پروردگار! کس کو آواز دیں؟
شادمان سے گاڑی نہر پر چڑھنے لگی تو ڈرائیور نے اک ذرا رخ پھیر کر پوچھا۔ ”ماں جی فاطمہ کو لیتے چلیں۔ اس کا ٹائم ہو رہا ہے“ ۔ میرے ہاں کہنے پر اس نے گاڑی ایف سی کالج کی طرف موڑ دی۔
پارکنگ ایریا کا نظم و ضبط اور کنٹرول دیکھ کر ہی اس بات کی صداقت کا یقین ہو گیا کہ یہ باوقار ادارہ اپنی سابقہ انتظامیہ کے پاس واپس آ کر اپنی اسی پرانی ساکھ پر جو گہنا گئی تھی پلٹ آیا ہے۔
فاطمہ نے دروازہ کھول کر سلام کیا تو میں نے چونک کر اس کا حلیہ دیکھا۔ وہ سیاہ رنگ کے ایک لمبے چوڑے عبائے میں تھی اور سر پر چھوٹا سا ڈوپٹہ تھا۔
فاطمہ میری اکلوتی نواسی ہے جو ابھی کچھ ماہ پہلے بیجنگ سے آئی ہے۔ اس کے ماں باپ پاکستانی سفارت خانے میں ہیں۔ ایف ایس سی کے بعد اس نے لاہور آنے کو ترجیح دی تھی۔
اس کا یہ حلیہ میرے لیے بہت تعجب انگیز تھا۔ یوں مجھے اپنی لاعلمی پر بھی حیرت تھی وہ گزشتہ تین ماہ سے میرے پاس ہی تھی۔ مگر میری اور اس کی دونوں کو اپنے اپنے اوقات کی مصروفیات نے ایک دوسرے کو اتنا دیکھنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ ڈرائیور کے سامنے میں نے اسے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ مگر گھر آ کر میرا پہلا سوال اس سے اس نئی کایا کلپ کے بارے میں سوال کرنا تھا۔
”نانو مالک چاچو نے کہا تھا کہ آپ نے اسے پہننا ہے۔“
اس کا مالک چاچو کوئی بہت مذہبی لڑکا نہ تھا۔ لاہور یونیورسٹی میں آئی ٹی کا استاد ہے اور بڑا بیبا سا بچہ ہے۔
اب فاطمہ مجھے بتانے لگی تھی۔
مالک چاچو نے مجھے بہت سختی سے تاکید کی ہے کہ کسی سینئر یا جونئیر استاد کے کمرے میں نہیں جانا، حتیٰ کہ نمبروں میں کسی بھی قسم کی غلطی پر بھی نہیں جانا۔ کسی اسائمنٹ کے لیے کوئی بات پوچھنے، کسی مسئلے پر کسی قسم کا کوئی مشورہ لینے کے لیے بھی نہیں جانا۔ اکیلے ہرگز نہیں۔ اگر کسی ناگزیر سلسلے میں جانا پڑ جائے تو ساتھ میں لڑکیاں ہوں اور وہ بھی جنہیں تم ٹھیک سمجھتی ہو۔ میرے لیے یہ باتیں حیرت انگیز تو نہیں تھیں۔
یونیورسٹیوں اور بڑے بڑے اسکولوں اور کالجوں میں کیا کیا ہو رہا ہے؟ فارم ہاؤس پر طالبات کا جانا، پیسوں کے سلسلے، نشہ آور اشیا کا استعمال ایسی سب باتیں سننے میں تو آتی ہی رہتی تھیں۔ مگر سنگینی کا شاید زیادہ احساس نہ تھا۔
دراصل اس شرعی قسم کے لباس پر مجھے کوئی اعتراض تو نہیں ہونا چاہیے۔ مگر دراصل بچپن میں ہمارے اوپر اتنی پابندیاں تھیں کہ دل رائج الوقت فیشن کے ساتھ چلنے کو ترستا تھا، مگر گھر کا ماحول اجازت نہیں دیتا تھا۔ ململ کا کھلا ڈوپٹہ اوڑھو۔ قمیض کی فٹنگ زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ جسمانی خد و خال زیادہ نمایاں نہ ہوں۔
فلیپر اور بیل باٹم پہننے کے لیے ہماری جان پر بن آتی تھی۔ پر اماں کو اللہ واسطے کا بیر تھا میرے ان شوقوں سے۔ پائنچے بڑے ہوتے تو اماں انہیں تنگ کرتیں۔ تنگ ہوتے تو کھلا کرتیں۔ ایک دن یاد ہے میں جھلاتے ہوئے ان پر برس ہی تو پڑی تھی۔ ”نا اماں تو کیا مجھے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھا کر لائی تھی۔ یا میں کوئی تیری سوتیلی اولاد ہوں جو میرا یہ معصوم سا فیشن تمہیں دکھتا ہے“ ۔ یہ تو کہیں بعد میں سمجھ آئی تھی کہ مشترکہ گھر میں رہنے کی وجہ سے اماں کو ادھر ادھر کی باتوں سے ڈر لگتا تھا۔
