔

یہ ظلم ہے ایسا وحشتناک عمل ہے جسے تہذیب و تمدن اور مذہب سے کوئی علاقہ نہیں، کچھ افریقی قبائل میں، کراچی کی بوہرہ برادری میں رائج رہا ہے باقی انفرادی مثالیں ہیں اور اس کا سد باب کرنے کے لیے متعلقہ ڈاکٹر کو فوری رپورٹ کرنی چاہیے نہ کہ بعد میں مردانہ معاشرے میں عورت کو سامان لذت بنا کر بیچ دیا جائے اور اس کے بدن کے پرائیویٹ اعضاء مثالی دنیا کی ہر دیوار پہ لٹکے ہوئے ہوں، کوئی اپنے جنون میں کیا خود کو یوں بھی مصلوب کرتا ہے؟

میں نے عورت کا، تانیثیت کا مقدمہ پرزور لڑا اور جب تک قلم ساتھ ہے لڑتی رہوں گی۔

لیکن میرا مطمح نظر نہ تو سستی شہرت ہے اور نہ ہی میرے دماغ میں کوئی خناس، نفرت یا جنون سے بھرا ہوا ہے کہ میں ایک ہی موضوع کی تکرار کرتی جاؤں۔ یہاں تو جوش خطابت اور جنون کا یہ عالم ہے کہ کبھی اس بات پہ لڑائی ہے کہ عورت ماہواری اور زچگی کی اذیت سے گزرتی ہے سو مرد کو پتھر باندھ کر یا گیلا زیر جامہ پہنا کر محسوس کروایا جائے۔ یہ کیا خرافات ہے؟! یہ جنگ تو پھر فطرت سے ہے، خالق سے ہے کہ اس نے بدن کو ایسے ڈیزائن کیوں کیا؟! فطرت سے لڑ کر کون جیت سکا ہے؟

مجھے فخر ہے اس بات پہ کہ اسی عورت نے ان تمام بدنی مسائل کے ساتھ کوئی استثنائی سہولیات حاصل کیے بغیر خود کو اس طرح منوایا ہے کہ آج وہ ہر میدان میں برابر کھڑی ہے تو یقیناً یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت نے اسے بہتر اور حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ اس نے اس ریس میں مرد کے ساتھ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے دوڑ لگائی ہے اور آ کر برابر کھڑی ہو گئی ہے۔

میرا موضوع ہمیشہ سے محض عورت نہیں انسان ہے اور اس کا سماجی سیاسی ارتقاء ہے۔
درست کہ ہر مصنف کے اپنے مرغوب منطقے اور اسلوب ہوا کرتے ہیں اور وہ اپنے قلم سے ہی شناخت کیا جاتا ہے۔

مگر سنسنی اور ہیجان پھیلانا مصنف کا منصب و شیوہ نہیں۔ آپ کو گائنی فیمنزم پہ ہی لکھنا ہے تو ذرا دماغ کے تالے کو کھولیں۔ عورت کے بے شمار مسائل نظر آئیں گے آپ کو۔ اس کو بر وقت دوا نہیں ملتی، وہ خوراک اور خون کی کمی کا شکار ہے۔ پاکستانی ہسپتالوں میں ہونے والی کرپشن ایک بہت بڑا موضوع ہے تو پلیز یہ سستی سنسنی پھیلا کر ہمارا تماشا لگانا بند کیجیے اس سے ریٹنگ اور پاپولیریٹی ضرور حاصل ہو جائے گی لیکن اگر یہ آپ کے نزدیک کوئی صنفی خدمت ہے تو مجھے اس سے مکمل انکار ہے۔

آپ کچن کو واش روم اور واش روم کو بیڈ روم نہیں بنا سکتے۔
خدارا اس معاشرے کے بچے کھچے سماجی ڈھانچے کو دھکا نہ دیجیے۔
یہاں پہلے ہی سب کچھ تلپٹ ہے۔
ایوان اقتدار بوٹ میں پڑا ہے اور بوٹ اسمبلی کی اعلی کرسی پہ دھرے ہیں۔
اور اب آپ مصر ہیں کہ جیسے باقی تمام اعضاء ہیں ویسے ہی آپ کے جنسی اعضاء ہیں جن کے ذکر میں کیسی شرم۔
درست یہ شرم کلینک میں در آئے تو قابل مذمت ہے مگر کیا آپ کا سر اور پاؤں برابر ہیں؟
کیا تکیے کا غلاف پیروں پہ چڑھایا جا سکتا ہے؟

کوئی کسی خاتون کی تعریف کرتے ہوئے یہ تو کہہ سکتا ہے کہ آپ کی آنکھیں بہت حسین ہیں بلکہ ہاتھوں پیروں کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے مگر کوئی آپ کے ناف کے پیالے یا زیر ناف اعضاء کی تعریف کرنے کی کوشش کرے تو بہت سی مجھ جیسی سر پھری بیبیاں اس شخص کا سر توڑنے پہ مجبور پائی جائیں گی۔

