اندھا بھوت اب یہ قبر کھودنا بند کرے


شیکسپئر کے یہ جملے اب کلیشے کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں کہ دنیا ایک سٹیج ہے۔ سب اپنا کردار نبھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر وہ زندگی ہی کیا جو اپنی سفاکیت سے قدم قدم پہ حیران نہ کرے۔ برسوں پہلے ایک کردار اپنے اوپر خاتمے کی مہر لگا کر خاک کا پیوند ہوا۔ اب تک تو شاید اس کی ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہوں مگر ہم انسانوں کو معاف کرنے کی عادت نہیں ہے۔ اصولاً تو بجو اور انسان میں فرق ہونا چاہیے کہ بجو تو عادتاً قبر کھودتا ہے مگر منتقم مزاج انسان نا صرف قبر کھودتا ہے بلکہ مردہ ہڈیوں کی بے حرمتی کر کے اپنے انتقام کی تسکین کرتا ہے۔

اس پرانے ڈرامے کے بہت سے کردار تھے جیسے کہ ہر ڈرامے میں ہوتے ہیں۔ کچھ ہیں کچھ گزر گئے۔ جو باقی ہیں ان کی حالت بھی دگرگوں ہے مگر وہ اب بھی ایک دوسرے کی بوٹیاں نوچنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ کچھ خاموش کردار جن کے لب سلے رہے۔ کچھ زبان کا سہارا لے کر دل کی خلش مٹانے والے کردار۔ پچھلے دنوں ایک ڈرامہ پڑھا جس کے کردار بوڑھی پچھل پیری، بیمار سرکٹا، چھوٹی آنکھوں والی شکاری چڑیل اور ایک اندھا بھوت ہیں۔ قالینوں پہ اڑتے ہوئے بظاہر یہ طلسم ہوش ربا کے کردار نظر آتے ہیں مگر اصل زندگی کے کردار ہیں۔

اندھا بھوت اس ڈرامے کا وہ مصنف ہے جس کی داڑھی جتنی باہر ہے اتنی پیٹ میں ہے اسی لیے تو اس نے کمال ہوشیاری سے اندھے پن میں پناہ ڈھونڈی ہے۔ کیا حقیقی زندگی میں دو آنکھیں رکھنے کے باوجود کوئی اتنا اندھا ہو سکتا ہے کہ دودھ میں پڑی مکھی نگل لے؟ تاوقتیکہ کہ آنکھوں پہ مفاد کی پٹی بندھی ہو اور اپنی ذمہ داری کو نہ نبھانے کی واحد پناہ گاہ یہی ہو۔ کردار کی عظمت خاموشی میں تھی لیکن پارسائی کا زعم انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا دیتا ہے۔

یہ دور طلسم ہوشربا کی کہانیوں کا نہیں ہے۔ آج کے قاری کو بھوتوں، پچھل پیریوں سر کٹوں اور چڑیلوں سے کوئی رغبت نہیں۔ پچھلی صدی تک ایسی کہانیوں کو پذیرائی ملتی ہو گی مگر اب تو بچے بھی یہ کہانیاں نہیں پڑھتے۔ ان کرداروں میں سے دو کے نام ایک ناول سے مستعار لیے گئے ہیں اور دو نام شاید کسی پرخاش کے تحت ناول سے نہیں ہیں۔ ان کی جگہ اصلی نام استعمال کیے گئے ہیں جو بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ شاید مصنف دوسروں کے کندھے پہ رکھ کر بندوق چلانے کے فن میں خاصی مہارت رکھتا ہے۔ اس ناول کا مصنف وہی ہے سر کٹا بیمار انسان جو جو کسی زمانے میں اندھے بھوت کا بہترین دوست ہوا کرتا تھا اور بقول اس ناول کے کہ اندھے بھوت پہ اس دوست کے کئی احسانات ہیں۔ واللہ عالم بالصواب

اندھیرا۔ سپرنگ میٹرس، پچاس منٹ
مجھے گیلا رہنا اچھا لگتا ہے
حرام زادی اپنا تخلیقی عمل کر آئی

مصطفٰی زیدی کی کیس میں چالیس منٹ کا تذکرہ سنا تھا یہ ان سے پیچھے کیوں رہتے انہوں نے پچاس منٹ کر دیا۔ یہ ریکارڈ کسی ذہنی طور پہ بیمار بھوت کا ہی ہو سکتا ہے۔ خیر ہمیں اس سے کیا مگر یہ سوال تو ہم پوچھ سکتے ہیں کہ

یہ جملے کس ادب عالیہ سے متعلق ہیں؟ منٹو اور عصمت چغتائی نے بھی بہت کچھ لکھا ہے مگر ان کے افسانے انسانی نفسیات سے ڈیل کرتے ہیں یہ ولگیریٹی ان کے ہاں نظر نہیں آتی۔ وہ سنسنی پیدا نہیں کرتے اور نہ ہی جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں بلکہ انسان کو سوچنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ جنس کے سوداگر اور خریدار ہر زمانے میں نہ ہوتے تو یہ سودا کیسے بکتا؟ جنسی تلذذ جن کا مطمع نظر ہو ان کے لیے منٹو کا ٹھنڈا گوشت اور کھول دو جیسے افسانے بھی حظ اٹھانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ ڈرامہ بھی ایک ٹھنڈے گوشت کی فروخت کا ہے۔ ایسا گوشت جو چالیس سال پہلے ٹھنڈا ہو گیا تھا

جبہ و دستار سنبھالے کچھ سفاک کردار یہ بھول گئے کہ خداوند کریم کا وعدہ ہے کہ تم عیبوں پہ پردہ ڈالو تاکہ تمہارے عیب ڈھکے رہیں۔ رحیم اور کریم جیسی صفات رکھنے والے خدا کے رحم و کرم کی کوئی حد نہیں۔ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ معافی کسے ملے گی، کسے نہیں، یہ کوئی نہیں جانتا۔ وہ خالق بھی ہے اور مصور بھی۔ جو تصویر اس نے بنائی اسے بگاڑنے والے کون تھے؟ اسباب و علل اس ذات باری سے مخفی تو نہیں۔ روز جزا دنیاوی دستاریں سروں سے گر جائیں گی اور اعمال کی گٹھڑیاں سب کے سروں پہ ہوں گی ہر کسی نے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ مردہ ہڈیوں سے حساب کتاب کرنے والے تم کون ہو؟ یہ گناہ کراماً کاتبین نے تمہارے اعمال نامے میں لکھ دیا ہے اور مالک کائنات کے سامنے تمہیں جواب دینا پڑے گا۔

مذہبی ہونے کا دعویٰ نہیں مگر جو بچپن سے سنا اور پڑھا ہے اسے ذہن کی سلیٹ سے مٹانا ممکن نہیں۔ بات ہو رہی تھی کرداروں کی تو ان میں کچھ سوداگر بھی ہیں جو مردہ ہڈیوں کو سیل ایبل کموڈٹی سمجھتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر طرح کا سودا بکتا ہے اور ہر کوئی اپنے ذوق کے مطابق خریداری کرتا ہے۔ کنٹرو ورسی کے خریدار بہت ہیں۔ یہ خریدار اس سے نجانے اپنے کس جذبے کی تسکین کرتے ہیں؟ نہیں معلوم۔ ایک کردار وہ تیسری آنکھ بھی ہے جو ماضی کے پنوں پہ لکھے اس ڈرامے کے مختلف کرداروں کا خاموشی سے جائزہ لیتی ہے اور اپنے فہم کی روشنی میں بے لاگ تجزیہ کرتی ہے۔ وہ نہ تو جبہ و دستار کے علم متاثر ہوتی ہے نہ ہی کسی فکشن نگار کی موشگافیوں سے۔

ہماری واقفیت اس کردار سے صرف چار سال پہ محیط ہے۔ تعارف ایک کنٹرو ورشل تحریر سے ہوا۔ اس پدر شاہی معاشرے میں عورت ہونا ہی متنازعہ امر ہے لہٰذا تجسس کھینچ کر ان لفظوں کی جانب لے گیا جو اس نے لکھے تھے۔ وہی لفظ اس کا اصل تعارف ہیں۔ اس عرصے میں ہم نے اسے اس کے لکھے ہوئے لفظوں کی روشنی میں پرکھا۔ لکھا ہوا لفظ خود بتاتا ہے کہ وہ کس چیز کا عکاس ہے۔ مگر یہاں معاملہ عجیب ہے کہ اصل کردار نے بہت کم لکھا ہے مگر ضمنی کرداروں نے صفحات پہ صفحات کالے کر ڈالے۔ ناول، افسانے، ڈرامے، فلمیں، خود نوشت اور نجانے کیا کیا کچھ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تنقید کا محور لکھا ہوا لفظ نہیں تھا، کردار تھا

وہ کردار جو کب کا ختم ہو چکا ہے مگر لوگ اب بھی اسے زندہ رکھنے پہ مصر ہیں

ماں کے پیٹ سے معصوم پیدا ہونے والا ہر انسان اپنے حالات کی پروڈکٹ ہوتا ہے۔ ایک ہی ماحول میں پرورش پانے والوں میں سے کچھ مضبوط ہوتے ہیں اور کچھ کمزور۔ شاید وہ زندگی کے ڈرامے کا سب سے کمزور کردار تھی۔ اس کے خواب اس کے جوتوں سے بڑے تھے اسی لیے دنیا نے اسے ادھ کھلے ہاتھوں سے قبول کیا۔

بین کرنے والوں نے
مجھے ادھ کھلے ہاتھوں سے قبول کیا
جب ہمارے گناہوں پہ وقت اترے گا
بندے کھرے ہو جائیں گے
پھر ہم توبہ کے ٹانکوں سے خدا کا لباس سیئیں گے
زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
ہمارے خوابوں میں چاپ کون چھوڑ جاتا ہے
شاعری جھنکار نہیں جو تال پہ ناچتی رہے ( یہ تو صریحاً بغاوت تھی)

یہ چند جملے اسی کردار کے ہیں اور ایسے بہت سے جملے ہیں جو جھنجھوڑ ڈالتے ہیں۔ اس کردار کو علم نہیں کہ زمین پہ اب انسان نہیں بستے آدم خور چیونٹیاں بستی ہیں جو مردار گوشت پہ پلتی ہیں۔ زندگی اس کی خواہش کیسے ہو سکتی ہے جس نے موت کو خود چنا ہو؟ اس کی خواہش کیا تھی وہ خود بتاتی ہے کہ میں کتابوں کی شیلف پہ اپنے لکھے ہوئے حرفوں میں زندہ رہنا چاہتی ہوں۔ متنازعہ تحریروں میں نہیں۔ مارکیٹ میں اس کی کتابیں اب شاید ہی دستیاب ہوں۔ ریختہ یا ایسی ہی ایک آدھ ویب سائٹ پہ اس کی تحریر مل جاتی ہے۔ دیگر تحریروں میں سب سے بہتر تحریر امرتا پریتم کی ہے جو خود اعلٰی پائے کی مصنفہ ہیں۔ ہم تو تمام اندھے بھوتوں سے اتنی ہی درخواست کر سکتے ہیں کہ خدارا اب اس کی قبر کھودنا بند کر دو

Facebook Comments HS