اسلامیہ یونیورسٹی کا واقعہ جھوٹا ہے


سلام عرض، یہ جو ان دنوں سوشل میڈیا پہ چل رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی کبھی سچ بولا ہے بھلا؟ میں خود ایک نامور یونیورسٹی کا فارغ التحصیل بندہ ہوں، مجھے سب پتا ہے۔ جس یونیورسٹی سے میں نے ڈگری کی، وہ اسلامیہ یونیورسٹی جیسی ہی تو ہے۔ ویسا ماحول، ویسی لڑکیاں، ویسے لڑکے اور ویسے ہی استاد۔ جب ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوا تو وہاں کیسے ہو گیا؟ سب لغو بات ہے اور پراپیگنڈا ہے۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

ہاں جھوٹی باتیں سنتے تھے کہ فلاں لیکچرار نے فلاں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پہ ہراسمنٹ کا الزام لگایا۔ اب اس کی تصدیق تھوڑی کی جا سکتی ہے۔ وہ لیکچرار ہی بڑی خوبصورت تھی، اوپر سے مزاج کی بھی اچھی تھی، غلطی ہو گئی ہو گی بابا جی سے۔ بیچاری غلطی سے اس کو ہراسمنٹ سمجھ بیٹھی ہو گی۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

وہ ایک ساٹھ سالہ پروفیسر نے اٹھارہ سال بچی سے بیاہ بھی رچا لیا تھا۔ وہ بچی کی خواہش تھی دراصل۔ اس نے ان کی تعلیمات سے متاثر ہو کر خدمت کا ارادہ کر لیا اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ بے شک عمر کا فرق دادا پوتی والا ہو، نامحرم نامحرم ہی ہوتے ہیں، تو استاد محترم نے جائز طریقہ یہ نکالا کہ بٹیا نکاح کر لو، پھر شرعی عذر باقی نہیں رہے گا اور تم جی بھر خدمت کر لینا، الگ گھر میں جہاں میری بقیہ اولاد تم کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ مجبور کرنا یا مجبوری کا فائدہ اٹھانے جیسی اس میں کوئی بات نہیں۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

ایک بار ایک صاحب وائس چانسلر بن گئے اور بذات خود لڑکا لڑکی کو ساتھ بیٹھا دیکھ کر ان سے جا کر رشتہ پوچھتے۔ ساتھ بیٹھنے پر ان کا نام نوٹس بورڈ پر لگوا کر ہزار روپے کا جرمانہ بھی کر دیتے۔ بھائی یہ تو اخلاقیات کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ نیک صفت انسان تھے، بے راہ روی کو روکنا چاہتے ہوں گے۔ ان کی نیت پہ شک نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے جانے کے بعد کئی لوگوں نے ان کے متعلق بھی ایسی باتیں کیں۔ یقیناً وہ سب بھی جھوٹی تھیں۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔ ویسا کسی نے یہ بھی اڑائی تھی اس سے قبل جہاں تھے، وہاں ان پہ لڑکیوں کی موجودگی میں دفتر کا دروازہ بند کرنا منع کر دیا گیا تھا۔

سنا تھا، ایک لائبریرین تھا جو رجسٹر سے نقاب پوش لڑکیوں کی تصاویر اکھاڑ کر اپنا پاس رکھ لیا کرتا تھا اور ان کو کہا کرتا تھا کہ پوری یونیورسٹی میں صرف میں نے آپ کا چہرہ دیکھا ہے۔ ماشاءاللہ بہت پیاری ہیں۔ یہ تو اس نے نیک نیتی سے تعریف کی ہو گی۔ تعریف تو عورت کی کمزوری ہے۔ اس کو بھی ہراسمنٹ نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

ایک مولوی صاحب بھی تھے۔ جو ہر لیکچر میں یہ بھی بیان کیا کرتے تھے کہ جنسی طور آج کے دور کا نوجوان کس قدر ناقص ہے اور وہ آج بھی چار بیویوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ بہانے بہانے سے وہ لڑکیوں کو اپنے دفتر میں بلانے کی کوشش کرتے۔ ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ ان کی بیگم جنسی طور پہ ان سے کتنی مطمئن ہیں۔ یہ سب ان کی معصومانہ بھڑک تھی۔ یہ قطعی ہراسمنٹ نہیں ہے۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

