محمود خان اچکزئی کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ


ہم ایک دوسرے سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے پر تنقید کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ ہم کسی بھی مسلے کو سمجھنے کے لیے مختلف انداز فکر اختیار کر سکتے ہیں، ہمارا حق ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھ سکتے ہیں۔ ہم پالیسیوں میں ایک دوسرے سے مثبت اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن انسانی اقدار ہمیں اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ایسا کرنا بدترین قسم کی بے شرمی ہے جو ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کی موجودگی میں ہمارے رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔ ایسا کرنے والے یہ خود آشکار کر لیتے ہیں کہ ان کی پرورش کس ماحول میں ہوئی ہے اور خاندان کی پرورش کتنی اہمیت رکھتی ہے۔

وہ جن کے آبا و اجداد انگریزوں کے غلام تھے اور اپنے چھوٹے مفادات کے لیے عام پشتونوں کے خلاف انگریزوں کی جاسوسی کرتے ہوئے اپنی مراعات وصول کرتے تھے۔ وہ لوگ جو انگریزوں کے پیرول پر تھے اور ان کے تنخواہ دار پٹھو تھے وہ اب عام پشتونوں کو حب الوطنی کے تقاضے سیکھا رہے ہیں۔ وہ ہمیں ان قابل فخر اور غیور خاندانوں کے پس منظر کے بارے میں بتا رہے ہیں جن کے آبا و اجداد برطانوی سامراج کے خلاف صف اول میں رہے اور اپنے خون سے مادر وطن کی حفاظت کی اور ان پر ڈھائے جانے والے تمام مظالم کے خلاف مضبوطی سے ڈٹے رہے۔

جب کسی کا سیاسی حریف اپنے مدمقابل کا مقابلہ نہیں کر پاتا تو وہ منفی ایجنڈا بنا کر، جھوٹا پروپیگنڈا کر کے، اور انہیں گالیاں دینا شروع کر کے حقائق کو توڑ مروڑنا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور تاریخی حقائق کو سبوتاژ کرنے کے ذریعے اپنے حریفوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ حقیقتاً ان کے پاس اپنے حریفوں کے خلاف عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ اور صرف ڈھول پیٹنا ان کا شیوہ بن جاتا ہے۔

محمود خان اچکزئی کا معلوم خاندانی پس منظر 300 سال کے لگ بھگ ہے۔ وہ عبدالصمد خان اچکزئی کے صاحبزادے ہیں جو نور محمد خان اچکزئی کے بیٹے تھے۔ نور محمد خان، سلطان محمد کا بیٹا تھا جبکہ سلطان محمد خان، عنایت اللہ خان کے بیٹے تھے۔ ریٹائرڈ پروفیسر، بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر۔ عبد التواب کا تعلق بھی اسی مشہور خاندان سے ہے جو عبدالوہاب خان کا بیٹا ہے عبدالوہاب خان، عبدالشکور کا بیٹا ہے۔ عبدالشکور خان، عبدالحکیم خان جبکہ عبدالحکیم خان، نجیب اللہ خان کا بیٹا ہے اور نجیب اللہ خان، عنایت اللہ خان کا بیٹا ہے۔

محمود خان اچکزئی اور پروفیسر ڈاکٹر عبد التواب خان کا شجرہ نسب عنایت اللہ خان پر ایک دوسرے سے جا کے ملتا ہے۔ عنایت اللہ خان، بوستان خان کا بیٹا تھا جبکہ بوستان برخوردار خان کا بیٹا تھا۔ یہ وہی برخوردار خان ہے جو احمد شاہ ابدالی کے اعتمادی اور فرنٹ لائن کمانڈروں میں سے ایک تھا اور 1761 میں پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کے خلاف جوانمردی سے لڑا تھا۔ محمود خان اچکزئی کے ابا اور اجداد میں ایک اور مجاہد غازی عبداللہ خان تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف پہلی اینگلو۔ افغان جنگ لڑی۔

