معاصر نقاد کے نام ایک خط
لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا مطالعہ نہایت سطحی اور بودا ہے اور زندگی کے تجربات نہ ہونے کے برابر۔ ان کا خیال ہے کہ تمہاری دانش اس جعلی زیور کی مانند ہے، جو دیکھنے میں تو کھرا سونا لگتا ہے، لیکن ٹھوک بجا کر دیکھا جائے تو دیگی لوہے کی چادروں پر سنہری پانی کے چھینٹوں سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ تمہیں چند مخبوط الحواس مدیروں اور تمہارے اپنے طالب علموں کے علاوہ کسی نے نہیں پڑھا۔ وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ تم آج تک کوئی تھیوری تو دور، ایک درست مفروضہ بھی وضع نہیں کر پائے۔ وہ تمہیں اور تمہارے حواریوں کو مردہ مغربی حوالوں پر پلنے والے راجا گدھ کا نام دیتے ہیں۔ وہ تمہیں ایسی لئیر مرغی سمجھتے ہیں، جس نے آج تک کوئی انڈا نہیں دیا۔
وہ تم سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ تم ادریس بابر کے ”عشروں“ اور ”خفیف مخفی کی خواب بیتی“ کے متعلق کیوں نہیں لکھتے اور تمہاری گفتگو نئیر مسعود، اسد محمد خان اور سریندر پرکاش پر آ کر رک کیوں جاتی ہے، مگر اس لیے نہیں پوچھ پاتے کہ انہیں تمہاری دانشوری کے زعم اور بھاری بھرکم اصطلاحوں سے خوف آتا ہے۔ وہ تمہارے پیٹھ پیچھے تمہارا مذاق اڑاتے ہیں کہ تم ابھی تک نظیر اکبر آبادی اور ن م راشد کی نظموں کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہو، جبکہ اصل میں یہ وقت تہذیب حافی، مژدم خان اور عمیر نجمی کی شاعری کو ڈی کوڈ کرنے کا تھا۔
وہ تمہیں بے ایمان اور جھوٹا سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں پورا یقین ہے کہ تم جن معاصر ادیبوں کا اچھے لفظوں میں تذکرہ کرتے ہو وہ سب تمہارے بزنس پارٹنر ہیں، سیاسی حلیف یا کوئی ایسی طرحدار خاتون، جو تمہاری نگاہ غلط کو زیادہ غلط نہ سمجھتی ہو یا تمہاری سستی جگتوں اور پھسپھسے لطیفوں کا جواب ایک دلفریب مسکراہٹ یا بلند و بانگ قہقہے سے دینے کی اہل ہو۔
لوگ کہتے ہیں تو سچ ہی کہتے ہوں گے، لیکن میں تمہاری ذات کے کچھ ایسے پہلووں سے بھی آگاہ ہوں، جو مجھے سنی سنائی باتوں پر اندھا دھند یقین کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ تم ابتدا ء ہی سے ایک محتاط فرد تھے اور تم نے نت نئے تجربات کرنے کی عمر پرانی سیلن زدہ کتابوں کے مطالعے میں بتا دی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تم نے وحدت میں کثرت تلاش کرنے کا ہنر دریافت کیا، جس نے کافی حد تک اس محرومی کا ازالہ کر دیا۔ میں جانتا ہوں کہ تم اپنے جذبات کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہو اور تم نے وجدان کے منہ پر تالے لگا رکھے ہیں، لیکن تمہارے پاس منطق اور تجزیے کا وہ بیش قیمت خزانہ موجود ہے، جس کی بدولت تم کسی بھی فن پارے کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر سکتے ہو، لیکن بہرحال یہ تمہارے لیے ایک نہایت تھکا دینے والا عمل ہو گا، کیونکہ تم اینٹ پر اینٹ جما کر ہی آگے بڑھ سکتے ہو، تمہیں چھلانگ لگانا نہیں آتی۔
ایسا نہیں کہ تمہیں کوئی حادثہ یا اتفاق یہاں تک لے آیا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ تم کتابوں سے محبت کرنے والے آدمی ہو اور ادب ہی تمہاری زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے، لہٰذا تم نے یورپ کی ڈنکی لگانے یا پراپرٹی ڈیلر بننے کے بجائے نقاد بننے کا فیصلہ کیا۔ میں تمہاری عمر بھر کی ریاضت کا قائل ہوں اور مجھے یہ ماننے میں کوئی بخل نہیں کہ تم نے نہایت محنت اور جاں فشانی سے اپنا ایک خاص نقطہ نظر اور زاویہ نگاہ وضع کیا ہے، جو تمہیں کھرے کو کھوٹے سے الگ کرنا سکھاتا ہے۔
