کارونجھر کے سرکش سوڈھوں اور کولہیوں کی انگریزوں کے خلاف مزاحمت
بارہویں صدی عیسوی کے جینی سادھو ہیم چندر کی کتاب ’شبد انوشاسن‘ میں شامل ریگستانی دوہوں میں سب سے زیادہ جس دوہے کا تذکرہ ہوتا ہے، وہ صحرا کی ایک رزمیہ داستان کا دوہا ہے۔
بھلا ہوا جو ماریا بھینی امہارا کنت،
لجی تو وین سے رہو، جئے بھگا گھر اینت،
ترجمہ :
اے بہن! اچھا ہوا جو میرا شوہر جنگ میں مارا گیا، اگر جنگ کے میدان سے ڈر کر گھر بھاگ آتا تو میں ہم جولیوں میں بہت شرمندہ ہوتی۔
صحرائے تھر میں جہاں پیار و محبت کے قصوں اور کہانیوں نے جنم لیا ہے، وہاں صحرائی سورماؤں اور نڈر خواتین کی بہادری کے کارنامے اور حب الوطنی کا جذبہ لوک داستان بن کے پروان چڑھا ہے۔ صحرائے تھر کے قصے کہانیاں، داستان اور لوک شاعری سنتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ صحرا کے لوگ کس طرح ریت کے ٹیلوں پر اپنے دکھوں سے دوستی کرلیتے ہیں اور ساون رت میں کیسے خوشیاں بانٹتے ہیں، صحرا کی دھرتی اپنے پیاروں سے کس طرح خراج لیتی ہے، صحرا کے سپوت کس طرح دھرتی کو اپنے سر کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ صحرا کی روایتوں میں لڑکی کے جنم پر تھالی کیوں نہیں بجائی جاتی! ؟ ستی کی رسم ادا کرنے کے لیے گھر سے نکلنے والی عورت کے آگے ڈھول کیوں بجایا جاتا ہے! ؟
صحرا کے لوک دوہوں میں صحرا اور سرابوں کے رمز کے ساتھ ایثار، محبت، مروت اور مزاحمتی کرداروں کا تذکرہ شان دار تخلیقی سطح پہ کیا گیا ہے۔
جب انگریزوں نے 1843ء میں سندھ میروں سے لے لیا، تو سندھ کے مختلف حصوں میں شورش برپا ہو گئی، با الخصوص صحرائے تھر کے سپوتوں نے آسانی سے تابع داری اختیار نہ کی، انگریزوں نے صحرائے تھر کے سرکش لوگوں کو تابع دار بنانے کے لیے اپنے اہل کار اور ایجنٹ مقرر کیے، پارکر والے حصے پر پہلے ایجنٹ کیپٹن اسٹیفن ریکس آئے، پھر کرنل تروٹ آیا۔ تروٹ نے 1856ءمیں پارکر کو حیدرآباد کے ساتھ منسلک کیا، کمشنر حیدرآباد نے حیدرآباد سے اپنے آدمی بھیجے اور ریونیو سروے جاری کیا۔ نئے ٹیکس لگائے گئے، ’آپس میں لڑاؤ اور حکومت کرو‘ کی سازش شروع ہوئی، ننگرپارکر کے رانا کرن جی اور ان کے لوگوں کو مقدموں میں پھنسانے کی کوشش کی گئی، ٹیلی گراف کھاتے کے ملازم کولہیوں کو تنگ کرنے لگے۔ ایسے حالات دیکھ کر پارکری خون مزید جوش میں آنے لگا۔ ننگرپارکر کے رانا کی پکار پر لوگ اکٹھے ہونے لگے، رانا کا بھائی بھوپت سنگھ، ویراواہ کا ٹھاکر لادھو سنگھ، بہرانے کا ٹھاکر کلجی، اوردوسرے بہادر راجپوت رانا کے کیمپ میں پہنچے۔ پانچ ہزار سے زیادہ کولہی روپلو، ڈجو، مڈو کی سربراہی میں حاضر ہوئے، ان سب نے متحد ہو کر 15 اپریل 1859ء کے دن انگریزوں کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا، سب سے پہلے ٹیلی گراف کے تار کاٹ کر راستے تباہ کر دیے گئے۔ خزانہ لوٹ کر کارگزار کے دفتر کو نذر آتش کر دیا گیا۔ مختار کار کسی طرح سے اطلاع حیدرآباد پہنچانے میں کامیاب ہوا تو اطلاع ملنے پر حیدرآباد اور کراچی سے لشکر ننگرپارکر روانہ کیا گیا۔ پھر خود بھی نکلا، ڈیسا اور احمد آباد سے بھی انگریز لشکر کے دستے ننگرپارکر پہنچے، پارکری سورماؤں نے ڈیسا سے آئے ہوئے لشکر سے مقابلہ شروع کیا، انگریزوں کے پاس بڑے ہتھیار اور بارود تھا۔ انگریزوں نے توپ سے گولہ باری کی تو اس کے دھماکے پچاس میل کے فاصلے پر کرنل ایوانس نے بھی سنے۔ بھوڈیسر کے سوڈھے انگریزوں کے لشکر سے مل کر اپنوں کو نقصان پہنچانے لگے۔ تین مئی کو سبھی فوجوں نے مل کر مقامی باشندوں سے سخت مقابلہ کیا۔ انگریز لشکر نے جب راجپوتوں کے چندن گڈھ کو توپوں سے اڑا دیا تب راجپوت اور کولہی بکھرنے لگے کچھ مارواڑ کی طرف نکل گئے اور کچھ کارونجھر میں چھپ گئے۔ انگریزوں نے رانا کرن جی اور لادھو سنگھ کو گرفتار کر کے ننگر پارکر پر قبضہ کر لیا۔ پھر کرنل ایوانس بھوڈیسر کے ٹھاکروں کی مدد سے مارواڑ کی طرف نکلے ہوئے باغیوں کو کچلنے کے لیے نکلا، گجرڑالو کے کیمپ پر حملہ کر کے پارکریوں کو مارا اور بھگادیا۔ کامیاب کارروائی کے بعد کرنل ایوانس واپس ننگرپارکر کی طرف چل پڑا۔
پارکر کی اس ساری مزاحمت کے دوران لادھو سنگھ کا بیٹا ادھے سنگھ باہر گیا ہوا تھا، وہ بھی واپس آ رہا تھا، راستے میں گاؤں رانیواڑی میں کسی تقریب کے موقعے پر ڈھول بج رہا تھا، ڈھول کی آواز سن کر ادھے سنگھ کی گھوڑی ناچنے لگی۔ تب کسی کولھی نے کہا کہ تم یہاں گھوڑیاں نچا رہے ہو اور تمھارا باپ جیل میں پڑا ہوا ہے، ادھے سنگھ کو یہ طعنہ تیر کی طرح لگا۔ ادھے سنگھ غصے کی پوری شدت سے نکلا اور گاؤں کے لوگ اکٹھے کر کے جیل پر حملہ آور ہوا۔ جیل کا دروازہ توڑ کر سب کو آزاد کروا لیا۔ غصے کی ایسی حالت میں تروٹ کے خیمے کی طرف چل پڑا، لیکن ہیجانی کیفیت کی وجہ سے راستے میں بندوق کے فائر کر ڈالے، فائر کی آواز سن کر تروٹ خیمے سے بھاگ گیا اور جا کر لادھو کے گھر گائے کی کھال میں چھپ گیا۔ رانا نے تروٹ کے کچھ سپاہیوں کو مار دیا، کرنل ایوانس نزدیک ہی تھا، ایک سوار نے جا کر ڈینسی گاؤں میں یہ خبر سنائی۔ دوبارہ فساد شروع ہو گئے۔ 19 جون 1859ء کو کرنل ایوانس نے دوبارہ کنٹرول کر لیا۔ رانا اور ان کے ساتھیوں نے شہر چھوڑ کر کارونجھر میں پناہ لے لی، جہاں اس کا دوست کاسبو کا سیٹھ مہاوجی ہنس پری، اور روپلو کھانے پینے کا سامان پہنچاتے تھے۔ تروٹ نے کچھ اپنوں کی مخبری پر روپلو کولھی کو ”ساڑدھرے“ کے قریب ایک کنوئیں سے پانی بھرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ تروٹ نے بہت کوشش کی کہ روپلو شکست تسلیم کر لے، اپنے ساتھیوں کے نام بتادے، مگر روپلو ڈٹا رہا۔ آخری حربے کے طور پر روپلو کی بیوی کو بھی بلایا گیا کہ وہ اپنے شوہر کو راضی کرے اور اسے زندہ واپس لے جائے۔
