عورت کو غیر مؤثر کرنے کی سماجی حکمت عملی (آخری حصہ)


پدر سری نظام چوں کہ اس بات سے بہ خوبی واقف تھا کہ تاریخ میں عورت نہ صرف مرد کے ہم پلہ رہی ہے بلکہ خاندان اور قبیلہ کی سربراہ بھی رہ چکی ہے۔ لہٰذا پدرانہ معاشروں نے نہ صرف اپنے نوزائیدہ وجود کو برقرار رکھنے بلکہ اسے دوام بخشنے کے لیے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ عورت کو سماجی، معاشی اور سیاسی یعنی ہر سطح پر غیر موثر کر دیا جائے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق یونان کے قدیم اور مشہور قانون دان سولن کے قانون کے پدر سری نظام میں صنف کی سیاسی تفریق مطابق ”اگر کوئی عمل عورت کے زیر اثر کیا جائے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی“ چوں کہ عورت کی معاشرتی کم مائگی اور سیاسی غیر حاضری ہی مرد کو بلا مقابلہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں بحیثیت سربراہ کے برقرار رکھ سکتی تھی۔ لہٰذا یہ ضروری سمجھا گیا کہ سماجی رویوں کو از سر نو اس طرح سے تشکیل دیا جائے کہ جس میں عورت کا اظہار صنفی تشخص کے بجائے کم تر جنسی شے کے ہو تاکہ اسے با آسانی مرد کے زیر دست رکھا جا سکے۔

سماجی سائنس کے اعتبار سے کسی قضیہ کو حل کرنے کے لیے درست سمت کا تعین اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک مسئلے کی در پردہ بنیادی وجوہات کو گرفت میں نہ لے آیا جائے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں پدر سری نظام میں صنف کی سیاسی تفریق کے پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جن کی رو سے مرد بحیثیت صنف اور فعل مختار کے آقا اور عورت اس کی مطیع و فرماں بردار جنس کے برتی جانے والی شے نظر آتی ہے۔ سماجی ماہرین کسی معاشرے کی بحیثیت مجموعی تشکیل میں جن عناصر کی نشان دہی کرتے ہیں ان میں سے دو بنیادی رویے وہ ہیں جو سماجی مزاج اور اس کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک معاشرے میں تبادلے کا نظام ہے یعنی معاشرے میں افراد کے درمیان جو تبادلے کا نظام رائج ہے اس کا رجحان کیا ہے۔ اور دوسرا رویہ زبان میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی جو زبان رائج ہے اس میں موجود الفاظ کے معنی و مفہوم کو کس زاویہ نگاہ کے تحت بیان کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے سماجی اور سیاسی سطح پر کون سے دور رس نتائج مقصود ہیں۔

مثال کے طور پہ اردو زبان کے عام فہم لفظ عورت کے لغوی معنی پر غور کیجیئے جو اردو کی تقریباً تمام ہی لغات میں موجود ہیں یعنی۔ بیوی۔ زوجہ۔ اہلیہ۔ گھر والی۔ زن۔ عضو۔ شرم گاہ۔ مزید براں مرکبات میں عورت ہونے کے لغوی معنی ہیں۔ کنوار پن باقی نہ رہنا۔ مرد سے صحبت اختیار کر لینا۔ لہٰذا عورت کو کم و بیش تمام ہی لغوی معنی میں خواہ وہ تنہا بیان ہوں یا مرکبات کی صورت میں برتی جانے والی عضوی یا جنسی اور اسی کے ذیل میں متعلقہ شے قرار دیتے ہیں۔ اسے ضمناً متعلقہ شناخت تو کہا جا سکتا ہے لیکن انفرادی یا صنفی تشخص کے طور پہ ہرگز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

