نفرت کا کاروبار


ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، تشدد، غصہ اور نفرت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ غصہ ویسے تو باقی جذبوں کی طرح ایک جذبہ ہی ہے لیکن اگر یہ جذبہ دوسرے جذبات کی طرح ایک حد سے بڑھ جائے تو اسے ایک بیماری تصور کیا جاتا ہے۔ اختلاف رائے کسی معاشرے کا حسن ہوتا ہے اور زندہ معاشرے کی نشانی ہے۔ جس معاشرے میں مختلف آراء، مختلف کلچر، مختلف مذاہب، مختلف زبان، مختلف سیاسی اور مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ رہتے ہوں وہ معاشرہ بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز میں یک رنگی اس چیز کا حسن پھیکا بنا دیتی ہے۔

اگر اسی اختلاف کو ذاتی اختلاف سمجھ کر نفرت شروع کر دی جائے تو بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ نفرت غصے میں بدلتی ہے اور پھر گالم گلوچ اور تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔ کسی بھی معاشرہ میں اس طرح کا بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہ اس کو سماجی، معاشی اور معاشرتی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔ وہاں لوگوں کے احساسات کو مجروح کیا جاتا، عزتیں محفوظ نہیں رہتی ،تشدد عام ہو جاتا ہے ، طاقتور راج کرتے ہیں اور کمزور مظلوم بن کے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں صورتحال اس سے مختلف نہیں۔تشدد اتنا عام ہو گیا ہے کہ کسی بھی معمولی سی بات پر جھگڑے اور ہاتھا پائی جیسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ روڈ پر، بسوں، گھروں ، کھیلوں کی میدان ، بازاروں یا دوسری عوامی اجتماعات والی جگہوں پر یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ ہم دوسروں کو تکلیف پہنچانے میں کبھی عار محسوس نہیں کرتے، اے سی گاڑی میں بیٹھا ہو شخص روڈ پر بڑے سکون سے چل رہا ہوتا ہے جبکہ اس کی وجہ سے کتنے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے اسے اس سے فرق نہیں پڑتا، بیچ سڑک کے، لوگوں کے گھروں کے سامنے گاڑی پارک کر دینا، جہاں دل کیا سپیڈ بریکر بنا دینا، موٹر سائیکل کا سائلنسر تبدیل کر کے شور والا سائلنسر لگانا، ہارن بجانا، بسوں اور ٹرکوں پر لگے تیز آواز والے ہارن، ٹریکٹر ٹرالی پر مٹی لاد کر شہر میں تیز بھگانا یہ نہیں دیکھنا کہ اس سے کتنے لوگ تنگ ہو رہے ہیں، گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی ریس لگانا، رکشوں، بسوں کے پیچھے بہت زیادہ دھوں اور تیز آواز،ریکارڈنگ ٹیپ لگا کر اشیاء فروخت کرنا،سڑک پر دوکان کا سامان رکھنا، گیراج کا ریمپ روڈ کے درمیان تک بنانا، کچرا سڑک پر یا راستے میں پھینک دینا وغیرہ جیسے کام کر کے ہم کون سی تسکین حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

اسی طرح آپ کسی سرکاری دفتر کے باہر دیکھیں، نادرا کے باہر ، بنکوں کے باہر، عدالتوں، ہسپتالوں کے باہر دیکھیں عوام رل رہی ہے اور اندر بیٹھا شخص اس احساس سے بالکل عاری ہے۔سائلین کو چکر لگوانا، درست طریقہ سے گائیڈ نہ کرنا، بدتمیزی اور بد اخلاقی سے بات کرنا آپ کو ہر جگہ نظر آئے گا۔حتیٰ کہ باہر کھڑا سیکورٹی گارڈ عام اور غریب گھر کا فرد ہوتا ہے اسے بھی اپنے قبیلے کے لوگوں پر ترس نہیں آتا۔

