سعید نقوی کا ناول: گرداب


سعید نقوی اردو زبان و ادب میں اپنے افسانوں تراجم اور ناولوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ سعید نقوی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ سعید نقوی نے ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد 1987 میں انگلستان سے جلدی بیماریوں میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ انھوں نے سعودی عرب، ایران، انگلینڈ میں ملازمت کی۔ پھر آئر لینڈ سے میڈیسن میں ایم آر پی ایس کی سند حاصل کی۔ اور امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ سعید نقوی نے لکھنے کا باقاعدہ آغاز اکیسویں صدی سے کیا۔

جان کشمیری کے ادارت میں نکلنے والے رسالے ”قرطاس“ میں ان کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ ”گرداب“ سعید نقوی کا ایک اہم ناول ہے جو ہجرت اور نائن الیون کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ شمیم حنفی نے اس ناول کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ اس ناول کو سعید نقوی کی خود نوشت سوانح عمری کے متبادل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ”گرداب“ کی کہانی قاری کے لیے اپنے بیانیے کے ساتھ ساتھ سوالات کا ایک جال بھی بچھاتی گئی ہے۔ فنی سطح کے ساتھ ساتھ یہ کہانی ہمیں سوچ بچار کی کئی سطحیں مہیا کرتی ہے

”گرداب“ کی کہانی عمران نامی کردار سے شروع ہوتی ہے جس کو زبردستی گھر سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ عمران ایک مدرسے کو چلاتا ہے اس مدرسے کو چلانے کے لیے اسے افغانستان کی جانب سے باقاعدہ امداد ملتی ہے۔ عمران کے والد حامد صاحب ایک ایماندار گورنمنٹ افسر ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے دونوں چھوٹے بیٹے سہیل اور نہال انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ اور ان کی بیگم پاکستان چھوڑ کر امریکہ شفٹ ہو جائیں جہاں ان کی بیٹی میمونہ اپنے شوہر نواز اور جواں سالہ نند شکیلہ کے ہمراہ رہتی ہے۔ سن 2000 ءمیں حامد صاحب امریکہ امیگریشن کے لیے اپلائی کرتے ہیں اور تمام مراحل سے گزر کر اپنے دونوں بیٹوں سہیل اور نہال اور اپنی بیگم کے ساتھ امریکہ ہجرت کر جاتے ہیں۔

ان کا بڑا بیٹا عمران اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پاکستان میں ہی رہتا ہے۔ عمران ایک خاص مذہبی ذہن کے تحت کئی مدرسوں کا انتظام سنبھالتا ہے۔ امریکہ منتقل ہونے کے بعد حامد صاحب کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا داماد کسی پیٹرول پمپ کا مالک نہیں بلکہ اس سے متصل ایک مارکیٹ میں سپروائزر ہے۔ اس مارکیٹ اور پیٹرول پمپ کے مالک شریف محب اللہ ہیں جن کے اجداد ممبئی سے جنوبی افریقہ منتقل ہو گئے تھے اور وہ جنوبی افریقہ سے امریکہ منتقل ہو گئے۔

جہاں وہ اپنی بیوی اور دو بیٹوں جنید اور فواد کے ساتھ سکونت اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا کاروبار اور زندگی اچھی چل رہی ہوتی ہے مگر دہرے معیار زندگی کی وجہ سے ان کا بیٹا جنید مسجد کے مولوی صاحب کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا شروع کر دیتا ہے۔ مولوی صاحب جنید کو نیویارک کی اہم عمارتوں کی تصاویر کھینچنے کا کہتے ہیں اور پھر ان تصاویر کو کھینچ کر پاکستان میں موجود عمران کو ای میل کرنے کا کہتے ہیں۔ جنید اہم عمارتوں کی تصاویر کھینچ کر عمران کو ای میل کر دیتا ہے۔

شریف صاحب میمونہ کے شوہر نواز کے باس ہوتے ہیں۔ شریف صاحب اور نواز کے خاندان کا آپس میں کافی میل جول ہوتا ہے۔ شریف صاحب کا بیٹا فواد اور نواز کی بہن شکیلہ ایک ہی اسکول اور ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک دن فواد شکیلہ کے گھر تنہائی میں ملتا ہے تو وہ دونوں تمام حدود سے گزر جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں شکیلہ حاملہ ہو جاتی ہے۔ اس بات کی خبر فواد کو نہیں ہوتی۔ شکیلہ فواد کو اطلاع دینا چاہتی ہے مگر فواد سے ملاقات ہی نہیں ہوتی۔ اسی دوران فواد اپنے دوست کے ساتھ ورلڈ ٹریڈ سینٹر جاتا ہے اور نائن الیون کا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔

جس کے نتیجے میں فواد اور اس کا دوست جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حامد صاحب امریکہ منتقل ہونے کے بعد کچھ عرصہ اپنی بیٹی میمونہ کے گھر گزارتے ہیں۔ پھر اپنے فلیٹ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ حامد صاحب کے بیٹے سہیل کو نوکری مل جاتی ہے۔ خود حامد صاحب پیٹرول پمپ پر نوکری کرنے لگتے ہیں۔ نائن الیون کے حادثے کے تحت ایف بی آر والے نواز کو شبہے میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ جنید بھی امریکہ میں گرفتار ہو جاتا ہے اور پاکستان میں عمران کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

جنید اور عمران کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ وہ اس حادثے کے ذمے داروں کی بابت بتا سکیں۔ شدید تشدد کے باوجود بھی وہ کچھ نہیں بتا پاتے۔ تو انھیں مستقل قید کر دیا جاتا ہے۔ نواز کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملتا اس لیے اسے رہا کر دیا جاتا ہے۔ عمران کی گرفتاری کی خبر سن کر حامد صاحب کو شدید ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور ان کے دماغ کا بایاں حصہ متاثر ہو جاتا ہے اور وہ مفلوج ہو جاتے ہیں۔

نائن الیون کی وجہ سے امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کی زندگی دوبھر ہو جاتی ہے۔ اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں بات بات پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان سے اس بات کی شہادت لی جاتی ہے کہ وہ محب وطن امریکی ہیں۔

میمونہ کو جب شکیلہ کے حمل کا علم ہوتا ہے تو بھابھی کی حیثیت سے شکیلہ کے ساتھ جا کر خاموشی سے اس کا اسقاط حمل کروا دیتی ہے۔ میمونہ کا بھائی سہیل شکیلہ کو پسند کرتا ہے اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ مگر جب شکیلہ سہیل کو یہ بتاتی ہے کہ اس نے اسقاط حمل کروایا ہے۔ تو وہ شکیلہ سے شادی پر خود کو آمادہ نہیں کر پاتا۔ سہیل شکیلہ سے کہتا ہے کہ کاش تم مجھے یہ بات نہیں بتاتیں۔ کوئی انسان جانتے بوجھتے سڑا ہوا سیب نہیں کھا سکتا۔ شریف محب اللہ امریکہ چھوڑ کر واپس جنوبی افریقہ چلے جاتے ہیں اور اپنی تمام جائیداد شکیلہ کے نام کر جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ ان کا بیٹا فواد ڈائری لکھا کرتا تھا۔ جس میں شکیلہ کے لیے واضح طور پر پسندیدگی کا اظہار موجود تھا۔

حامد صاحب دل کے دورے کے بعد مشینوں کے ذریعے زندہ ہوتے ہیں۔ کئی دن کی کشمکش کے بعد بیگم حامد کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اب انھیں مشینوں کی مدد سے زندہ رکھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ نواز کی واپسی شکیلہ اور میمونہ کے لیے خوش آئند ثابت ہوتی ہے لیکن نائن الیون کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کو اپنا تشخص بحال رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو امریکیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ناول میں سعید نقوی نے پاکستان سے امریکہ کی جانب ہجرت کرنے والے لوگوں کے مسائل کی بھر پور عکاسی کی ہے۔ مشرقی اور مغربی اقدار کی کشمکش کو موضوع بنایا ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کے نتیجے میں فواد اور شکیلہ کا جنسی اختلاط، شکیلہ کا حمل، اور اسقاط حمل کو پیش کیا۔ سعید نقوی نے اس ناول میں نائن الیون کے بعد پاکستانیوں اور خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی نشاندہی کی ہے۔

ناول ”گرداب“ کی کہانی عمران کی گرفتاری سے شروع ہو کر نواز اور میمونہ کے لیے راجر کے دعوت نامے پر ختم ہوتی ہے۔ جہاں میمونہ کا پڑوسی راجر انہیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر ہم سب امریکی ہیں تو ہمیں قوم پرستی کے بجائے حب الوطنی کو فروغ دینا چاہیے۔ زبان و بیان انتہائی سادہ اور عام فہم ہے مصنف نے کوشش کی ہے کہ قاری کی دلچسپی شروع سے اخر تک برقرار رہے۔ امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے باوجود سعید نقوی نے بھرپور کوشش کی ہے کہ ناول میں ضروری اور غیر ضروری انگریزی الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے۔ مجموعی طور پر نائن الیون کے المیے کے پس منظر میں لکھا گیا یہ ناول اردو ادب کا ایک انتہائی اہم ناول ہے جسے ایک ایسے ناول نگار نے تحریر کیا ہے جس نے خود نائن الیون کے المیے کے بعد اپنا وقت امریکہ میں گزارا۔

مصنف:سید سعید نقوی
سن اشاعت: فروری 2014
ناشر :ویلکم بک پورٹ
صفحات: 320
قیمت :  490 روپے

Facebook Comments HS