ایٹم بم کے باپ۔ اوپن ہائمر۔ کی کہانی
جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر اگست 1945 میں ایٹم بم گرانے کے بعد جب امریکی صدر ٹرومین نے ایٹم بم کے خالق سائنسدان رابرٹ اوپن ہائمر کو بلا کر بڑے فخر سے مبارکبادی تو اوپن ہائمر نے احساس ندامت سے کہا
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے ہاتھوں پر خون ہو۔ صدر ٹرومین نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اوپن ہائمر کو دیا اور کہا، اس رومال سے اپنے ہاتھ کا خون صاف کر لیں۔
سائنسدان اوپن ہائمر جہاں بہت سے امریکیوں کے لیے باعث فخر ہیں وہیں چند امریکیوں کے لیے باعث شرمندگی بھی ہیں۔ وہ کسی کے لیے ہیرو ہیں اور کسی کے لیے ولن کیونکہ وہ ایک متنازع شخصیت کے حامل تھے۔
امریکی فلم۔ اوپن ہائمر۔ کی مقبولیت کے بعد وہ ایک دفعہ پھر ساری دنیا میں موضوع بحث بن گئے ہیں۔
جب ہم اوپن ہائمر کی سوانح عمری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ 1904 میں نیویارک کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی والدہ ایک فنکارہ تھیں جنہوں نے اپنے گھر کی دیواروں پر پکاسو اور وین گو کی پینٹنگز سجا رکھی تھیں۔ ان کے والد ایک بزنس مین تھے۔ جب ان کے والد کو کاروبار میں کامیابی حاصل ہوئی تو وہ مین ہیٹن کے ایک متمول علاقے میں منتقل ہو گئے۔
اوپن ہائمر کے ایک چھوٹا بھائی بھی تھے جن کا نام فرینک تھا۔ وہ بھی بڑے ہو کر ایک سائنسدان بنے۔
رابرٹ اوپن ہائمر بچپن سے ہی ایک ذہین طالب علم تھے۔ انہیں اعلیٰ تعلیم کا بڑا شوق تھا۔ انہیں اٹھارہ برس کی عمر میں ہی ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجوئیشن کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے۔ جب انہیں سائنس کی لیبارٹری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ان کے اساتذہ نے مشورہ دیا کہ وہ THEORETICAL PHYSICS پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ اوپن ہائمر نے اپنے اساتذہ کے مشورے پر عمل کیا اور بہت کامیاب ہوئے۔ اوپن ہائمر نے 1927 میں تئیس برس کی کم عمری میں ہی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔ کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر جب اوپن ہائمر گوٹنگن یونیورسٹی گئے تو وہاں انہیں اپنے عہد کے جن مایہ ناز سائنسدانوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان میں میکس بورن اور ورنر ہازنبرگ بھی شامل تھے۔ اوپن ہائمر نے ہارورڈ اور کالٹیک دونوں یونیورسٹیوں میں پڑھایا بھی اور سائنسی تحقیق بھی کی۔
1939 میں اوپن ہائمر کو فلکیات میں دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے نیوٹرون ستاروں کے حوالے سے تحقیق اور بلیک ہولز کی سائنسی پیشین گوئی کی۔ اوپن ہائمر نے صرف خود سائنسی تحقیق کرتے تھے بلکہ دوسرے سائنسدانوں کو تحقیق کرنے کی تحریک بھی دیتے تھے۔ اوپن ہائمر سائنسی دنیا میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ رومانوی زندگی میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
اوپن ہائمر برکلے یونیوٹی کے ایک ادب کے پروفیسر کی بیٹی جین ٹیٹلاک کی زلف کے ایسر ہو گئے۔ وہ طب کی طالبہ تھیں اور ایک کمیونسٹ اخبار کے لیے کالم لکھتی تھیں۔ دونوں سوشلسٹ نظریات سے متاثر تھے۔ اوپن ہائمر کا یہ عشق تین سال چلا اور پھر ایک جذباتی بحران کے بعد 1939 میں ختم ہو گیا۔ اسی سال اوپن ہائمر کی ملاقات کیتھرین پیوننگ سے ہوئی جنہیں سب کیٹی کے نام سے پکارتے تھے۔ کیٹی رومانوی طور پر ایک تجربہ کار خاتون تھیں۔ ان کی پہلی شادی صرف چند ماہ رہی تھی۔ دوسر شادی اس وقت ختم ہوئی جب ان کے شوہر سپین کی جنگ میں مارے گئے۔ تیسری شادی ایک ڈاکٹر سے ہوئی۔ کیٹی شادی شدہ ہونے کے باوجود اوپن ہائمر کے عشق میں گرفتار ہو گئیں۔ ان کی زندگی اس وقت ایک بحران کا شکار ہوئی جب انہیں پتہ چلا کہ وہ اوپن ہائمر سے حاملہ ہو چکی ہیں۔ اس وقت انہوں نے تیسرے شوہر سے طلاق لے کر اوپن ہائمر سے شادی کر لی۔