روپلو کی بیوی نہ انگریزوں کے سامنے زنجیروں میں قید اپنے بے حال اور مجبور شوہر جس کی انگلیاں تک جلائی گئی تھیں کو بلند آواز میں کہا ”روپلا مر جانا مگر اس دھرتی سے غداری مت کرنا۔
آخر 22 اگست 1869ء کی شام ”گوڑ دھرو“ ندی کے کنارے ایک بڑے ببول کے درخت سے رسی باندھ کے روپلو کولہی کو سرعام پھانسی دے دی گئی، اس وقت بھی معافی مانگنے کے بجائے روپلو نے اس پھانسی کو قبول کیا اور دھرتی پر امر ہو گیا۔
ہنس پری اور سیٹھ مہاوجی نے انگریزوں کی لالچ میں آ کر دھوکے سے رانا کرن جی، لادھو سنگھ اور دوسروں کو گرفتار کروایا۔ جنھوں نے اطاعت قبول کی انہیں آزاد کر دیا گیا۔ باقی پر مقدمے چلے اور دھرتی کے سپوتوں کو سزائیں دی گئیں۔
صحرائے تھر کے لوک دوہوں میں کہا گیا ہے کہ :
نہ پڑوس کانئر کراں ہیلی واس سوں آئے،
بلہاری ان دیس ری، ماتھا مول بکائے،
ترجمہ :
اے سکھی! مجھے بزدلوں کا محلا بھی اچھا نہیں لگتا، میں تو اس دیس پر مرتی ہوں جہاں متوالے اپنے سروں کا سودا کرتے ہیں۔
پنتھی ہیک سندیسرو بابل نے کہیا ہو،
جایاں تھال نہ جاجیاں آج ڈھول بجیا ہو۔
ترجمہ :
اے پنچھی میرے بابل کو یہ پیغام دینا کہ میرے جنم دن پر تھال نہیں بجایا گیا لیکن آج میں ستی ہونے جا رہی ہوں اور میرے آگے ڈھول بج رہے ہیں
گھوڑو چڑھں نو سیکھیو بھابی کسڑے کام
سنب سنے جے پار رو لیجے ہاتھ لگام
ترجمہ :
اے بھابھی گھوڑے کی سواری کس دن کے لیے سیکھی تھی دشمن کے ناقوس بج رہے ہیں لگام ہاتھ میں لو۔
بالا چال م بسیرے مو تھن جیر سمان
ریت مرنا ڈھیل رکھی اوٹھ تھیو گھمسان
ترجمہ :
میرے بیٹے اپنی روایات کو مت بھولنا میرا دودھ زہر کی مانند۔ ہے اٹھ کہ جنگ شروع ہو چکی ہے مرنے کی رسم میں دیر مت کر۔
ویر لیون آویو پیو رن ہوا اوہیر
اب تو بلو آ جاؤ سیاں اب نہیں آؤں پیہر
ترجمہ :
میرا بھائی تو مجھے لینے آیا ہے لیکن میرا شوہر ہر رن کھیتر کے میدان پر جا رہا ہے اے میری ہم جولیوں اب تو مجھ سے ملنے آؤ، میں ستی ہونے جاؤں گی اب میکے نہیں آؤں گی۔
سرگ ٹھیٹھ جاوسی کہ جوڑی کہ پریت
سکھی پیو رے دیسڑے سنگ بلواری ریت
ترجمہ :
اے سکھی میری اور محبوب شوہر کی جوڑی سورگ تک ساتھ رہے گی کیونکہ میرے پریتم کے دیس میں ایک ساتھ اگنی سنسکار ہونے کی ریت ہے۔
دل لگا سوئی سگا، ہڈ نہ سگا ہوئے، ماتا ویکھ مہلی جلے ایئے پٹاندر جوئے،
ترجمہ :
جس کا دلی لگاؤ ہے وہ ہی عزیز ہے، ہڈی کے رشتے میں سگا نہیں ہوتا، ماں دیکھ رہی ہے، بیوی جل رہی ہے، یہ نمونہ دیکھنا
پیو رن کھیتر میں جاوتا پاچھا آیا پرہار
ماڈیو ڈیٹھ بھنت پر بھالا سہت سوار
ترجمہ :
ایک بزدل کی بیوی کہتی ہے میرا شوہر میدان جنگ کو جاتے ہوئے واپس لوٹ آیا اس نے دیوار پر ایک نیزہ سوار کی تصویر دیکھی اور ڈر گیا۔
