اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اسکینڈل: ایک تنقیدی زاویہ


گزشتہ ہفتے ایک واقعہ کی ایف آئی آر سے ایسی دھول اڑی ہے جس پر ایک ہفتہ بعد بھی بحث اور مباحثہ جاری ہے اور اب تک سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا سمیت الیکٹرانک میڈیا پر اس کی خبریں گردش کرتی رہی ہے۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس قدر بھیانک ہے کہ اکثر لوگ اس کو سانحہ کہتا ہے لیکن واقعی یہ واقعہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہے کیونکہ اس سکینڈل میں تعداد غیر معمولی ہے۔ تاہم کچھ ایسی خبریں بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تعداد درست اور authentic نہیں ہے۔

اس سانحہ کے کئی پہلو ہوں گے لیکن دو پہلو بالکل واضح ہے ایک تو یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد بہت ساری لڑکیوں کے لیے جامعات میں داخلہ لینا مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس خبر کے منظر عام پر آنے سے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جامعات سے ایسے لوگوں کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی لوگ تعلیم دشمن ہے اور ایسی پالیسیاں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جو طلباء کو مشکلات میں ڈال دیتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات جامعات میں رونما کیوں ہوتے ہیں؟ اس کے پیچھے اسباب کیا ہیں۔ یہ تبصرے بھی اکثر لوگ کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کے اسباب میں جنسی تشنگی پیوست ہے یا پھر یہ ایک مخصوص ذہنیت اور سوچ ہے جو ان جیسے واقعات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر میں متاثرہ طلباء کی تعداد غیر معمولی بتائی جا رہی ہے۔ شاید تعداد کو دیکھ کر ہی یہ خبر اس قدر پھیل گئی ہے کہ ہر عام و خاص اس پر افسوس بھی کر رہا ہے اور تبصرہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ہے۔

اس خطے میں ہر طبقہ فکر اور سوچ کے حامل افراد موجود ہے تاہم یہ سانحہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس قدر بڑا ہے کہ ہر فکر کے لوگ اس پر رائے پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو یونیورسٹی جانے کی اجازت دیں گے تب یہی حال تو ہو گا لیکن کچھ کا خیال ہے کہ اس میں طلباء بالکل قصوروار نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کافی طاقتور ہے اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر سب کچھ کرتی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس واقعے کو بڑھاوا نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس سوسائٹی میں ایسے سہمے ہوئے لوگ بھی موجود ہے جن کے لئے یہ واقعہ واقعی بہت بڑا اور دلخراش ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ ان لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے جو ان حالات سے ڈر کر اپنی اولاد کو تعلیم حاصل کرنے یونیورسٹی بھیجنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

جمہوری اصولوں پر کار بند ہوتے ہوئے سب کو یہ بات یاد رہنا چاہیے کہ ہر کوئی اپنی رائے دینے میں آزاد ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے مذکورہ تمام تر رائے اور دلائل اوپری سطح کے ہیں۔ پہلا نکتہ تو بالکل رجعت پسندی کا شاخسانہ ہے جو کہ کسی بھی نئی قدم کی صرف اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ وہ قدم اس جو قبول نہیں ہوتا ہے۔ باقی دونوں رائے کافی حد تک درست ہے لیکن جہاں تک یہ بات ہے کہ یہ واقعہ مستقبل میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ بن جائے گی تو انہیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ تشویش کی بات نہیں کیونکہ اب بھی ہزاروں لڑکیاں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو استطاعت رکھتے ہیں وہ بھی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے گریز کریں۔ دراصل بات یہ ہے کہ اس نظام میں ہی وہ تمام کوتاہیاں موجود ہیں جن سے ایسے واقعات جنم لے رہی ہیں۔

پاکستان میں اکثر جامعات میں اس قسم کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ یہ جامعات ادارے کی حیثیت سے مکمل طور پر با اختیار ہیں۔ تاہم یہی وجہ ہے کہ ان اداروں میں انتظامیہ اس قدر طاقتور ہے کہ ایک طالب علم اس انتظامیہ کی غلط اقدام پر سوال اٹھانا اور بات کرنا تو درکنار تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تعلیمی درسگاہوں میں طالب علموں کو کنٹرول کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہیں ایک آزادانہ ماحول میں سیکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی ہے۔ ان درسگاہوں میں طالب علم مختلف نوعیت کے پروگرام اور ہنر سیکھتے ہیں اور یہاں سے اپنی پڑھائی مکمل کو کے گریجویشن اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں مکمل کرتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس دورانیے میں طالب علموں کو بہت سارے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے شاید ہی کسی اور جگہ پر اتنی مشکلات سے دو چار ہوں گے جتنا کہ اس دورانیے میں ہوتے ہیں۔

جامعات کے انتظامیہ میں اکثر سرمایہ دار طبقہ کے لوگ مختلف عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ سرمایہ دار طبقے کی ترجیحات نچلے اور درمیانے طبقے کی لوگوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے ان کے لئے کسی طالب علم یا طالبہ کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کوئی مشغلہ بھی ہو سکتا ہے تاہم اسی وجہ سے انتظامیہ کے اکثر افراد طالب علموں کو بلیک میل کرتے ہیں اور انہیں ڈرا دھمکا کر چپ بھی کروا دیتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس طبقے میں کچھ ایسے طلباء ضرور ہوں گے جو یونیورسٹی محض تفریح کے لئے آتے ہیں لیکن ایسے کیسز بہت کم ہوتے ہیں۔

