فاؤنٹین ہاؤس اور ریاست کی ذمے داری
ریاست کیوں بنائی جاتی ہے اور ایک ریاست کی انسانوں کی طبعی اور تمدنی زندگی میں کیا اہمیت ہوتی ہے؟ یہ سوال تو سیاسیات کے طالب علموں اور علماء کے لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ آپ کا یہ خادم اس موضوع پر کسی درک کا دعویدار نہیں۔ ہاں اپنے سطعی مشاہدے اور معمولی مطالعے کی بنا پر سامنے کی کچھ حقیقتوں سے کچھ واقفیت ضرور رکھتا ہے۔ دنیا میں دو طرح کی ریاستیں ہیں ایک وہ جو اس اپنے زیر انتظام خطہء زمین میں بسنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو سہل بنانا اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں شمار کرتی ہیں اور دوسری وہ جو اپنے زیر انتظام خطہء زمین پر بسنے والی اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ میں جٹی رہتی ہیں۔
اول الذکر ریاست اپنے باسیوں کو ‘شہری’ کہتی ہے اور ان شہریوں کے درمیان پائے جانے والے تاریخی، معاشی اور سماجی تفاوت کو کم کرنے کی سعی کرتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ان ریاستوں میں کوئی طبقہء اشرافیہ نہیں ہوتا لیکن وہ شہری جو طبقہءاشرافیہ میں شمار نہیں ہوتے وہ بھی بنیادی انسانی ضرورتوں کے فراہم کیے جانے کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ چنانچہ ریاست تمام شہریوں سے ٹیکس لیتی ہے اور وہ تمام ضروریات جو شہریوں کے لیے انفرادی سطح پر حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے ان کا بندوبست کرتی ہے، جیسے، تعلیم، صحت، رہائش، سڑکیں، بجلی، پانی اور تحفظ۔
موخر الذکر ریاست میں اکثریت کو ‘عوام’ کہا جاتا ہے جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ایک طبقہ اشرافیہ یہاں موجود ہے جو عوام کے مقابلے میں خواص ہیں۔ یہ ریاست چونکہ اشرافیہ کے مفادات کی نگران ہوتی ہے لہذا وہ ٹیکس کا بھی ایک ایسا نظام بناتی ہے جس میں اشرافیہ پر ٹیکس کا بوجھ کم سے کم ہو اور عوام پر زیادہ سے زیادہ۔ یہ اشرافیہ کے جان و مال کی حفاظت کا تو خاطر خواہ بندوبست کرتی ہے لیکن عوام کے جان و مال کے تحفظ کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ عوام کی تعلیم اور صحت کا انتظام محض نمائشی ہوتا ہے۔ عوام کے لیے بجلی اور پانی کی فراہمی بھی دوہرے معیار کا شکار ہوتی ہے اور سڑکیں بھی وہ بنائی جاتی ہیں جو اشرافیہ کے زیر استعمال ہوں یا ان کی زندگی کو سہل بنانے اور ان کی دولت میں اضافے کے لیے ناگزیر ہوں۔ ان ریاستوں میں اشرافیہ سے مراد ہر وہ گروہ یا طبقہ ہوتا ہے جو اپنی طاقت کے زور پر یا تو ریاست کے وسائل پر قابض ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو یا ریاست کو اپنے سامنے جھکانے پر قادر ہو۔
معذرت، تمہید کچھ طویل ہو گئی لیکن جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ شاید اس تمہید کے بناء سمجھا نہ پاتا۔ تو عرض ہے کہ اس دوسری طرح کے معاشرے میں یعنی عوام اور اشرافیہ کے معاشرے میں ریاست کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کچھ لوگ میدان عمل میں اترتے ہیں۔ یہ لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے دل کا گداز تو مہاتما بدھ جیسا ہوتا ہے لیکن وہ لوگوں کے دکھوں اور مشکلات کا فوری مداوا چاہتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ بھی اسی قسم کے بہت سے دل درد مند رکھنے والے باصلاحیت افراد سے مالا مال ہے۔ عبدالستار ایدھی، چھیپا، رتھ فاؤ ،ادیب رضوی، عمران خان، ڈاکٹر امجد ثاقب، حسین داؤد آصف محمود جاہ اور ان جیسے بے شمار لوگ جو اپنی اپنی مقدور بھر کوششوں میں مصروف ہیں کہ معاشرے کے تار و پود کو بکھرنے سے بچا لیں۔ یہ تمام خواتین و حضرات وہی سب کام کر رہے ہیں جو ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شمار ہوتے ہیں۔