اوپن ہائمر کیٹی کے چوتھے شوہر جبکہ کیٹی اوپن ہائمر کی پہلی بیوی تھیں۔ اس شادی سے ان کے دو بچے پیدا ہوئے۔ شادی کے دوران ان کی دوبارہ ملاقات جین ٹاٹلاک سے ہوئی تو نہیں اندازہ ہوا کہ ان کے دل میں ٹاٹلاک کی محبت کی راکھ کے نیچے ابھی چند چنگاریاں باقی ہیں۔ انہوں نے محبت کی چنگاری کو دوبارہ شعلہ بنانے کی کوشش کی لیکن ٹاٹلاک محبت کی اس آگ میں جل گئیں اور انہوں نے خودکشی کر لی۔ اوپن ہائمر کو اس خودکشی نے بہت دکھی کر دیا اور کچھ عرصہ وہ خود ڈپریشن کا شکار رہے۔
چند سال بعد وہ اپنے ایک دوست رچرڈ ٹالمین کی بیوی کے بھی رومانوی طور پر قریب آئے لیکن وہ رشتہ بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ اوپن ہائمر اپنے مزاج کی وجہ سے رومانوی زندگی میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکے اور ان کی بیوی کیٹی ان کی متلون رومانوی شخصیت سے نالاں رہنے لگیں۔ سائنس کے ساتھ ساتھ اوپن ہائمر کو ادب اور فلسفے کا بڑا شوق تھا۔ انہوں نے گیتا پڑھنے کے لیے سنسکرت سیکھی۔ ان کا خیال تھا کہ گیتا دانائی کا سرچشمہ ہے۔
اوپن ہائمر کو تین دفعہ سائنس کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا لیکن انہیں نوبل انعام نہیں ملا۔ بعض ماہرین اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اوپن ہائمر نئے خیالات تو پیش کرتے تھے اور ان پر تحقیق شروع بھی کرتے تھے لیکن پھر کسی نئے خیال کی طرف چل پڑتے تھے اس لیے وہ بہت سے سائنسی خیالات کی تحقیق کو اس معراج تک نہ لے جا سکے کہ انہیں نوبل انعام ملتا۔
1930 کی دہائی میں ’اس دور کے بہت سے جوشیلے نوجوانوں کی طرح‘ اوپن ہائمر بھی مارکس اور کمیونسٹ خیالات سے متاثر ہوئے۔ وہ سوشلسٹ حلقوں میں مقبول تھے کیونکہ ان کے کئی دوست کمیونسٹ تھے۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے کبھی ممبر تو نہ بنے لیکن سوشلسٹ خیالات کی وجہ وہ سیاسی مسائل کا شکار ہوئے کیونکہ ایف بی آئی نے ان کی ایک فائل بنائی ہوئی تھی اور وہ ان کا پیچھا کرتے رہتے تھے۔
1941 میں امریکی صدر فرانکلن روزویلٹ نے دوسری جنگ عظیم میں شرکت کرنے سے پہلے فیصلہ کیا کہ امریکہ کو ایک ایٹم بم بنانا چاہیے۔ مئی 1942 کو اوپن ہائمر کو دعوت ملی کہ وہ ایٹم بم بنانے کی سائنسی ٹیم میں شامل ہوں۔ اس سال کے ستمبر کے مہینے میں انہیں جس پروجیکٹ اور خفیہ لیبارٹری کا ڈائرکٹر بنایا وہ بعد میں لوس ایلیموس لیبباٹری اور مین ہیٹن پروجیکٹ کہلائے۔ اوپن ہائمر نے اس پروجیکٹ میں اپنے بہت سے شاگردوں اور رفقا کار کو شامل کیا۔ اوپن ہائمر نے اپنا تن من دھن اس پروجیکٹ کی نذر کر دیا۔ امریکہ کو فکر تھی کہ کہیں جرمن ان سے پہلے ایٹم بم نہ بنا لیں۔ آخر اوپن ہائمر اور ان کے ساتھیوں کی محنت مشقت اور ریاضت رنگ لائی اور انہوں نے سولہ جولائی انیس سو پینتالیس کو ایٹم بم کا پہلا ٹیسٹ کیا جو کامیاب رہا۔
اس کامیابی کے بعد اوپن ہائمر کو ایٹم بم کے باپ ہونے کا خطاب ملا۔ انہیں اتنی شہرت اور مقبولیت ملی کہ ان کی تصویر LIFE AND TIME MAGAZINES کے سر ورق پر دکھائی دی۔
