اداروں کا احترام اور مستقبل کا اظہار بیان


اس وقت مملکت خداداد پاکستان میں مختلف موقر اداروں کی عزت اور تکریم کی حفاظت کے لیے مختلف قوانین ہیں۔ ان میں سے کچھ پہلے سے موجود تھے اور کچھ حال ہی میں بنائے گئے ہیں۔ چونکہ میں ایک قانون پسند شہری ہوں لہذا آج کے بعد میری تحریریں مندرجہ ذیل خطوط پر ہوں گی۔

1۔ توہین عدالت کا قانون

پاکستان میں عدلیہ کا ماضی شاندار روایات سے مزین ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام اور عام آدمی کو جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے میں ملک کی تمام عدالتیں جس تندہی سے مگن ہیں وہ فرض شناسی اور دیانت داری کی قابل تقلید مثالیں ہیں۔ پاکستان میں جب بھی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ لکھی جاتی ہے دو چیف جسٹس صاحبان کے نام خصوصی احترام سے لیے جاتے ہیں اور ان کے لکھے ہوئے عدالتی فیصلوں کو بے مثال نظائر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان دو شخصیات کا نام لینے سے پہلے لوگ عام طور پر ان کے ادب میں بہت سے سابقوں اور لاحقوں کا اضافہ کرتے ہیں لیکن ان کو عرف عام میں جسٹس محمد منیر اور جسٹس انوار الحق کہا جاتا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کے لکھے ہوئے فیصلے زبان و بیان کی چاشنی اور ادبی چٹخارے کے لحاظ سے بھی نہایت اعلیٰ ذوق کے حامل ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں دو جج صاحبان نے خاص طور پر کئی ایسے فیصلے لکھے جو اگر عدالتی فیصلے نہ ہوتے تو ادب کے نوبل پرائز کے حقدار ٹھہرتے۔ سید نسیم حسن شاہ صاحب اور آصف سعید کھوسہ صاحب دونوں بلند پایا ادبی ذوق رکھنے والے چیف جسٹس تھے اور ان کا آپس میں سسر اور داماد کا رشتہ بھی تھا۔ کھوسہ صاحب نے تو اپنے فیصلوں کے توسط سے کئی گم گشتہ ادبی کرداروں کو بھی پاکستان میں متعارف کروایا۔ گویا ہمارے جج صاحبان ایک ہمہ گیر شخصیت کے حامل تھے۔

50 کی دہائی کے آخری اور 60 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں جب ملک بہت سے نازک ادوار میں سے ایک سے گزر رہا تھا مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ایک چیف جسٹس صاحب نے خوا مخواہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے وسیع تر قومی مفادات کو پسے پشت ڈالتے ہوئے ہمارے عظیم قائد فیلڈ مارشل ایوب خان صاحب کی شان میں گستاخیاں شروع کر دیں۔ لیکن خان صاحب نے بھی ان کی ایک تقریر کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ کاش آپ اپنے فیصلے لکھتے ہوئے بھی اتنی ہی محنت کرتے جتنی آپ نے یہ تقریر لکھنے میں کی۔ ایوب خان صاحب کے اس برجستہ استہزائی جواب کو سول سروسز اکیڈمی میں موجود حاضرین نے خوب سراہا۔ عدلیہ کی شاندار روایات کے تحفظ اور ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ان کی صاحب کو سپریم کورٹ نہیں بھیجا گیا اور چونکہ پاکستان کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے لے رکھا ہے تو اللہ تعالی نے اس ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے انہیں جلد ہی اپنے پاس بلا لیا۔ آج محمد رستم کیانی کو پاکستان میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور ایک زندہ اور محب وطن قوم کو اس قسم کے کرداروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے۔

صاحبو، لکھنے کو تو بہت کچھ ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک نگینہ ہماری عدالتی تاریخ کا حصہ ہے۔ اگر میں موجودہ چیف جسٹس صاحب کے اوصاف بیان کروں گا تو حاسدین کے نزدیک یہ خوشامد ہوگی اور پھر اصل تعریف تو وہ ہوتی ہے جو کسی شخص کے ان کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد کی جائے۔ لہذا میں اس بارے میں فی الحال خاموشی اختیار کرنے کو راستی اور دانائی سمجھتا ہوں۔

ارے صاحب! یہ کہنا تو بھول ہی گیا کہ جس طرح ہماری عدالتوں نے اپنے آپ کو سیاست سے پاک رکھا ہے یہ ان کا ہی خاصہ ہے۔ دنیا میں اپ کو ایسی غیر جانبداری کی مثالیں بہت کم ملیں گیں۔

