نگران وزیراعظم: دیر آید درست آید
آخر کار پاکستان کے نگران وزیراعظم کی نامزدگی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سینیٹر انوار الحق کاکڑ کے نام پر متفق ہو گئے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کے سر پر تاج سجا دیا گیا ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ ایک صاف ستھرے سیاسی کارکن ہیں ’پاکستان‘ اس کی سالمیت اور اس کے نظریے کے حوالے سے ان کے تصورات واضح ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ وہ نگران وزیراعظم کے طور پر اپنا کردار بطریق احسن ادا کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نگران وزیراعظم کے لیے جو نام میڈیا میں آتے رہے ’ان میں کاکڑ صاحب شامل نہیں تھے۔ ان کے نام کی راز کی طرح حفاظت کی گئی‘ مقتدر حلقوں نے بڑے بڑے باخبر میڈیا گروؤں کو زچ کر دکھایا۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ سب سے کم عمر اور آٹھویں نگران وزیر اعظم ہیں۔ انوار الحق کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے پشتونوں کے معروف کاکڑ قبیلے سے ہے۔ ان کے والد احتشام الحق کاکڑ نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور تحصیلدار شروع کیا تھا جس کے بعد وہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انوارالحق کاکڑ کے دادا قیام پاکستان سے قبل ریاست قلات میں خان آف قلات کے معالج کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ انوارالحق کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ وہ 1971 میں بلوچستان کے علاقے مسلم باغ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سن فرانسز ہائی اسکول کوئٹہ سے حاصل، جبکہ انٹرمیڈیٹ کیڈٹ کالج کوہاٹ سے کی۔ یونیورسٹی آف بلوچستان سے پولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی میں ماسٹر کیا۔ بی بی سی کے مطابق وہ بیچلرز ڈگری کے بعد قانون کی تعلیم کے لیے لندن گئے لیکن سیاست میں دلچسپی کی وجہ سے پاکستان واپس لوٹ آئے تھے۔ انہوں نے کیرئیر کا آغاز اپنے آبائی اسکول میں پڑھانے سے کیا۔ وہ بلوچستان کے دوسرے شخص ہوں گے جو ملک کے عبوری وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے، اس سے قبل جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو یہ ذمے داریاں نبھا چکے ہیں۔ ان کی تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سینیٹ میں ان کی چھ سالہ مدت کی تکمیل مارچ 2024 میں ہو جائے گی۔ انوار الحق کاکڑ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز مسلم لیگ (ن) سے کیا لیکن 1999 میں مرحوم جنرل پرویز مشرف کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے نتیجے میں نواز حکومت کے خاتمے کے بعد انہوں نے پارٹی سے دوریاں اختیار کر لی تھیں، اس کے بعد وہ مسلم لیگ (ق) میں شامل ہو گئے تھے۔ 2008 میں پہلی بار پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر کوئٹہ سٹی سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے اور 2017 میں نواب ثنا اللہ زہری کے دور میں بلوچستان حکومت کے ترجمان رہے۔ مارچ 2018 میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے آزاد حیثیت سے چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تاہم اسی مہینے وہ مسلم لیگ (ن) سے منحرف ہونے والے اس گروپ کا حصہ بن گئے جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی کے چیئرپرسن اور بزنس ایڈوائزری کمیٹی، فنانس اینڈ ریونیو، خارجہ امور اور سائنس و ٹیکنالوجی کے رکن کے طور پر کام کیا۔
بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل میں ان کا کلیدی کردار رہا۔ نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ حکومت کی باگ ڈور ایسے وقت میں سنبھالیں گے جب ملک سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دو چار ہے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی افغانستان اور خطے کے حالات پر گہری نظر ہے اور وہ بطور سینیٹر امریکا، برطانیہ، روس، آسڑیلیا سمیت پورپ کے مختلف ممالک کا دورہ کرچکے ہیں۔ مادری زبان پشتو کے علاوہ انگلش، فارسی، بلوچی، اردو اور براہوی زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ بلوچستان کو درپیش مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور ان کی دانشورانہ سوچ اور بصیرت کے باعث ملک کی اعلیٰ یونیورسٹیز کے ساتھ ساتھ ہارورڈ اور برسلز جیسے نامور غیر ملکی تعلیمی اداروں میں بھی انہیں اپنے خیالات کے اظہار اور تجزیے کے لیے بار بار مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ بطور سینیٹر دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ ایک واضح موقف رکھا اور ریاست کی کمزوریوں پر کھل کر بات کی اور اندرونی دہشت گردی کو ملکی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ 9 مئی کے واقعات پر بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار کو کم کرنے کے لئے کسی کو سلطان راہی بننے کے بجائے سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انوارالحق کاکڑ کو کتب بینی کا بہت شوق ہے اور ان کا شمار بلوچستان کے لکھے پڑھے لوگوں میں ہوتا ہے۔ بلوچستان میں شورش کے بعد جس صورتحال نے جنم لیا اس میں انہوں نے ریاستی بیانیے کی بھرپور وکالت کی اور وہ ریاستی بیانیے کے حوالے سے توانا آواز رہے۔
وہ بلوچستان کی پسماندگی کے لئے پنجاب کو مطعون نہیں کرتے وہ قومی یکجہتی کے احیا، بلوچستان کی تعمیر و ترقی اور میگا پراجیکٹس کے وکیل ہیں۔ وہ رجائیت پسند ہیں۔ اپنے وطن اور ہم وطنوں سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے رویوں میں انتہا پسند نہیں۔ کاکڑ جو ملکی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر بلوچستان جیسے کم ترقی یافتہ اور پسماندہ صوبے سے طاقتور ترین نگران وزیراعظم کے طور پر منتخب کر لئے گئے ہیں۔ ان کے انتخاب پر اتفاق رائے نظر آتا ہے۔ فواد چوہدری نے انہیں ’سچا پاکستانی‘ اور انتہائی پڑھا لکھا معتدل شخص قرار دیا ہے، پی ٹی آئی کے حلقے بھی ’گڈ چوائس‘ کہتے نظر آتے ہیں۔ انوار الحق کاکڑ روایتی نہیں بلکہ آؤٹ آف دی باکس سوچنے والی شخصیت ہیں۔ وہ منصف مزاج ہیں، وہ جدت کے خوگر اور مفاہمت پسند ہیں۔
نگران وزیراعظم کے لیے زیر گردش ناموں میں جلال عباس جیلانی ’سابق وزرائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور اسحاق ڈار‘ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ’سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد‘ سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی ’عبداللہ حسین ہارون‘ پیر پگارو اور مخدوم محمود احمد شامل ہیں۔
نگران حکومتوں کے قیام کا مقصد شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہوتا ہے جس کے لیے نگران وزیراعظم ’چاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کا غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہونا ضروری ہوتا ہے۔
الیکشن کمیشن بھی شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے کوشاں ہے۔ جس کے لیے وہ ضروری تیاریاں کر رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ کی واضح سیاسی وابستگی اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کی وجہ سے نگران سیٹ اپ کی تاریخ میں پہلی بار خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ مستعفی ہو چکی ہے اور نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان کے بعد گورنر خیبر پختونخوا نے بھی نگران حکومت کے وزرا ’مشیروں اور معاونین کے استعفے منظور کر لیے ہیں جس کے بعد یہ کابینہ تحلیل ہو گئی ہے۔ صوبائی کابینہ تحلیل ہونے پر وزیراعلیٰ نئی کابینہ تشکیل دیں گے۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ماضی کی روش ”شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کو بھی ہارنے کے بعد دھاندلی زدہ قرار دینا“ ترک کرتے ہوئے‘ اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔
اگر ہمارے رہنما اختلاف کے آداب سیکھ جائیں ’اسے مخالفت اور دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں اور قوم کو بھی یہ نکتہ ازبر کرا دیں تو ترقی اور خوشحالی کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ لڑتا جھگڑتا پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ اپنے ماضی کو دوہرا سکتا ہے۔ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے؟
اس ضمن میں ووٹرز کے رجحان اور ان کی رائے کو بھی مقدم سمجھنا چاہیے کیونکہ وہ اپنے ووٹ کے حق کو اپنے پورے سیاسی شعور سے استعمال کرتے ہیں


