عورت اور سماج


ایک قوم کا قتل عام شروع کر دینے سے قومیں دنیا سے نہیں مٹتی بلکہ اس وقت مٹ جاتی ہیں جب وہ اپنی پہچان بھول جاتے ہیں۔ ( پہچان سے مراد اپنی مادری زبان، ثقافت، تاریخ کو بھول جانا) ۔

زبان انسانی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں جو اقوام عالم کی تاریخ علم اور تہذیب کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک پہنچاتی ہیں۔ زبان معاشرے کی تعمیر بچے کی فکری نشوونما اور سیاسی تحریک کو مضبوط کرنے میں ایک مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔

ماہرین تعلیمی نفسیات بتائے ہیں کہ اگر بچے کی ابتدائی تعلیم دوسری زبان کے ذریعے ہو تو وہ بچے نفسیاتی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جب ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو دوسری زبان سیکھنے کی جستجو ختم ہو جاتی ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی تحقیقات پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس سے یہی ثابت ہوا ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا والے بچے کی کارکردگی ان بچوں سے زیادہ اچھی رہی ہیں جن بچوں نے کسی دوسری زبان میں تعلیم حاصل کی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے قدیم مادری باشندوں کے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ وہ بچے جنہیں اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دی گئی کارکردگی کے اعتبار سے انگریزی زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے کہیں آگے رہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی گی کہ مادری زبان میں تدریس اس عملی اور جذباتی افادیت کی حامل بھی ہے جس کی بدولت ایک بچہ خود کو اپنی مٹی سے وابستہ پاتا ہے۔

1985 ءسے امریکہ کی 15 ریاستوں کے 23 سکولوں میں ذریعہ تعلیم اور امتحانی نتائج کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے والی جارج میسن یونیورسٹی کے ایک تحقیقاتی ٹیم کے مطابق 11 برس کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبا میں سے مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے اندر تعلیمی کارکردگی میں بہتری کا ایک واضح تناسب پایا گیا ہے اور ثانوی سکول میں بھی وہی طلبا اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں جنہوں نے ابتدا میں اپنی زبان میں تعلیم حاصل کی ہے۔

کسی ملک کا تعلیمی نظام اور میڈیا زبان کو سکھانے اور بھلانے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مادری زبان کو درپیش مسائل کے حوالے سے اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو مادری زبانوں کو درپیش خطرے کے حوالے سے پاکستان 28 ویں نمبر پر ہیں۔

پاکستان چین کے ساتھ دوستی کے دعوے تو بڑے کرتا ہے پر اپنے اس دوست سے آج تک یہ بھی نہ سیکھ پایا کے ترقی کرنے کی پہلی شرط مادری زبان کو ترجیح دینا ہے۔

پاکستان ایک فیڈریشن ہے جس میں سندھی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، پنجابی اور اس کے علاوہ مختلف قومیں آباد ہیں اور سب کی اپنی مادری زبان ہیں اور ہر زبان اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔

پر افسوسناک اور ایک سوالیہ نشان بات یہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ اپنے زبان اپنی شناخت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے نوجوان طبقے میں آٹے میں نمک کے برابر ہی نوجوان ہیں جو اپنی زبان کا پڑھنا اور لکھنا جانتے ہیں۔

اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

ہمارے تعلیمی نظام کی بات اگر کی جائے تو پاک و ہند کہ تقسیم سے اب تک مادری زبانوں کو ہمارے نصاب میں تیسرے درجے کی حیثیت پر رکھا گیا ہے جب ہمارے بچے ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی اداروں میں اپنے مادری زبان کا ایک لفظ نہیں سیکھے گے تو پر کیسے بچے اپنے مادری زبان کا لکھنا پڑھنا سیکھ پائے گے؟

بلوچستان میں میٹرک تک تو مادری زبان کا وجود ہی نہیں ہے۔ انٹرمیڈیٹ سے اوپشنل سبجیکٹ میں رکھا گیا ہے۔

صوبوں میں بہت کم تعداد میں ٹیچرز ہیں جو مادری زبان کا سبجیکٹ پڑھائے تو اس کا ذمہ داری کون ہیں؟ جب ریاست مادری زبان کو نچلی سطح کی حیثیت دے گی تو کیا بچے اسے ماحول میں یہ خواہش رکھ پائیں گے کہ وہ اپنی مادری زبان میں بی ایس یا ماسٹرز کریں؟ آپ بلوچستان میں کسی بھی یونیورسٹی جائیں تو وہاں یا تو آپ کو مادری زبان کے ڈیپارٹمنٹ میں گنے چنے طلباء ملیں گے جس بالکل ڈیپارٹمنٹ ہی نہیں ملے گا۔ ریاست کے اس غیر سنجیدہ رویے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ مادری زبان کے حوالے سے کس حد تک سنجیدہ ہے۔