وہ جو لڑکا لڑکی کے ساتھ بیٹھنے کی تعداد کو کم از کم پانچ مقرر کیا گیا تھا، وہ اس لیے تھا کہ ان کے ساتھ بیٹھنے کو کوئی معاشقہ نہ سمجھ بیٹھے۔ ارے بھائی اس سے لڑکا لڑکی دونوں کی شہرت متاثر ہوتی ہے۔ ہر چیز کو منفی رنگ دینا اچھی بات نہیں ہوتی۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

لڑکیاں بار بار موبائل نمبر تبدیل کرتی تھیں۔ بس عادتاً مجبور تھیں، پتا نہیں کس مکار نے خبر اڑائی تھی کلرک حضرات فارموں سے ان کے نمبر لیک کرتے تھے۔ مجھے تو یقین نہیں اس افواہ پہ، کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

ایک لڑکا اس وجہ سے فیل ہو گیا کہ اس کی گرل فرینڈ ایک پروفیسر صاحب کو پسند تھی۔ ارے بھئی اپنی بیٹی کے طور پر پسند ہو گی۔ لڑکی کا اصلی باپ بھی ہوتا تو اپنی بیٹی کے بوائے فرینڈ کو فیل کر دیتا۔ پتہ نہیں لوگ کیا کچھ سوچ لیتے ہیں۔ استاد بھی باپ ہوتا ہے۔ وہ بھی باپ نکلا۔ بلاوجہ اس کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

کچھ تھیں جھوٹی مکار لڑکیاں جنہوں نے نیک صفت مردوں پر الزام عائد کیے۔ انتظامیہ نے پورے انصاف کے ساتھ ان کو ان کے کیے کی سزا دی۔ یہ ثابت کیا کہ وہ سب کی سب بد کردار ہیں۔ ان کے اپنے بہت معاشقے چل رہے ہیں، استاد نے روکا ہو گا تو انہوں نے استاد پر ہی الزام دھر دیا۔ کہتی ہے مجھے کہتا ہے باہر دھوپ میں خوار ہو رہی ہو اپنے یار کے ساتھ، میرے ساتھ اے سی والے کمرے میں بیٹھو۔ اب بھلا کوئی اس سے پوچھے، اے لڑکی یہ تو انہوں نے تمہیں گرمی سے بچانے کی نیکی کی ہے۔ تم اس کو اپنے ساتھ ہراسمنٹ سمجھ رہی ہو۔ تم کچھ نہیں جانتی ہم جانتے ہیں۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

کچھ وائس نوٹس بھی رپورٹ کیے گئے تھے، مگر کسی دوسرے کی آواز نکالنا کون سا مشکل کام ہے۔ بندے کا موبائل چوری ہو سکتا ہے اور پھر اس چوری شدہ موبائل سے اسی کی آواز میں وائس نوٹس مختلف خواتین کو کوئی ناہنجار بھیج سکتا ہے۔ اپنی ذرا نامناسب تصویریں بھیج سکتا ہے جن میں چہرہ نہیں ہوتا۔ یہ سب نیک لوگوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے، اس میں سچائی کوئی نہیں۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

وہ جو ایک لڑکی اچانک درمیان میں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اس کے متعلق کچھ افواہیں آئی تھیں۔ ارے ان کا کیا ہے کون سا کوئی ثبوت ہے۔ ویسے ہی دل نہیں مانا ہو گا تو یونیورسٹی چھوڑ دی۔ لڑکیاں من موجی ہوتی ہیں، انھوں نے کون سا کمانا ہوتا ہے۔ جب دل کیا چھوڑ دیا۔ کوئی غلط خیال دل میں نہ لائیں، کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

