تشدد کا معاوضہ اور جج کی بے حسی


سرگودھا میں جج کی بیوی کے ہاتھوں قریب المرگ پہنچنے والی ملازمہ کو شدید انفیکشن، دونوں ہاتھ کئی مہینے پہلے ٹوٹ چکے ہیں۔ ڈاکٹرز خون میں انفیکشن ملنے کے بعد کینسر کے ٹیسٹ لے رہے ہیں۔ جج کی بیوی گرفتار ہوئی نہ اس نے ضمانت حاصل کی۔ مبینہ طور پر جج صاحب نے ملازمہ کی والدہ سے رابطہ کر کے معاوضہ لینے اور معاملہ ختم کرنے کی پیش کش کی۔

معاشرے میں اس خبر نے بچی کو انصاف کے حصول کے لئے ایک شور بپا کر رکھا ہے سب کا پرزور مطالبہ ہے کہ بچی پر تشدد کرنے والے ذمہ داران گرفتار ہوں اور انہیں سزا ملے۔ کیا یہ صرف ایک واقعہ ہے؟ یا پھر معاشی مسائل کے تناور درخت کا ایک پکا پھل؟ غریب کبھی زیادہ بچے پیدا کرنے سے نہیں گھبرایا، کیوں؟ کیونکہ اس نے کبھی ان بچوں کی پیدائش کے بارے میں سوچا ہی نہیں وہ سوچ بھی کیسے سکتا ہے، سوچنے کو اور بہت کچھ ہے نا اس کے پاس۔

صبح سویرے میونسپلٹی کے نلکے سے گھر کے حمام بھرنا اگر بیت الخلاء گھر میں ہے تو ٹھیک ورنہ وہاں بھی لائن میں لگنے کی فکر۔

ان ضرورتوں سے فارغ ہو کر روکھی سوکھی روٹی اور قہوہ چائے سے ناشتہ کرنا اور پھر حصول روزگار کی تلاش پر نکل جانا ٹیکسی یا رکشہ ڈرائیور ہے تو اسٹاپ پر سواری کا انتظار اگر گھوڑے یا گدھا گاڑی ہے تو مال برداری کا انتظار، مزدور ہے تو دیہاڑی کا انتظار۔ دن بھر سرد گرم موسم کی پرواہ کیے بغیر اسی بھاگ دوڑ میں دن نکل جانا۔

شام کو گھر واپسی پر آمدن سے کچھ پیسے گھر کے سودا سلف کے لئے خرچ کرنے پر بھی کئی مرتبہ سوچتا ہے کہ ایسا کیا خریدے جو کل کے لئے کچھ پیسے بچ جائیں۔

گھر پہنچے تو بجلی نہیں یا پھر والٹیج اتنا کم کہ پنکھا سر سر کر رہا ہے۔ نہانے کو کھلا پانی میسر نہیں، گیس ہے یا لکڑی پر روٹی پکی، دھواں بھرا سالن کچی پکی روٹی سے پیٹ بھر کر بستر پر کمر سیدھی کرنے لیٹے اور تھکن سے نیند آ گھیرے۔ گھر میں ٹی وی نہیں ہے یا اگر ہے تو تفریح کے لئے طلاق دلاتے ڈرامے کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ اب لے دے کے اس کے پاس زندگی کا ایک ہی مزا ہے کرنے کو اور وہ ہے سیکس۔ تو سیکس کے علاوہ اس کے پاس کوئی سستی ترین تفریح اور سکون موجود نہیں۔ اس تفریح و سکون سے ہٹ کر سوچنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ اس مفت کی تفریح سے جمع شدہ بچوں کے بارے میں کبھی اس نے سوچا ہی نہیں نا اسے سوچنے کی فرصت ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر کون سوچے گا؟

جی ہاں! وہ سوچے گا جسے آپ ووٹ دیتے ہیں، جسے آپ ٹیکس دیتے ہیں جسے آپ اپنی بجلی کے بلوں میں کنڈے ڈالنے والوں کا بل دیتے ہیں۔ آج بچی کے ماں باپ معاوضہ لے کر تھوڑے دنوں میں اس واقعہ کو بھول جائیں گے اور بچی کے صحت مند ہونے پر اسے دوبارہ کام پر لگا دیں گے۔

تو سزا وار کون ہے؟ وہ لوگ جو بچی کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے یا وہ ماں باپ جو اپنی تفریح و سکون کے چکر میں بچوں کی بھیڑ جمع کرتے رہے یہ سوچے بنا کہ ان کا پیٹ کیسے پالا جائے گا یا پر بے حس نظام!

غریب تو کبھی ان بچوں کے لئے نہیں سوچے گا لیکن اس نظام کو چلانے والوں کو اس گھٹن زدہ نظام کو بہتر بنانے کے لئے ناصرف سوچنا پڑے گا بلکہ عملی اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔ ان تبدیلیوں کو عملی جامہ پہنا کر ہی اس طرح کے پرتشدد واقعے کے ساتھ ساتھ بچو اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کو بھی روک سکتی ہے۔

آپ کم از کم اتنا کر دیں کہ مفت کلینک میں آگاہی پروگرام کے لئے ٹیمیں بنائی جائیں، آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے مفت مانع حمل فراہم کیا جائے۔ تفریح کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ ضروریات زندگی ہر گھر میں موجود ہوں۔ تعلیم نسواں کا بندوبست کیا جائے۔

ورنہ غریب آدمی اپنی فکرمعاش کے علاوہ کبھی کچھ اور نہی سوچے گا، اس لئے نہیں کہ وہ سوچنا نہیں چاہتا بلکہ اس لئے کہ وہ سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ اب بھی اس غریب کے مسائل حل نہ ہوئے تو معذرت کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور میں اور آپ انصاف کے ٹرینڈ ہی چلاتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS