انصاف میں پاکستان کا پہلا نمبر اور اسلامیہ یونیورسٹی


جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس مولوی مشتاق کے پیروکاران، عقیدت مندان اور مقلدین میں افتخار چوہدری، گلزار اور ثاقب جیسے سینکڑوں چہرے آپ کے سامنے آ جائیں گے۔ دنیا بھر میں اعلی اور سستا ترین انصاف فراہم کرنے والوں نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن اور بلند کر دیا۔ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے ملزمان کو وی وی آئی پی پروٹوکال کے ساتھ وی آئی پی محافظ دستوں کی نگرانی میں وی آئی پی گیٹ سے اپنے دربار میں عالی شان استقبال کر کے، ان کو تمام تر مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کے پروانے تھما کر یہ احکامات بھی صادر فرمائے گئے کہ آئندہ بھی درج ہونے والے کسی مقدمے میں اس مقدس گائے کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ محترمہ نصرت بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو ہی کیا اللہ جانے اور کن کن مظلومین کی درخواستیں مہینوں اور سالوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے حصول انصاف کی منتظر ہیں لیکن ملکی سلامتی پر حملہ آور ہونے والے کی عظمت بلکہ رعب اور دبدبہ ایسا کہ انصاف کے مندر کے رات گئے بھی دروازے کھول دیے گئے محض وسیع تر ملکی و قومی مفاد میں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے منشیات اور سیکس اسکینڈلز پر پوری دنیا میں ماشاء اللہ جو پاکستان کی تاریخی بلکہ فقیدالمثال ذلت اور رسوائی ہوئی ہے وہ یقیناً پاکستان کے نظام احتساب، انصاف اور عدل کے لیے کسی تمغۂ شجاعت اور تمغۂ حسن کارکردگی سے کم نہیں۔ پاکستان کا شمار ان ٹاپ ٹین ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں انصاف فراہم کو دنیا میں سب سے زیادہ آسائشیں اور مراعات حاصل ہیں۔ تاریخ شاہد ہے انصاف کے ان ایوانوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت اور مظلومین کو سب سے زیادہ انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان جیسے پسماندہ ملک کہ خواندگی کی شرح پچیس سے تیس فیصد بتائی جاتی ہے۔ خواندگی کا معیار یہ بتایا جاتا ہے کہ جو شخص اپنا نام لکھ یا پڑھ سکے وہ خواندہ ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں کہ جہاں نیس سے پچیس فیصد غریب بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ وہاں بچوں کو تعلیم دلوانا کسی عیاشی سے کم تو نہیں اور سرکاری اسکولوں اور کالجز اور اب تو ماشاء اللہ سے جامعات کے معیار تعلیم پر بھی سوائے سوالیہ نشانات کے کچھ نظر نہیں آتا۔ آج پاکستان میں پرائیویٹ ایجوکیشن سیکٹر کو ایک زبردست انڈسٹری مانا جاتا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی کے منشیات اور جنسی ہراسمینٹ اور بے راہ روی کے اسیکنڈلز کا اگر بلاتاخیر ازخود نوٹس لیا جاتا تو۔ نتیجہ بے شک کچھ بھی نہ نکلتا کیوں کہ جن کو شکنجے میں لانا ضروری ہے ان کو تو ضمانت قبل از گرفتاری کے پروانے تھمائے جاتے ہیں۔

اگر سیاسی وابستگیوں اور ذاتی رشتے داریوں کو بالائے طاق رکھ کر وجیہہ عروج 2001 ء پنجاب یونیورسٹی ایم اے انگلش کی طالبہ جسے فائنل رزلٹ میں یونیورسٹی نے فیل قرار دیا کہ وہ ایک پیپر میں غیر حاضر تھی۔ کراچی یونیورسٹی کی طالبہ نادیہ اشرف کی خودکشی، دیگر میڈیکل کالجز میں طالبات کی مبینہ خودکشی کے سنگین اور ہولناک واقعات کا نوٹس لیا جاتا اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا تو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ہمارے با اختیار ادارے اور ان کے معزز منتظمین نے ہمیشہ سب اچھا ہے کی رپورٹ پر دستخط کیے ہیں۔ اگر آج سے بھی خفیہ ایجنسیاں دیگر تمام جامعات کی انکوائری شروع کر دیں تو پچاس فیصد سے زائد جامعات اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسے معاملات کی نشاندہی ہوگی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا جائے اور ایسا کر کے، قومی خدمت سرانجام دے کر حاصل کیا ہو گا؟
گڈ ٹو سی یو، ضمانت قبل از گرفتاری کے پروانے اور بس۔ لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ مراعات اور آسائشیں بانٹنے اور حاصل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے سوا ہر کسی کو کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسا چھ، سات برس سے زائد عرصے پر محیط بھیانک اسکینڈل اگر کسی مہذب ملک ملک میں سامنے آتا تو وائس چانسلر، چانسلر، صدر مملکت اور عدل و احتساب کے اداروں کے سربراہان کے مستعفی ہونے کے اعلانات بھی سامنے آتے۔

اس اسلامی، فلاحی، نظریاتی، جمہوری، آزاد و خودمختار ریاست میں نظام عدل، انصاف و احتساب اور کرپشن اور اخلاقی پستی کا جو عالم ہے وہ دیکھ کر دل سے ایک آواز ضرور آتی ہے کہ کاش یہ ایک مہذب ریاست اور تعلیم یافتہ اور مہذب افراد پر مشتمل معاشرہ ہوتا اور یہاں مذہب اور تعلیم کو بہترین کاروبار نہ سمجھا جاتا

Facebook Comments HS