ہڈ بیتی زیست کے تجرباتی تراشے
انسانی زندگی پر اسرار ہے۔ زندگی میں کئی ایسے واقعات انسان پر گزرتے ہیں جن کا مستقل اثر حواس پر غالب رہتا ہے۔ بعض دفعہ معمولی سی بات غیر معمولی حد تک شعور کو متاثر کر جاتی ہے اور مدت دراز تک اس بات کے بطن میں پنہاں پر اسراریت کو کرید کرید کر حقیقت کو آشکارا کرنے کی جستجو رہتی ہے۔ واصف علی واصف صاحب نے کہا تھا کہ پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر ہوتی ہے۔ انسان جس قدر فکری اعتبار سے بڑا ہو گا اسی قدر اس کے احوال زیست کی شعوری اٹھان بلند ہو گی۔
دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں گزرا جو کسی سے متاثر نہ ہوا ہو یا اس نے کسی کو اپنے قول و فعل اور عمل سے متاثر نہ کیا ہو۔ عظیم شخصیات کے اقوال آج بھی انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ عظیم ہونا اور بات ہے اور کہی ہوئی بات کو شہرت مل جانا اور بات ہے۔ شعوری زندگی کے بیس برس گزارنے کے بعد جو کچھ سیکھا، سمجھا، پرکھا اور شعور کے نہاں خانوں میں رچ بس گیا، اس خزینے سے چند تراشے دوران تحریر ایک سکرپٹ سے انتخاب کیے ہیں۔ آپ بھی پڑھیں۔ ہو سکتا ہے ان کیفیات و مشاہدات اور تجربے سے آپ بھی میری طرح گزرے ہوں۔
٭۔ سچ تو یہ ہے کہ مرد اور عورت کسی ایسے رویے پر تاحال نہیں پہنچے جو دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔
٭۔ جوائنٹ فیملی والے والدین ایک ہی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر بچوں کا اچھا سوچیں تو رشتے خراب ہوتے ہیں اور رشتوں کا اچھا سوچیں تو بچے خراب ہوتے ہیں۔
٭۔ ہم چاہتے ہیں بچے ہمیں سمجھیں۔ تیس پینتیس چالیس پچاس سال کا باپ چاہتا ہے۔ ایک، دو، تین، چار سال کا بچہ اسے سمجھے، اسے سمجھے وہ کیا چاہتا ہے۔ وہ خود بچے کو سمجھنا نہیں چاہتا۔ اتنی سی بات ہے بس۔ جو باپ اپنے بچے کو اطاعت سکھا رہا ہے وہ بچے کو سمجھنا نہیں چاہتا۔
٭۔ بعض ماں باپ کی زندگی اپنے بچوں کو اپنے سے کم عقل اور چھوٹا ثابت کرنے میں گزر جاتی ہے۔ ماں باپ سے بچے بڑے نہیں ہوسکتے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اس نرگسی رویے سے خود کو باہر نکالے۔ اس منفی رویے کی وجہ سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔
٭۔ عشق و محبت تو شروع سے ہی مردود رہے ہیں معاشرے میں۔ میں نہیں سمجھتا کہ دنیا میں کسی جگہ، کسی قوم یا کسی دور میں انھیں بڑی پذیرائی حاصل رہی ہو۔ سر آنکھوں پر بٹھا یا جاتا رہا ہو۔ اس خواب سے باہر نکلے۔
٭۔ شروع میں شاعروں نے اور جدید دور میں سنیما نے عشق و محبت کو پرموٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عشق و محبت کسی دور، کسی قوم اور کسی خطے میں بھی اچھی اخلاقی یا معاشرتی اقدار شمار نہیں ہوتے رہے۔ اب بھی یہی صورتحال ہے۔ بلاشبہ شاعروں اور سنیما نے معاشرتی اخلاقیات کو بگاڑا ہے تاہم کہیں کہیں اس نے تربیت کا انداز بھی اپنایا ہے جو صرف یہی دو ادارے کر سکتے تھے۔
٭۔ قربانیاں دے کر شادی چلانے میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن ظلم سہ کر چلانے میں برائی ہے۔
٭۔ دنیا کا کوئی ایسا ملک، کوئی ایسی قوم، جہاں عورت کے ساتھ ہونے والے سلوک سے آپ مطمئن ہوں؟
