ایران میں ایک مذہبی رہنما کا سیکس اسکینڈل
ایران میں ایک مذہبی رہنما کا سیکس اسکینڈل، ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی اور پاکستانی شیعہ کمیونٹی کی خاموشی۔
ایران میں ایک اہم مذہبی رہنما جو ایک ثقافتی و مذہبی مرکز کے بانی بھی ہیں کی ایک مرد کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے ویڈیو منظر عام پر آ نے کے بعد انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور اس معاملے کو دبانے کے لیے ایرانی ریاست کی جانب سے تمام مقبول عام ریاستی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً مذہبی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس معاملے پر عوامی سطح پر بات نہیں کی جا سکتی، اس واقعہ پر میڈیا و سوشل میڈیا کو ذمہ دارانہ رویہ ( فاشسٹ ریاست کے اصولوں کے مطابق) اختیار کرنا چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں فطری طور پر ہم جنس پسندی کے میلان کے ساتھ پیدا ہوئے والے افراد پر ریاست اور ریاستی مشنری آنکھوں میں خون سجائے حملہ آور ہوتی ہو، جہاں سر سے اسکارف کھسک جانے پر نوجوان لڑکیاں ریاستی مذہبی ادارے کے اہلکاروں کے ہاتھوں سرعام تشدد کا شکار ہو کر جان سے جاتی ہیں، جہاں ریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز وحشیانہ طریقے سے کچلی جاتی ہو۔ جہاں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن جیلوں اور پھر جیلوں سے ”دار“ تک پہنچ رہے ہوں۔ جہاں جیلیں خوفناک جسمانی تشدد اور ریپ کے لیے جانی جاتی ہوں۔ جہاں زیر حراست افراد کے اہل خانہ کو دباؤ میں لانے کے لیے ہر غیر انسانی اور غیر اخلاقی حربے استعمال کیے جاتے ہوں۔
جہاں مذہب کی مخصوص تشریح کے زیر اثر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاتا ہے جہاں، جبر اور گھٹن کے ذریعے انسانوں کے جسموں کے ہی نہیں روحوں کے قتال کی فتح کا اعلان ”فخر“ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
مگر جب جب بات ریاستی مذہبی سوداگروں پر آتی ہے چاہے وہ غلیظ جنسی اسکینڈل ہوں یا ہوش ربا مالیاتی کرپشن کے، وہاں ریاست اور ریاستی مشنری کا ”ریسکیو آپریشن“ قابل دید بھی ہوتا ہے اور قابل داد بھی، مگر
ظلم کی بات ہی کیا
ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم پھر ظلم ہے
آغاز سے انجام تلک
ظلم پھر ظلم ہے
بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
یوں تو ایران میں مذہب کی نام نہاد چادر میں لپٹی ریاستی جبر کے خلاف آوازیں، تحریکیں اور قربانیاں نئی بات نہیں مگر گزشتہ ایک سال میں ان آوازوں کی گونج میں اضافہ ہوا ہے۔ اور دوسری طرف ریاستی ظلم و جبر کے کھلے ننگے ناچ میں بھی اتنی ہی شدت آئی ہے۔
سرمایہ داری نظام میں ریاستوں اور خاص طور پر کمزور ریاستوں کی ہزار مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک مجبوری ہے
”حسین سے بھی دوستی یزید کو بھی سلام“
اپنے ماتھے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا تمغہ سجائے ہماری بیچاری ریاست تو اپنی ہی بچھائی بارودی سرنگوں اور تجربوں سے جان بچاتے ہوئے ہلکان ہے سو ریاستی سطح پر اس معاملے کو لے کر تو کوئی اصولی ردعمل تو ”خواب ہے سو ہے“ ۔
مگر اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بھیانک صورتحال میں، پاکستان کی شیعہ کمیونٹی کا وزن کس طرف ہے یا ہونا چاہیے؟
آیا کہ پاکستان کی شیعہ کمیونٹی ایران کے موجودہ معروضی حالات سے آشنا بھی ہے یا نہیں؟ اس حساس سوال تو ہم رہنے دیتے ہیں کہ حسینیت کا تقاضا کیا ہے؟ کیونکہ یہ سوال ایک پینڈورا باکس کو کھول دے گا لیکن یہ سوال تو کیا جاسکتا ہے کے اپنے لیے تمام جائز، مذہبی و سماجی حقوق کی حامی ہماری اہل تشیع بہنیں جو اپنی مرضی سے اسکارف، دوپٹے یا جینز کا انتخاب کرتے ہوئے کار ڈرائیونگ یا اسکوٹی ڈرائیونگ کا فیصلہ کرتی ہیں یا وہ شیعہ بھائی جو پاپ میوزک سنتے ہوئے میڈیا و سوشل میڈیا پر اپنی مرضی کی سرفنگ کرتے ہوئے میری رائے میری مرضی سے مستفید ہو رہے ہیں وہ عین اسی وقت اپنا وزن کیوں ایک جابر، وحشی اور قاتل ریاست اور ریاستی نظام طرف ڈال رہے ہیں؟
ظلم اور حق کی اس لڑائی میں وہ کہاں کھڑے ہیں؟
سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی شیعہ کمیونٹی ایران سے ایک والہانہ اور روحانی محسوس و غیر محسوس تعلق رکھتی ہے۔ تاہم اندھی عقیدت اور جھوٹ و فریب میں بنی تعلق کی یہ ڈوریاں غیر محسوس طور پر ایرانی عوام کے لیے مزید اذیت کا باعث بن رہی ہیں۔
جبر کے خلاف بغاوتیں ہوتی رہیں گی، لوگ قربانیاں بھی دیتے رہیں گے اور تاریخ ان سب واقعات کو اپنے اندر سموتی رہے گی۔ مگر وقت کا یہ سوال کہ ظلم و حق کی اس لڑائی میں پاکستان کی شیعہ کمیونٹی کا وزن کس طرف ہے؟
پاکستان کی شیعہ کمیونٹی انتہا پسند طالبان کے جبر کا نشانہ رہی ہے مگر سچ یہ ہے کہ ایران کی عوام جبر کی ایسی منظم خوفناک شکل کا شکار ہیں جو بے رحم انتہا پسند شیعہ ریاست کا اصل چہرہ ہے۔ یہ ظالم کا چہرہ ہے۔ خیر اور شر کے معرکہ میں پہلی آزمائش ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ پہچانا اور جانا جائے کے سچ اور حق کہاں کھڑے ہیں۔ اور جہاں سچ اور حق ہیں وہیں حسینیت ہے اور یاد رہے ”حر“ بھی وہیں ہے۔