میں یہ بھی جانتا ہوں تم اتنے مغرور اور نک چڑھے نہیں ہو، جتنے اپنی نشست و برخاست اور بدن بولی سے دکھائی دیتے ہو، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ احساس برتری سے کہیں زیادہ تمہیں اپنی احساس کمتری سے الجھنا پڑتا ہے۔ لوگ کچھ بھی کہتے رہیں لیکن مجھے یقین ہے تم شعوری سطح پر کبھی کسی علمی بددیانتی کے مرتکب نہیں ہوئے، تاہم یہ بھی سچ ہے کہ تم نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تحت الشعوری سطح پر بسر کیا ہے۔
ممکن ہے تم ایک دھڑے باز، اقرباء پرور اور رنگین مزاج آدمی ہو لیکن بیشتر فکشن نگار، شاعر، استاد اور سماجی رہنما ایسے ہی ہوتے ہیں، دیکھنا بس ہے ہے کہ تمہارا نیکرو فیلیا تمہارے جیوفیلیا سے تجاوز نہ کر جائے۔ یقیناً تمہارا مسئلہ جہالت، کام چوری، خود غرضی، بد دیانتی، ایلینیشن یا ایروگینس نہیں ہے، پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ تم معاصر ادب اور سماج کے متعلق کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کر پاتے؟ (بہ قول عمر بھٹی ایڈوکیٹ وہ گواہی ہی کیا جو صحیح وقت پر نہ دی جا سکے ) ۔
حق تو یہ بنتا تھا کہ تم اپنے مطالعے، مشاہدے اور نظری مباحث پر غیر معمولی دسترس کو بروئے کار لا کر چند نئی ادبی اور سماجی تھیوریاں وضع کرتے اور پوری ایمانداری کے ساتھ عصر حاضر کے کچھ اہم متون پر اس کا اطلاق کر دیتے۔ ٹریجڈی مگر یہ ہوئی کہ تم نے ”اطلاقی تنقید“ کا کہیں نام بھی سن لیا تو ناک بھوں چڑھا لی یا بغلول میاں کی طرح بغلیں جھانکنے لگے۔ تمہارے علاوہ ہمیں یہ کس نے بتانا تھا کہ ”میرے پاس تم ہو“ اور ”دی لیجنڈ آف مولا جٹ“ کو اتنی پذیرائی کیوں ملی اور اے آر رحمان کی موسیقی میں جمال کا عنصر زیادہ ہے یا جلال کا؟ لیو ٹوئنز اور علی سیٹھی کے گیتوں پر کس نے بات کرنی تھی؟ کس نے ہمیں ”غلام باغ“ ، ”گل مینہ“ اور ”زندیق“ کا پاور ڈسکورس سمجھانا تھا؟ ”الاؤ کے گرد بیٹھی رات“ کی علامتیں کس کے دائرہ کار میں آتی تھیں، ”حسن کی الجھی ہوئی صورت حال“ کو کس نے سلجھانا تھا؟
میں جانتا ہوں تم یہ سب کرنا چاہتے تھے، مگر اس لیے نہیں کر پائے کیونکہ تم اندر سے ایک ڈرے ہوئے بچے کی مانند ہو، جس پر پٹائی کا خوف اس حد تک مسلط ہو گیا کہ اس نے امن کی زندگی پر شرارت کی لذت قربان کر دی۔ بلاشبہ تم ایک گہرے آدمی ہو لیکن تمہارے خوف کی نوعیت بہت عامیانہ ہے۔ تنقید تمہاری پہلی اور آخری محبت ہے لیکن تم ڈرتے ہو کہ اس عاشقی کے دوران کوئی حماقت سرزد ہو گئی تو عزت سادات نہ چلی جاوے۔ میرا جی اور فیض پر، یا منٹو اور بیدی پر تو بے تحاشا باڈی آف نالج موجود ہے ناں۔
کچھ نیا ملایا، کچھ پرانا لیا اور پہلے سے موجود ڈیٹا میں خاطر خواہ اضافہ کر ڈالا۔ پرانے پاپیوں کے متعلق خامہ فرسائی کرتے ہوئے نظری مباحث کا اطلاق نسبتاً آسان ہے، لیکن جب معاصر شاعر یا ادیب پر لکھنے کی باری آئے گی تو نامعلوم کے سفر پر نکلنا پڑے گا، ڈیٹابیس بھی موجود نہیں، تھیوری اپلائے کرتے ہوئے غلطی ہو گئی یا تعبیر و تشریح کسی عجیب و غریب سمت میں جا نکلی تو کہیں دستار فضیلت گر نہ پڑے۔ اب یہ بات تمہیں کون سمجھائے کہ نامعلوم کے سفر سے زیادہ دلچسپ اور دلفریب اور کچھ نہیں۔ کاش تم یہ جان پاؤ کہ دستار فضیلت جب اظہار ذات کے لیے خطرہ بن جائے تو اسے اتار پھینکنا چاہیے۔ کوئی ہے جو تمہیں یہ باور کرا سکے کہ تخلیقی دانش کا قفل اس وقت تک نہیں کھل سکتا، جب تک خوب چولیں نہ مار لی جائیں۔
تمہارا حقیقی خیر خواہ