پیو اسا رن چڑھیا ہاتھ لیدھی تلوار
دیٹھی تن ری چھانھلی او او بھا پاوے پار
ترجمہ :
ایک کانئر کی بیوی کہتی ہے کہ میرے شوہر نے گرجتے ہوئے تلوار تھامی اور میدان جنگ کی راہ لی راہ میں اپنی پرچھائیں دیکھ کر بہانے بنا کر واپس لوٹ آیا۔
بھاگے مت رے سائبہ توں بھگاں مو کھوڑ
سائنی ہاسا کریں ڈے تاڑی مکھ موڑ
ترجمہ :
ایک بہادر کی بیوی اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ میدان جنگ سے منہ نہ موڑنا، بھاگ کے مت آنا، اگر تم نے ایسا کیا تو میری ہم جولیاں زندگی بھر عیب نکالیں گی اور مجھے طعنہ دیتے ہوئے آپس میں تالیاں بجا کر ہنسی اڑائیں گی۔
سنگ مرجاوسیں ناریاں نر مر جاوسیں رنوٹ
سونے گھر بالک روئے او گھر جانجو رے رجوٹ
ترجمہ:
راجپوت قبیلوں میں روایت ہے کہ جنگ کے میدان میں جنگجو کے جان دینے پر اس کی بیوی اس کی چتا کے ساتھ ستی چڑھتی ہے۔ کسی سونے گھر میں اگر کسی بچے کے رونے کی آواز آئے تو سمجھ جانا کہ وہ گھر کسی راجپوت کا ہے
اری نیڑو پرین ونکڑو سائیدھن وچن سدھ
ہالو نندل ہیڑواں ہالاں بالک اجیا ڈدھ
ترجمہ:
اے میری نند! دشمن بالکل قریب آ پہنچا ہے، میرا محبوب اس کے مقابل ہو گا، مرنے مارنے کے سوا میدان جنگ سے وہ پسپا نہیں ہو سکتا۔ میں پتی ورتا ( اپنے شوہر پر جان وارنے والی) ہوں، پتی کے میدان جنگ میں امر ہو جانے پر میں ستی ہو جاؤں گی، اے میری نند! آؤ اسی وقت سے میرے ننھے بچے کو بکری کے دودھ کا عادی بنا لوں۔
ڈھول وجتا اے سکھی پتی آیو مانے لین
واگا ڈھول میں چلی پتی کو بدلو ڈین
ترجمہ:
اے میری ہم جولی! شادی کے وقت میرا شوہر ڈھول تاشے کے ساتھ بڑی شان و شوکت سے مجھے لینے آیا تھا، آج جنگ کے میدان میں لڑتے ہوئے میرے شوہر کے امر ہونے پر اس کی ارتھی اٹھنے سے پہلے میں دشمن سے اس کا بدلہ لوں گی اور بعد میں بالم کے ارتھی کے ساتھ ستی چڑھوں گی۔
کنتا رن جاء کے، بھاگے نے مت آء
بھاگیو تو مون بنی بہنڑی، تو مارو بھاء
ترجمہ :
اے میرے محبوب جنگ کے میدان میں جا کر، وہاں سے کبھی بھاگ کر مت لوٹنا، آگر تم نے ایسا کیا تو میں تمھاری بہن بن جاؤں گی اور تم میرے بھائی۔
گھوڑا گھر ڈھالاں ٹپل بھالاں تھنبھ گھڑائے
جو ٹھا کر بھوگئے جمی اور کسوں اپنائے
ترجمہ :
جو ٹھاکر گھوڑوں کو اپنا گھر ڈھالوں کو چھت اور بھالوں (نیزوں ) کو کھنبے بناتا ہے وہ زمین کا استعمال کرتا ہے اسے دوسرا کون اپنا سکتا ہے۔
وجو ڈاڈھو ویر ور بھوجل ننڈھو بھوپ
کٹکاں سیں رٹکا کریا رنگ کلا کل روپ
ترجمہ:
فتح مند، بہت بہادر اور چھوٹے بھوجل جیسا شہزادہ بھی قابل تعریف ہے۔ انگریز دشمن سے لڑائی میں کلا نامی سورما کو آفرین ہے
کلو چڑھے ہوکو کرے باجے ہاک ویران
گلیئی پر تروٹ گیو میل فرنگی مان
ترجمہ:
