"ماورا حسین کا ڈرامہ "نوروز


یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جسے بیس سال تک اس کے والدین نے دنیا سے چھپا کر رکھا۔ اس کی دنیا محض ایک تہہ خانے تک محدود تھی۔ وہی اُس کی کُل کائنات تھی۔ اسی تہہ خانے میں اُس کا باپ اسے دینی اور دنیاوی تعلیم دیتا ہے اور ماں امورِ خانہ داری سکھاتی ہے۔ سال 2019 میں اُس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ سال 2056 ہے۔ یہ دنیا جنگ کی وجہ سے پھیلنے والے زہریلے مادے سے خطرناک ہوگئی ہے۔ جو اس آلودہ فضا میں سانس لیتا ہے مر جاتا ہے۔ یہ دنیا پہلے بے حد حسین تھی۔ یہاں روزانہ میلہ( بازار) سجتا تھا ہر طرف خوشحالی تھی۔ انسان نے بے حد ترقی کرلی تھی۔لیکن پھر جنگ ہوئی اور سب ختم ہوگیا۔
یہ بچی ( رشدینہ) جب بیس سال کی ہوئی تو اس کی ماں فوت ہوگی اور اب باپ کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ جس بیٹی کو دنیا کی نظروں سے چھپایا تھا اب یہاں محفوظ نہیں ہے۔ تب وہ اپنی بیٹی پر حیرت انگیز انکشافات کرتا ہے کہ اصل میں وہ اُس کی نہیں بلکہ اُس کے دوست ( بیوروکریٹ) اور اُس کی دوسری بیوی کی بیٹی ہے۔جو مشہور گلوکارہ تھی اور رشدینہ کے پیدا ہوتے ہی مر گئی۔ تب اُس کا باپ اپنے قبیلے میں واپس آیا لیکن رشدینہ کے دادا نے اسے بیٹی ماننے سے انکار کردیا اور قتل کرنے کی کوشش کی۔اسی لیے رشدینہ کا باپ اسے اپنے دوست کے حوالے کر کے خود نام و نہاد غیرت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ لڑکی کو اپنی آنکھوں سے دنیا دیکھنےکا موقع دیا جائے۔رشدینہ جب اس دنیا میں قدم رکھتی ہے تو گویا اُس کی نئی زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ یہ دنیا جو بظاہر بے حد خوبصورت اور رنگین ہے حقیقت میں اُتنی ہی سفاک اور ظالم ہے۔ جس کا اندازہ رُشدینہ کو ہر قدم پہ ہوتا ہے۔ قدم قدم پہ ایسے وحشیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انسانیت کے نام پہ دھبہ ہیں۔ سڑکوں پہ زندگی گزارتی رشدینہ کی زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آتا ہے جب وہ مشہور ٹک ٹاکر حرا خان کی گاڑی سے زخمی ہوجاتی ہے اور وہ پکڑے جانے کے ڈر سے رشدینہ کو اپنے گھر لے آتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حرا خان دے گی رشدینہ کو سہارا اور لائے گی اُس کی زندگی میں کوئی انقلاب ؟ رشدینہ زندگی میں کامیاب ہو پائے گی یا پھر سڑک پہ آنے پر مجبور ہوگی۔؟کیسے کرے گی وہ اس دنیا کی نظروں کو خیرہ کرتی چکا چوند کا سامنا ؟ جی تو یہ کہانی تھی گرین چینل سے نشر کیے جانے والے دلچسپ ڈرامے ” نوروز ” کی جس میں رشدینہ کا کردار نبھا رہی ہیں ماورہ حسین ۔ ان سوالات کے جواب تو آنے والی اقساط میں ہی ملیں گے۔
اس ڈرامے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک ہم جو ڈرامے دیکھتے آئے ہیں ان میں کردار غربت اور معاشرے کی غیر منصفانہ تقسیم کےخلاف ردِ عمل پیش کرتے ہیں۔ وہ غربت سے اعلانِ جنگ کے کے محنت کرتے ہیں یا دوسروں سے نفرت میں ہر حد عبور کر جاتے ہیں۔ شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں اور گمراہ ہوتے ہیں۔لیکن یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو نہ تو دوسروں سے نفرت کرتی ہے اور نہ ہی غربت کے مفہوم سے آشنا ہے۔اسے بس بنیادی اشیاء پیٹ کی آگ بجھانے کو کھانا ، تن ڈھانپنے کو کپڑے اور سر چھپانے کے لیے چھت چاہیے۔
ناظرین کے لیے یقیناً یہ جاننا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ اگر کوئی شخص پہلی بار اس دنیا میں قدم رکھے یا ایک لمبے عرصے بعد اس دنیا میں واپس آئے تو وہ کیسا محسوس کرے گا۔ یہاں کی رونقیں ،محفلیں، بھانت بھانت کی بولیاں ، اچھے بُرے کردار ، رویے اس کی نفسیات پر کس طرح اثر انداز ہوں گے۔ امید ہے منفرد انداز میں معاشرے کی عکاسی یقیناً ناظرین کو پسند آئے گی۔

Facebook Comments HS