یونیورسٹیوں میں امتحانات کے لیے ”مخصوص سافٹ وئیر“ لانا ضروری کیوں؟
میرا یہ بلاگ گزشتہ بلاگ بعنوان ”اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل کا انجام کیا ہو گا؟ کا تسلسل ہی سمجھ لیں۔ فارغ اوقات میں میرا ایک مشغلہ انٹرنیٹ پہ دنیا بھر کے ٹریول ولاگز دیکھنا بھی ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے، گھر بیٹھے ہی پوری دنیا کو دیکھتے رہنا۔ میرے پسندیدہ ٹریول ولاگز میں ایک ٹریول ولاگ کا نام ہے۔
Peter Santenello
یہ ایک ون مین شو چینل ہے جو امریکہ کی ترقی کے پسِ پردہ رازوں کو بیان کرتا ہے۔ وہاں کے سماج، معاشرت، ثقافت، معیشت اور عقائد پہ روشنی ڈالتا ہے۔ ویسے تو پیٹر سینٹی نیلو پوری دنیا گھومتا ہے لیکن امریکہ اور یورپ پہ بنائے جانے والے اس کے ولاگز دیکھنے کی چیز ہیں۔ جب اس کے ولاگز میں امریکہ کے سٹرکچر سسٹم کو دیکھتا ہوں تو نہ جانے کیوں خیال آتا ہے کہ جنوبی ایشیا سماجی اور معاشی ترقی میں مغرب سے کئی سال نہیں بلکہ کئی دہائیاں پیچھے ہے۔ آپ چاہیں تو مجھ پہ طنز کر لیں کہ اکبر تم مغرب سے مرعوب نظر آتے ہو۔ بات یہ ہے کہ جب میں جنوبی ایشیا کی کچی آبادیوں چاہے وہ کراچی، بہاول پور میں ہوں، دہلی، بمبئی میں ہوں یا چٹاگانگ میں وہاں رہنے والے افراد کا معیارِ زندگی دیکھتا ہوں تو دل کو بہت دُکھ ہوتا ہے گویا ان لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھا گیا۔
کرپشن خون کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے اس لیے سسٹم میں شفافیت لانے کو کوئی تیار ہی نہیں۔ مثلاً بہاول پور میں سیوریج لائن کے گٹروں پر سے ڈھکن غائب ہوتے ہیں۔ ایک نوجوان سیٹلائٹ ٹاؤن میں کھلے مین ہول میں گر کر مرا تو ایک بچہ بدر شیر کچی آبادی کے سیوریج لائن میں گٹر پہ ڈھکن نہ ہونے کی بنا پر بہہ گیا۔ حال ہی میں اسلامی کالونی میں بھی ایک شخص مین ہول پہ ڈھکن نہ ہونے پہ گر کر مر گیا۔ کچھ عرصہ قبل سیمنٹ پائپ بنانے والی فیکٹری میں کام کرنے والے ایک کاریگر نے راقم کو بتایا تھا کہ سیوریج لائن بچھانے کے جو سرکاری ٹھیکے ہوتے ہیں تو ٹھیکے دار ہمارے پاس آ کر کہتے ہیں پائپ میں لوہے کی تاریں کم ڈالو اور گٹر کے ڈھکن میں سیمنٹ اور بجری کم اور ریت زیادہ ڈالو تاکہ پیسوں کی بچت ہو۔ میں نے کہا پھر اعلٰی سرکاری افسر اور سرکاری انجینئر انھیں پاس کیسے کر دیتے ہیں تو وہ بلند آواز سے قہقہہ لگا کے ہنسا۔ کیا بہاول پور، کیا کراچی اور لاہور اور کیا دہلی، کلکتہ، بمبئی اور ڈھاکہ ہر جگہ ایک ہی حال ہے۔
موضوع کی طرف آتے ہیں۔ کل سے ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہے جس میں ایک طالبہ غازی یونیورسٹی کے دو اساتذہ پہ جنسی استحصال کا الزام عائد کر رہی ہے۔ راقم نے اپنے گزشتہ بلاگ میں تجویز دی تھی حکومت مستقل قانون بنا دے کہ کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ یونیورسٹی اور کو ایجوکیشن کالجز کے امتحانی جوابی پیپرز کی چیکنگ اور مارکنگ کا اختیار اس یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ کو نہیں ہو گا بلکہ یہ امتحانی جوابی شیٹس دوسرے صوبوں کے اساتذہ کو بھیجی جائیں گی تاکہ اگر کسی یونیورسٹی یا کالج میں کوئی شیطان صفت استاد پایا جاتا ہو تو وہ پیپر پاس کرنے یا فیل کرنے کا لالچ یا ڈراوا دے کر کسی طالبہ یا طالب علم کا استحصال نہ کر سکے۔
راقم کی اس تجویز پہ اعتراض یہ سامنے آیا کہ یونیورسٹیوں نے سالانہ امتحان والے سسٹم کو ترک کر کے سمیسٹر سسٹم امتحانات کا طریقہ کار اپنا لیا ہے یعنی پہلے طلباء سال بعد ہی پیپر دیتے تھے تو اب ان سے ہر تین ماہ بعد سمیسٹر امتحان لے لیا جاتا ہے۔ اب اگر سمیسٹر امتحان کے پیپرز چیکنگ اور مارکنگ کے لیے دوسروں صوبوں میں بھیجے جائیں گے تو وقت بہت خرچ ہو گا جبکہ طلباء کو اگلے سمیسٹر کی کلاسیں بھی تو پڑھنا ہیں۔
یہاں پہ اکبر شیخ اکبر ایک تجویز دیتا ہے کہ ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجز میں امتحانات کے انعقاد اور پیپرز کی چیکنگ اور مارکنگ کے لیے نادرا سافٹ وئیر جیسا سافٹ وئیر اور بنک اپنی دستاویزات کے تبادلے کے لیے جو کمپیوٹر سافٹ وئیر استعمال کرتے ہیں اسی طرح کا سافٹ وئیر حکومت کی سرپرستی میں بنوایا جائے اور پیپرز کی چیکنگ اور مارکنگ کے لیے جدید ویڈیو کانفرنس ٹیکنالوجی کی مدد حاصل کی جائے۔ امتحانی شیٹس پہ طلباء کو الاٹ رول نمبر ہٹا کے امتحانی جوابی شیٹس کو دوسرے صوبوں کے اساتذہ کے پاس نیا خفیہ رول نمبر دے کر سکین کر کے بذریعہ مخصوص سافٹ وئیر اور ویڈیو ٹیکنالوجی سسٹم سے بھیج دیا جائے اور وہ لوگ اپنی یونیورسٹی کے سنٹرل چیکنگ و مارکنگ ہال میں اسکرین پہ ہی پیپر چیک و مارک کر کے بذریعہ آئی ٹی ٹیکنالوجی ہی واپس بھیج دیں۔