سورما کلوجی گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کو للکاررہا ہے، کلے کی بہادری کی شہرت چہار سو پھیلی ہوئی ہے، تروٹ کلے جیسے دلیر سے مقابلہ کرنے کے بجائے بھاگ گیا، ہر طرف سے آواز آنے لگی اے فرنگی تو اپنی شکست قبول کر۔
کارونجھر رے کونگرے گہرا باجے ڈھول،
راوتاں میں کوڑی روپلو ونکا بولے تو بول۔
ترجمہ:
کارونجھر کی پہاڑیوں پر بلند آہنگ سے جنگ کے ڈھول بج رہے ہیں، سورماؤں میں کولہی روپلو بڑی بہادری سے دشمن کو للکار رہا ہے
چڑھو چڑھو مورے بیلیاں چڑھتا لگاؤ وار
ایئے بھورے نا بھجاوتے آپاں نا کی لاگسے وار
ترجمہ:
بہادر روپلو کولہی اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا کہ جلدی سے گھوڑوں پر سوار ہو جاؤ، گھوڑوں پر سوار ہونے میں اتنی دیر مت لگاؤ، گورے سامراج کو اپنے پارکر کی دھرتی سے بھگانے میں ہمیں دیر نہیں لگے گی۔
روپلو بولیا بیلیاں پاچھا میہلو نا پاء،
ہالے ہافیسوں اوپرا ڈوڈھا ڈیسوں گہاء۔
ترجمہ:
بہادر روپلو کولہی اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ اے ساتھیو پارکر کی دھرتی پر انگریز سامراج سے لڑنے کی جنگ میں اپنے پیر پیچھے مت کرنا، قدم آگے رکھو، ہم دشمن کے دفتروں پر حملہ کر کے بڑا نقصان پہنچائیں گے
آویو ادھے سنگھ اوچتو بھورو بھجایو،
کر بھورے را کانپیا موچی بچایو،
ترجمہ:
ادھے سنگھ نے اچانک آ کر انگریز کے کیمپ پر حملہ کر دیا لیکن انگریز تروٹ بھاگ نکلا اور کانپتے ہوئے موچی کے پاس پناہ لی، موچی نے مردہ گائے کی کھال انگریز کے اوپر ڈال کر اسے بچا لیا۔
ہتھاڑیاں میں ڈیولا کیا انگڑیاں نی واٹ،
پھاسی تنو حکم آویو توئے روپلو نا بولیو ساچ،
ترجمہ:
روپلے کولہی کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو چراغ بنا کر انگلیوں کو لًو کی طرح جلایا گیا، آخر میں پھانسی پر لٹکانے کا حکم دے دیا گیا لیکن بہادر کولہی نے انگریز سامراج کے سامنے سچ بول کر اپنے جنگجو ساتھیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی
کارونجھر اورانو مت کر ڈیکھے فرنگی فوجان
جب لگ اوبھو کرنجی تب لگ کر اونچو تان
ترجمہ:
اے کارونجھر انگریز فوج کے لشکر کو دیکھ کر پریشان مت ہونا، جب تک رانا کرن جی زندہ ہے تب تک فخر سے اپنے سر کو اونچا رکھو
چندن گڈھ چاوو کیو، جودھے مچائی جنگ،
لڑیو ساتھ کرن رو اوئاں رجپوتاں نا رنگ۔
ترجمہ:
چندن گڈھ کی گھن گرج کے ساتھ سورماؤں نے لڑائی لڑی،
رانا کرن جی کے ساتھ جو راجپوت انگریز لشکر سے لڑے ان سب راجپوت سورماؤں کو آفرین ہے۔
رنگ کلا رنگ مہاسینگا رنگ جودھا ران
رنگ کارونجھر را کونگرا رنگ سوڈھا ران
ترجمہ:
افرین ہو کلا آفرین ہو مہاسینگا، اور آفرین ہو بہادروں کی مجلس کو، اے کارونجھر تیری بلند چوٹی کو آفریں ہو نہ تیرا سر نیچا ہوا نہ تیرے بہادر سورما کا، آفرین ہو سوڈا رانا