امریکی صدر کے حکم سے چھ اور نو اگست کو جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم پھینکے گئے۔ جہاں امریکی صدر نے خوشی کا جشن منایا کہ وہ جنگ جیت گئے وہیں اوپن ہائمر دکھی تھے کہ ان کے ایٹم بم سے ان گنت انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ ایک موقع پر اوپن ہائمر نے گیتا کے الفاظ دہرائے کہ وہ جنگ اور موت کا فرشتہ بن گئے ہیں۔
I HAVE BECOME DEATH THE DESTROYER OF THE WORLDS
جس طرح یونانی دیومالا میں پرومیتھیس خداؤں سے آگ چرا کر انسانوں کو دے دیتا ہے اسی طرح اوپن ہائمر نے فطرت کے راز چرا کر انسانوں کو آگ کے شعلوں کا خطرناک تحفہ دیا۔ اوپن ہائمر کی فلم جس کتاب سے ماخوذ ہے اس کا نام بھی OPPENHEIMER…AMERICAN PROMETHIUS ہے۔ اوپن ہائمر نے ایٹم بم تو بنا دیا لیکن جب ساری دنیا میں جنگ کی دوڑ تیز ہونے لگی تو وہ بہت پریشان ہوئے اور جب امریکہ کے دوسرے سائنسدانوں نے ہائیڈروجن بم بنانا چاہا تو انہوں نے البرٹ آئن سٹائن اور برٹنڈرسل کے ساتھ مل کر اس کوشش کو روکنے کی کوشش کی۔ اوپن ہائمر کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کے کماں سے جو تیر نکل چکا تھا وہ اسے روکنے سے قاصر تھے۔
اوپن ہائمر نے جب امریکی حکومت کے اصحاب بست و کشاد اور دیگر سائنسدانوں پر تنقید کی تو ان پر ایک خفیہ مقدمہ چلا جس میں ان کے دیرینہ دوستوں اور رفقا کار نے ان کے خلاف شہادت دی کہ یہ کمیونسٹ نظریات کے مالک ہیں اور ان کے روس سے خفیہ مراسم ہیں اس لیے ان سے سیکورٹی لائسنس واپس لے لیا گیا۔ اوپن ہائمر اپنے دوستوں کی بے وفائی سے بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ جب امریکی حکومت نے ان سے سیکورٹی لائسنس چھینا تو وہ ایک امریکی ہیرو سے ایک ولن بن گئے۔ ان کی نیک نامی بدنامی میں بدل گئی اور کچھ لوگ انہیں محب وطن کی بجائے غدار سمجھنے لگے۔
جب امریکی حکومت نے انہیں ذلیل و خوار اور بے توقیر کرنے کی کوشش کی تو ایک برطانوی دانشور WERNHER BRAUN نے امریکی ریاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اوپن ہائمر برطانوی شہری ہوتے تو ہم انہیں سر کا خطاب دیتے
IN ENGLAND OPPENHEIMER WOULD HAVE BEEN KNIGHTED
اوپن ہائمر چونکہ حد سے زیادہ سگریٹ پیتے تھے اس لیے وہ ساٹھ برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے بیمار رہنے لگے انہیں گلے کا کینسر ہو گیا اور وہ تین دن کوما میں بیہوش رہنے کے بعد اٹھارہ فروری 1967 کو فوت ہو گئے۔
اوپن ہائمر کی وفات کے بعد بہت سے سائنسدان یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ سیاست اور سائنس کا کیا رشتہ ہے اور کیا سائنسدان کی تحقیق کا نتیجہ اس کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے یا ریاست کی ملکیت جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
اوپن ہائمر کی زندگی اور موت ہم سے پوچھتی ہے۔ کیا سائنس کی ایسی تحقیقات پر ہمیں پابندی لگانی چاہیے جو انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں؟
اس کی ایک مثال آج کے دور کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تحقیق ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ہم نے اے آئی کی مزید تحقیق پر جلد پابندی نہ لگائی تو ہم ایک دن اس کے نتائج سے اسی طرح پریشان اور نادم ہوں گے جس طرح ہم ایٹم بم بنانے پر نادم ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ جہاں سائنس اور ٹکنالوجی کی تحقیقات نے انسانی زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا کیں وہیں ٹکنالوجی کے غیر دانشمندانہ استعمال نے انسانیت کے لیے بہت سی دشواریاں بھی پیدا کی ہیں۔
سائنسی تحقیقات کے نتائج دانشمند لوگوں کے ہاتھ میں امرت اور غیر دانشمند لوگوں کے ہاتھ میں زہر بن سکتے ہیں۔