٭۔ مجھے نہیں پتہ میں کیا بن کر سوچتا ہوں۔ میں جب سوچتا ہوں تو پاگل ہو جاتا ہوں۔ ایک عورت گھر کو سجا سنوار کر رکھتی رہی۔ شوہر کی خدمت میں ہر کڑوی کسیلی سہتی رہی۔ آخر شو ہر ہے اس کا۔ اس کا گھر والا ہے اور گھر والے نے کوئی کچی ناریل دیکھی۔ دس سال پرانی شادی کے منہ پر خال ڈالی اور طلاق نامہ پکڑا کر چلتا کیا۔ وہ عورت کیا سوچ کر نکلے گھر سے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔
٭۔ پتہ ہے دنیا کی سب سے تکلیف دہ نظر کون سی ہوتی ہے :جب کوئی عورت طلاق سن کر نکلتے ہوئے، آخری بار گھر کو دیکھتی ہے۔
٭۔ بات یہ ہے کہ آج کی لڑکی لڑکوں سے وفاداری اور اطاعت کی توقع کرتے ہوئے ہم دو پہلوؤں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں : ایک تو ان کی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت اور دوسرا میڈیا اور سوشل میڈیا کے اثرات۔ یہ معمولی چیزیں نہیں ہیں۔ انھوں نے نئی نسل کی نفسیات کو بدل دیا ہے۔ ان سے پرانی اخلاقیات کی توقع کرنا بے وقوفی ہے۔
٭۔ میرے خیال میں ہمیں اپنے اور لوگوں کے کردار کے بارے میں آئیڈیلسٹ سے زیادہ رئیلسٹ بن کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معیار بہت اونچے ہیں۔ ناقابل عمل، ناقابل یقین حد تک اونچے ہیں۔ حقیقی زندگی میں اور عام انسان کی زندگی میں شاید انھیں چھونے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اچھائی، برائی، مخلصی، وفاداری، اطاعت، ہر انسان میں ہوتی ہے لیکن معیار کی نہیں ہوتی جو ہمیں کتابوں میں ملتا ہے۔ اپنے انداز اور اپنے معیار کی محبت۔ ہمیں اسے اسی طرح قبول کر لینا چاہیے۔
٭۔ محبت کے جتنے تجربات ہوتے جاتے ہیں۔ محبت اتنی ہی بے اثر ہوتی جاتی ہے۔ محبت سے اتنا ہی اعتبار اٹھتا جاتا ہے۔
٭۔ مجھے اپنی فیملی میں ان جوڑوں کو مل کر بہت خوشی ہوتے ہے جو کسی لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے لائق نہیں تھے۔ شکل و صورت، تعلیم و سٹیٹس۔ ان کے بارے میں سب کہتے تھے۔ یہ شادی چلتی نظر نہیں آتی۔ اس رائے کے باوجود عرصہ دراز سے یہ ایک ساتھ ہیں اور بہت خوش ہیں۔
٭۔ سردیوں کی شام ہو۔ دھند ہو اور کسی شادی میں گئے ہوں۔ کتنا اچھا لگتا ہے ادھر ادھر کسی کونے میں ؛دوسروں سے علاحدہ کسی جوڑے کو باتوں میں مصروف دیکھنا اور باتیں بھی وہ جو چہروں پہ لکھی ہوں۔
٭۔ شکی مزاج ہونا اچھی بات تو نہیں ہے لیکن بعض دفعہ انسان شدید محبت کی وجہ سے بھی شکی مزاج بن جاتا ہے۔ زمانے کا انداز بھی اسے شکی مزاج بنا دیتا ہے۔ کوئی تلخ تجربہ بھی اس کے اعتبار کو مجروح کر چکا ہوتا ہے اور بعض دفعہ آپ کے اندر واقعی کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے کسی دوسرے کو شک گزرتا ہے۔ بعض دفعہ انسان اتنا زیادہ عقلمند ہوتا ہے کہ وہ کسی پر اعتبار کر ہی نہیں سکتا۔
٭۔ اعتبار آپ کو وسعت دیتا ہے اور شک تنگی۔ اگر آپ کا پارٹنر آپ پر اعتبار کرتا ہے تو اس کے اعتبار کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ شک کرنے لگا تو آپ بہت تنگ ہو گے۔ میاں بیوی کے رشتہ میں جو خوبصورتی اعتبار سے ہے ؛وہ کسی اور چیز سے نہیں۔