جبکہ دوسری طرف مرد کے لغوی معنی اسے مجازی خدا کے درجے پر فائز کرتے ہے۔ مثال کے طور پہ۔ مرد کے لغوی معنی ہیں۔ آدمی۔ بشر۔ منش۔ خاوند۔ شوہر۔ بہادر۔ دلیر۔ شجاع۔ سورما۔ اس کے علاوہ نر کے تنقیض کے طور پہ بحیثیت حریف یعنی دعویدار کے طور پر بھی موجود ہے۔ جبکہ مرکبات میں، مرد آدمی، یعنی شریف اور بھلا مانس۔ مرد خدا، یعنی پرہیزگار وغیرہ۔ مرد سے متعلق معنی اور مرکبات کی ایک طویل فہرست ہماری لغات میں درج ہے جو اسے معاشرے میں بلند درجہ صنفی شناخت فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ روز مرہ بولی جانے والی زبان میں جو اظہاریے تشکیل پاتے ہیں ان میں بھی مرد بحیثیت فعل مختار کے برتر اور عورت محض جنس کے برتی جانے والی کم تر شے دکھائی دیتی ہے۔

زبان وہ بنیادی اور اہم عنصر ہے جس میں پایا جانے والا رجحان سماج کی بحیثیت مجموعی نفسیات تشکیل دیتا ہے۔ اور اسی نفسیات کے زیر نگیں اخلاقی اقدار پروان چڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ عورت کے لغوی معنی شرم گاہ کے بھی ہیں۔ ہم اس لفظ کا درست اور براہ راست ترجمہ لکھنے سے قاصر ہیں اور اس کی وجہ اصلاح زبان کی وہ مردانہ وار تحریک ہے جس میں اردو زبان ڈھائی سو سالا تطہیری عمل سے گزر کے اردوئے معلیٰ کے درجے پہ فائز ہوئی ہے۔ اور اس تسنیم و کوثر سے دھلی زبان نے ہمیں ایک ایسی شرمیلی قوم بنا دیا ہے جو مبہم اور پوشیدہ اظہار کی عادی ہو چکی ہے۔ کون جانتا تھا کہ برصغیر میں نو آبادیاتی سامراج کی غلامی کے اثرات تہذیبی اعتبار سے اس قدر ضرر رساں ثابت ہوں گے۔

شرم و حیا کا جنسی تصور دراصل پدرانہ معاشرے کی تخلیق دکھائی دیتی ہے تا کہ فعل مختار کے انتہا پسندانہ اور گھناؤنے جنسی تذکرے سے عورت کو باز رکھا سکے۔ جبکہ مرد کو یہاں بھی استثناء حاصل رہا۔ لہٰذا گالیوں کو بھی عین پدرانہ سوچ کے مطابق ایسے پیرائے میں ڈھالا گیا جس میں مرد بحیثیت فعل مختار اور عورت ایک ایسی جنس کے طور پہ ظاہر ہو جس پر مرد ملکیتی اختیار رکھتا ہے۔ دانشور محمد مظاہر جو کئی نایاب کتابوں کے مترجم بھی ہیں اپنے مقالے ”نو آبادیاتی نظام۔ برصغیر کا ادبی سفر“ میں لکھتے ہیں ”پسے اور کچلے ہوئے طبقے کی بالائی پرت جو عموماً مردوں پر مشتمل ہوتی ہے برہمی کے اظہار کے لیے جنسی تعلقات بیان کر دیتے ہیں۔ جسے گالی کہا جانے لگا جس میں عزائم نہیں ظاہر کیے جاتے بلکہ راز فاش کیا جاتا ہے۔ اور اردو یا برصغیر کی کسی زبان میں شاید ہی کوئی ایسی گالی ہو جسے محض اور صرف عورتیں استعمال کر سکیں۔ ۔“

لہٰذا روز مرہ کی زبان میں استعمال ہونے والے الفاظ ان کے معنی یا مرکبات سے اخذ شدہ مفہوم اور صفات کا بیان خواہ وہ لسانی اشرافیہ اور بالادست طبقے کی منافقانہ تطہیر پر مبنی ہوں یا پسے ہوئے طبقے کی گالی دونوں ہی صورتوں میں یہ مرد کو برتر صنفی تشخص کے ساتھ ساتھ فعل مختار کی حیثیت سے عورت پر مکمل اختیار تفویض کرتے ہیں۔ جبکہ عورت بحیثیت جنس کے برتی جانے والی وہ شے ہے جو زیادہ سے زیادہ مفعول فیہ کے درجے پر فائز ہو سکتی۔ تاکہ فاعل کے فعل کی دلیل حاصل کی جا سکے۔

قدامت پسند نقطہ نظر کا جبر زبان میں تحقیق کی راہیں مسدود کر دیتا ہے۔ تخلیق اور اپچ پر پہرہ بٹھا دینے سے زبان متعصب بیانیہ بن کر رہ جاتی ہے۔ لہٰذا ایسی مجبور محض زبان میں در پیش سماجی مسائل کا حل پیش کرنا تو در کنار ان کی نشان دہی کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

اردو جو سیاسی ریشہ دوانیوں کے باوجود ہماری قومی زبان کا درجہ رکھتی ہے اور عوامی زبان کہلائے جانے کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اردوئے معلی کا لقب پانے والی زبان آخر کیوں کر روز مرہ استعمال میں لائے جانے والے ایک عام فہم لفظ ”عورت“ کو کوئی صنفی شناخت فراہم نہ کر سکی۔ ہماری لسانی اشرافیہ اور نامور مدرسوں سے فارغ التحصیل علماء آخر کیوں کر لفظ ”عورت“ کو کاغذی ہی سہی لیکن کوئی پیراہن پہنانے میں ناکام رہے۔ اور وہ تاریخ کے ارتقائی سفر میں سر تا پا شرم گاہ چھپانے کی سعی مسلسل میں اپنی ذات کھو بیٹھی۔ ثنا خوان تقدیس مشرق جن کی اکثریت مردوں پر مشتمل ہے کے لیے یہ وہ لمحہ فکریہ ہے جس کی سسکیاں صدیوں پر محیط ہیں۔

زبان کے اس قدامت پسند تسلط کے پیرائے میں جس سماجی نفسیات نے نشو و نما پائی اس نے ایک ایسے مرد غالب سماج کو جنم دیا جہاں تبادلے کا نظام یک طرفہ قرار پایا۔ مشاورت سے لے کر شراکت داری اور فیصلہ سازی تک کی یہ سماجی اور سیاسی مثلث مرد سے مرد کے درمیان تبادلے پر قائم ہے۔ پدرانہ معاشرے کی اس کارروائی کا دور رس نتیجہ یہ برامد ہوا کہ ادب جو اظہار کا سب سے موثر ذریعہ ہے وہ بھی بالآخر مردانہ قرار پایا۔ لہٰذا ان اشعار کو اخلاق سے گرے ہوئے اور معیوب سمجھا جانے لگا جن میں مرد اور عورت کے درمیان عشق و محبت کا اظہار ہو۔ جبکہ وہ اشعار بڑے تقدس کے ساتھ جھوم جھوم کر پڑھے اور سنے جاتے ہیں جن میں مرد سے مرد کی محبت کا اظہار ہو۔ اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت نہیں اشارہ ہی کافی ہے۔ لہٰذا اس بنیاد پر اگر پدرانہ معاشروں کو ہم جنس پرست سماج کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا۔

