ہیگل ایک فلسفیاتی معمہ ( 1 )
جرمن فلسفی، جارج ول ہیلم فریڈرک ہیگل، گزشتہ تین صدیوں کے دوران سب سے زیادہ جانے مانے اور سب سے کم سمجھ میں آنے والے فلسفی ہیں۔ ایک طرف جہاں وہ جرمنی میں وطن پرستی کی حمایت کرنے پر مورد الزام ٹھہرائے جاتے تھے وہاں نوجوان کارل مارکس کو جذبہ محرکہ فراہم کرنے پر قدر کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے تھے۔ اکیسویں صدی کے جدید فلسفے کے طلباء اور اساتذہ ہیگل سے محبت کریں یا نفرت، مگر ان کو نظر انداز کسی صورت نہیں کر سکتے۔
وہ تمام طلباء، پروفیسر اور فلسفی جو ہیگل کے معترف اور قدر داں تھے انھوں نے ایک نئی زبان سیکھی تھی جس کا نام ’ہیگالی زبان‘ تھا۔ ہیگل کے فلسفیاتی سوانح نگار ’فرٹز مین‘ ہیگالی کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں : ”ہم ہیگالی بول سکتے ہیں۔ مگر ہم خود بھی صحیح طور سے نہیں جانتے کہ ہم کہہ کیا رہے ہیں؟ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم ہیگالی بولنے پر قادر ہونے کے باوجود نہیں جانتے کہ ہم کہنا کیا چاہتے ہیں۔ چونکہ ہم یہ زبان اعتماد کے ساتھ بول لیتے ہیں اس لیے دوسروں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ دراصل ہم اس زبان سے لا بلد ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی دو دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ چونکہ وہ خود ہیگالی نہیں جانتے اس لیے کچھ نہیں بولتے یا پھر بہت اچھی طرح جانتے ہیں اس لیے ان پر ہماری دھاک بیٹھ جاتی ہے۔ اور ان کو اچھا لگتا ہے۔“
ہیگالی بولنا ایک کٹھن اور پیچیدہ ہنر ہے کیونکہ ہیگالی ایک مشکل دانشورانہ اور خیالی زبان ہے۔ جس کا ہر فقرہ کوئی پہیلی بوجھنے سے کم نہیں۔ ہیگل خود بھی غیر معمولی تصورات پر بحث کرنے اور گہرے نظریات قلم بند کرنے کے شوقین تھے۔ وہ اپنی کتاب ”فطرت کا فلسفہ“ میں لکھتے ہیں : ”فلسفے کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ عامیانہ خیالات پر پریشان ہوتا پھرے۔“
لوگ ہیگل پر جس قدر مباحث کرتے ہیں ان کی گفتگو وقت گزرنے کے ساتھ تصوراتی، مبہم، غیر واضح اور دھندلی ہوتی جاتی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات ان کی باتیں غیر حقیقت پسندانہ اور پریشان خیالی پر مبنی معلوم ہوتی ہیں۔ برٹرینڈرسل بیسویں صدی کے نہایت معتبر فلسفی تھے وہ ہیگالی پڑھتے ہوئے اس قدر مایوس ہو گئے کہ انھوں نے اپنی کتاب : ”اے ویسٹرن ہسٹری آف فلاسفی“ میں بڑے طنزیہ انداز میں لکھا: ”ہیگل کا فلسفہ ایک بات ضرور ثابت کرتا ہے کہ کوئی دلیل جتنی زیادہ لا یعنی ہو وہ لوگوں کی دلچسپی کو اتنا ہی زیادہ عروج بخشتی ہے۔“
ہیگل 1770 ء میں پیدا ہوئے اور 1831 ء میں وفات پا گئے۔ یہ ایک ہنگامہ خیزی کا دور تھا جب دنیا فرانسیسی انقلاب سے بیدار ہو رہی تھی۔ انھوں نے ایک نیا فلسفہ وضع کرنے کی کوشش کی جو دنیا کی تاریخ کی نئی وضاحت پیش کرتا ہے اور انسانیت کو عالمگیر آزادی اور جدیدیت کے لیے تیار کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان کے مبہم خیالات کو ٹھوس حقائق سے کوئی علاقہ نہیں تھا اور وہ ساری زندگی علمی بے آہنگی کا شکار رہے۔ کیونکہ جیسا وہ سوچتے تھے ویسا دراصل ہوا نہیں۔ اور جو ہوا ویسی ان کی سوچ نہیں تھی۔ ہیگل سیاست کی دنیا میں کوئی نام نہ کما سکے مگر فلسفے میں بلاشبہ ان کا ایک نام تھا۔ اپنے اوپر تنقید اور اعتراضات کی بہتات کے باوجود گزشتہ دو صدیوں میں ہیگل کی پراسراریت، تجسس انگیزی اور انوکھا اختلاف رائے، دنیا میں کم ہونے کی بجائے ہمیشہ بڑھتے ہی نظر آتے ہیں۔