پاکستان میں جامعات کو اگر اس گندگی اور دلدل سے پاک کرنا ہے تو اس اقدام کی انسداد کے لئے چند چیزوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو عوام دوست پالیسی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایسی تمام اقدام اور پالیسی کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے جو تعلیم دشمن ہو، طلبا کے لئے مشکلات کا باعث ہو اور جس سے صرف انتظامیہ کو فائدہ ہوتا ہے ایسی پالیسی ختم کرنی چاہیے۔ ان کی جگہ متبادل پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے جو طلباء کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی اختیارات کو محدود کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس اختیار کا طلبا نے صرف غلط اور ناجائز استعمال دیکھا ہے، طلبا براہ راست ان اختیارات کی وجہ سے اکثر انتظامیہ کے شکار ہوتے ہیں۔ ان اختیارات کا اب تک استعمال ایسا نہیں ہوا ہے جس سے طالب علموں اور یونیورسٹی کو کوئی فائدہ پہنچا ہو۔ اس بے تحاشا اختیارات سے محض اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے اس کے علاوہ کوئی اور فائدہ نہیں ہے۔

تیسری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جامعات میں طلباء یونین کی بحالی اس وقت بھی ناگزیر ہو چکی تھی جس وقت ان پر براہ راست پابندیاں لگائی گئی لیکن طلباء یونین تاحال بحال نہ ہونے سے یقیناً طلباء نے بہت نقصان اٹھایا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ مگر اب طلباء یونین کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے طلباء یونین ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے طلباء ایک فلیٹ فارم کے ذریعے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر سکتے ہیں۔ اسی پلیٹ فارم سے طلباء کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ ایسی اقدامات کی مخالفت کرے جو کسی بھی حوالے سے طلباء کے لئے مشکلات کا باعث ہو۔

طلباء یونین کی بحالی جہاں ایک طرف طلباء کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بلاخوف اپنے ساتھ ہونے والی بے انصافی پر صدائے حق بلند کریں۔ تو دوسری طرف طلباء یونین سے طلباء بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس سے طلباء کو یہ بھی فائدہ ہو گا کہ وہ اپنی بات تنظیم کے ساتھیوں تک باآسانی پہنچا سکتا ہے۔ اس اسکینڈل کا یہ غیر معمولی تعداد بتاتی ہے کہ ممکنہ حد تک طلباء و طالبات نے ایسے واقعات پر خاموشی اس لئے اختیار کی تھی کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہو گا کہ وہ شکایت کرسکے اور کسی ایک فرد کے لئے صدائے حق بلند کرنا ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بعض کیسز میں یہ واقعات اس لئے منظر عام پر نہ آ سکی ہو کہ اس سے طالب علموں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہے لہذا انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوں گی ۔ طلباء یونین کی بحالی کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ایسی رونما ہونے والی واقعات کا سدباب اسی وقت ہی کیا جا سکتا ہے جب اس کے خلاف اسی وقت آواز اٹھائی جائے۔

طلباء یونین کی بحالی سے طالب علموں کے ہاتھوں میں اختیار آ جائیں گی اور دوسری طرف اس اسٹامپ پیپر کا بھی خاتمہ ہو جائے گا جو داخلہ لینے کے وقت طلباء سے جمع کرواتے ہیں۔ جس میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ نے کسی بھی سیاسی عمل میں حصہ نہیں لینا ہے بصورت دیگر آپ کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ اس پیپر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ طلباء کو ہر حوالے سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ انتظامیہ کے غلط اقدامات کے خلاف خاموشی اختیار کریں۔ یہ ایک مکروہ اسٹامپ پیپر ہے جس کے ذریعے طالب علموں کے ہاتھوں کو باندھ کر ان کی آنکھوں پر پٹی ڈال دیتی ہے تاکہ یہ لوگ باآسانی اپنا کام کرسکے لیکن اس اسٹامپ پیپر کا خاتمہ ناگزیر ہو چکی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی درسگاہوں میں طلباء کو سیکس کے حوالے سے باقاعدہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے اکثریت طلبا اس بارے میں جان جائیں گے کہ سیکس ایک نجی معاملہ ہے اور یہ ایک قدرتی عمل ہے جس کو کسی صورت کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تعلیمی درسگاہوں میں جنسی تعلیم دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں سیکس کے حوالے سے جو خوف ہے ممکن ہے کہ وہ کسی حد تک کم ہو جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ طاقتور لوگ ہمیشہ لوگوں کو سیکس کے حوالے سے بلیک میل بھی کرتے ہیں۔ اس بلیک میلنگ کی آڑ میں اکثر فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن جنسی تعلیم دینے سے ان کیسز میں بھی کسی حد تک کمی آ جائے گی۔

Facebook Comments HS