دیگر مقبوضہ اداروں یا اصناف کی طرح ادب میں بھی پدرانہ فکر و فلسفہ کے غلبہ کی وجہ سے عورت کے فکری زاویۂ نگاہ کو آزادانہ اظہار کا خاطر خواہ موقع نہ مل سکا۔ جس کا ذکر زاہدہ حنا نے اپنے حالیہ مضمون ”شاعری بھی صنفی امتیاز سے محفوظ نہیں“ میں بڑی خوبی سے کیا ہے۔ وہ صنفی تفاوت کی پیمائش میں نظر انداز کیے جانے والے ادبی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں ”یہ ایک اہم ادبی سوال ہے کہ شاعری میں عورت ہمیں ہر قدم پر موضوع شعر تو بنتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن شعر موزوں کرتے ہوئے خال خال ملتی ہے۔ ہمارے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ عورت کے مزاج کی سریت، حسیت اور نرگسیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اصل دھارے سے کٹی ہوئی اور گھر کے آنگن تک سمٹی ہوئی اس کی زندگی نے اسے ان صد رنگ تجربات اور ہزار ہا کیفیات سے دوچار ہی نہیں کیا کہ وہ شاعری کے آسمان پر کھل کر اڑان بھرتی۔ زاہدہ حنا مزید لکھتی ہیں کہ اس کے ساتھ ہی ایک مکتبہ فکر وہ بھی ہے جس کی نمایندگی عندلیب شادانی نے خوب کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے جسمانی زور قوت کی بنا پر مرد نے عورت کو کبھی بھی اپنا ہم مرتبہ و ہم پلہ نہیں جانا اور اس کی ذہنی استطاعت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ چنانچہ عورت کی اکثر فطری صلاحیتیں بروئے کار نہ آنے کے سبب اور معطل رہتے رہتے ناکارہ ہو گئیں اور عورت زندگی کے کسی بھی شعبے میں کارہائے نمایاں انجام نہ دے سکی۔ زاہدہ حنا مزید لکھتی ہیں کہ کیسی کم نصیبی ہے کہ خدائے سخن میر تقی میر تذکرہ شعراء لکھتے ہیں لیکن اس میں کسی شاعرہ کا ذکر کرنا یا اس کا شعر نقل کرنا کسر شان سمجھتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی چہیتی اور خوش بیان اور قادر الکلام صاحبزادی بیگم بنت میر کا تذکرہ کرنا بھی عار سمجھا۔ “

پدر سری نظام میں فعل مختار کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اس سے مراد محض جنسی اختیار نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر سماجی، سیاسی اور معاشی نظام کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ اور اسی لیے اس بات کا خاص اہتمام کیا گیا کہ فعل مختار صرف مرد ہی ہونا چاہیے۔ کم و بیش یہ ہی صورت حال آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ کیوں کہ عورت فعل مختار نہیں ہے لہٰذا وہ حق خودارادیت نہیں رکھتی اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سماج میں رائج تبادلے کے نظام میں بحیثیت جنسی متبادلہ کے نظر آتی ہے جس پر مرد کو ملکیتی اختیار حاصل ہے۔ اگرچہ جدید فلاحی ریاست کا قانون عورت کو خودارادیت کا حق دیتا ہے لیکن سماجی سطح پر آج بھی اس کی اتنی ہی مخالفت موجود ہے کہ جتنی پہلے موجود تھی۔ ڈاکٹر خاور نوازش اپنے مقالے ”تاریخ میں عورت کی معاشرتی حیثیت“ میں ڈاکٹر مبارک علی کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ ”بیسویں صدی میں برطانوی حکومت نے کچھ ایسے قوانین بنائے جن سے ہندوستانی عورت نسبتاً با اختیار ہو سکتی تھی۔ لیکن ہمارے جاگیردارانہ سماج اور اس کے نمائندوں نے جن میں مفکرین اور علماء دونوں شامل تھے ان قوانین کی مخالفت کی۔ 1938 کا شریعت ایکٹ ہو جس میں عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ متعین کیا گیا، یا 1939 کا طلاق ایکٹ ہو ہر سطح پر مقامی رسم و رواج اور مذہب کی آڑ میں ان قوانین کی مخالفت کی گئی اور پدرانہ نظام کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی گئی۔ “ ۔ محمد مظاہر اپنے مقالے ”برصغیر کا ادبی سفر“ میں عورتوں کے حق خود ارادیت کے ضمن میں یہ نقل کرتے ہے۔ ”اسماعیل منیر شکوہ آباد ( 1831۔ 1891 ) عورتوں کی خود ارادیت کے لیے فعل مختاری کی اصطلاح یوں نظم کرتے ہیں۔

