دہشت گردی کے شکار
وہ اپنے کندھوں پر تھیلا ڈالے دریا کنارے گھروں کی گلیوں میں در در پھر رہا تھا۔ شاید بچوں کے کھلونے بیچ رہا تھا۔ میں نے اسے تسلسل سے مسلسل ایک گلی سے دوسری گلی میں غائب ہوتا دیکھا۔ میں اس وقت سکون کی تلاش میں دریائے سوات کے کناروں بیٹھا ہوا تھا۔ اس بچے کے میلے اور پرانے کپڑے صاف عیاں کر رہے تھے کہ وہ تیرہ سالہ بچہ کن کن مشکلات کا شکار ہو کر صغرسنی میں دنیا کی حقیقتوں کا سامنا کرنے نکلا تھا۔ میرے تجسس میں اضافہ اس وقت ہوا جب میں نے اسے دریا کی جانب آتے دیکھا۔ شاید گرمی کی بدحالی کم کرنے چہرے پر ہانی کے چھینٹے مارنے آ رہا تھا، میں من ہی من میں سوچ رہا تھا۔ دریا کنارے اپنا تھیلا ایک قدرے پست جگہ رکھ کر وہ آب رواں کی جانب چل پڑا۔ آستین چڑھائے اور دامن سمیٹتے وہ ہانی کے پاس بیٹھ گیا اور واقعتاً چہرے پر پانی کی چھینٹے مارنے لگا۔ بہرکیف میں نے متجسس ہو کر اس کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں نے اس سے مجبوری کی وجہ پوچھی۔ میرے لمبے اصرار کے بعد اس نے اپنی بدقسمتی کی دکھ بھری داستان سنانی شروع کردی۔
”میرے والد شہر کی ایک فیکٹری میں کام کیا کرتے تھے۔ وہ ہفتے میں ایک دن ہمیں گاؤں ملنے آیا کرتے اور ہمارے لیے بہت ساری چیزیں لاتے۔ میں اور میری چھوٹی بہن گاؤں سے ذرا فاصلے پر واقع ایک سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ میرے باپ غیر تعلیم یافتہ تھے لیکن وہ ہماری تعلیم کو بہت توجہ دیتے۔ جس دن گھر آتے ضرور ہماری تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے۔ تعلیم کے ساتھ دلچسپی بڑھانے کے لیے ہمیں کہانیوں اور تصاویر کے کتب لاتے۔ جس دن گھر ہوتے ہمیں خود سکول لے جایا کرتے۔ الغرض ہمارا چھوٹا گھرانا بہت خوشی کی زندگی گزار رہا تھا۔ باپ کے قلیل تنخواہ کے باوجود ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ وہ اکثر ہمیں بھی شہر لے جایا کرتے اور بار بار کہا کرتے تھے کہ بیٹا تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ شہر میں جاب لے کر ہم سب کی زندگیوں کو دیہات سے نکال کر شہر لے آنا۔ وہ دیہات کی غربت اور ناخواندگی سے نالاں تھے۔ پھر ایک دن سورج ہماری خوشیوں کی موت کا پیغام لے کر طلوع ہوا۔ میں اور چھوٹی بہن سکول میں تھے کہ ہمارے اساتذہ بھاگتے بھاگتے ہمارے کلاس روم میں داخل ہوئیں۔ ایک استاد مجھے اور میری بہن کو پکڑ کر تیزی سے ہمارے گھر لائے۔ کم عمری کے باوجود مجھے راستے میں کسی انہونی کے خوف نے آ لیا تھا۔ گھر پہنچ کر علاقے کے ڈھیر سارے لوگوں کی آمد اور خواتین کی چیخ و پکار نے ہمارا استقبال کیا۔ اپنی ماں کو ڈھونڈتا میں جب اس کے پاس گیا تو وہ ایک کونے میں بیٹھی چیخ و پکار کے ساتھ رو رہی تھی۔ اور دیگر خواتین ان کو تسلی دے رہی تھیں۔ مجھے ابھی تک خبر نہیں ہوئی تھی کہ کیا ہوا تھا۔ چھوٹی بہن تو مجھ سے بھی چھوٹی تھی اس کو بھلا کیا معلوم ہوتا۔ ایک خاتون جو کہ میری رشتہ دار تھی مجھے اور چھوٹی بہن کو گلے لگا کر رونے لگ پڑی۔ چند دوسرے خواتین بھی ہمارے اردگرد جمع ہونے لگیں۔ اب تک مجھے یہ احساس تو ہو چکا تھا کہ کچھ انہونی تو ہوئی ہے۔ خیر چیخ و پکار اور غم و ماتم کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ میرے چچا باری باری مجھے گلی لگاتے اور رونے لگ جاتے۔ شام کے قریب میں نے لوگوں کو کندھوں پر چارپائی لے کر اپنے گھر کی جانب آتے دیکھا۔ اب کی بار مردوں نے بھی رونا شروع کر دیا اور وہ چارپائی ٹھیک ہمارے گھر کے چھوٹے سے صحن میں رکھی گئی۔ لوگ چارپائی کے گرد جمع ہو گئے اور ایک شخص نے چارپائی پر موجود فرد کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ چارپائی پر لیٹی لاش کسی اور کی نہیں بلکہ میرے والد کی تھی جو مجھے آٹھ سال کی عمر میں چھوڑ کر چلے گئے تھے“
جب وہ یہ الفاظ کہ رہا تھا تو مجھے اس کے چہرے پر غم کی انتہا ظاہر ہو رہی تھی۔ لیکن انہوں نے بہت تحمل کے ساتھ اپنے آنسو روکے رکھے۔ شاید اس تیرہ سالہ بچے کو دنیا کی حقیقتوں نے بچے سے ایک مرد بنالیا تھا۔ وہ شاید اس لئے آنسو تھام رہا تھا کہ وہ بہت کم عمری میں مرد بن چکا تھا۔
اس معصوم کا باپ ایک دہشت گرد دھماکے کا شکار ہوا تھا۔ اور اپنے پیچھے اس معصوم بچے، اس کی بہن اور ان کی اماں کو چھوڑ گیا تھا۔ جن کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ بچے کے بقول چند عرصے تک تو ان کے چچاؤں نے ان کا ہاتھ بٹایا لیکن پھر انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیے۔ کیونکہ وہ بھی دیہات کی غربت کا شکار تھے اور مہنگائی نے تو کسی کو بھی نہیں بخشا۔ اس لئے اس تیرہ سالے بچے کو گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے صغر سنی میں یہ سب کچھ کرنا پڑ رہا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ روز کے چھے سے سات سو کماتے ہیں۔
پاکستان نے کم و بیش اسی ہزار جانیں دہشت گردی کے واقعات میں کھو دیے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کے بجائے مزید تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ آئے روز خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لوگ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور اپنے پیچھے لواحقین کو بے اسرا چھوڑ جاتے ہیں جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ریاستی اداروں کو دہشتگردی کے خلاف بہترین حکمت علمی کے ساتھ کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ہماری قوم اس جیسے بچوں کو گلیوں میں پھرتے نا دیکھے۔