ہیگل کے اجداد آسٹریا سے ہجرت کر کے جرمنی آ گئے تھے تاکہ وہاں وہ ایک پر امن زندگی گزار سکیں۔ اگر وہ آسٹریا میں رہتے تو پروٹسٹنٹ عیسائی ہونے کی وجہ سے کیتھولک سماجی ماحول میں ستائے جاتے، اذیت اٹھاتے یا سزا پاتے۔ ہیگل کو سخت مذہبی روایات ورثے میں ملی تھیں اور ان کے خاندان میں متعدد پادری موجود تھے۔ بچپن میں ہیگل کا اپنے والد کے ساتھ رشتہ قدرے کشیدہ تھا۔ مگر والدہ کے ساتھ ان کا محبت بھرا تعلق تھا۔ ماں نے نہ صرف ان کی جذباتی بلکہ علمی نشوونما بھی کی۔
وہ ان کو لاطینی پڑھایا کرتی تھیں۔ ہیگل ماں سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ماں کا خواب تھا کہ ہیگل الہیات کا علم حاصل کر کے عیسائی مبلغ بنیں گے اور اپنی برادری کی خدمت کریں گے۔ مگر ہیگل ابھی گیارہ برس کے ہی تھے کہ ان کی والدہ بیمار ہو کر چل بسیں۔ ہیگل پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور وہ جذباتی طور پر ماند پڑ گئے، خاموش ہو گئے بلکہ کچھ عرصہ ہکلاتے بھی رہے۔ ان کا اپنے والد کے ساتھ رشتہ مزید کشیدہ ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ہیگل اس کیفیت سے تو نکل آئے مگر لاشعوری طور پر انھوں نے اپنے دل کے ارد گرد ایک مضبوط دیوار کھڑی کر لی اور ساری زندگی اپنی والدہ کی کمی محسوس کرتے رہے۔
وہ کسی کے ساتھ اپنا رشتہ استوار نہیں کرتے تھے مبادا والدہ کی طرح اس کو بھی ایک دن کھو بیٹھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہیگل شرمیلے ہوتے گئے وہ کھوئے کھوئے رہتے اور اپنے من میں ڈوبے رہنا پسند کرتے۔ بالآخر انھوں نے کتابوں اور مبہم خیالات میں پناہ تلاش کر لی۔ وہ محسوس کرنے سے زیادہ سوچتے ہوئے اچھا محسوس کرنے لگے۔ پھر کیا ہوا کہ ان کے دل اور دماغ کے درمیان ایک خلیج بن گئی اب ان کی فکر اور جذباتی زندگی کے درمیان خلا پیدا ہو گیا۔
وہ زندگی کو دلیل، ذہانت اور فلسفے کے تناظر میں دیکھنے لگے۔ زندگی سے مراد اس کے تمام پہلو تھے یعنی ذاتی، سماجی، روحانی اور سیاسی زندگی۔ وہ جیسے جیسے خیالات کے قریب آتے گئے اسی قدر احساسات سے دور ہوتے گئے۔ وہ لوگوں کو ایک بازو کے فاصلے پر رکھتے۔ حتیٰ کہ بلوغت کے زمانے میں جب لوگ جذباتی اور موج مستی میں ہوتے ہیں، ہیگل اس عمر میں بھی سنجیدہ، غیر مضطرب اور پرسکون تھے۔ اپنی ڈائریوں میں بھی ہیگل نے زندگی کے ساتھ اپنے تجربات لکھنے کی بجائے دوسرے فلسفیوں کے اقوال لکھے ہیں۔ ہیگل کی سوانح نگار پنکارڈ نے لکھا: ”ہیگل کی نوجوانی کے زمانے کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں ان کی سوچ تبدیل ہوئی مگر بلوغت کے دنوں کے بارے میں ان کی ڈائری خاموش ہے۔ وہ اپنے بارے میں اپنے احساسات کے بارے میں بہت کم ظاہر کرتے تھے ان کے کردار کی یہ خاصیت ساری زندگی پر محیط ہے۔“
الہیات کی تعلیم حاصل کر کے مبلغ بن کر لوگوں کی خدمت کرنے کی غرض سے نوجوان ہیگل نے ٹوبن یونیورسٹی (جرمنی) میں داخلہ لیا تاکہ دینی تعلیم حاصل کر کے پادری بن جائیں اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کر سکیں۔ دور طالب علمی میں ہیگل نے کچھ اساتذہ، طلباء اور فلسفیوں کے ساتھ علمی دوستی کر لی۔ اس اہم پیش رفت سے ہیگل کے مزاج پر چھائی پژمردگی کسی قدر کم ہوئی اور اس تبدیلی کا اثر تمام عمر ان کی علمی اور پیشہ وارانہ زندگی پر رہا۔ ہیگل فلسفے کے پرانے استاد ”جیکب فریڈرک واں ایبل“ سے بہت متاثر ہوئے۔ ایبل بھی ہیگل کو پسند کرنے لگے پھر ان کی پسند اس قدر بڑھی کہ ایبل نے ہیگل کو شاگرد خاص بنا لیا۔ انھوں نے ہیگل کو ”کانٹ“ سے متعارف کروایا اور کانٹ پر ایک مضمون :
(NATURE OF SPECULATIVE REASON FOR A TEST OF THE KANTIAN SYSTEM) لکھ ڈالا۔ ’ایبل‘ انسانی زندگی میں خدا کے کردار اور انسانیت اور الوہیت کے آپس میں رشتے سے متعلق مباحث اور مکالمے کا شوق رکھتے تھے۔ ہیگل ایسے دلچسپ مباحث میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ چونکہ ایبل، کانٹ سے متفق نہیں تھے۔ اس لیے ان کے شاگرد خاص ہیگل پر بھی کانٹ مخالف نظریات اوائل جوانی میں ہی آشکار ہو گئے۔ یونیورسٹی میں ہیگل نے گاٹ ہوڈ لیسنگ کو بھی پڑھنا شروع کر دیا۔
جو اس نظریے کو فروغ دے رہے تھے کہ تمام مذاہب میں ضبط و برداشت کی تعلیمات مشترک ہیں۔ لیسنگ اس بات کا پرچار کرتے تھے کی مختلف مذہبی روایات کے ماننے والے ایک دوسرے کے اعتقادات کا احترام کریں اور آپس میں امن سے مل جل کر رہیں۔ وہ اس نظریے کے پرچارک تھے کہ دنیا بھر کے انسان کثیر الجہت ہیں۔ ایک انسان بیک وقت مذہبی بھی ہو سکتا ہے اور باشعور بھی، وہ جذباتی بھی ہو سکتا ہے اور روشن خیال بھی۔ اور وہ بیک وقت اپنی اساطیر پر فخر کرنے کے باوجود دوسروں کی روایات کا احترام بھی کر سکتا ہے۔
وہ ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتے تھے جہاں لوگ مذہبی ہونے کے باوجود روشن خیال ہوں۔ لیسنگ نے ہیگل کو قائل کیا کہ وہ ان کا پادری اور مذہبی پیشوا بننے والا خواب پورا کریں گے۔ لیکن اس وقت تک ہیگل دو اور ہم جماعت طلباء سے مل چکے تھے جنھوں نے آگے چل کر ہیگل کی زندگی کا رخ متعین کرنا تھا۔ اور وہ تھے : فریڈرک ہولڈرن اور فریڈرک شیلنگ۔
ہولڈرن کا خواب ایک مشہور شاعر بننے کا تھا جبکہ شیلنگ ایک بہت بڑے فلاسفر اور پروفیسر بننا چاہتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تینوں : ہیگل، ہولڈرن اور شیلنگ ایک ہی کمرے میں رہ رہے تھے۔ تینوں ہم جماعت دوست کئی کئی گھنٹے آپس میں مذہب، آرٹ، سیاست اور فلسفے پر سیر حاصل گفتگو کرتے رہتے۔ شیلنگ عمر کے لحاظ سے چھوٹے تھے مگر ذہانت تجسس اور فلسفیانہ بلوغت کے اعتبار سے باقی دونوں طلباء سے بڑے تھے۔ تینوں دوست 1789 ء کے انقلاب فرانس سے متاثر تھے۔
اور جرمنی کی سیاست سے مایوس تھے۔ تینوں دوست سیاسی آزادی سے اس قدر متاثر تھے کہ انھوں نے ”آزادی کا ایک درخت“ لگایا۔ اور اس کے گرد رقص کیا۔ انھوں نے ایک سیاسی کلب بھی قائم کیا تاکہ انقلاب فرانس کے جرمنی، یورپ اور دیگر دنیا پر مرتب ہونے والے اثرات کو زیر بحث لا سکیں۔ ایسا روشن خیال کلب، روایتی سیاستدانوں اور قدامت پسند مذہبی پیشواؤں کو کانٹے کی طرح چبھنے لگا۔ لہٰذا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا۔ سیاسی کلب یوں تو ختم ہو گیا مگر ہیگل کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکا تھا۔
اس سے ہیگل کو یہ تحریک ملی کہ ان کو ایک فکری انقلاب کا حصہ بن جانا چاہیے۔ ایک ایسا انقلاب جو قدامت پسند مذہبی، سماجی اور سیاسی روایات کو چیلنج کرتا تھا۔ ہیگل ”ژان جیکو رؤسو“ کے نظریات سے بھی متاثر تھے جنھوں نے انقلاب فرانس میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہیگل، ہولڈرن اور شیلنگ کے ساتھ مباحث اور روسو سے متعلق سوچ بچار کے بعد ترقی پسند اور روشن خیالات نظریات سے اتنے متاثر ہو چکے تھے کہ انھوں نے اپنے پیشہ وارانہ مستقبل کی سمت تبدیل کر لی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پادری یا مذہبی پیشواء بننے کی بجائے ایک فلسفی اور پروفیسر بنیں گے۔ (جاری ہے )
(بحوالہ : کتاب CREATIVE MINORITY: : مصنف، ڈاکٹر خالد سہیل)


