وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ (2)


وطن عزیز میں خواتین کے حقوق کے حصول اور تحفظ کے لیے بہت سی خواتین کام کر رہی ہیں۔ ان کے نزدیک مغرب کی عورت کی زندگی ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ اس آئیڈیل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ کام اکیلے دھکیلے بھی سر انجام دیا جا رہا ہے اور این جی اوز بنا کر اجتماعی شکل میں بھی ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کو سمجھنے کی ہے کہ ہر دو معاشروں میں عورت کا استحصال کیا جا رہا ہے اور اس استحصال کو مردوزن کی برابری اور مساوات کے کھوکھلے نعرے میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہم بچے کی پیدائش کے معاملے کو لے کر دیکھتے ہیں کہ ہر دو معاشروں میں کس قدر تفاوت موجود ہے بلکہ ایک مغربی معاشرے میں ایک عورت کا استحصال کس طرح کیا جا رہا ہے اور اسے اس کا احساس بھی نہیں ہونے دیا جاتا۔ ہمارے معاشرے میں تو پھر بھی عورت کو بچوں کی پیدائش کے ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے ایک بڑے طبقہ میں ان کا خصوصی احساس کیا جاتا ہے۔ اس کی خوراک کا خصوصی خیال کیا جاتا ہے۔ اس کو پر سکون اور آرام دہ طرز زندگی فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غرض کہ پورے گھرانے میں اس کی اہمیت ایک وی آئی پی کی سی ہوتی ہے۔ اور یہی احساس تفاخر اور برتری ان تمام مشکل مراحل میں سے گزرنے میں اس کا ممد و معاون ہوتا ہے۔

اس کے برعکس مغرب کی وہ عورت جو ہمارے معاشرے کی خواتین کے لیے بڑی قابل رشک اور قابل صد ستائش ہے۔ اس معاملے میں بہت بڑی مظلومیت کا شکار ہے۔ وہاں پر خاندان کا ادارہ تقریباً ختم ہو چکا۔ مردوزن شادی کے جھنجھٹ میں پڑنا پسند نہیں کرتے۔ اٹھارہ سال کی عمر کے بعد بچے اپنی آ زاد اور خود مختار زندگی شروع کرتے ہیں تو جنس مخالف کی قوت کشش ہی وہ سب سے بڑا اور مضبوط محرک ہوتا ہے۔ جو ایک نوجوان جوڑے کو اکٹھا رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

شادی بیاہ کا رواج وہاں پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے وہ روم پارٹنر بن جاتے ہیں اور زندگی کی گاڑی کو آ گے بڑھاتے ہیں۔ اب اس سے آگے دو چانسز ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ خاتون حاملہ ہو کر نسل انسانی کو آگے بڑھانے کے مرحلے میں اپنا فطری کردار ادا کرنا شروع کردے۔ اور دوسرا چانس یہ ہے کہ اس عمل سے احتراز کر لے اور ادویات اور احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آپ کو اس عمل سے باہر کر لے۔ پہلی صورت حال میں ایک حاملہ عورت کے مزاج میں چڑچڑا پن بے زاری اور اکتاہٹ پیدا ہوجاتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی ذہنی اور جذباتی کیفیات پر بھی اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اور جنس مخالف کے لیے فطری جنسی کشش بھی تقریباً ختم ہی ہو کر رہ جاتی ہے۔ کیوں کہ اس قوت محرکات کے تحت فطرت نے جو کام ایک نوجوان جوڑے سے لینا تھا وہ لے چکی۔ اب فطرت اس کشش اور توجہ کو اس ننھی جان کی طرف منتقل کر دیتی ہے۔ جو رحم مادر میں پرورش پا رہی ہے۔ اور اس طرح وہ کششی قوت جس نے اس نوجوان جوڑے کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر رکھا ہوا تھا بہت ہی کم ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ کوئی اور رشتہ اور بندھن ان کے درمیان موجود نہیں ہوتا زیادہ تو جوڑوں میں ایسے حالات میں علیحدگی ہوجاتی ہے۔ اب اس معاملے کے سارے کے سارے نتائج اور مسائل اس خاتون کو اکیلا ہی بھگتنا ہوتے ہیں۔ جسمانی مسائل کے ساتھ ساتھ اس کے معاشی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں اب اپنی مخدوش صحت کے باوجود اس کو ایک جان کی بجائے دو جانوں کے لیے کمانا پڑتا ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ خاتون قابل رحم زندگی گزارتی ہے اور اس سلسلے کی تکرار جاری رہتی ہے۔

ایسی زندگی قابل تقلید اور قابل ستائش تو ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتی اس روم پارٹنر شپ لائف کی دوسری ممکنہ صورت یہ ہے کہ خاتون پارٹنر ماں بننے کے عمل میں حصہ لینے سے اعتراض کرے اور اس کے لیے وہ مختلف ادویات بھی استعمال کرتی ہے اور احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرتی ہے۔ دراصل وہ اپنی ان کوششوں سے فطرت کے قدرتی بہاؤ کے آگے ایک مصنوعی بند باندھنے کی کوشش کرتی ہے اور ظاہر ہے کہ فطرت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر اس کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر بہت سے منفی اثرات پڑتے ہیں۔

اس ضمن میں آئے روز اسے نت نئے مسائل کا سامنا رہتا ہے اور اس کا رہن سہن اور طرز زندگی کسی حد تک مشکل اور تکلیف دہ ہو جاتا ہے اور جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے۔ ان پیچیدگیوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان جنس کی بنیاد پر قائم ہونے والا یہ رشتہ روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو بالآخر علیحدگی پر منتج ہو جاتا ہے۔ یہ عرصہ کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان مین علیحدگی بالکل ہی نہ ہو۔

لیکن ایسے کیسز کا تناسب بہت کم ہے۔ اکثر اس حالت میں بھی عورت اکیلی ہی رہ جاتی ہے اور زندگی کا بقیہ سفر بھی اسے عموماً اکیلے ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہے وہ سونے کا پنجرہ جس میں پھنسنے کے لیے ہمارے ہاں کی لبرل خواتین نہ صرف خود پھڑپھڑاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتی ہیں۔ انہیں اس بات کا قطعاً احساس نہیں ہے کہ ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں نے ان کی قدرومنزلت کو کس قدر چار چاند لگائے ہوئے ہیں کہ ان کے ہر ایک کردار میں محبت ہے، شفقت ہے۔ خوبصورتی ہے، ایک تقدس ہے۔ جو انہیں قدم قدم پر حاصل ہوتا ہے۔ پیدائش سے لے کر وفات تک عورت کو بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے رشتے جو تحفظ، تقدس اور پیار و محبت عطا کرتے ہیں وہ مغربی معاشرے میں عورت کے نصیب میں کہاں ہوتے ہیں۔ بہر حال اس میں استثنائی صورت حال ہر دو کیسز میں موجود ہیں۔

Facebook Comments HS