شاید یہی وجہ تھی کہ مجھے نوجوان لڑکیوں کا بے تکا نہیں مگر باوقار دلکشی والا لباس بہت اچھا لگتا ہے اور اپنے سٹاف میں میں ان کے لباس پر خصوصی توجہ دیتی ہوں۔ سمجھاتی بھی ہوں کہ اپنے اس وقت کو انجوائے کرو۔ ضروری نہیں کہ کپڑے قیمتی ہوں بے شک کھدر پہنو پر طریقے سلیقے سے۔ شخصیت کیسی بھی معمولی ہو نکھر ہی جاتی ہے۔ مگر اس کی باتوں نے مجھے سوچ میں ڈال دیا تھا۔ میں نے کرید کرتے ہوئے پوچھا تو اس نے کہا۔ نانو دراصل میں درمیانی وقت میں یونیورسٹی ٹھہرتی نہیں ہوں، گھر آ جاتی ہوں۔ ویسے لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ جاتی تو ہیں۔
چلو خیر یہ جانیاں آنیاں، یہ معصوم سی دوستیاں تو طالب علمی کی زندگی کا زمانوں سے ایک حصہ تو ہیں ہی مگر اب جو گند اس میں گھلنے لگے ہیں وہ والدین اور طلبہ کے لیے بہت پریشان کن ہیں۔ ابھی کچھ مہینے پہلے لاہور کی ایلیٹ کلاس کی ایک یونیورسٹی اور چند بڑے اسکولوں میں طلبا اور اساتذہ کے ڈرگز، بلیک میلنگ اور جنسی ہراسانی میں ملوث ہونے کی خبروں نے بہت پریشان کیا۔
مگر اب حال ہی میں بہاول پور اسلامیہ یونیورسٹی میں جو کہرام مچا ہے۔ اس نے تو سچی بات ہے دہلا کر رکھ دیا ہے۔ والدین پر ایک لرزہ طاری ہے۔ یعنی جامعات علم و دانش کے گہوارے اب جنس، منشیات اور فحاشی کے اڈوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی اس یونیورسٹی کے پانچ کیمپسوں میں کم و بیش کوئی پینتیس ہزار کے لگ بھگ طالبات زیر تعلیم ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق اوسط درجے کے گھروں سے ہے۔
کیسی بدقسمتی ہے کہ رکھوالے، روحانی باپ ہی راہزن بن گئے ہیں۔ تقریباً 5500 بچیوں کی ویڈیوز کا بتایا جا رہا ہے۔ اس گھناؤنے کھیل میں مرکزی حکومت کے عہدے دار کے بیٹے حکومتی اہلکاروں کے سینکڑوں رکھوالے یعنی گارڈز، سیکورٹی افسرز، استاد جو روحانی باپ کہلاتے ہیں اور ڈائریکٹرز کے نام لئے جا رہے ہیں۔ خدایا پیسے اور نفس کی ہوس کیسے انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔
ہول اٹھ رہے ہیں کہ وہ والدین جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی بچیوں کو پڑھا رہے تھے خواب دیکھتے تھے اس وقت کتنے پریشان ہوں گے۔ اس بھیانک صورت کا کیسے ان بچیوں نے سامنا کیا ہو گا۔ بلیک میلنگ کے اس مرحلے کو انہوں نے کیسے جھیلا ہو گا۔ ماں باپ کی رسوائی کا خوف، رشتے داروں کے طعنے اور جگ ہنسائی کے ڈر نے کیسے ان کے ہونٹوں کو توپے لگا دیے ہوں گے۔ احساس مجرم نے نچوڑ دیا ہو گا۔
پروردگار ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہمارا ہر شعبہ زوال کی پاتال میں گر رہا ہے اور ہماری بدقسمتی ملاحظہ کریں کہ ہمیں احساس تک نہیں۔ ایک اہم کردار کی ایف آئی آر کٹتی ہے تو جرم منشیات کے حوالے سے ہے اور جو اہم جرم ہے اس کا کہیں نشان تک نہیں تھا۔ لڑکیاں پھٹ پڑی ہیں۔ مجرموں کو چوراہے پر پھانسیاں دی جائیں۔
اب کمیٹیاں بن رہی ہیں۔ ان میں کون لوگ ہوں گے۔ بہت سے مجرموں کے واقف کار، دوست ان کے خیر خواہ، تحقیقات کو شفاف ہونے ہی نہیں دیں گے۔
کچھ عرصہ شور شرابا رہے گا۔ اجلاس ہوں گے کمیٹیاں بیٹھیں گی۔ نشستند و برخاستند والے مرحلے ہوں گے، اور پھر یہ سب کچھ کھوہ کھاتے میں پھینک دیا جائے گا۔
پروردگار کس کو آواز دیں؟