خدارا ہم نے ہزاروں برس پہلے پتوں سے بدن ڈھانپتے ڈھانپتے کپڑے پہننے سیکھے ہیں ہمارے کپڑے سر بازار نہ اتاریے۔

دیکھیے آپ کے انڈر گارمنٹس تو انڈر گارمنٹس ہی کہلائیں گے نہ؟ گر کوئی صاحب کوٹ کے اوپر بنیان پہن لیں یا کوئی صاحبہ قمیض کے اوپر سے انگیا پہن لیں تو کیا لوگ سوال اور انگلیاں نہیں اٹھائیں گے؟ جو چیزیں جس مقام پہ ہیں وہیں ملفوف اچھی لگتی ہیں نہ کہ۔

آپ اپنی بیٹی کو محبت سے قرۃ العین، نور العین اور محبوبہ کو آہو چشم ہی کہیں گے نا؟ یا کچھ اور بھی تصور میں آتا ہے تو خدارا اپنے شوق جراحت میں اردو محاورے و مکالمے کے بخیے نہ ادھیڑیے۔

انسانی بدن کی جو تفصیل آپ دے رہی ہیں سائنسی آرٹیکلز میں دیجیے شوق سے دیجیے مگر ادب کو اتنا ”بے ادب“ نہ کیجیے۔

ادب انسانی بدن سے یقیناً گریز کا نام نہیں ہے وہاں حسب ضرورت آپ کے جذبات، کیفیات آپ کے بدن سے خارج ہونے والے ہارمونز، جنسی اعضاء کا تذکرہ آیا ہے اور آئے گا، مگر یہ کیا شوق جنون کہ مرد اپنے ہاتھ رانوں میں دبائے رال ٹپکاتے نسوانی اعضاء کے تذکرے کر رہے ہیں، ہمارا ٹھٹھا اڑ رہے ہیں۔

کسی قبیلے، کسی ذات کا تمسخر سر بازار نہ اڑائیے ادھر تو آپ نے اپنی ہی جاتی کا سوا ستیاناس کر دیا۔

میرے معتبر ادیب دوستوں نے اس بات پہ کہ میں نے کچھ ذاتوں اور پیشوں کا اپنے دو افسانوں میں براہ راست ذکر کیا تھا کی بابت ٹوکا تو میں نے اسے تسلیم کیا اور غور کیا کہ لفظ بہت کچھ پوشیدہ رکھ کر بھی تصویر کشی پہ قادر ہوا کرتے ہیں۔

یہ سب جاننے کے باوجود کوئی یہ کہے کہ قبائل میں ویجائنل لاک کی رسم رائج ہے
سب پٹھان دہشت گرد اور ظالم ہوتے ہیں
سب جٹ کریک اور کھسکے ہوئے ہوتے ہیں
سب شیخ کنجوس ہوتے ہیں
سب سکھ پاگل ہوتے ہیں تو بینڈ تو بجے گی
سو بینڈ بج رہی ہے
چلیے سائنسی زبان میں ہی بات کر لیتے ہیں۔

قبلہ ڈاکٹر صاحبان سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ ایسی تحاریر کیسی سنسنی اور ہیجان پھیلاتی ہیں اور آپ کے ہارمونز پہ کیا اثر ڈالتی ہیں۔

اسی وجہ سے آج بڑھتے بچوں کو لڑکے لڑکیوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے یا ان کے ٹیچرز سے بات کی جائے تو یہ بات ضرور زیر بحث آتی ہے کہ وہ کیا پڑھتے اور کیا دیکھتے ہیں؟

کیا آپ نے نوجوانوں کو ایسے سستے لٹریچر سے خود لذتی میں مبتلا ہوتے نہیں دیکھا!

اور یہاں سوشل میڈیا پہ تو ایسے سفید بالوں والے ادھیڑ عمر ”بچوں“ کا ڈھیر لگا ہے جو گزشتہ کچھ روز سے سی سی کرتے پھر رہے ہیں چسکے لے رہے ہیں، گندے لطیفے پھینکے جا رہے ہیں اور ہر طرف ویجائنا اور اس کے تالے کا شور مچا ہے گویا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی اس وقت یہ ہے۔ اس پہ کسی کو شرم آئی یا نہیں کم ازکم مجھے بہت آئی ہے اور میرے اندر ایک شدید کوفت، بے زاری اور غصے نے جنم لیا ہے۔

مجھے اپنی گاڑی کے آگے سائیکل پہ جاتی ان دو بچیوں پہ شدید ترس آیا جن کے مسائل میں ایسی تحاریر کوئی آسانی نہیں پیدا کریں گی بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیں گی کیونکہ اس آرٹیکل کو پڑھنے والا ہر شخص ان بچیوں کو اسی عینک سے دیکھے گا۔

سو خدارا اپنے اس ”موضوع“ کو تالہ بند کیجیے، بہت ہو گیا۔ ہم اپنا مقدمہ خود لڑ لیں گے۔

Facebook Comments HS