٭۔ جو انسان بہت زیادہ توجہ چاہتا ہے۔ اسے دراصل پتہ نہیں۔ بہت زیادہ توجہ کتنی بری چیز، کتنی بڑی مصیبت ہے۔ اپنے پارٹنر سے ہلکی پھلکی توجہ کی خواہش رکھیں۔ سکون میں رہیں گے۔
٭۔ زندگی کے ہر پہلو پر اپنے پارٹنر کی توجہ مت مانگیں۔ مت چاہیں۔ آپ کو شاید پتہ نہیں۔ ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے تھوڑا بہت نظر انداز کرنا کتنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
٭۔ کسی کے روشن پہلوؤں کو دیکھیں ضرور لیکن قبول تاریک پہلوؤں کو بھی کریں۔
٭۔ محبت ٹوٹ جائے اور زندگی تکلیفوں سے بھر جائے تو محبت بہت یاد آتی ہے۔ اگر یہ خوشیوں سے بھر جائے تو اور بھی زیادہ یاد آتی ہے۔
٭۔ بھول جائیں کہ کل کس نے کیا کہا تھا۔ بھول جائیں ان بت میزوں اور بد زبانیوں کو۔ دیکھیں کتنا خوبصورت دن ہے۔ کتنی خوبصورت صبح ہے۔ کتنی خوبصورت اتوار ہے۔ چلیں اٹھیں۔ چائے پئیں۔ گپ لگائیں۔ خواب دیکھیں۔
٭۔ ایک دوسرے کو انسان سمجھیں گے تو بہت اچھا گے گا۔ ایک دوسرے میں بہت کچھ ایک جیسا ایک سا نظر آئے گا۔
٭۔ بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں مرد اور عورت پہلی بار ایک دوسرے کے اتنا قریب آرہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ایک دوسرے کو نئے معیار اور نئے زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے فطری اور معاشرتی تعلق کو نئے پس منظر اور پیش منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
٭۔ میں نے ایک بار اپنے ایک ٹیچر سے پوچھا کہ دنیا کے اکثر بڑے لوگ یتیم کیوں ہوتے ہیں؟ انھوں نے کہا: یتیمی انھیں زندگی کی سختیوں سے نبرد آزما ہو نا سکھاتی ہے اور اسی کوشش میں وہ کوئی بڑا کام بھی کر لیتے ہیں۔ مجھے ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ باپ اپنے بچوں کو اپنی اطاعت کروانے کے شوق میں بڑی بڑی عظیم خصوصیات سے محروم کر دیتا ہے۔
٭۔ ہماری ذہنیت بھلا کیا ہے : ہم سمجھتے ہیں دنیا میں جنتا علم اترانا تھا، اتر چکا ہے، ہم سمجھتے ہیں ہر مسئلہ پرانا مسئلہ ہے اور ہر مسئلے کا حل پہلے سے نکلا ہوا ہے، ہم یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں کہ علم مزید بھی آ سکتا ہے۔ مسائل نئے بھی ہو سکتے ہیں اور ان کا حل نیا بھی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
٭۔ انسان کا غریب ہونا ایک بہت بڑی بد قسمتی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس کی زندگی کے اکثر مسائل اسی غربت سے جنم لیتے ہیں۔
٭۔ غریب انسان کا مفت علاج ہونے لگے تو شاید پھر بھی وہ صحتیاب نہ ہو سکے، کیونکہ غریب انسان اکثر جاہل بھی ہوتا ہے، اور جاہل کا اپنی بیماری کے علاج، اور پرہیز کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے اور وہ اپنی جہالت کی وجہ سے اسے سمجھ نہیں سکتا۔
٭۔ دنیا جاہلوں کے لیے تنگ ہوتی جا رہی ہے، دنیاوی علوم سے جاہلوں کے لیے۔ وہ دنیاوی علوم جن سے دور رکھا جاتا رہا ہے، جاہل تو اپنی بیماری کا علاج تک نہیں کروا سکتا۔
٭۔ علم حاصل کرنا فرض ہے، دوسرے بہت سے فرائض کی طرح علم حاصل کرنا بھی فرض ہے، جو مسلمان یہ فرض ادا نہیں کر رہا، دنیا میں غربت اور ذلت کا سامنا کرنا اس کا مقدر بن چکا ہے۔


