کیا پاکستانی درسگاہیں طالبات کے لئے غیر محفوظ ہیں؟
کہتے ہیں بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں، بیٹی کسی کی بھی ہو اس کی عزت و احترام ہر ایک کے دل میں ہونا چاہیے، مگر ہمارے ہاں معاملات اس کے برعکس ہو گئے ہیں، اور اب حالات اتنے سنگین ہو گئے ہیں کہ عزت و احترام تو درکنار، وہ عام زندگی میں لوگوں کی دست درازی اور فحش رویوں سے اگر خود کو محفوظ رکھ سکیں تو بہت بڑی بات ہوگی۔ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے گلستان جوہر کی ایک ویڈیو نے حیران سے زیادہ پریشان کر دیا جب ایک بظاہر پڑھا لکھا نظر آنے والے نوجوان نے وہ کیا جو شاید آج سے پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
دن دیہاڑے وہ ایک عام گلی میں برہنہ ہو گیا اور قریب سے گزرتی ایک با پردہ لڑکی کے ساتھ بد تمیزی کرنے کی کوشش کی، بالکل اسی طرح لاہور میں ایک رکشہ والا اپنی مسافر لڑکی کے ساتھ مسلسل فحش گفتگو کرنے کی کوشش کرتا رہا، جب بات نہ بنی تو موبائل پر فحش ویڈیو لگا لی اب بھی بات نہ بنی تو باقاعدہ دست درازی پر اتر آیا، یہ سب کیا ہے ہمارا معاشرہ دیگر اخلاقی تنزلی کے ساتھ ساتھ بدترین جنسی بے راہ روی کا شکار ہے جس کی بازگشت مسلسل سنائی دیتی رہتی ہے اور اب حالات اتنے زیادہ خراب ہو گئے ہیں کہ غیر تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی مسلسل اس گھناؤنے فعل کے مرتکب پائے جا رہے ہیں۔
ہم اگر بہت زیادہ دور نہ جائیں اور محض ایک دو سال کے اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں تو خود کو شرم سے پانی پانی ہوتا ہوا پائیں گے۔ 2021۔ 2022 میں سندھ کے ایک میڈیکل کالج کی پے در پے دو لڑکیوں نے خود کشی کی تھی، جس کی وجہ بھی جنسی ہراسانی تھی، کالج کے پرنسپل سے لے کر دیگر اسٹاف کی جانب سے مسلسل ہراساں اور بلیک میل کیے جانے سے تنگ آ کر ان دو طالبات نے اپنی زندگیاں ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، فکر انگیز امر یہ ہے کہ آخر کتنا زبردست دباؤ ہو گا کہ ان لڑکیوں پر کہ انہوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کو ترجیح دی۔
بالکل اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان کی مشہور زمانہ یونیورسٹی کے اسلامیات کے پروفیسر طالبات کو مسلسل بلیک میل کیا کرتے تھے کہ اگر ان کے شیطانی عزائم پورے نہ کیے گئے تو وہ طالبات کو فیل کر دیں گے، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ خواتین ساتھی اساتذہ کے ساتھ بھی گندا رویہ رکھتے تھے مگر ان کا کئی سال گزرنے کے باوجود کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا کہ وہ ایک سیاسی شخصیت کی پناہ میں تھے۔ مگر اللہ بھلا کرے ایک صحافی کا جنہوں نے اس شیطان صفت درندے کو نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ اسے سلاخوں کے پیچھے پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بظاہر حلیہ، عمر اور عہدے سے نہایت ہی معتبر، مہذب اور تعلیم یافتہ نظر آنے والا شخص دراصل ایک ہوس پرست، جنسی درندہ اور شیطان صفت انسان تھا جو جانے کتنی معصوم بچیوں کی زندگی خراب کرچکا تھا اور کتنوں کی زندگی خراب کرنے کے در پہ تھا۔ ان کا گھناؤنا کردار ان کی ظاہری شکل و شباہت سے ظاہر نہیں ہو پاتا، مگر یہ معاشرے کے ناسور اندر ہی اندر انسانیت کو بڑا نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔
ابھی ان واقعات کی بازگشت تھمی نہ تھی کہ بہاولپور کی یونیورسٹی کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا، جو ان سب سے زیادہ حساس اور قابل توجہ ہے، جس میں یونیورسٹی کے چند بہت ہی اعلی افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس بار فحش ویڈیوز کی بڑی تعداد کے ساتھ منشیات کے پکڑے جانے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ یہ ایک انتہائی سنگین اور فوری توجہ طلب معاملہ ہے اس قسم کے واقعات کا تعلیمی اداروں سے تواتر کے ساتھ خبروں میں آنا جن میں طالبات و خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جانا ایک معمول بن گیا ہو بہت ہی شرمندگی و تذلیل کا سبب ہے۔
دنیا بھر کے اخبارات، میڈیا اور سوشل میڈیا ان خبروں کی مسلسل تشہیر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک کی الگ بدنامی ہو رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے تو سرخی تک لگائی تھی جس میں کہا گیا کہ۔ پاکستان اپنی طالبات و خواتین کو درسگاہوں اور دفاتر میں جنسی ہراسانی سے بچانے میں ناکام رہا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو پائیں گے کہ سب کچھ ایک خاص نہج پر چل رہا ہے، گھناؤنے سے گھناؤنا جرم کرنے والا جرم کیے جا رہا ہے، پکڑا بھی جا رہا ہے، خبروں میں بھی آ رہا ہے، اس کے بعد معاملہ سرد خانوں میں بھی جا رہا ہے۔ ان معاملات میں کسی بھی ملزم کا مجرم ثابت ہونا ہنوز دلی دور است کے مصداق ہے۔ جبکہ ہمارے اردگرد ممالک جن میں چین، ایران یہاں تک کے افغانستان بھی شامل ہے میں اس طرح کے کریہہ جرائم میں ملوث لوگوں کو فوری سزائیں دی گئی ہیں، مظلوم کے سامنے ظالم کو موت کی سزا تک دی گئی۔
ان ممالک میں اس طرح کے جرائم میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں معاملات اور بہت ساری دوسری ترکیبوں سے بھی نمٹا دیے جاتے ہیں لہذا ہر سطح پر جرم کرنے والوں کے حوصلے بلند ہیں، اور انہیں بخوبی اس بات کا احساس ہے، بلکہ ان کے تعلقات صاحب ثروت و اقتدار لوگوں سے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زیادہ پریشان اور خوفزدہ نہیں ہوتے اور کھل کر کھیل رہے ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں اس طرح کے غیر اخلاقی ماحول و رویوں کے پنپنے کی بنیادی وجہ خصوصی اور باقاعدہ قانون کا نہ ہونا ہے، ہراسانی کے لئے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 509 کے تحت ہی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے، جس کے تحت اب تک تعلیمی اداروں میں بداخلاقی کے حوالے سے بہت ہی کم مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سلمان صوفی صاحب Safe Campus مہم چلا رہے ہیں ان کے ارادے بہت اچھے ہیں مگر اس کے نتائج ابھی طالبات تک نہیں پہنچ رہے ہیں، تعلیمی ادارے سے منسلک لوگ طلبہ و طالبات کو کسی بھی معاملے پر گھیر کر بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہی ہیں، جس کا نقصان اکثر جنسی ہراسانی یا خودکشی پر نکلتا ہے جو ایک نہایت ہی تکلیف دہ حقیقت ہے۔
تعلیمی اداروں کا ماحول تو بہت ہی نظم و ضبط والا ہونا چاہیے، بلاشبہ دیگر صحتمند غیر نصابی سرگرمیوں جیسے کھیلوں وغیرہ کی اجازت ہونا چاہیے مگر ماحول کو خراب کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس ضمن میں اعلی تعلیمی بورڈ کے لوگوں کو اس بات کا حکم دے کہ وہ تعلیمی اداروں کے لئے باقاعدہ ضابطۂ اخلاق مرتب کریں، قانونی ماہرین کو ساتھ ملا کر قانون سازی کریں، قانون کو باقاعدہ منظور کرائیں اور سختی و ایمانداری سے قابل عمل بنائیں، تاکہ کوئی بھی جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچے، اگر آج ان معاملات کو اہمیت نہ دی اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بہت ممکن ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے طالبات کے لئے درسگاہ کی بجائے جہنم نہ بن جائیں اور دنیا بھر میں اپنے ماحول کی خرابی اور طالبات کے لئے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے مزید بدنام نہ ہوجائیں۔