یہ ذمہ داری تو ریاست کی ہے کہ وہ مادری زبانوں کو ترجیح دے جب ریاست ہی بچوں کو ان کی مادری زبان کا لکھنا پڑھنا سیکھنے کے بجائے ان پر یہ پابندی لگائے گی کہ مادری زبان نہ بولیں تو بچے کیسے اپنی زبان سیکھ پائیں گے؟

ہمارے ہاں یہ بات ہم نے کثرت سے سنی ہیں کہ ہم اس لیے بچوں کو مادری زبان بولنے سے رکھتے ہیں تاکہ یہ اردو بولنا سیکھے پر میں پاکستان کے تعلیمی نظام چلانے والوں کو اپنے اس تحریر کے ذریعے یہ پیغام ضرور دینا چاہوں گی کہ آپ نے اردو سکھاتے سکھاتے ہمارے بچوں سے ان کی مادری زبان ہی بھلا دی اور ہمیں نقصان پہنچاتے پہنچاتے اس ملک کو ہی نقصان پہنچا دیا اور آج اگر ملک ترقی نہیں کر پا رہا اس کہ پیچھے آپ کی ہی کوتاہیاں ہیں۔

آج کل کے دور میں میڈیا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ عوام چاہے بچے ہو جوان ہو ٹی وی ڈرامے ٹی وی شوز بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔

پر افسوسناک بات اور سوالیہ نشان بات یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی مادری زبان کے چینلز کو تیسرے درجے کی حیثیت حاصل ہے۔

ریاست ایک طرف یہ بیانیہ رکھتی ہے کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب کو قوم نہیں ہوتا اور دوسری طرف ٹی وی ڈراموں میں دہشتگرد کو پشتون دیکھا کر ان پر پشتون کلچر کے لباس پہنا کر پشتو زبان میں بات کروا کر پشتو زبان کی اور ان کے کلچر کی تذلیل کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنے کامیڈی شوز میں مادری زبان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

کیا ریاست کے اسے رویوں سے قومیں مایوسی کا شکار نہیں ہوں گے؟ کیا لوگ سوال نہیں کریں گے؟

میڈیا کا ایسا ناقابل برداشت کردار بچوں کو کیا سیکھا رہا ہے؟ کیا سیاسی تحریک اسے ناقابل برداشت رویوں پر خاموش رہے پائے گی؟ کیا جو تحریک ابھر رہی ہیں۔ یہ اس ریاست کے رویے کی بدولت نہیں ابھر رہی؟

ہم یہ نہیں کہتے کے ہمارے بچے اردو نہ سیکھیں بلکہ ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہاں پے رہنے والے قومیں دنیا کی ہر زبان سیکھیں پر اپنی زبان کو سب پر ترجیح دیں کیونکہ اسی سے قومیں ترقی کرتی آ رہی ہیں۔

اردو پاکستان میں رہنے والے قوموں کے لیے رابطے کی زبان ہیں تو اسے نصاب میں اتنی ہی حیثیت دے کے عوام رابطے کے لیے سیکھ لے۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ مادری زبان کو لازمی سبجیکٹ کے طور پر نصاب میں شامل کریں ابتدائی تعلیم سے ہی بچوں کو مادری زبان کا سبجیکٹ پڑھائے تاکہ بچے اپنی مادری زبان کا پڑھنا لکھنا بچپن ہی سے سیکھ لے اور ہر یونیورسٹی میں مادری زبان کے لیے ڈیپارٹمنٹ کا قیام لازمی بنائے تاکہ ہمارے نوجوان طبقہ اپنے مادری زبان میں بی ایس اور ماسٹرز کرسکے۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ میڈیا کو پابند کرے کہ وہ مادری زبانوں کا اور قوموں کے ثقافت کا احترام کریں ٹی وی شوز اور ڈراموں میں مادری زبان اور قوموں کی ثقافت کا مذاق نہ اڑائے۔

ریاست اس حوالے سے قوانین بنائے، ٹی وی چینلز کو ان قوانین کی پابندی کرنے کی تلقین کرے۔

اگر کوئی چینلز ان قانونی کی خلاف ورزی کرے تو اس کے لیے سزا کا تعین کرے، تب ہی یہ ملک ایک پاکستان کہلانے کے لائق ہو گا اور مختلف قومیں بخوشی ایک ریاست کے ساتھ رہ پائیں۔

Facebook Comments HS