کالا رنگ، حساس عورتیں اور آج کا مزاح – مکمل کالم

آہ کیا زمانہ تھا، کیا آزادی تھی، کیا بے خوفی تھی!
اِس سے پہلے کہ آپ میری آہ و بکا سے کوئی غلط مطلب اخذ کریں اور سوچیں کہ میں مردِ حُرّ بننے کی کوشش کر رہا ہوں اور علامتی انداز میں کالم لکھ کر شہیدوں میں نام لکھوانے کا ارادہ رکھتا ہوں، میں واضح کردوں کہ میری مراد ستّر کی دہائی سے ہے جب لوگوں کو بلا کھٹکے ہر قسم کی گفتگو کرنے کی آزادی تھی، وہ آزادی اب نہیں رہی، میں اُس کا ماتم کر رہا ہوں۔ اُس آزادی کی تفصیل میں آگے چل کر بیان کروں گا پہلے اُس زمانے کے اخبارات میں شائع ہونے والا ایک اشتہار ملاحظہ فرمائیں۔ سرخی: یہ پاسپورٹ تمہارا نہیں ہو سکتا۔ ذیلی سُرخی: پاکستان سے واپس جاتے ہوئے ایک سیّاح کی عجیب و غریب پریشانی۔ متن: ”پاسپورٹ میں نشانِ امتیاز کے خانے میں درج تھا کہ ان کے چہرے پر کالے دھبے ہیں لیکن سیّاح صاحب کا چہرہ ہر قسم کے داغوں سے صاف تھا۔ کسٹم والوں نے وضاحت طلب کی تو انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں آ کر میں نے ایمکس کریم استعمال کی اُس کی وجہ سے میرے چہرے کے کالے دھبّے اِس حد تک کم ہو گئے کہ اب دکھائی بھی نہیں دیتے۔ ‘ ایمکس کریم رنگ گورا کرتی ہے، چہرے کے داغ دھبّے دور کرتی ہے۔ جھائیاں مٹاتی ہے۔ ہر جگہ ملتی ہے۔ قیمت ڈھائی روپے۔“
کیا عمدہ اور تخلیقی اشتہار ہے مگر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا اِس قسم کا اشتہار آج کے اخبارات میں شائع ہو سکتا ہے؟ نہیں، کیونکہ آج کل تو آپ کالے کو کالا نہیں کہہ سکتے بلکہ ’پیپل آف کلر‘ کہتے ہیں، اب بندہ پوچھے یہ کیا ترکیب ہوئی، اگر کالا اتنا ہی نفرت انگیز لفظ ہے تو لغت میں اِس کا مطلب سیاہ رنگ سے بدل کر نفرت کی گالی کر دینا چاہیے (ویسے میں نے کافی عرصے سے جدید لغت نہیں دیکھی، ہو سکتا ہے وہاں کالے کا مطلب واقعی بدل دیا گیا ہو) ۔ دراصل اِس قسم کی نزاکتیں پہلے یورپ وغیرہ میں آتی ہیں اُس کے بعد ہم بھی انہیں درآمد کر لیتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک اپنے ہاں رنگ گورا کرنے والی کریموں کے اشتہارات ٹی وی پر ڈنکے کی چوٹ پر چلائے جاتے تھے، یہ اشتہار اب بھی نشر ہوتے ہیں مگر ذرا سی ترمیم کے بعد ، اِن کریموں کے نام سے اب لفظ ’فئیر‘ حذف کر دیا گیا ہے اور اُس کی جگہ ’گلو‘ نے لے لی ہے۔ کریم کا کام وہی ہے مگر صرف نام میں ہیرا پھیری کر کے اسے قابل قبول بنایا گیا ہے، بالکل ویسے جیسے اپنے ہاں جدید بینکنگ کو اسلامی بینکنگ کا لبادہ اوڑھا کر اسے مشرف با اسلام کیا گیا ہے حالانکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
اسی طرح آج کل آپ کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہوگی کہ کرکٹ کے مبصرین اب بیٹسمین کو بیٹر کہتے ہیں، شروع شروع میں یہ سُن کر مجھے یوں لگا جیسے مبصر حضرات نے بیٹسمین کا مخفف بولنا شروع کر دیا ہے مگر بعد میں پتا چلا کہ آئی سی سی کی ہدایت ہے کہ کرکٹ تبصرے میں صنفی امتیاز نہ برتا جائے، بیٹسمین میں چونکہ مین کا لفظ آتا ہے اِس لیے یہ مناسب نہیں، بعض بے حد حساس خواتین کی اِس سے دل آزاری ہو سکتی ہے، جبکہ بیٹر کی کوئی جنس نہیں ہوتی اِس لیے یہ ٹھیک ہے۔ اِس منطق پر لاحول ہی پڑھی جا سکتی ہے کیونکہ اِس سے زیادہ احمقانہ تاویل ممکن نہیں۔ بندہ پوچھے کہ اگر اتنی ہی حساسیت ہے تو مرد بلے باز کو بیٹسمین اور عورت کو بیٹس وومن کہہ لیں! کیونکہ اگر لفظ مین فساد کی جڑ ہے تو پھر کل کلاں کو یہ اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے کہ اکیلے مین سے بھی جنسی امتیاز جھلکتا ہے سو اِس کا استعمال ترک کر کے کچھ ایسے متبادل الفاظ بولنے چاہئیں جن سے جنس کا پتا نہ چل سکے جیسے individual، person، people، وغیرہ۔