میں یہاں خاص طور پر ایسی ہی ایک ہستی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ہر معاشرے میں دماغی امراض میں مبتلا افراد ہوتے ہیں۔ معاشرے کی عمومی سطح کا تعین کرنا ہو تو بہت سے دوسرے اشاریوں میں سے ایک اشاریہ معاشرے کا ان افراد کے ساتھ کیا جانے والا سلوک بھی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ان ذہنی امراض کا علاج پیروں فقیروں اور تعویذ گنڈے کے ذریعے کیا جاتا ہے یا شہروں میں انہیں بلا تخصیص ان عمارتوں میں بند کر دیا جاتا ہے جنہیں ہم عرف عام میں پاگل خانہ کہتے ہیں۔ معاشرے کی جہالت کہ ایسے افراد کو ان کے اپنے ماں، باپ، بہن، بھائی اور اولاد بھی نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کرتے بلکہ اپنے لیے وجہء شرمندگی سمجھتے ہیں۔
لیکن اللہ تعالی کی رحمت سے معاشرے کے ان مینٹلی چیلنجڈ لوگوں کو شہر لاہور میں ایک شفیق باپ میسر آگیا جو ڈاکٹر رشید چوہدری کے نام سے مشہور ہوا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے ان بچوں کو لے کر سر گنگا رام کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت عمارت میں منتقل ہو گئے اور اس گھر کا نام فاونٹین ہاؤس رکھا۔ جب تک ڈاکٹر رشید چوہدری زندہ رہے ان افراد کی دیکھ بھال ان کی زندگی کا مشن تھا۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے ڈاکٹر ہارون رشید نے اس ادارے کا انتظام سنبھالا اور ویسی ہی تندہی اور محبت سے اس کام میں جٹ گئے جو ان کے مرحوم والد کا خاصہ تھا۔ لیکن ان کی زندگی نے زیادہ وفا نہ کی۔
اج سے کئی سال پہلے میں فاؤنٹین ہاؤس کی ایک تقریب میں شریک ہوا۔ وہ بہت عجیب سی تقریب تھی۔ جو شخص بھی سٹیج پر آتا وہ آنسو بہاتے آتا اور مسکراتے ہوئے سٹیج سے اتر جاتا۔ یہ تمام لوگ وہ تھے جو فاؤنٹین ہاؤس سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آنسو مرحوم ڈاکٹر ہارون رشید کے لیے تھے جن کی ناگہانی موت ان کے رفقاء کے لیے ایک ناقابل برداشت صدمہ لے کر ائی تھی اور ان کی مسکراہٹ قدرت کی فیاضی پر تھی جس نے اس ادارے کو ڈاکٹر امجد ثاقب جیسا سربراہ عطا کر دیا تھا۔
آدمیوں کے معاشرے کی بطور ایک انسانی معاشرے کے بقا ایسے ہی درد مند لیکن با عمل اور بے لوث لوگوں کی بدولت ممکن ہوتی ہے جو ریاست کے رو بہ عمل ہونے کا انتظار نہیں کرتے رہتے بلکہ عوام کی فلاح کے لیے جو کچھ مقدور ہوتا ہے اسے بروئے کار لاتے ہیں۔
لیکن، دوستو، یاد رکھنا۔ یہ عظیم ہستیاں صرف دیے جلانے والوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔ عوام کے عطیات اور ان کی کاوشیں رات کی تاریکی کو کم تو کر سکتی ہیں لیکن دن کا اجالا لانا ان کے بس میں نہیں۔ انسانوں کے مسائل کے جامع حل صرف ریاست کے بس میں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر رشید چوہدری کا فاؤنٹین ہاؤس بھی شاید ممکن نہ ہوتا اگر اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلی ملک معراج خالد انہیں سر گنگا رام کی تعمیر کردہ وہ عمارت نہ دیتے جو اس وقت سرکاری تحویل میں تھی۔