یہ جو منشیات اور پورن والی بات ہے، یہ تو سرے سے جھوٹ کا پلندا ہے۔ ہماری یونیورسٹی کے سرور پر تو پورن کھلتی ہی نہیں تھی۔ اس کے لیے اپنی وائی فائی ڈیوائس خریدنی پڑتی تھی۔ لڑکے تھوڑی بہت تعلیم کی سٹریس کو کم کرنے کی خاطر چرس یا کوئی کوئی دل جلا شراب پی لیا کرتا ہو گا۔ اب یہ اس کا ذاتی فعل ہے ہم اس پر کیا بات کریں۔ اس کا گناہ ثواب اس کے ذمے۔ ہاں کچھ لڑکیاں ایسا کرتی تھیں، بڑی لوز کریکٹر تھیں وہ تو۔ چلو ہمیں کیا، ان کا ذکر کرنا ہی بری بات ہے۔ ویسے ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

جی آپ کو کیا بتاؤں، ہمارا ماحول تو اتنا پاکیزہ تھا کہ مت پوچھیے۔ ہر لڑکا ہر لڑکی کو اپنی بہن سمجھتا تھا۔ مجال ہے جو کبھی کسی لڑکی کا ذکر لڑکوں میں ہوا ہو۔ مجال ہے کبھی کسی نے کہا ہو کہ فلاں تیری بھابھی ہے۔ مجال ہے کبھی کسی نے کسی کے زیرجاموں کے رنگوں پہ تبصرہ کیا ہو۔ مجال ہے جو کسی نے فگر جیسا لفظ بھی منہ سے نکالا ہو۔ توبہ ہے جو کسی نے کسی کے متعلق غلط افواہ پھیلائی ہو۔ حرام ہے جو کسی لڑکی کے نمبروں کو کسی نے جسم کی کمائی کہا ہو۔ قسم لے لو جو کسی لڑکی کی کبھی کوئی نازیبا تصویر لیک ہوئی ہو۔ حلف اٹھوا لو جو لڑکی کے پیچھے کبھی ٹیچر یا سٹوڈنٹ کی لڑائی ہوئی ہو۔ حرام ہے جو کبھی کسی نے کسی لڑکی کی چال دیکھ کر اس کی گزشتہ رات پہ کوئی جملہ کسا ہو۔ کیونکہ ہماری یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہوتا۔

ہر ڈیپارٹمنٹ میں بڑے واضح بورڈ لگے ہوئے تھے، خواتین کی حفاظت کے پیش نظر۔ تصویریں لگا کر سمجھایا گیا تھا کہ کوئی ہاتھ لگائے یا چھیڑے تو کس سے رابطہ کرنا ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو لڑکیاں ضرور رابطہ کرتیں۔ ویسے بھی اچھے گھر کی لڑکیاں تو چپ رہتی ہیں۔ اچھے گھر کی لڑکیاں مثبت سوچتی ہیں۔ ہاتھ وغیرہ لگ جائے یا کوئی اور چھیڑ چھاڑ ہو جائے یا کوئی غلط بات بول دے، تو اس کو دل پہ نہیں لینا چاہیے۔ رپورٹ کرنے سے کسی کی ساکھ اور کسی کی پوری زندگی خراب ہو سکتی ہے۔ تھوڑی سی برداشت سے کسی کی زندگی بچتی ہو تو یہ احسن فعل ہے۔ اگر اگلا انتقامی کارروائی پہ آ گیا تو جیسے ایک لڑکی پر کسی نے تیزاب پھینک دیا تھا، جیسے ایک لڑکی کو کسی نے بدکردار ثابت کر دیا تھا اور ایک لڑکی کا گھر سے نکلنا مشکل کر دیا تھا، ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔ اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ چپ چاپ سب برداشت کرنا چاہیے۔ لڑکیوں میں نزاکت اچھی لگتی ہے، آگے سے منہ توڑ جواب دینا یا مزاحمت کرنا تو عجیب کرختگی کا تاثر پیدا کرتا ہے۔

جس طرح ہماری یونیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورمیں بھی ایسا کچھ نہیں ہوا۔

Facebook Comments HS