باجوڑ کا درد اور جے یو آئی کا خراج


باجوڑ کا دکھ بہت بڑا ہے، ایسا دکھ جو اٹھائے نہیں اٹھتا ہے، چشم گریاں کے آنسو ہیں کہ تھمتے نہیں ہیں، یہ صرف باجوڑ کا دکھ نہیں ہے، یہ صرف جے یو آئی کا درد و الم نہیں ہے اور نہ صرف کے پی کے کا نوحہ ہے بلکہ اس نے ایک اجتماعی ماتم کا روپ دھار کر اب پورے ملک کو انسانیت کا ماتم کدہ بنا دیا ہے۔ البتہ کے پی کے اور بلوچستان تزویراتی پالیسیوں کا سب سے زیادہ خراج ادا کر رہے ہیں۔

ماضی میں ہماری جو تزویراتی پالیسی رہی ہے، ہم نے جو تزویراتی اثاثے رکھے تھے، وہ تزویراتی اثاثے ریاستی بقا کے لیے کتنے ضروری تھے یا نہیں، وہ الگ بحث ہے، لیکن اب ان ”اثاثوں“ کی صفیں بھی اپنی ہیں، منصوبہ بندی بھی اپنی ہے، پالیسیاں بھی اپنی ہیں، البتہ ان کی ڈائریکشن خارجی ہے، ان کی سرپرستی عالمی سطح کی ہے اور سپورٹ ”آقائی“ ہے۔

باجوڑ حملہ ریاست اور جے یو آئی کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔

سی پیک اصل تنازعہ کی وجہ ہے اور چونکہ اس منصوبے کی تخلیق اور ناگفتہ بہ حالات میں اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے واسطے کوششوں میں جمعیت علماء اسلام اور مولانا بنیادی محرک کی حیثیت رکھتے ہیں، گزشتہ حکومت میں سی پیک کی بندش پر جے یو آئی قیادت بارہا تشویش کا جس طرح اظہار کرتی رہی ہے، وہ ریکارڈ پر ہے، علاوہ ازیں گزشتہ پانچ سالوں میں جے یو آئی کی بطور ایک قومی جماعت کے ابھر کر سامنے آنا اور ملک بھر کی مذہبی ذہن کو پرامن سیاسی جدوجہد پر قائل کرنا، نہ صرف عالمی سامراج کے لیے قابل قبول نہیں ہے بلکہ اسی طرح سابقہ ریاستی اثاثوں کا تکفیری نظریہ بھی اسے اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاؤٹ سمجھتا ہے۔

سی پیک اور مذہبی ذہن کو بندوق سے دور کر کے پرامن سیاسی و آئینی جدوجہد پر قائل کرنا دو ایسے بڑے ”جرائم“ ہیں جن کی سزا جے یو آئی کو دی جا رہی ہے اور انہیں واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان جرائم کی پاداش میں وہ ہمارے نشانے پر ہوں گے۔

اس حملے کی منصوبہ بندی اس وقت کی گئی جب چینی نائب وزیراعظم پاکستان کے دورے پر آئے تھے، پی ڈی ایم کی حکومت سی پیک کے تعطل شدہ منصوبوں پر پڑی دھول مٹی صاف کر کے دوبارہ انہیں شروع کرنا چاہتی ہے، ریاستی جھکاؤ واضح طور پر چین اور روس کی جانب ہے، روس سے تعلقات کی نئی جڑت کو دہائیوں بعد خارجہ پالیسی کی تبدیلی خیال کیا جا رہا ہے، جو عالمی طاقتوں کے سرغنہ کے لیے یقیناً قابل قبول نہیں ہوں گے اور سب سے بڑھ کر مولانا کی ملکی سیاست پر اس قدر گرفت، مقبولیت اور اثر رسوخ کو بھی عالمی قوتیں اپنے نظریاتی ڈھانچے اور مستقبل میں اس خطے میں اپنے مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے ریاستی پالیسی ساز ادارے گزشتہ 75 سالوں میں داخلی و خارجی پالیسی سازی کے تعین میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں، ایک تو اس ملک کی پالیسیاں مستقل نہیں بلکہ ایڈہاک ازم کی بنیاد پر ہیں اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ کہ پالیسیاں ریاستی مفادات کو پیش نظر رکھ کر بنانے کی بجائے طاقتور شخصیات کے مزاج، مفاد اور خواہش کے مطابق بنائی جاتی ہیں، گزشتہ رجیم کی پالیسی کیا ریاستی مفاد کی پالیسی تھی یا کسی طاقتور کا ذہنی اختراع کا وہ جوہڑ تھا جسے میڈیا کے ذریعے آب کوثر بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا رہا، اس جوہڑ سے اس وقت جان خلاصی ہوئی جب اس سے اٹھنے والا تعفن ناقابل برداشت ہوا، یقیناً ماضی میں بھی پالیسیاں اسی طرح بنتی رہی ہیں۔