برخوردار خان کے آبائی پس منظر، بہادری اور خدمات کو عبدالشکور رشاد نے اپنی کتاب ”احمد شاہ ابدالی کے ہم ہمعصر“ میں خوب بیان کیا ہے۔ اسی طرح قارئین کو برخوردار خان کے بارے میں ”زیب تاریخ“ ، گنڈا سنگھ کی کتاب اور ”احوال نجیب الدولہ“ جیسی کتابوں میں بھی بہت زیادہ معلومات مل سکتی ہیں۔

خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور عبدالغفار خان ہم عصر اور دوست تھے جو دونوں پاکستان میں ایک علیحدہ پختون صوبہ بنانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ ون یونٹ کی تحلیل کے بعد جب اس وقت کے صوبہ سرحد کو الگ صوبہ بنایا گیا اور بلوچستان کے پختون اکثریتی علاقوں کو موجودہ بلوچستان کے صوبے میں شامل کیا گیا تو وہ نیپ کے پلیٹ فارم سے ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ دوسری طرف پاکستان میں ایک خودمختار پشتون صوبہ ولی خان کا مطالبہ رہا تھا۔ حمایت اللہ اپنی کتاب پاکستان نیشنل عوامی پارٹی: سیاست کی نوعیت اور سمت ”میں لکھتے ہیں کہ،“ پشتونستان کے اپنے ورژن کا اظہار کرتے ہوئے، عبدالولی خان نے کہا کہ عبدالغفار خان کی طرح ان کے پشتونستان کے مطالبے کا مطلب پاکستان کے اندر ایک خودمختار پختون صوبہ ہے۔ ”بدقسمتی سے جب محمود خان اچکزئی، ولی خان اور باچا خان کے اس ناکام اور عقل سلیم کے برخلاف فیصلے کی بات کرتے ہیں تو اے این پی کے بعض مکروہ سوشل میڈیا بریگیڈ محمود خان اچکزئی پر تنقید کرنے لگتے ہے اور ان کے آبائی نسل کے خلاف جعلی مہم شروع کر دیتی ہے۔

ہمارے پاس ان پشتونوں (جن کے جانشین اب محمود خان اچکزئی کے آبائی پس منظر کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں ) کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنے چھوٹے مفادات کے لیے پشتون آزادی پسندوں کے خلاف انگریزوں کی مدد کی۔ لیکن، یہاں، میں گہرائی میں جانے سے اعتزاز کرتا ہوں کیونکہ میری پرورش ایسے ماحول میں نہیں ہوئی جو مجھے ان کی سرعام بے عزتی کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ قارئین کے لیے، میں صرف 1929 کے برطانوی فوجی بھرتی کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالنے کے لیے حقیقت کی نشاندہی کرتا ہوں کہ بلوچستان اور سابقہ ​​سرحد سے کتنے پشتون (جن کے جانشین اب خود کو پشتون قوم کا واحد نمائندہ کہتے ہیں ) تھے۔ برطانوی فوج کا حصہ رہ کر ان کے زر خرید غلام تھے

پشتون بحیثیت قوم ایک انتہائی نازک موڑ پر ہے جہاں وہ معاشرتی زوال، معاشی بحران، انتشار، عدم تحفظ اور جہاں سماجی اقتصادی اشاریے اور ایچ ڈی آئی یعنی ہیومن ڈویلپمنٹ کے اشاریے دنیا کے باقی اقوام کی بنسبت بدترین اشاریوں میں سے ایک ہیں۔ ایسے وقت میں جب قوم کو ڈوبتی ہوئی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لیے اتحاد اور حکمت عملی کی ضرورت ہے، اس کی قیادت کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنا اور اسے گالی دینا قابل مذمت، نادانی، بے شرمی اور ناقابل قبول ہے۔ انفرادی مفادات کی خاطر قیادت کے خلاف ایسی مہمات میں ملوث ہونے والوں کو کبھی بھی عام پشتونوں کا دوست اور خیر خواہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ انہیں پشتون قوم کا دشمن ہی گردانا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی صفحوں سے ایسی کالی بھیڑیوں کو جتنا جلدی ہو نکالنا چاہیے۔

Facebook Comments HS