یہ نفرت کہاں سے سکھائی جاتی ہے اس بارے میں کوئی رائے وثوق سے قائم تو نہیں کی جا سکتی، اس میں گھر اور معاشرے کا ماحول بھی ذمہ دار ہے جہاں گھریلو لڑائی جھگڑے، گلی محلوں میں تنازعات ایک خاص قسم کی تربیت کا باعث بنتے ہیں۔ سکولوں میں بھی ایسی ہی تربیت ہوتی ہے اور نصاب میں موجود مواد بھی ایسی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ ہمارا نصاب شخصیات میں موازنہ سکھاتا ہے۔ قومیت اور مذہب کے نام پہ تفریق سکھاتا ہے۔ ایسی تربیت کی جاتی رہی ہے کہ بچوں میں تحقیق اور سوال کرنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو، جو کچھ کہا جائے اسے من و عن مان لیا جائے۔ اس نفرت کو پہلے انڈیا،اسرائیل اور امریکہ کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔ پھر اس نفرت کو بطور ہتھیار بنگالیوں کے خلاف استعمال کیا گیا، بنگالی جنہوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی، تحریک پاکستان میں سب سے آگے تھے انہیں پاکستان بننے کے بعد دبایا گیا۔ ان کے حقوق سلب کئے گئے اور عوام میں ان کے خلاف ایسی مہم جوئی کی گئی کہ عوامی زبان میں بھی بنگالیوں کے خلاف نفرت عیاں ہوتی تھی۔ پھر اسی ہتھیار کو پٹھانوں اور بلوچوں کے خلاف بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پٹھانوں، بنگالیوں اور عورتوں کے حوالے سے لطائف زبان زد عام ہیں۔ اس نفرت کا اگلا شکار سیاست دان بنے، محترمہ فاطمہ جناح کا غدار وطن اور انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا، بھٹو کے خلاف یہی پروپیگنڈا کیا گیا۔ پھر سیاست دانوں کو اپنے ساتھ ملا کر ان کا استعمال کیا گیا، ن لیگ کے ذریعے بے نظیر کی کردار کشی کی جاتی رہی۔پھر سب سے زیادہ اس ہتھیار کا استعمال عمران خان نے کیا، اس نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے خلاف اسی نفرت انگیز بیانیہ کا استعمال کر کے اپنی سیاست کو چمکایا۔ سڑکوں پر گھسیٹنا، پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالنا، تمہارے باپ کا پیسہ تھا، چور ڈاکو، ٹن پرسنٹ،نشئی،مودی کا یار، یہودی لابی جیسے ڈائیلاگ آج کی سیاست کا اہم حصہ ہیں۔ عوام ان سے ان کی کارکردگی نہیں پوچھتی بلکہ مخالف جماعت کو گالیاں دے کر تسکین حاصل کرتی ہے۔ عمران خان نے وہ تمام کام کئے جن کے طعنے وہ مخالف جماعتوں کو دیتا رہا۔ سیاسی پیروکار ہر اس کام کی تعریف کریں گے جو اس کے پسندیدہ لیڈر نے کی اور اسی کام کی مخالفت کریں گے جو اس کے مخالف لیڈر نے کی ہو۔ عمران خان اور طاہر القادری پر شریف خاندان کے بہت احسانات ہیں لیکن یہاں کی سیاست بہت بے رحم ہے۔

یہ نفرت ایک ایسا ہتھیار بن گیا جس کا استعمال سبھی نے کیا۔ ہندوؤں اور برصغیر کے غیر مسلم لیڈرز کو بنیا، شاطر ، چالاک اور منافق بتایا جاتا۔مولویوں نے اسے دوسرے فرقوں کے خلاف استعمال کیا۔ ایسا مولوی جو دوسرے فرقوں کے خلاف اچھا بولتا اسے سب سے زیادہ پیسہ ملتا۔ اس طرح پاکستان فرقہ ورانہ آگ میں ڈوبتا چلا گیا۔ ریاست نے بھی اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور عام اور غریب طلباء کو جہاد کے نام پر کشمیر اور افغانستان میں مرنے دیا۔ آج بھی محرم کے دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک خاص قسم کی بحث شروع ہو جاتی ہے،اسی طرح ربیع الاول اور تبلیغی اجتماع کے دنوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، سارا سال ان موضوعات پر بحث نہیں ہوتی۔محرم میں بھی اس ذاکر کا ریٹ سب سے زیادہ ہوتا ہے جو زیادہ نفرت انگیز گفتگو کرتا ہے۔ایسی ہی حالت کرسمس کے موقع پر ہوتی ہے، میری کرسمس کہنے کا ایک فضول اور غلط مفہوم بنا کر عوام میں پھیلا دیا۔ ان دنوں میں سوشل میڈیا پر اس طرح کی ویڈیو اور تحریر عام ہو جائیں گی۔ ہولی اور بیساکھی کو مذہبی تہوار بنا دیا گیا حالانکہ یہ ثقافتی تہوار ہیں ۔

ایسے ہی صنف کی بنیاد پر نفرت ہے ۔ ملالہ یوسف زئی ہو، عاصمہ جہانگیر ہو،فاطمہ جناح ہو، بینظیر ہو یا مریم نواز ۔کوئی بھی عوامی نفرت سے نہیں بچ سکا، کوئی خاتون سپورٹس وومن یا ایکٹریس، جہاں جو عوام کے ہتھے چڑھا اس کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ کوئی بھی خاتون روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہے، کہیں خاندان کے ساتھ سیر کرنے کے لیے جاتی، شاپنگ کرنے جاتی ہے تو اسی قسم کے رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خدانخواستہ کسی خاتون کے ساتھ کو معاملہ ہو جائے تو سارا وزن اسی پہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ہمارا عمومی رویہ کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنا ہے۔ خاتون برقعہ میں ہو، عبایہ میں ہو، جینز میں ہو اگر اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو جائے تو سارا قصور اس کا بنا دیا جاتا ہے۔کسی خاتون کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے تو یہی کہیں گے کہ اسی کا قصور ہے اور خواتین گاڑی نہیں چلا سکتی جبکہ آج تک حادثات میں مرنے والے لوگوں کی تعداد جنگوں میں ہونے والی اموات سے بھی زیادہ اور سارے سارے حادثات میں مرد ہی ڈرائیور تھے۔ آپ کسی بھی خاتون کے کریکٹر کے حوالے سے کوئی تصویر شیئر کر دیں سب اس کو سچ سمجھیں گے، کسی کی اپنی گھر کی تصویر لیک ہو جائے اسے بڑھا چڑھا کے آگے پہنچانے کا فریضہ بھرپور طریقہ سے پورا کرتے ہیں۔ اگر فرض کریں کوئی ایسی بات کسی خاتون کے حوالے سے سچی بھی ہو اور ہمیں پتا چل جائے تو کس حیثیت سے ہم اس خبر کو آگے پہنچاتے ہیں؟ ہمارا اس سارے معاملے میں کیا لینا دینا ہے؟

اس کا استعمال میڈیا پرسنز نے بھی بہت خوبی کے ساتھ کیا۔ وہ اینکر صاحبان جنہیں کچھ عرصہ قبل کوئی نہیں جانتا تھا انہوں نے ایک خاص بیانیہ کا ساتھ دیا اور سینئر تجزیہ کار بن گئے، موٹر سائیکل سے کئی کئی گاڑیوں تک کا سفر چند سالوں میں کرنے والے ٹی وی پر بیٹھ کے سیاست دانوں کی کرپشن کی باتیں کرتے ہیں۔

ایسے ہی نفرت امیر کو غریب سے اور غریب کو امیر سے ہے۔ اگر کسی امیر کا کوئی نقصان ہو جائے تو فوراََ کہا جاتا ہے کہ حرام کا پیسہ تھا۔ کوئی شخص ترقی کر جائے تو اس کے بارے میں منفی رائے زیادہ دی جاتی ہے۔ ملک ریاض کے بارے میں کوئی بھی منفی بات لکھ دیں لوگ فوراََ مان جائیں گے۔ اوشیئن گیٹ میں داؤد فیملی کے دونوں باپ بیٹے کے حوالے سے لوگوں نے ایسی ہی منفی باتیں کی، مجھ سمیت بہت سے لوگ اس سے پہلے اس فیملی کے متعلق بالکل نہیں جانتے تھے۔بل گیٹ کی طلاق کے حوالے سے بھی عجیب و غریب قسم کی باتیں کی گئی ۔ دنیا میں کاروباری شخصیات کی قدر کی جاتی ہے کیونکہ وہ اس ملک کے معاشی استحکام کی گارنٹی ہوتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں ان کے بارے میں کبھی مثبت رائے کا اظہار نہیں کیا گیا، خاص طور پر جو کسی بھی وجہ سے مشہور ہو جائیں۔اسی طرح غریبوں سے نفرت بھی معاشرے کا حصہ ہے۔ ان کی غربت ، بے روزگاری کو ان کی سستی اور نااہلی سے جوڑا جاتا ہے۔ان کی غربت کی وجہ ان کو خود قرار دیا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو کسی کی برائی کی جائے تو گفتگو لمبی بھی چلتی ہے اور مزیدار بھی ہوتی ہے، لیکن اگر ہمیں کسی کی تعریف کرنی پڑے تو الفاظ جلد ختم ہو جاتے ہیں۔ کسی پر الزام لگانا انتہائی آسان ہے جبکہ اس کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ جھوٹ اور نفرت بکتی ہے، آج چینلز والے نفرت انگیز گفتگو ختم کر دیں ان کا چینل کوئی نہیں دیکھے گا، اخبار کوئی نہیں پڑھے گا،نفرت بکتی ہے، جھوٹ سنا جاتا ہے۔ کسی بھی گفتگو کی ہیڈ لائن اس میں بولی جانے والی منفی گفتگو ہی ہوتی ہے، ساری گفتگو کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ میں برداشت کو فروغ دیا جائے، مکالمے کو بڑھایا جائے، شدید اختلاف والے لوگوں کو اکٹھا کیا جائے، اپنی اپنی سیاسی جماعت کو سپورٹ کریں، ان کے ایجنڈے کو پروموٹ کریں، کارکردگی بتا کر نہ کہ سیاسی حریفوں کی برائی کر کے۔ اپنے فرقے اور مذہب پر عمل کریں نہ کہ دوسرے مذاہب اور فرقوں پر تنقید کریں۔ کوئی بھی مذہب نفرت کا درس نہیں دیتا۔ خواتین، ٹرانس جینڈر کو سپورٹ کریں، انہیں معاشرہ میں محفوظ محسوس کرائیں۔ایسے لوگ جو انسانیت کی بہتری کے لئے کام کرتے ہیں انہیں فالو کریں۔ نفرت اور شرپسند عناصر سے دور رہیں۔ لوگوں میں موجود مختلف پن کو خوبصورتی بنائیں۔ جیسے کہا جاتا ہے مجھے آپ کی رائے سے شدید اختلاف ہے لیکن آپ کی رائے مجھے اپنی جان سے بھی پیاری ہے۔

Facebook Comments HS