2۔ توہین پارلیمنٹ کا قانون

پاکستان میں پارلیمنٹ کی تاریخ نہایت روشن، شاندار اور قابل تقلید ہے۔ ہماری پارلیمان نہایت پڑھے لکھے، مہذب، دانشمند، فہم و فراست سے بھرپور، خوش کلام عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہے۔ مندرجہ بالا اوصاف پارلیمان کی محض ایک ہلکی سی جھلک ان تقاریر میں بھی نظر آتی ہے جو ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں کی جاتی ہیں۔ مجال ہے جو ایک بھی غیر پارلیمانی لفظ کسی تقریر میں آ جائے۔ دنیا بھر کے ممالک پاکستان میں متعین اپنے سفیروں کو وقتاً فوقتاً ہماری قومی اسمبلی کی کارروائی کا مشاہدہ کرنے کے لیے بھیجتے ہیں تاکہ ان ممالک کے پارلیمانوں کو بھی اسی طرز پر ترقی دی جا سکے۔

اوہو! دیکھیے صاحب کتنی اہم بات تو میں بھول ہی گیا۔ دیانت داری اور بے لوثی تو ہمارے پارلیمنٹیرین کا وصف خاص ہے۔ اسی لیے ان میں سے بیشتر اپنا گزارا اس قلیل رقم میں ہی کرتے ہیں جو انہیں بطور پارلیمنٹیرین تنخواہ اور مراعات کی مد میں ملتی ہیں۔ تاہم یہ احسان شناس قوم ان سے وقتاً فوقتاً درخواست کرتی رہتی ہے کہ اپ اپنے اس محنتانے میں کچھ، قلیل سا ہی سہی، اضافہ کر لیں جسے یہ عالی ظرف حضرات طوعاً و کرہاً شرف قبولیت عطا کر دیتے ہیں۔

ہمارے پارلیمنٹ کی اس درخشندہ تاریخ کو کئی ادوار میں بانٹا جا سکتا ہے۔ سب ادوار کا ذکر کرنے کے لیے تو ایک جامع تصنیف کی ضرورت ہوگی تاہم ایک دو اہم گوشوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہماری پہلی قانون ساز اسمبلی نے آئین کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے نو سال کے طویل عرصے تک انتہائی غور و خوض اور باریک بینی سے کام لیتے ہوئے آئین کو مرتب کرنے کا کام سرانجام دیا اس دوران دنیا بھر میں بہت نشیب و فراز آئے، دنیا گوناگوں حادثوں کا شکار ہوئی، امریکہ اور کوریا کی جنگ جیسے واقعات ہوئے، چین میں انقلاب آیا، ہندوستان نے آئین بنا لیا، پاکستان میں ایک وزیراعظم شہید ہو گئے، کئی وزرائے اعظم تبدیل ہو گئے لیکن ہماری آئین ساز اسمبلی کی یکسوئی پر ان میں سے کوئی شے بھی اثر انداز نہ ہو سکی اور اس نے 1956 میں آئین بنا کر ہی دم لیا۔

75 سال کے تجربے کے بعد اب ہماری پارلیمان ایک منجھی ہوئی پارلیمان ہے لہذا اب اسے قانون سازی میں کوئی دقت نہیں پیش آتی اور نہ ہی اس میں کوئی تاخیر ہوتی ہے۔ یہ ایک ایک دن میں درجنوں قوانین بنا لیتی ہے۔ تاہم کچھ ناعاقبت اندیش حاسدین اس شاندار کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اسے باٹا اور سروس کی کارکردگی کے مقابلے میں کم گردانتے ہیں۔

3۔ توہین افواج کا قانون

دوستو میری آج کی تحریر بس یہیں پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

پس نوشت:

ہم نے بی اے میں فارسی کو بطور آپشنل مضمون کے چنا۔ استاد محترم خواجہ عبدالحمید یزدانی صاحب نے نہایت شفقت اور محبت سے فارسی پڑھائی۔ دوسری طرف ایف اے میں اردو کے استاد محترم صدیق جاوید صاحب نے نہایت لگن سے ہم کور ذوقوں کو اردو شاعری اور نثر پڑھائے جس میں پطرس کا مضمون ’کتے‘ بھی شامل تھا۔ انہی دو اساتذہ کے طفیل فارسی کے دو شعر آج بھی یاد رہ گئے ہیں جو اپ کی نذر کیے دیتے ہیں۔ ان اشعار کا اس تحریر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میرے محترم اساتذہ کرام کا بھی اس تحریر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلا شعر عرفی کا ہے جسے مکرمی و محترمی لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب مدظلہ، حال کور کمانڈر کوئٹہ نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں 2019 میں استعمال کیا۔ میری چونکہ فارسی سے شناسائی انہی دو اشعار تک محدود ہے لہذا شعر کے اچھا ہونے کے لیے میں پطرس سے زیادہ جناب آصف غفور صاحب کی سند پر بھروسا کر رہا ہوں۔

عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدا را

دوسرا شعر سعدی شیرازی کا ہے جو بادشاہوں کے مزاج کے بارے میں ہے۔ یہ شعر اب ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

گاہے بہ سلا مے بہ رنجند
گاہے بہ دشنام خلعت بہ بخشند

نوٹ: اگر آپ کو ان شعروں کے معنی سمجھ میں نہیں آئے تو گوگل کر لیں لیکن اگر آپ کو ان کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا تو اس بندے کو معاف کر دیجئے گا کہ یہ نہ جانے کیا کیا بک رہا ہے جنوں میں۔

Facebook Comments HS