خدیجہ مستور کے ناول "آنگن” میں کردار نگاری


خدیجہ مستور کا ناول آنگن ان کے چند مشہور ناولوں میں سے ایک ہے۔ یہ ناول قیام پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ہے لیکن اس میں صرف قیام پاکستان کا واقعہ ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی واقعات سامنے آتے ہیں جس میں جلیانوالہ باغ، جنگ عظیم دوم، ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی، تحریک خلافت وغیرہ شامل ہیں۔

کردار نگاری کے حوالے سے یہ ایک بہت ہی اہم ناول ہے۔ اس کے کردار اپنی نوعیت کے انوکھے کردار ہیں جو کہیں بھی نفسیاتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اور اگر ان کرداروں کا میں آج کے دور سے موازنہ کروں تو تب یہ کردار اور بھی اہمیت کے حامل ہو جاتے ہیں۔ جیسے جمیل اور اس کے باپ کا کردار جن کی سیاسی سوچ ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے اور دونوں خود کو بہتر سمجھتے اور جتاتے رہتے ہیں۔ اگر آج کے ہمارے سیاسی حالات دیکھے جائیں تو آج بھی ہمیں جمیل اور اس کے باپ کے کردار کثیر تعداد میں مل جائیں گے۔

اس ناول کا اہم کردار عالیہ ہے جو اس ناول کی ہیروئن ہے۔ مصنفہ نے عالیہ کے کردار کو نفسیاتی کشمکش کا شکار دکھایا ہے۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جو اپنی بہن کی موت کا بہت زیادہ اثر قبول کرتی ہے اور مرد ذات سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جمیل اس کی طرف محبت کا ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ اس سے دور بھاگتی ہے لیکن دوسری طرف وہ ان کی طرف مائل بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ ڈاکٹر کا پیغام بھی ٹھکرا دیتی ہے اور جب وہ صفدر سے شادی کرنے پر راضی ہوتی ہے تو صفدر تھکے ہوئے جذبے کو دیکھ کر اسے بھی انکار کر دیتی ہے۔

ناول کا یہ کردار اپنی نوعیت کا ایک منفرد کردار ہے جسے مصنفہ نے بڑی کامیابی سے تراشا ہے۔ اس کردار میں ایک طرف تو ہر عورت کی طرح چاہے جانے کی خواہش موجود ہے لیکن دوسری طرف اس نے اپنے درمیان بہت سی حدود بنا رکھی ہیں جن سے وہ خود بھی گزرنا نہیں چاہتی۔

اس ناول کا دوسرا کردار جمیل کا کردار ہے۔ ناول میں کہیں کہیں اس کردار کے ہیرو ہونے کا گمان ہوتا ہے لیکن اپنے افعال و کردار کی وجہ سے یہ ایک عام کردار بن کر رہ جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کی طرح اپنی مجبوری کے وقت یہ چھمی سے محبت کی قسمیں کھاتا ہے لیکن عالیہ کے آنے کے بعد اس سے محبت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک کمزور اور ڈرپوک کردار بھی ہے کیوں کہ جب اسے صفدر کے خط کے ذریعے سے صفدر اور تہمینہ کی محبت کا علم ہوتا ہے تو تب بھی یہ اپنی تہمینہ سے شادی کو رکوانے کی کوشش نہیں کرتا۔ اور تقسیم کے بعد جب عالیہ چلی جاتی ہے تو یہ پھر چھمی سے شادی کر لیتا ہے۔

ایک اور کردار مظہر چچا کا ہے جو عالیہ کے والد ہیں۔ مظہر چچا کا کردار اس وقت کے محب وطن ہندوستانی کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ انگریزوں سے سخت نفرت کرتے ہیں لیکن مجبوری میں ان کی نوکری بھی کرتے ہیں اور انگریز افسر پر اقدام قتل کے جرم میں جیل چلے جاتے ہیں۔ اور آخری دم تک وہیں رہتے ہیں۔

ایک اور اہم کردار عالیہ کی ماں کا ہے۔ مصنفہ نے اس کردار کو ایک خود غرض کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو وقت پڑنے پر اپنوں سے منہ موڑ لیتا ہے اور ہمیشہ کوٹھی، پیسہ اور حاکمیت کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔

ایک اور کردار بڑے چچا کا ہے جو جمیل کے والد ہیں اور کانگریسی مسلمانوں کی سوچ کے ترجمان ہیں۔ کانگریس جماعت اور ہندوستان کی آزادی کے لیے وہ ہر چیز سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ اور اپنا سارا وقت ہندوستان کی آزادی میں لگا رہے ہیں اسی وجہ سے گھر کے لوگ انہیں نا پسند کرتے ہیں۔

ایک اور کردار نجمہ پھپھو کا ہے۔ یہ کردار سماج میں موجود ان لوگوں کا عکاس ہے دوسروں پر اپنی تعلیم کا رعب جھاڑتے اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں۔ لیکن اسی برتری کے احساس تلے دبے وہ منہ کی کھاتے ہیں۔

اس ناول کا ایک اور کردار صفدر کا کردار ہے۔ یہ وہ کردار ہے جو بچپن سے ہی مشکلات میں رہتا ہے اور کمیونسٹ ہو کر مزدوروں کا ہمدرد بن جاتا ہے لیکن آخر میں آ کر اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور یہ بھی سرمایہ دارانہ سوچ پر چل نکلتا ہے۔

ایک اور کردار کریمن بوا کا کردار ہے۔ مصنفہ نے اس کردار کو ناسٹلجیا کا شکار دکھایا ہے۔ یہ کردار اپنے ماضی سے چمٹا ہوا ہے اور اس سے باہر ہی نہیں نکلنا چاہتا۔ ہر بات میں ماضی کو شامل کرنا اس کردار کا خاصہ ہے۔

اسی طرح ایک کردار کسم دیدی کا کردار ہے جو ایک جان دار ضمنی کردار ہے۔ یہ کردار محض کچھ وقت کے لیے سامنے آتا ہے لیکن اپنی چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔

اسی طرح ایک کردار اسرار میاں کا ہے جسے مصنفہ نے احساس کمتری کا شکار دکھایا ہے۔ اسے ایک ناجائز اولاد کے طور پر پیش کیا ہے جسے معاشرے میں کبھی بھی قبول نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے ہونے نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دیگر کرداروں میں شکیل کا کردار، ظفر چچا کا کردار، دادی، شیام، عالیہ کے ماموں اور ان کی انگریز بیوی وغیرہ شامل ہیں۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “خدیجہ مستور کے ناول "آنگن” میں کردار نگاری

  • 13/09/2024 at 3:33 شام
    Permalink

    اس میں آ پ نے چھمی کا کردار نہیں لکھا

Comments are closed.