” فعل مختاری پہ ہو خدا کی مار۔ کہ تھتکاریاں ہوں خود مختار“

اسی حوالے سے محمد مظاہر مزید بتاتے ہیں کہ کوئی پچھتر برس کے بعد سر سید اسباب بغاوت ہند میں لکھتے ہیں ( 1858 ) ”ضابطہ عورتوں کا جو فوجداری سے عدالتوں میں جاری تھا کس قدر ہندوستانیوں کی عزت اور ابرو اور رسم و رواج میں نقصان پہنچاتا تھا۔ منکوحہ عورتیں تک فوجداری سے فعل مختار ہو گئیں۔ ولیوں کی ولایت عورتوں پر سے اٹھ گئی اور یہ باتیں صریح مذہب میں نقصان پہنچاتی تھیں۔ “ ۔ کم و بیش یہ ہی صورت حال ہمیں عورت مارچ کے بعد مردوں کی جانب سے ان کے ردعمل میں دکھائی دیتی ہے۔ جب عورت نے حق خود ارادیت کا اظہار کرتے ہوئے ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ بلند کیا تو جیسے پدر سری نظام کے ایوانوں میں بھونچال آ گیا۔ اور کیوں نہ اتا آج عورت اپنے جسم پر اختیار مانگ رہی تو کل وہ وراثت میں برابری کا حق بھی چاہے گی اور یوں وہ ایک دن سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر مرد کے مساوی جا کھڑی ہو گی۔ پھر کوئی خلیل الرحمان اسے دو ٹکے کی عورت لکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ ہمارا خیال ہے کہ پدر سری معاشروں کا یہ ڈر بجا ہے کیوں کہ وہ وقت دور نہیں جب چادر و چاردیواری کے اخلاقی و مذہبی جواز پر عورت کے اطراف ایستادہ مرد کی بلند بالا فصیلیں محض ریت کا ڈھیر ثابت ہوں گیں۔ اب محض عورت کی تقدیس کا گھسا پٹا راگ الاپنے سے اسے رام نہیں کیا جا سکے گا۔ ایک طائرانہ نظر عورت مارچ پر بھی ڈال لیجیے جہاں تنسیخ نکاح کی ہلکی سی باز گشت سنائی دی تھی۔ لہٰذا وہ وقت دور نہیں جب کثرت نکاح بھی آپ کے حرم کی رونق دوبالا نہ کر پائے گی۔ میرا مقصد آپ کو بے لطف کرنا ہرگز نہیں بلکہ ہوش کے ناخن دلانا ہے۔

اختتامیہ

” اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا اندازہ ہے کہ ایسے بد قسمت انسانوں کی تعداد سال کے آخر تک بارہ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے جو کسی نہ کسی جبر کے سبب اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ گزیں ہیں۔ وسعت اللہ خان کے مضمون سے، ایکسپریس 20 جون 2023،“

ہماری پدرانہ دنیا کی دگرگوں فکری صورت حال کا اندازہ اس بات سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ 2019 میں جب کورونا جیسی جان لیوا عالمی وبا نے ہمیں آ لیا تو ہمارے پاس یہ موقع تھا کہ ہم اپنے ماحول اور صحت کے سنجیدہ مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرتے۔ اور اس سلسلے میں ہم آہنگ عالمی پیش رفت کو بنیاد بنا کر امن پسند پالیسیاں مرتب کرتے۔ بجائے اس کے ہم نے توسیع پسندانہ قبضہ کی عین پدرانہ سوچ کے مطابق ایک اور ہولناک جنگ ایسی دنیا میں چھیڑ دی جو 12500 مہلک ایٹمی ہتھیار رکھتی ہے۔ بحیثیت مجموعی اس وقت پدر سری دنیا کی جو تشویش ناک صورت ہمارے سامنے ہے اس میں یہ واضح طور پہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ہمارا معاشی نظام ہمارے سیاسی نظام سے مطابقت کھوتا جا رہا ہے۔ ہماری سیاسی سرگرمیاں جمہوریت کی روح سے میل نہیں کھاتیں اور یہ خلیج آئے روز گہری ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں انسانی آبادیوں پر غیر یقینی اور عدم تحفظ کا شدید احساس چھاتا چلا جا رہا ہے۔ لہٰذا قرائن بتا رہے ہیں کہ اس دنیا کی باگ ڈور عورتوں کے ہاتھ میں دے دینی چاہیے۔ ہماری دنیا کو اس ذہانت کی ضرورت ہے جس میں مادرانہ شفقت کا عنصر پایا جائے جو پوری کائنات پر بلا تفریق سایہ فگن ہو۔ اسے مادر سری کا احیا نہیں بلکہ قرین قیاس سمجھا جائے۔

Facebook Comments HS