تونے پوچھا ہے مجھے درد کہاں ہوتا ہے؟
ماں نے اسے آواز دی کہ بیٹا اپنے دماغ پر اتنا بوجھ مت ڈالیں آئیں ہمارے ساتھ کھانا کھائیے۔
حماد نے کہا آتا ہوں۔ وہ اپنی سٹڈی میں اتنے مگن رہے کہ جب ماں نے دو تین مرتبہ پھر آواز دی تو دوسری جانب سے کوئی آواز نہیں آئی۔
شاید ماں کے خیال میں شیطان نے وسوسے ڈال دیے اور نجانے کیا کیا سوچنے لگی۔
تیز تیز قدموں سے وہ کمرے میں گئی، جب پہنچی تو دیکھا کہ حماد کرسی میں پڑا ہے اور خراٹے لے رہا ہے۔ ماں خوش ہوئی کہ چلو بیٹا صحیح سلامت ہے۔
شبو اور اس کے خاوند گلفام نے ادھار مانگ کر، کچھ زیورات بیچ کر، اور کئی اور حلال طریقوں سے پیسے جوڑ جوڑ کر اپنے بیٹے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ جب اس کی تعلیم مکمل ہوئی تو ماں نے اپنے گھر میں بڑے ختم قرآن کا اہتمام کیا جس میں شبو نے اپنے سب رشتہ داروں اور محلے داروں کو بلایا۔
ماں خوش تھی کہ بیٹا نہ صرف دیندار ہے بلکہ تعلیم یافتہ بھی ہے۔ وہ اکثر اپنے محلے کی عورتوں سے کہتی کہ میرے بیٹے کی وجہ سے اب کچھ تبدیلی آئے گی۔
گاؤں والے بھی خوش تھے کہ اب ان کے بچوں کو حماد پڑھائے گا۔
کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اس بات پر خفا تھے کہ یہ لوگ اب ہم سے آگے نکل جائیں گے۔ چنانچہ وہ اس خاندان کے زوال کے بارے میں کئی کئی ترکیبیں ڈھونڈ رہے تھے۔
حماد اپنے کمرے میں لیٹا تھا اور سہانے سپنے دیکھ رہا تھا۔ کہ جاب کے لئے اپلائی کروں گا، اور ہر ادارہ اس کو اچھی تنخواہ آفر کرے گا۔ پھر ماں کے لئے اچھے کپڑے اور زیور خریدوں گا، چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھاؤں گا، خوبصورت گھر بناؤں گا وغیرہ وغیرہ
انہی سوچوں میں گم تھا کہ ماں کی آواز نے اسے بیدار کیا۔
کیا بات ہے ماں؟
حماد نے حیرانی سے کہا
ہاں بیٹا میں اس لئے آئی کہ آپ سے کہوں کہ اب مجھ میں ہمت نہیں کہ لوگوں سے منت کر کے قرض لے لوں۔ اب لوگ بھی قرض دینے سے انکاری ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ جلد از جلد نوکری ڈھونڈ لیں، کیونکہ گھر میں بمشکل گزارا ہوتا ہے، آپ کے والد بھی بیمار پڑے ہیں اور گھر میں کمانے والا اب کوئی نہیں۔
ماں کی آواز بھر آئی
تو حماد نے اس کے آنسوں پونچھ لئے، انہیں تسلی دی اور کہا ماں آپ فکرمند کیوں ہوتی ہے۔ میں ہوں نا، مجھے جلد از جلد جاب مل جائے گی، اور پھر حالات ایسے نہیں رہیں گے۔ یہ تکلیفیں سب پر آتی ہے اور ہم بھی انسان ہیں، ہم بھی اس سے مبرا نہیں۔
جب اس کی ماں چلی گئی تو حماد اور بھی فکرمند ہوا۔ اور سوچتے سوچتے باہر نکل گیا۔
ادھر تھوڑے فاصلے پر سیاستدان تقریر کر رہے تھے کہ ہم ملک کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے، آپ کے مسائل حل کریں گے، نوجوانوں کو روزگار دیں گے، دہشت گردی ختم کر دیں گے، بجلی اور گیس کے ایسے معاہدے کریں گے کہ آپ کے گھروں میں روشنی ہی روشنی ہوگی، اب آپ لوڈ شیڈنگ کے لفظ کو نہیں سنیں گے۔
اچانک اندھیرا چھا جاتا ہے اور زمیں انسانی اعضاء سے بھرنے لگتی ہے، کسی کا سر ادھر تو باقی جسم ادھر، کسی کا دھڑ ایک طرف اور باقی اعضاء کہیں اور۔
ہر طرف چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ہر جگہ خون ہی خون جیسے کسی نے سرخ رنگ سے زمین کو پینٹ کیا ہو۔ تھوڑی دیر میں حکومتی اہلکار ایدھی اور چھیپا کی گاڑیاں، ویلفیئر اداروں کے رضاکار، میڈیا، دوست رشتہ دار وغیرہ پہنچ جاتے ہیں، اور اسی کے ساتھ درد سے بھری آوازیں پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ کوئی بیٹے کو تلاش کر رہا ہے تو کوئی بھائی اور بچوں کو ڈھونڈ رہا ہے۔ خوبصورتی کا جو سماں بندھا ہوا تھا وہ اچانک قیامت میں تبدیل ہوا۔
عاصم جو ابھی ابھی سویا تھا، خوفناک آواز سے بیدار ہوا۔ جلدی جلدی اپنی چارپائی سے اٹھ جاتا ہے اور دھماکے والی جگہ پہنچ جاتا ہے۔ عاصم (حماد کے چچازاد بھائی اور سوشل ورکر) فوت شدہ لوگوں میں گزرتا ہے۔ وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک نوجوان شخص جس کا سر نہیں ہے مگر دوسرے اعضاء موجود ہیں۔ اس کی توجہ اس کی گھڑی کی طرف جاتی ہے۔ جب غور سے دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ جو لاش یہاں پڑی ہے وہ حماد کی ہے۔ چند دن پہلے یہ گھڑی حماد کو کسی نے تحفے میں دی تھی۔ عاصم رو رو کر جسد خاکی کو ایمبولینس میں رکھتا ہے، اور اسے گھر کی طرف روانہ کیا جاتا ہے۔
حماد نکلا تو کسی اور مقصد کے لئے تھا مگر دہشت گردی نے اس کے سارے ارمان خاک میں ملا دیے، اس کی بوڑھی ماں کیا کرے گی؟ اس کے قرضے کون ادا کرے گا؟ اب گاؤں میں بچوں کو کون پڑھائے گا؟ اب بہن بھائیوں کو کون تعلیم دلائے گا؟ نجانے کتنوں کی دنیا دہشت گردی سے اجڑ جاتی ہے اس کا اندازہ لگانا اگر چہ مشکل ہے مگر دردناک ضرور ہے۔
تونے پوچھا ہے مجھے درد کہاں ہوتا ہے
اک جگہ ہو تو بتاؤں، کہ یہاں ہوتا ہے