سچ پوچھیں تو میں آنے والے دور میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ مین کا استعمال صرف بول چال میں ہی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی میں بھی کم ہو جائے گا اور عین ممکن ہے کہ سائنس اتنی ترقی کر جائے کہ خواتین کو جیتے جاگتے بندے کی ضرورت ہی نہ رہے، سائنس انہیں ایک ایسا شوہر مہیا کر دے جو اُن کا ہر حکم بجا لائے، اُن کے اشاروں پر ناچے اور کبھی کوئی شکوہ شکایت زبان پر نہ لائے۔ ویسے اللہ کو جان دینی ہے، اپنے ہاں زیادہ تر شوہر اسی قسم کے ہیں، انہوں نے صرف ’مردانگی‘ کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے۔ مجھے تو اب مردانگی جیسے الفاظ لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں کسی حساس عورت کو برا نہ لگ جائے اور وہ مجھے gender biased ہونے کا طعنہ نہ دے ڈالے۔
اب تو ہم اِس قسم کے محاورے بھی نہیں استعمال کر سکتے کہ کیا تم نے ہاتھوں میں چوڑیاں پہن رکھی ہیں یا مرد بنو مرد، وغیرہ، وغیرہ۔ سنا ہے کہ مغرب میں اب پرانی کتابوں کی تدوین کر کے انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مصنف نے کہیں کسی کی مردانگی کی تعریف کی ہے یا کہیں ہم جنس پرستی پر طنز کیا ہے تو اسے حذف کر دیا جائے گا۔ ہمارے ہاں اگر یہ رواج چل پڑا تو پوری اردو شاعری کو رد کر کے اسے نئے سرے سے لکھنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر راشد کی مشہور زمانہ نظم میں جہاں لفظ آدمی آتا ہے اسے تبدیل کر لے عورت بنانا پڑے گا اور پھر مصرع یوں ہو جائے گا کہ ”عورتوں سے ڈرتے ہو؟ عورتیں تو تم بھی ہو، عورتیں تو ہم بھی ہیں۔“ کوئی پتا نہیں کہ عورتیں اِس پر بھی تلملا اٹھیں۔ امریکی اداکار ٹام ہینکس نے کتابوں کی اِس قسم کی تدوین کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ چلیں اچھا ہے کوئی تو بولا، ہم بولتے تو کہتے کہ کیریکٹر ڈھیلا ہے۔
آج کے کالم سے اگر آپ میں سے کسی نے میرے بارے میں یہ رائے قائم کی کہ میں male chauvinist ہوں یا نسل پرست ہوں تو میں سمجھوں گا کہ میری ساری محنت اکارت گئی۔ میں تو صرف اِس بات کا افسوس کر رہا ہوں کہ اب ہم نیک نیتی سے وہ لطیفے بھی نہیں سنا سکتے جن پر چند سال پہلے تک ہم کھل کر قہقہے لگاتے تھے، اب تو ہر جملہ لکھنے کے بعد دس مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی فقرہ کسی کی نسل، جنس، قبیلے، ذات، مذہب یا رنگ پر طنز کے زمرے میں نہ لے لیا جائے۔ میں ہر گز نہیں سمجھتا کہ کسی کی کمزوری کو بنیاد بنا کر مزاح پیدا کیا جائے جیسے کہ ہمارے ہاں سٹیج ڈراموں میں خواجہ سراؤں یا معذوروں کا مذاق اڑایا جاتا رہا، لیکن اتنی آزادی ضرور ہونی چاہیے کہ ہم اچھے اور تخلیقی جملے اور لطیفے کی داد دیں اور محض اِس وجہ سے حساسیت کا شکار نہ ہوجائیں کہ اِس میں لفظ ’مین‘ آتا ہے۔ ویسے مین تو سپائڈر مین میں بھی آتا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ سپائڈر وومن فلم کب بنتی ہے!