ایوب خان سے لے کر مشرف اور عمران رجیم کی تشکیل تک، کیا کیا کھلواڑ نہیں کیا گیا، ایوب خان نے اپنا بنایا ہوا آئین خود توڑا، جنرل ضیاء نے 5 جولائی 1977 کو اس وقت شب خون مارا جب مفتی محمود رح کی قیادت میں پی این اے کے مذاکرات بھٹو سے کامیاب ہوچکے تھے، جنرل مشرف نے نارمل حالات میں مارشل لا لگا کر ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

اس وقت معیشت تباہ ہے، داخلی عدم استحکام ہے، بلوچستان بارود پر کھڑا ہے، کے پی کے سب کے سامنے ہے، بندوق کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے، بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور سی پیک کا مرکز ہونا، بلوچستان کے لیے زیادہ تباہ کن ہے، عالمی طاقتوں کی جنگ کی بنیادی وجہ بلوچستان با الخصوص مکران و ساحل مکران کی عالمی گزرگاہ و جغرافیہ ہے، جس کا حصول ہر عالمی طاقت کی خواہش و کوشش ہے۔

ریاست کو نچوڑ کر وقتی طور پر سیاستدانوں کے حوالے کیا گیا ہے، اب معیشت بھی وہ درست کریں، داخلی حالات سے بھی وہ نمٹیں، خارجی سازشوں کو بھی وہ ناکام بنا دیں، اپنی جان کے نذرانے بھی وہ پیش کریں اور جب حالات کچھ بہتر ہوں تو سیاستدانوں کو ایک بار پھر کھڈے لائن لگا کر کسی نئے رجیم کے تجربے سے استفادہ کریں، جنہوں نے حالات اس نہج پر پہنچائے ہے وہی حالات کو درست کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام نے اس ملک پر احسان کیا ہے، انہوں نے گزشتہ بیس سے پچیس سال اس وقت پرامن سیاسی و آئینی جدوجہد کی بات کی ہے، جب بیشتر مذہبی اذہان پاکستان میں بندوق کے انقلاب کی طرف راغب ہونے جا رہا تھا، جے یو آئی نے اپنی پرامن جدوجہد کے فلسفے کو محلے اور گلیوں کی سطح تک منظم کیا، مرکزی قیادت کے دیے گئے فلسفہ امن کو مقامی قیادت اور کارکنوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ نچلی سطح تک منتقل کیا، وگرنہ گزشتہ پچیس سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ مذہبی ذہن کو پرتشدد بنانے میں کتنی محنت کی گئی، بندوق کے انقلاب کو کس قدر خوبصورت پیرائے میں پیش کیا جاتا رہا، ریاستی سرپرستی اسے تقویت دینے میں خود شامل تھی، اگر جے یو آئی بندوق کے انقلاب کے فلسفے کے مقابلے میں پرامن سیاسی جدوجہد کی تھیوری پیش نہ کرتی یا اسے اپنے جماعتی و سیاسی ایجنڈے کی بنیادی ترجیحات میں شامل کر کے اس پر نچلی سطح تک کام نہ کرتی تو آج حالات کس قدر خوفناک ہوتے اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا، مگر جمعیت کو اس بدلہ یہی ملا، کہ اسے سیاسی میدان سے مکمل باہر کرنے کی کوشش ہوئی، اس کی داخلی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی سازشیں ہوئیں، اور اب وہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر فلسفہ امن کی قیمت چکا رہا ہے۔

Facebook Comments HS